February 14, 20242 yr شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو احمد فراز شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو میں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو جو زہر پی چکا ہوں تمہیں نے مجھے دیا اب تم تو زندگی کی دعائیں مجھے نہ دو یہ بھی بڑا کرم ہے سلامت ہے جسم ابھی اے خسروان شہر قبائیں مجھے نہ دو ایسا نہ ہو کبھی کہ پلٹ کر نہ آ سکوں ہر بار دور جا کے صدائیں مجھے نہ دو کب مجھ کو اعتراف محبت نہ تھا فرازؔ کب میں نے یہ کہا ہے سزائیں مجھے نہ دو
Create an account or sign in to comment