Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

ارمان ایک طویل داستان

Featured Replies

  • Author

جہاں پہلے میں اسکول میں ٹیچرز کی ہر بات کو بڑے دھیان سے سنتا تھا وہی اب میں
ٹیچرز کو گلیاں دینا اور ہر کلاس میں ٹائم پاس کرنے لگا . . . . 

کالج اسٹارٹ کئے ہوئے یوں تو بہت دن نہیں ہو گئے  تھے لیکن ان دنوں میں میں نے ایک بار  بھی ہاسٹل جا کر بُک نہیں کھولی تھی . . . . 

مجھے صبح اُٹھ کر فائل نہ تلاش کرنی پڑے اس لئے میں نے سب سبجیکٹ کی لیب فائل اپنے بیگ میں ڈال کر رکھی ہوئی تھی ،
 عالَم تو یہ تھا کہ جو بیگ میں کالج سے جا کر ہاسٹل میں رکھتا تھا ویسے ہی بیگ صبح اُٹھا کر کالج آ جاتا اور جب بھی گھر سے یا بڑے بھائی کی کال آتی تو میں اکثر یہی بولتا تھا کہ  پڑھائی اچھی چل رہی ہے . . . . . . .

" اسائنمنٹ جمع کرو . . . . "
 سحرش میڈم نے  اپنے ہاتھ میں پین لیکر کرسی پر بیٹھ چکی تھی . . . .

" پہلے یہ بتاؤ کی کس نے کس نے اسائنمنٹ خود بنایا ہے . . . . "

یہ ایک ایسا سوال تھا جس میں سب نے اپنا ہاتھ کھڑا کیا جبکہ ایک دو کو چھوڑ کر شاید ہی کوئی ایسا ھوگا جس نے اسائنمنٹ خود سے بنایا ھوگا . . . . .

" ویری گڈ . . . "
اپنے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے سحرش میڈم پھر سے بولی 

" اب یہ بتاؤ،
 کس نے اسائنمنٹ نہیں بنایا . . . . "

میں نے پوری کلاس کی طرف دیکھا ،
کسی نے بھی اپنا ہاتھ نہیں اٹھایا ، 
سحرش میڈم  نے اپنا دوسرا سوال
پھر ڈھورایا اور اِس بار صرف ایک ہاتھ کھڑا ہوا اور وہ ہاتھ میرا تھا . . . . . .

" کیوں . . . 
تم نے اسائنمنٹ کیوں نہیں کیا . . . . "

" بھول گیا میم . . . "
میں نے سیدھا سا جواب دیا . . . . .

" بریک ٹائم  میں تُم مجھ سے کمپیوٹر لیب میں ملنا . . . "

میں نے گردن ہاں میں ہلا دی اور بیٹھ گیا ،
اِس وقت مجھے سب سے زیادہ غصہ اظہر پر آ رہا تھا کیوںکہ اس نے اسائنمنٹ کمپلیٹ کر لیا تھا اور مجھے بتایا تک نہیں . . . . . .

" کیوں یار مجھے کیوں نہیں بتایا تو نے . . . " اس کے پاؤں پر زور دار لات مار کر میں نے پوچھا . . . .

" مجھے لگا کہ تونے کر لیا ھوگا . . . "
اپنے پاؤں کو سہلاتے ہوئے اس نے کہا . . . " اگلی بار بتا دوں گا . . . "

اس دن سحرش میڈم کا پورا پیریڈ اسائنمنٹ جمع کرنے اور چیک کرنے میں گزر گیا ، 
اسائنمنٹ چیک کرتے وقت سحرش میڈم کبھی کبھی مجھے دیکھتی اور کبھی کبھی ہماری نظریں بھی ٹکرا جاتی . . . . .

 جب پیریڈ ختم ہوا تو سحرش میڈم نے جاتے ہوئے مجھے ایک بار پھر یاد دلایا کہ مجھے بریک ٹائم میں ان سے ملنا ہے . . . . . .

" آج تو بیٹا سحرش میڈم تجھے چود كے ہی رہیگی . . . "
 اظہر مجھ سے مزے لیتے ہوئے بولا . . . 

تیسرا پیریڈ شروع ہو چکا تھا لیکن ٹیچر لاپتا تھا اور اچانک مجھے ایک خیال آیا  اور شوکت سے اس کی بائیک کی چابی مانگی . . . . . .

" یار باہر سینیرز ہوںگے . . . "
اظہر نے کہا جس کی وجہ سے میں بیٹھ گیا . . . . .

میں نے سوچا تھا کہ ایک اسائنمنٹ کاپی خرید کر اِس خالی پیریڈ میں ہی اسائنمنٹ پورا کر لوں گا اور بریک ٹائم میں سحرش میڈم كے منہ پر اسائنمنٹ دے ماروں گا ،
لیکن سینیرز کا نام سن کر میرا پورا پروگرام خراب ہو گیا . . . . .

