August 13, 201114 yr انجینئروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دس سے بیس برس میں دنیا میں کاربن اخراج پر قابو پانے کے لیے ایک لاکھ ’مصنوعی درختوں‘ کا جنگل تیار کیا جا سکتا ہے۔ مصنوعی درختوں کا خیال آنے والے زمانے میں نباتاتی انجینئرز کے ان خیالات میں سے ایک ہے جنہیں قابلِ عمل قرار دیا گیا ہے۔ انسٹیٹیوشن آف مکینیکل انجینئرز کی تیارہ کردہ رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ جیو انجینئرنگ کے بغیر خطرناک ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچنا ناممکن ہوگا۔ اس رپورٹ میں عالمی معیشت کو کاربن سے پاک کرنے کا سو سالہ نقشۂ راہ بھی شامل ہے۔ تاہم رپورٹ کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ٹم فوکس کے مطابق جیو انجینئرنگ اپنے بل بوتے پر ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور اسے کاربن کے اخراج میں کمی کی دیگر کوششوں کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ بہت سے ماحولیاتی سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ دنیا کے پاس کاربن اخراج میں کمی کے لیے چند دہائیاں ہی ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو فضاء میں اتنا کاربن ڈائی آکسائیڈ جمع ہو جائے گی کہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔.
August 13, 201114 yr Thanks For Sahring G...... Informative Thread Humy In Masnaoyi Janglat ki Zarorat pary Gai Kyu Ke Insan ne Asli tu kat diye hai So sadd.. thanks for sharing
Create an account or sign in to comment