August 15, 201114 yr السلام علیکم دوستو اوہائیو یونیورسٹی کے ماہرین نے لیبارٹری میں پیدا کیے جانے والے کھٹملوں اور یونیورسٹی کے نزدیک واقع رہائشی مکانات میں پائے جانے والے کھٹملوں کے جینیاتی نمونوں کا موازنہ کیا۔ اس سلسلے میں سائنس سے متعلق ایک جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سائنس دان کھٹملوں میں بڑی تعداد میں موجود ایسے خلیوں کا پتاچلانے میں کامیاب رہے ہیں جو انہیں عام کیڑے مار ادویات سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہناہے کہ اس تحقیق کے نتیجے میں ایسی کیڑے مار دوائیں بنانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے جو کھٹملوں کے خلاف موثر ہوں۔ ماہرین کا کہناہے کہ گذشتہ ایک عشرے کے دوران دنیا بھر میں کھٹملوں کی تعداد میں 500 فی صد سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ اس کی اہم وجہ بین الاقوامی سفر میں اضافہ اور گھروں میں فرنیچر کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ کیونکہ مسافروں اور سامان کی بین الاقوامی نقل و حرکت کے باعث کھٹملوں کی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقلی بڑھی ہے اور فرنیچر انہیں چھپنے کے جگہیں فراہم کرتا ہے۔ کھٹمل خون چوسنے والا کیڑا ہے جس کے کاٹنے سےنہ صرف جلد پر سرخ دھبے پڑجاتے ہیں اور ان میں خارش ہوتی ہے بلکہ کئی خطرناک بیماریاں پھیلانے کا باعث بھی بنتے ہیں۔
Create an account or sign in to comment