خود کو سلطان میرانی اور اس کے ساتھ پھیرنے والا اس کا ایک اور دوست اکثر فرسٹ ایئر کی کلاس كے کوری ڈور میں چَکَر لگاتے رہتے تھے اور جو کلاس بھی خالی نظر آئے وہ اس میں جا کر اپنا باشن دیتے تھے ،
اس دن جب ہماری کلاس خالی جا رہی تھی تو اسی وقت وہ دونوں آن پڑے . . . . . .

 اُن میں سے ایک جو خود کو سلطان میرانی
کہتا تھا وہ اندر آیا اور اس کے ساتھ ہمیشہ کالج كے چَکَر کاٹنے والا اس کا دوست گیٹ پر کھڑا ہو کر نگرانی کرنے لگا . . . . . 


سلطان میرانی لڑکیوں کی طرف جا کر گپیں مارنے لگا ، 
اسی دوران سب نارمل ہو گئے اور آپس میں بات کرنے لگے . . . .

 تبھی وہ چیخا اور سب خاموش ہو گئے . . . .

" کیا ہے یہ . . . 
سیئنر کلاس میں ہے اور تُم لوگ دماغ  کی ماں بہن ایک کیے جا رہے ہو . . . . "
 لڑکوں کی طرف آتا ہوا وہ بولا اور پھر اس نے مجھے دیکھ لیا
 " تو کھڑا ہو ، 
کیا نام بتایا تھا تو نے اپنا . . . "

" ارمان . . . . . "

" ارمان . . . . "
مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے اس نے وہی کہا جس کا مجھے شک تھا" 

زیادہ اکڑ میں رہنا بند کر دے ، 
ورنہ . . . . . " 

گیٹ  پر کھڑے اپنے دوست کو پاس بلا کر اس نے اپنے دوست كے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور پھیر بولا . . . .

" یہ جو تمہارا سیئنر ہے نہ میں اس کا بھی باپ ہوں . . . . "
 اس کا اشارہ گیٹ  پر کھڑے ہونے والے سیئنر کی طرف تھا . . . . "
 تو اب سوچ لے کہ میں تیرا بھی باپ ہوں . . . ."

اس کا یہ کہنا تھا کہ میرا خون کھول اٹھا ،
 میں نے اسے گھور کر دیکھا . . . .

 ایک بار پھر وہی ہوا جو میں نے سوچ رکھا تھا ،
وہ میرے پاس آیا اور میرا کالر پکڑ کر بولا . .
" کیا گھور رہا ہے ، 
میں ہوں تیرا باپ . . . "

" باپ كے کالر سے ہاتھ ہٹا . . . "

یہ سب کے لیے ایک دھماکے کی طرح تھا ، میرے منہ سے یہ لفظ سن کر سلطان میرانی  اور اس کا دوست بھی شاک کی لپیٹ میں آ گئے . . . . 

میں نے سلطان میرانی كے جسم کو دیکھا اور اندازہ لگایا کہ ہماری لڑائی ہوئی تو رزلٹ کافی دیر سے آئیگا ،
مطلب کہ ہم دونوں برابر تھے . . . . . .

" تو جانتا ہے کون ہوں میں . . .
 میں ہوں سلطان میرانی . . . "

اپنا سینہ تان کر فلمی اسٹائل میں وہ
بولا . . . .

" تو اگر سلطان میرانی ہے تو میں ہوں ارمان راجپوت . . .
اب بول . "

وہ خاموش ہوگیا ،
اور کچھ دیر تک میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہ جانے کیا سوچتا رہا ،
 اس کے بَعْد اس نے اپنے دوست کو بلایا . . . . اور میں نے اظہر کو کھڑا ہونے كے لیے کہا . . . . . 

اس وقت دونوں طرف دو دو افراد تھے
اور دونوں ہی برابر لیکن ہمارا پلڑا بھاری تھا کیوںکہ میں نے اسی دوران ان دونوں سے کہہ دیا تھا کہ جب ہماری لڑائی ہوگی تو اس وقت ہماری کلاس کا کوئی ایک اسٹوڈنٹ جا کر پرنسپل آفس میں یہ خبر دے کر آئیگا کہ مکینیکل فرسٹ ایئر میں کچھ سینیرز ،
جونیر اسٹوڈنٹ کو بری طرح پیٹ رہے ہے ،
اور پرنسپل سر مان بھی جاۓ گے . . . .

 اس کے بَعْد تُم دونوں کو کالج سے نکل دیا جائیگا . . . . 
 تو بہتر یہی ہے کہ ابھی
کلاس سے باہر چلے جاؤ ورنہ کالج سے باہر جانا پڑیگا . . . . . . . .


وہ دونوں کلاس سے باہر چلے گئے ،
لیکن مجھے یقین تھا کہ وہ دونوں مجھے باہر ضرور پکڑیں گے اور اسی وقت میں نے اپنے دشمنوں میں ان دونوں کا نام بھی لکھ لیا . . . . . 

