Disable Screen Capture Jump to content
Novels Library Plus ×
URDU FUN CLUB

Amraz-e-qalb


Recommended Posts

سائسندانوں کا پہلے سے خیال ہے کہ ایشائی لوگوں کو دل کے امراض کا خطرہ زیادہ رہتا ہے

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک جین میں تبدیلی کی وجہ سے بر صغیر ہند میں رہنے والے لوگوں کے لیے دل کے امراض کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

یہ ریسرچ ویلکم ٹرسٹ سنگیر اسنٹی ٹیوٹ نے کی ہے جس کے سائنسدان حیدرآباد دکن اور انگلینڈ میں تحقیق کرتے ہیں۔

رسرچ کے مطابق جین میں یہ تبدیلی چار فیصد لوگوں میں دیکھی گئی ہے۔

لیکن دل کے امراض کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں جن میں طرز زندگی کے علاوہ ان جینیات کا بھی عمل دخل ہوتا ہے جو انسان کو ورثہ میں اپنے والدین سے حاصل ہوتی ہیں۔

ہم نے کئی ملکوں میں تحقیق کی ہے۔ ہندوستان، پاکستان اور سری لنکا اور ہر جگہ متاثرہ افراد کا تناسب تقریباً برابر ہے۔ شمال کے مقابلے میں یہ تناسب جنوب میں تھوڑا زیادہ ہے اور شمال مشرق جیسے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں یہ بالکل نہیں ہے۔ لیکن مجموعی طور پر چار فیصد افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں

کرس ٹائلر سمتھ

لیکن اس جین اور اس میں تبدیلی کی دریافت بہت اہم مانی جارہی ہے کیونکہ ایک تو یہ آبادی کے اتنے بڑے حصے کو متاثر کر رہی اور دوسرا اس کا خطرناک اثر ہوتا ہے۔

ایک بار اس جین سے متاثرہ شخص ادھیڑ عمر پار کرلے تو اس کے امراض قلب میں مبتلا ہونے کے امکانات نوے فیصد تک پہنچ جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی بہت غیرمعمولی ہے کہ اس جین میں تبدیلی کا عمل صرف ایک خاص علاقے تک محدود ہے۔

اس تحقیق سے وابستہ کرس ٹائلر سمتھ کہتے ہیں کہ ’ ہم نے کئی ملکوں میں تحقیق کی ہے۔ ہندوستان، پاکستان اور سری لنکا اور ہر جگہ متاثرہ افراد کا تناسب تقریباً برابر ہے۔ شمال کے مقابلے میں یہ تناسب جنوب میں تھوڑا زیادہ ہے اور شمال مشرق جیسے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں یہ بالکل نہیں ہے۔ لیکن مجموعی طور پر چار فیصد افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں۔‘

اس خطے میں دل کی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سن دو ہزار دس تک دل کی بیماریوں کے ساٹھ فیصد کیس ہندوستان میں ہوں گے۔ اس کی وجہ طرز زندگی، خراب غذا اور، ورزش نہ کرنا اور سگریٹ نوشی بتائی جاتی ہیں اور اب اس فہرست میں جینیاتی نقص بھی شامل ہوگیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اب کوشش ایک ایسا ٹیسٹ تیار کرنے کی ہوگی جس سے لوگ یہ معلوم کرسکیں کہ ان کے جینیاتی نظام میں یہ جین تو شامل نہیں۔

Link to comment

کچھ ممبرز مسلسل  رومن اردو میں کمنٹس کر رہے ہیں جن کو اپروول کی بجائے مسلسل ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے ان تمام ممبرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ یہ کمنٹس رولز کی خلاف ورزی ہے فورم پر صرف اور صرف اردو میں کیئے گئے کمنٹس ہی اپروول کیئے جائیں گے اپنے کمنٹس کو اردو میں لکھیں اور اس کی الائمنٹ اور فونٹ سائز کو 20 سے 24 کے درمیان رکھیں فونٹ جمیل نوری نستعلیق کو استعمال کریں تاکہ آپ کا کمنٹ با آسانی سب ممبرز پڑھ سکیں اور اسے اپروول بھی مل سکے مسلسل رومن کمنٹس کرنے والے ممبرز کی آئی ڈی کو بین کر دیا جائے گا شکریہ۔

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...