Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

آپ بیتی

Featured Replies

  • 4 years later...
Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 125
  • Views 388.6k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • devilspell
    devilspell

    update 008 اگلے دن اسکول سے واپس آ کر میں سیدھا کنول آنٹی کے گھر کے لیے نکل پڑا۔ دروازے پر دستک دی تو دروازہ آنٹی نے ہی کھولا۔اور مجھے دیکھ کر ایک پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ دروازے سے ہٹ گئیں اور م

  • Update 005   مہوش موبائل دیکھ ہی رہی تھی کے نوشین کچن سے نکل کر آ گئی اور مجھ سے باتیں کرنے لگی نوشین سے باتوں کے دوران مجھے پتہ ہی نہیں چلا کے مہوش کب ہم سے تھوڑا دور جا کے دیوار سے ٹی

  • Update 006 میں نے ٹھوڑی دیر دوستوں میں وقت گزارا اور گھر آ گیا۔ اُس کے بعد کچھ خاص نہیں ہوا اگلے دن اسکول سے آ کر میں سوچ رہا تھا کہ کیا کریں اب کیونکہ آنٹی کے گھر تو انکی بہن نے ڈیرہ ج

Posted Images

لگ رہا ہے رائیٹر سے کہانی کنٹرول نہیں ہوپائی

بہت زبردست کہانی ہے۔ اسٹارٹ بھی خوب عمدہ کیا ہے

  • 2 months later...
On 10/11/2020 at 12:43, devilspell said:

Nice story Update 001
ہیلو دوستو
یہ کہانی میری اپنی کہانی ہے
بچپن سے لے کر جوانی تک میں نے جو بھی تجربات کیے ان سب کو ایک کہانی میں سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
اس کہانی میں جو بھی واقعات ہونگے و سب کچھ مرچ مصالحے کے ساتھ ہیں لیکن ہیں سب سچے۔
اس کہانی میں کرداروں کے نام غلط ہونگے کیونکہ میں نہیں چاہتا اگر کوئی میرا جاننے والا اس کہانی کو پڑھ لیے تو مجھے پہچان جائے۔
سب سے پہلے تو آپ مجھ سے مل لیں۔
میرا نام وقاص ہے۔ شکل سے خوبصورت اور قد کاٹھ درمیانہ ہے۔ میں کراچی کا رہائشی ہوں۔