میری آج اِس دلیری کی وجہ سے سب کی
نظریں مجھ پر جم سے گئی تھی یہ میں نے پہلے ہی سوچ لیا تھا ،
اور اسی وقت میں نے خود سے بولا کہ
 " کاش سارہ اِس کلاس میں ہوتی تو آج وہ مجھ سے ضرور سیٹ ہو جاتی ، 
پھر ہم دونوں اسی کے ہی پیسے پر باہر كھانا کھانے جاتے ،
اس کے بَعْد ایک ہی کولڈ ڈرنک میں اسٹرو ڈال کر پیتے اور اس کے بَعْد میں اسے ایک لال گلاب دیتا اور وہ شرما کر کہتی کہ
 " اَرمان . . .
 تُم کتنے وہ ہو . . . " 

" سحرش میڈم كے پاس نہیں جانا کیا . . . . " 

اظہر کی  آواز نے مجھے ہوش میں لایا . . . . 


 

 

بریک ٹائم ہوگیا . . . "

" پانچ منٹ بھی ہو گئے تھے . . . . "

" تو بھی چل نہ . . . "

" تو جا یار"
انگڑائی لیتے ہوئے اظہر نے بولا
 " مجھے نیند آ رہی ہے . . "

میں اکیلے ہی اپنی جگہ سے اٹھا اور کلاس سے باہر جانے لگا تبھی اظہر نے آواز دی
 " سنبھل کر کہی وہ تیرا ریپ نہ کر دے . . . . . . . . "

" لڑکیاں بھی ریپ کرتی ہے کیا . . . "
میں نے ہنستے ہوئے اظہر سے پوچھا

" آج کل کی لڑکیاں کچھ بھی کر سکتی ہے . . . . "
اس نے بھی ہنستے ہوئے جواب دیا . . . . .

" چل ٹھیک ہے ،
 ملتے ہے کچھ دیر میں . . . "

میں کلاس سے باہر نکل آیا ،
 کمپیوٹر لیب گرائونڈ فلور پر تھی  اور جیسے جیسے میں سیڑھیاں اتار رہا
تھا ویسے ویسے ہی ایک ڈر ،
ایک ججھک میرے اندر اپنے ڈیرے جمعا رہی تھی . . . .

 میں یہی چاہ رہا تھا کہ سحرش میڈم کمپیوٹر لیب میں اکیلی نہ ہو ،
ان کے ساتھ کچھ اسٹوڈنٹ بھی ہو . . . . .

 میں اپنے کالج کا شاید اکلوتا ایسا لڑکا تھا جو سحرش میڈم جیسی خوبصورت اور گداز جسم والی عورت کی قربت سے دَر رہا تھا . . .

" میں اندر آ سکتا ہوں میم . . . " 
کمپیوٹر لیب كے گیٹ كے پاس کھڑے ہوکر میں نے اندر آنے کی اجازت مانگی . . . .

" ارمان . . .
 آ جاؤ اندر " 
وہ خوش ہوتے ہوئے ایسے بولی ،
جیسے انہیں کب سے میرا انتظار ہو . . . . . 

ان کی اُس ہنسی نے مجھے اندر سے ڈرا دیا اور میرے کانوں میں اظہر کی آواز گونجنے لگی
 " سنبھل کر ، کہی وہ تیرا ریپ نہ کر دے . . . . "

" ارے اندر آؤ ،
 باہر کیوں کھڑے ہو . . . "
 انوں نے مجھے دوبارہ اندر آنے كے لیے کہا اور میں میدان جنگ میں کود گیا . . . .

" آپ نے مجھے بلایا تھا . . . " 
جہاں وہ بیٹھی تھی وہاں جا کر میں نے بولا اور چاروں طرف نظر گھومائی لیب میں ان کے  اور میرے سوا صرف کمپیوٹرز تھے . . . .

" تم نے اسائنمنٹ کمپلیٹ کیوں نہیں کیا . . . . " اپنی کرسی کو میری طرف کھینچ کر وہ آرام سے بیٹھ گئی ،

" کیا پرفیوم لگائی ہے اِس عورت نے . . . " میں بڑبڑایا. . .

" تم نے اسائنمنٹ پورا نہیں کیا ،
کیا میں جان سکتی ہوں کہ ایسا کیوں ہوا . . ."

" سوری میم ،
میں بھول گیا تھا "


" کیا بھول گئے . . "

" اسائنمنٹ کرنا بھول گیا . . . "

وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور میرے پیچھے کھڑے ہوکر آہستہ سے بولی 
" فیزکس لیب والی بات تو نہیں بھولے . . . "

میرا گلہ سُوکھ گیا اور دِل کی دھڑکنیں تیز ہو گئی یہ سن کر ، 
میری یہ حالت دیکھ کر سحرش میڈم کی ہنسی چھوٹ گئی . . .

" تم شرماتے بہت ہو . . . "
 میرے کان کے پاس اپنا چہرہ لا کر وہ بولی . . . .

" مجھے بھی کچھ دن پہلے ہی یہ پتہ چلا تھا کہ میں ایک شرمیلا لڑکا ہوں . . . "

" سو ، 
اب کیا اِرادَہ ہے . . . "

" اِرادَہ تو یہ ہے کہ میں آج پوری رات اسائنمنٹ بناؤں گا اور پھر کل جمع کر دوں گا . . . 
" سحرش میڈم كے ارمانوں پر پانی پھیرتے ہوئے میں نے کہا . . . .

 لیکن اگلے ہی لمحے سحرش میڈم نے ایک مجھے ایک زور دار جھٹکا دیا . . . .

" مجھے چودنے کا ارادہ ہے یا کھسرے ہو. . ." 
غصے میں وہ بولی . . . .

میں ایک بار پھر سے شدید صدمے میں آ گیا تھا ،
اور آج کا صدمہ اُس دن كے فیزکس لیب والے صدمے سے زیادہ بڑا تھا . . . .

 وہ میرے پیچھے کھڑی میرے جواب کا انتظار کر رہی تھی اور میں صدمے سے باہر آنے کی
کوشش کر رہا تھا . . . . . .

" پانی ملے گا . . . . " 
میں نے ٹاپک چینج کرنے كے ارادے سے کہا . . . .

" کون سا پانی . . .
 چوت والا یا بوتل والا . . . . "

سحرش میڈم كے ان لفظوں نے مجھے ایک بار پھر شاک میں ڈال دیا اور مجھے ڈر لگنے لگا کہ میں کہی بے ہوش نہ ہو جاؤں . . . .

" میں ایک شریف پڑھائی کرنے والا لڑکا ہو ،
مجھے ان سب مسائل میں نہ الجھائیں  . . . . " 

اپنی عزت بچانے كے لیے میں نے اپنی کوشش جاری رکھی . . . .

" بول تو ایسے رہے ہو ،
جیسے کبھی مٹھ ہی نہ ماری ہو . . . . "
وہ وآپس سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی اور
اپنے سامنے رکھے کمپیوٹر پر کچھ کرنے لگی . . . . .

 اس کے بَعْد کچھ دیر تک وہ اسی میں مصروف رہی اور پھر بولی . . .
" ادھر آؤ . . . "

" کدھر . . . " 
گلا اک بار پھر خشک ہوگیا تھا . . .

" میرے پاس . . . "

لڑکھڑاتے ہوئے قدموں کے ساتھ میں سحرش میڈم کی طرف گیا ،
جہاں وہ کرسی پر کسی ملکہ کی طرح بیٹھی
ہوئی تھی ،
ان کے قریب جا کر میں کھڑا ہو گیا اور کمپیوٹر كے اسکرین پر نظریں ڈالی ،
 سحرش میڈم نے ایک ویڈیو چلائی،
 وہ ویڈیو ایسی تھی کہ جسے دیکھ کر میرے پسینے چھوٹ گئے ،
 اِس بار تو بے ہوش ہو  ہی جاتا لیکن میں نے خود کو سنبھل لیا . . . . . .

" یہ پوزیشن مجھے بہت پسند ہے اور تمھیں . . . "

جواب میں میں اپنے ہونٹوں پر صرف زبان ہی پھیر سکا  ،
 میرے سامنے ایک بلکل ننگی چودائی والی ویڈیو چل رہی تھی . . . . 

یہ کیسے ہو سکتا ہے ،
کوئی ٹیچر اپنے اسٹوڈنٹ كے ساتھ ایسے برتاؤ کیسے کر سکتی ہے . . . . 

لیکن حقیقت تو وہی تھی جو آج کے دن لیب میں میرے ساتھ ہو رہا تھا ، 
میں عمر كے اُس چوراہے پر تھا شاید بہت سی باتیں ایسی تھی جسے جاننا ابھی باقی تھا . . . .

میرا من اور تں ڈولنے لگا ، 
اگر سہی لفظوں میں کہوں تو جب آپ کے سامنے چدائی کی فلم چل رہی ہو تو لنڈ اپنے آپ کھڑا ہو جاتا ہے ،
 میرا بھی لنڈ کھڑا ہوگیا ،
جسے دیکھ کر سحرش میڈم نے مجھے اپنے
ڈانٹ دکھانے لگی  . . . .