آگے چل کر کہانی کے دوسرے کرداروں کے بارے میں بھی بتاؤنگا۔
یہ کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب میں دس سال کا تھا۔
سیکس کے بارے میں مجھے اسکول میں بہت چھوٹی عمر سے ہی پتہ چل گیا تھا۔ وجہ میرے چند دوست تھے۔ ہر انسان کی طرح مجھے بھی سیکس میں بہت دلچسپی تھی۔
اس وقت چائنا کے فونز نہیں آئے تھے۔ تو اگر کسی کو بلیو فلم دیکھنی ہو تو dvd یا cd پلیئر پر دیکھنا پڑتا تھا۔ اور ایسا موقع تبھی ہاتھ لگتا تھا جب گھر میں کوئی نہ ہو۔
میںنے اَپنی زندگی کی بلیو فلم اس وقت دیکھی تھی جب میرے لن سے منی بھی نہیں آتی تھی۔
خیر زندگی اسی طرح گزرتی گئی اور میں نے اپنی جوانی میں قدم رکھا۔
ہماری گلی میں ایک آنٹی ہوا کرتی تھیں۔ جن کا نام کنول تھا ۔
کنول آنٹی ویسے تو شادی شدہ اور بچوں والی عورت تھیں۔لیکن خوبصوتی میں اُن کے آگے جوان لڑکی بھی پھیکی پر جائے۔
آنٹی کا جسم بلکل کسی جوان لڑکی کی طرح کا تھا۔کوئی بھی انکو دیکھے تو دھوکہ کہا جائے کہ یہ عورت شادی شدہ ہے۔
کنول آنٹی کے تین بچے تھے اور تینوں بیٹیاں۔ آنٹی کے شوہر فیکٹری میں ملازم تھے۔ کنول آنٹی کے بہنوئی رحمت بھی ہماری ہی گلی میں رہتے تھے کرائے کے گھر میں۔
آنٹی کا ہمارے گھر اور ہمارا آنٹی کے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا۔
مجھے آنٹی اتنی اچھی لگتی تھیں کے میں اپنے گھر سے زیادہ وقت اُن کے گھر میں گزارتا تھا۔
آنٹی بھی مُجھسے بہت پیار کرتی تھیں۔میں آنٹی کے گھر کے چھوٹے موٹے کام جیسے بازار سے سامان لے انا۔ٹینکی کی صفائی کر دینا وغیرہ کر دیا کرتا تھا۔
آنٹی k بہنوئی بھی اپنے بیوی بچوں کو گھر میں چھوڑ کر اکثر آنٹی کے گھر ہے ہوتے تھے۔ کبھی لڈو تو کبھی شطرنج کھیلتے رہتے تھے۔ میں جب جاتا تو میں بھی کھیل میں شامل ہو جاتا۔ رحمت انکل کو میں رحمت بھائی کہتا تھا حالانکہ ہماری عمروں میں اچھا خاصا فرق تھا۔وجہ یہ تھی k رحمت انکل بہت فرینک تھے کسی بھی بات کا بڑا نہیں مانتے تھے اور سیکس کے حوالے سے بھی بات چیت کرتے تھے۔
مجھے آنٹی بہت پسند تھیں اور میں انہیں چودنا چاہتا تھا۔
لیکن ڈر بھی لگتا تھا کہ اگر آنٹی برا مان گئیں اور میرے گھر میں بتا دیا تو میرے ابو مجھے جان سے مار دینگے۔
ایک دن آنٹی کی چھوٹی بیٹی کے ساتھ کھیل رہا تھا اور اسے گُدگُدی کر رہا تھا کہ وہ بھاگ کر آنٹی کے پاس چھپ گئی میں بھی بھاگ کے آنٹی کے پاس گیا اور اس کی پکڑنے لگا کے میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا اور میں نے جان بوجھ کے آنٹی کی بیٹی کے ہاتھ کے بجائے اونٹنی کا دایاں تھن پکڑ لیا اور زور سے دبا کے چھوڑ دیا۔ اور ایسا بن گیا کے یہ غلطی سے ہوا ہے۔
آنٹی نے مجھے گھور کر دیکھا تو میں نے نظریں نیچے کر لیں۔ اور پھر گھر آ گیا۔
 ایک دن میں اسکول سے آ کے اپنے معمول k مطابق آنٹی کے گھر پہنچا اور دروازے پر دستک دی تو میں عادت کے مطابق دروازے کی جھرری سے اندر جھانکنے لگا۔اور مجھے یہ دیکھ کر ایک جھٹکا سا لگا کے رحمت اُنکل اپنی شلوار کا ناڑا باندھتے ہوئے دروازہ کھولنے کا رہے تھے۔
پھر انکل نے دروازہ کھولا اور میں اندر گیا تو گھر میں انکل اور آنٹی کے علاوہ کوئی نہیں تھا یعنی آنٹی کی بیٹیاں کہیں گئی ہوئی تھیں۔اب میں اتنا بچہ بھی نہیں تھا جو یہ نہ سمجھ سکوں کہ میرے آنے سے پہلے یہاں کیا چل رہا تھا۔
خیر میں نے یہ بات اپنے تک ہی رکھی اور انکل اور آنٹی پر کچھ بھی ظاہر نہیں ہونے دیا۔
کچھ دیں ایسے ہی گذرے اور رحمت انکل نے اپنا گھر تبدیل کر لیا اور ہمارے علاقے سے دور چلے گئے۔
انکل کو گئے ابھی دو ہی دن ہوئے تھے کے میں اسی طرح آنٹی کے گھر میں بیٹھا آنٹی کے ساتھ لڈو کھیل رہا تھا۔آنٹی کی بیٹیاں میرے گھر پر تھیں۔ 
میں: آنٹی ایک بات کہوں؟
آنٹی: ہاں بول
میں: رہنے دیں آپ برا ماں جائینگی
آنٹی: ارے آج تک تیری کسی بات کا برا مانا ہے میں نے؟
میں: آنٹی آپ رحمت انکل کے ساتھ اکیلے میں کیا کرتی تھیں؟
آنٹی کے چہرے کا رنگ اچانک سے اُڈ گیا۔
آنٹی:کیا مطلب؟
میں: مُجھے سب پتہ ہے آنٹی،آپ فکر نہ کریں میں یہ بات کسی کو نہیں بتاؤنگا۔
آنٹی کچھ دیر کے لیے چپ ہو گئیں۔
آنٹی: وعدہ کر کے کسی کو نہیں بتائیگا۔
میں: پکہ وعدہ آنٹی۔
آنٹی نے میرے گال پر ایک کس کی۔
آنٹی: لیکن تُجھے پتہ کیسے چلا؟
میں نے آنٹی کو چند دیں پہلے کی ساری بات بتا دی۔
آنٹی: یار یہ رحمت بھی چُوتیہ ہے ایک نمبر کا۔
میں: آنٹی ایک اور بات پوچھوں؟
انٹی: ہاں وہ بھی پوچھ لے۔
میں: اونٹنی آپ نے ایسا کام کیوں کیا؟
آنٹی: تُجھے تو پتہ ہے تیرے انکل کا صبح سویرے كام پر جاتے ہے تو رات کو دیر سے آتے ہیں۔ اور تھکن کی وجہ سے آتے ہی سو جاتے ہیں۔
میں: تو آنٹی اب آپ کیا کرینگی؟ اب تو رحمت انکل بھی چلے گئے۔
آنٹی: کرینگے کچھ یہ ایسے ہی رہ لینگے۔
میرا دل کر رہا تھا کہ کاش آنٹی مجھے کہہ دیں کہ اب سے تو مجھے چود لیا کرنا۔لیکن آنٹی نے ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

کہانی تو بہت اخیر تھی پتہ نہیں رائیٹر نے چھوڑی کیوں چلتی رہتی تو کمال ہوتا

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.