 نہ چاہ کر بھی اُس وقت میں یہ چاہنے لگا تھا کی سحرش میڈم پہلے اپنے ہاتھوں سے
میرے لنڈ کو سہلائے اور پھر اپنے منہ سے میرے لنڈ کو چُوسے اور اس کے بَعْد کسی پورن اسٹار کی طرح بولے کہ
" وائو ،
 تمہارا لنڈ تو بہت بڑا ہے. . . . "

" کسی بھی لڑکی کے جسم  میں تمہیں سب سے اچھا حصہ کون سا لگتا ہے . . . . "
 ویڈیو بند کرکے سحرش میڈم میرے طرف موڑی . . . . . . 

 

مطلب . . . . "
میں جانتا تھا کہ سحرش میڈم كے سوال کا کیا مطلب تھا ،
لیکن پھر بھی میں نے پوچھا . . . .

" مطلب کہ چوت ، 
گانڈ ،
ممے،
 ہونٹ . . . . . "

" ممے اور ہونٹ . . . . "
میں نے جواب دیا اور ایک عجیب  سی بات مجھے یہ لگی کہ ،
اب مجھے شرم نہیں آ رہی تھی . . . . .

" میرے ہونٹوں کو چھو کر دیکھو . . . "

" کیسے چھوؤں ہاتھ سے یا پھر ہونٹ سے یا پھر . . . . . . "

" ابھی تو فی الحال ہاتھ سے مزہ لو . . . "

میں نے اپنی انگلیوں کو سحرش میڈم كے ہونٹوں پر رکھا اور دھیرے دھیرے سہلاتے ہوئے ان کے ہونٹ كے آخری حصے تک اندر تک لے گیا ، . . . .

یہ سب کچھ بہت عجیب تھا ،
مجھے خود یقین نہیں ہو رہا تھا کہ میری مرجھائی ہوئی تقدیر میں ایک عورت کیسے آ گئی وہ بھی اتنی حسین کہ . . . .

" وہاں بھی ہاتھ پھیر لوں . . . "
 میرا اشارہ ان کے باہر کو نکلے ہوے بڑے بڑے  مموں کی طرف تھا ، . . .

 سحرش میڈم نے اپنی چھاتیوں کو ایک بار دیکھ اور بولا . . .
" یہ سب پوچھا نہیں جاتا . . . . "

" اچھا پھر ٹھیک ہے . . . "
 اور پھر میرے کانپتے ہوئے ہاتھ ان کی چھاتیوں سے جا چپکے اور ایسے چپکے کے چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ،
 لنڈ پینٹ سے باہر نکلنے كے لیے بےتاب تھا تبھی کھڑے لنڈ پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے سحرش میڈم نے کہا . . .
" اب تم جاؤ . . . "

بجھے دل کے ساتھ میں نے سحرش میڈم کی چھاتیوں کو دیکھا ، 
جن سے میرے ہاتھ چپکے ہوئے تھے ،
میں نے معصومیت بھری آواز میں کہا
 " اک بار انہیں دبا لوں . . . "

" تم اب جاؤ . . . . "
ہنستے ہوئے انہوں نے میرے ہاتھ کو دور کیا اور مجھے جلدی وہاں سے جانے کا اشارہ کیا . . . . .

" مٹھ مارنی پڑے گی اب . . . " 
کمپیوٹر لیب سے باہر نکل کر میں نے خود سے کہا اور باتھ روم کی طرف چل دیا ،
آج مجھے کئی بہت سے جھٹکے ایک ساتھ لگے تھے ،
پہلے میں نے ان پانچ لڑکیوں کو ان کی اوقات یاد دلائی ،
پھر سلطان میرانی اور اس کے دوست کو اور اس کے بَعْد کمپیوٹر لیب والا جھٹکا . . . . . 

لیکن ایک اور جھٹکا  بہت جلد لگنے والا تھا اور یہ جھٹکا سب سے بڑا بھی تھا . . . . . . . .

" مجھے معلوم چل گیا ہے کی ساراہ کالج کیوں نہیں آ رہی کچھ دنوں سے . . . . "
 مٹھ مارنے كے بَعْد لٹکا ہوا منہ لیکر میں کلاس میں داخل ہی ہوا تھا کہ اظہر نے بولا . . . .

" کیوں . . . . ؟ " 
میں نے اظہر کی طرف دیکھا . . . .

ابھی تک میں یہی سمجھ رہا تھا کہ شاید اس کے گھر میں کوئی کام ھوگا ،
یا پھر اس کی طبیعت خراب ھوگی یا ہلکا پھلکا بخار ھوگا ،
 یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے کسی رشتےدار سے ملنے کہی باہر گئی ہو اور اسی وجہ سے وہ کالج نہ آئی ہو ،
لیکن اظہر نے دھماکہ کرکے میرے دماغ کو سن کر دیا ،
اس نے سارہ كے کالج نہ آنے کی جو وجہ بتائی ،
اسے سن کر یقین ہی نہیں ہوا اور میں نے اظہر سے ایک بار پھر پوچھا . . . .

" کیا بولا تو نے میں نے سنا نہیں . . . "

" سارہ نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی . . . . . . "


مجھے پھر بھی یقین نہیں ہوا اور یہ سوچ کر کہ میں نے غلط سنا ھوگا میں نے ایک بار اور اظہر سے پوچھا . . .

" کیا . . . "

" سارہ نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے . . . "

مسلسل تِین بار لگاتار میں وہی سوال پُوچھ رہا تھا اور اظہر میرے ان سوالوں کا ایک ہی جواب دے رہا تھا . . . .

 اُس وقت کچھ ہوا ،
کچھ الگ سا ہی ہوا ، 
کچھ الگ سا ہی احساس ہوا . . . .

 میں وہاں سے بھاگتے ہوئے سیدھے کالج سے باہر آیا بنا یہ سوچتے ہوے کہ مجھے جانا کہاں ہے ،
بنا یہ سوچے کہ سینیرز مجھے پکڑ سکتے ہے اور میرا کچوںمبر بنا سکتے ہے . . . .

 کالج كے مین گیٹ سے میں نکلا ہی تھا کہ 
میری نظر اُس ایک درخت پر پڑی جس پر رنگ برنگی پھول لگے ہوئے تھے . . . . 

یہ وہی درخت تھا ،
وہاں اُس وقت ہوا بھی وہی چل رہی تھی ،
جو روزانہ چلتی تھی ،
کالج بھی وہی تھا اور اس میں پڑھنے والے اسٹوڈنٹ بھی وہی تھے . . .

 سورج آج بھی مشرق سے نکل کر اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا ، 
لیکن جب سے سارہ كی خودکشی کی خبر سنی تھی تو اُس ایک پل میں جیسے پوری دُنیا بَدَل گئی ہو ،
رنگی برنگی دنیا بلکل بے رنگ سی لگنے لگی ،
ایسا لگنے لگا تھا مجھے اُس وقت . . . .

 لوگ میرے سامنے سے آتے اور چلے جاتے ،
اُس وقت کوئی مجھ پر لاتوں اور مکوں کی برسات بھی کر دیتا تو میں اسے صرف دیکھنے كے سوا کچھ بھی نہیں کرتا . . . . . .

" اظہر . . . 
شوکت . . . "
میں نے یہ دو نام لیے ، 
جو میرے خاص دوست تھے ،

" کہا جا رہا ہے . . . "
پیچھے سے میرے خاص دوست اظہر نے آواز دی ،
وہ بھی میرے پیچھے پیچھے  آ گیا تھا بنا یہ جانے کہ اسے جانا کہا ہے . . . .

" سارہ کس اسپتال میں ہے . . . . "

میری گھبراہٹ کو اظہر پہچان گیا اور میری بے چینی کو سمجھ کر وہ بولا
 " یہ تو مجھے نہیں پتہ. . . . "

" تجھے کس نے بتایا کہ سارہ نے خود کشی کرنے کی کوشش کی ہے . . . . "

" کلاس میں کچھ لڑکے بات کر رہے تھے ،
جسے میرے دوست نے سن لیا اور پھر مجھے خبر دی . . . . "

اِس وقت سارہ سے ملنے کا بہت دِل کر رہا تھا ، لیکن اس سے ملوں بھی تو کیسے ،
میں اس سے ملا بھی تو کیا کہوں گا . . .
کہ میں یہاں کیوں آیا ،
کس لئے آیا کس حق سے آیا . . . . . 

دِل میں ہزار قسم کے وسوسے لاکر  میں نے وہاں سے واپس اپنی کلاس میں جانے کا سوچا . . . .

کوری ڈور میں اب بھی اسٹوڈنٹ موجود تھے ،
کچھ چہل قدمی کر رہے تھے تو کچھ گروپ بنا کر باتیں کر رہے تھے  . . . . 

 

وہاں مجھے اظہر کا وہ دوست بھی دکھائی دیا جو سارہ کی کلاس میں پڑھتا تھا . . . . .

" سن نہ یار . . . . "
میں نے اظہر كے دوست کو بلایا اور اس نے میری دکھتی رگ پر ہاتھ تو رکھا ہی ساتھ
ہی ساتھ میرے دل پر خنجر مارتے ہوئے بولا . . .
" ارمان تجھے پتہ چلا یا نہیں . . . . 
سارہ نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے . . . . "

" ہاں معلوم ہے . . . 
کوئی وجہ معلوم چلی کہ اس نے ایسا کیوں کیا . . . "

" عشق ،
محبت کا چکر ہے دوست . . . .
تو بھول جا اسے . . . "

جتنی آسانی سے اس نے مجھے کہہ دیا اتنی ہی آسانی سے میں نے اس کی بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا اور اس سے پوچھا کی سارہ کس اسپتال میں ہے . . . .

" پتہ نہیں . . . .
لیکن چھٹی ہونے تک کسی سے پوچھ کر تجھے بتا دوں گا . . . . "

" شکریہ ،
اب چلتا ہو . . . "

" چل ٹھیک ہے . . . "

وہاں سے میں سیدھے اپنی کلاس میں آکر بیٹھ گیا ،
یہ سوچ سوچ کر دِل بیٹھا جا رہا تھا کہ سارہ نے کس كے پیار میں اپنی جان دینے کی کوشش کی ہے . . . .

" وہ اسے بہت پیار کرتی ہے ،
اس کا مطلب میں یا میرے ارمانوں كے لیے اس کے دِل میں کوئی جگہ نہیں . . . . " 
میں اس وقت خود سے ہی سوال جواب کئے جا رہا تھا . . . .

" لیکن اس دن کلاس میں تو وہ مجھے دیکھ رہی تھی . . . . "
میں اس وقت جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ میں بدلنے کی کوشش کر رہا تھا ،
اس وقت مجھے بلکل بھی یہ خیال نہیں تھا کی فیزکس والے سر کلاس میں آ چکے
ہے . . . .

" ہیلو ،
 تم . . . "

" ہیں . . . . "
اظہر نے مجھ سے سرگوشی کی تو میں ہوش میں آیا . . . .

" کیا ہیں ہیں لگا رکھا ہے ،
پڑھنا ہے تو چُپ چاپ پڑھو ورنہ باہر جاؤ . . . "

"  میں نے تو ایک لفظ بھی نہیں بولا . . . "
اس فیزکس والے سر کو دیکھ کر میں نے خود سے کہا . . . . .

" آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے . . . " 

 کسی نے بھی اپنے دماغ کا استمعال کر کے کچھ بھی سر کو سنایا تو اسے یہی
جواب ملا . . . . 

یہ جواب صرف اسے ہی نہیں بلکہ کئی اور بھی اسٹوڈنٹ کو ملا . . . 
جب بھی کوئی اُلٹا سیدھا سوال کرتا تو سر اس پر اپنا بھارم مار کر کہتے کہ 
" آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے . . . . "
اور پھر سب خاموش ہو جاتے . . . . 

سوال تو میرے دماغ میں بھی تھا لیکن اس وقت میں نہیں پُوچھ پایا شاید سارہ کی وجہ سے . . . . . . 

سر کی بھی اک عجیب اور بڑی گھٹیا عادت تھی وہ کلاس ختم ہونے سے  کچھ دیر پہلے ایک ایک اسٹوڈنٹ سے اس دن جو پڑھایا گیا ہو  اسے بتانے کو کہتے . . . 

جو بتا دیتا وہ بیٹھ جاتا تھا لیکن نہ بتانے والے کو  سر فیزکس ڈیپارٹمنٹ میں بلاتے اور وہاں ،
عزت کی دھجیاں اڑاتے . . . .

" تم بتاؤ . . . . "

میں چُپ چاپ کھڑا ہوا اور دماغ کو کھنگال کر سوچنے لگا کہ میں اِس بارے میں کچھ جانتا ہو یا نہیں . . . . . 

تھیوری آف ریلاٹیویتی كے ٹاپک پر سبجیکٹ تھا لیکن کچھ دن پہلے میں نے کسی اخبار میں کچھ پڑھا تھا اور جو پڑھا تھا وہی سر كے سنا دیا. . . . .

" سر ،
میرا اک سوال ہے . . . 
کچھ دن پہلے میں نے پڑھا تھا کہ کچھ چیزیں  ایسی بھی ہے جن کی ویلوسیٹی لائٹ
كے ویلوسیٹی سے بھی تیز ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر آیسٹن کا قانون غلط ہو گیا ،
آپ کیا کہتے ہے اِس بارے میں . . . . "

" آیسٹن ہو یا کوئی عام آدمی ،
کوئی بھی فیزکس كے قانون كے خلاف نہیں جا سکتا . . . 
بیٹھ جاؤ . . . "

" تھینک یو سر"


اس دن بہت سے اسٹوڈنٹ سر كے جال میں آ گئے . . . 
میں چاہتا تھا کہ اظہر بھی اس جال میں پھنس  جائے لیکن کمینہ ہوشیار نکلا اور جب  سر نے اسے کھڑا کیا تو لمبا چوڑا حساب اس نے دے دیا . . . . .

" بڑے غور سے سن رہا تھا سر کا بورنگ لیکچر . . . . . "

" مطلب . . . . "

" اس کا لیکچر سنے بنا تو اتنا سب کچھ کیسے بول سکتا ہے . . . "

" یہ سب تو  مجھے پہلے سے معلوم تھا مجھے . . . "
 کندھے اچکا کر وہ بولا . . . .


" میں آج راحیلہ کی کلاس اٹینڈ نہیں کروںگا . . . . "
اپنا بیگ بند کرتے ہوئے شوکت نے ہم دونوں سے
کہا . . . .

" کیوں جا کر  گانڈ مروانی ہے . . . "

" کمینے . . . "
اظہر کو ایک تھپڑ مار کر شوکت نے کہا 
" جب دیکھو تب گالی بکتے رہتے ہو . . . . "

" تو اس کو چھوڑ  اور یہ بتا کہ آج راحیلہ میڈم کی کلاس کیوں چھوڑ رہا ہے . . . .
 سنا ہے بہت ہارڈ سبجیکٹ ہے آج . . . "
 میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ وہاں سے جائے ،
کیوںکہ شوکت كے ساتھ رہنے سے کلاس بورنگ نہیں لگتی تھی . . .

" بھائی آ رہا ہے گاؤں سے اور تین بجے انہیں ریلوے اسٹیشن لینے جانا ہے ، . . . "

" جب کام تین بجے ہے تو پھر ابھی کیوں جا رہا ہے ، . . . "

" بس جا رہا ہوں . . . .
 کمرے کی صفائی بھی کرنی ہے ،
 ورنہ بھائی روم میں آکر میرا حال چال بَعْد میں پوچھے گا اس سے پہلے مجھے بولے گا کہ  چل پہلے روم صاف کر . . . "

" آج تیرے روم میں ہی روکنے کا ارادہ ہے کیا ان کا . . . . "
میرے اندر ایک الگ ہی کھچڑی پک رہی تھی جس میں مرچ مسالے ڈالتے ہوئے شوکت بولا . . .
" نہیں ، چار بجے ان کی ٹرین ہے . . . "

" آج رات میں تیرے روم میں ہی گزاروں گا. . . . "

" کیوں . . . "
 میرے اچانک اس طرح کہنے سے شوکت تھوڑا چونک سا گیا ،

" کیوں ،
تو آج اس کے روم میں کیوں رات گزارے گا . . . . " 
اظہر  نے مجھے ٹوکا . . .

" کام ہے کچھ . . . "

" لونڈے بازززز . . . "
 ایک ردھم میں گاتے ہوئے اظہر نے کہا . . . .

" دراصل میں سوچ رہا تھا کہ سارہ جس اسپتال میں ہے ،
 وہاں جا کر اسے دیکھ آؤں  . . . "

" شوکت ، 
لڑکا تو گیا ہاتھ سے . . . "
 مسکراتے ہوئے اظہر نے کہا

 " پھر میں بھی چلتا ہوں . . . "

پھر کیا تھا ہم تینوں نے اپنا بیگ اٹھایا اور نکل گئے شوکت كے روم کی طرف . . . . 
پورے راستے میں نے پلان بنایا کہ مجھے اسپتال جا کر اصل میں کرنا کیا ہے ، 

لیکن پھر یاد آیا کہ ہمیں تو اس اسپتال
کا نام تک نہیں پتہ جس میں سارہ ایڈمٹ ہے . . . . .

" یار تو کس لیے میرے ساتھ آیا ہے . . . "
بائیک پر بیٹھے ہوئے ہی میں نے کہنی سے اظہر کو مارا . . . .

" تیرے ساتھ اس اسپتال میں جاؤں گا ،
جہاں سارہ  ایڈمٹ ہے . . . "

" کیسے جائیگا ،
پہلے یہ تو پتہ کر کہ سارہ ہے کس اسپتال میں . . . . "

کالج سے شوکت كے روم تک کا سفر  صرف آدھا گھنٹہ تھا،
 

 

اِدَھر شوکت روم کی صفائی میں لگ گیا اور ادھر میں اور اظہر اس کے بستر پر کسی بادشاہ کی طرح بیٹھ کر اپنا پلان بنانے
لگے . . . . . . . .

" منو کو کال کرتا ہوں . . . . " 
اظہر  نے اپنا موبائل نکالتے ہوئے کہا . . . . . 

منو بھی سارہ كے پیچھے پڑا ہوا تھا اس لئے اظہر نے سوچا کہ شاید اسے کچھ معلوم ہو اور ہمارا اندازہ ایک دم سہی نکلا،
اس کمینے منو کو پتہ تھا کہ سارہ کہاں ایڈمٹ ہے . . . .

" کام ہو گیا . . . . " 
کال بند کرکے اظہر نے کہا . . . .

" کہا ہے وہ اور کس حالت میں ہے . . . "
" میمن اسپتال میں ہے . . . . "

" چل جلدی سے چلتے ہے وہاں . . . . "
میں بنا کچھ سوچے سمجھے جانے كے لیے اٹھ کھڑا ہوا ،
تبھی شوکت جو روم کی صفائی میں لگا ہوا تھا وہ بولا
" ہیلو . . . 
کدھر . . "

" میمن اسپتال. . . "

" بیٹا ،
 ابھی جانا ہے تو رکشہ میں جاؤ ،
 کیوںکہ تین بجے بھائی کو لینے ریلوے اسٹیشن جانا ہے اور ویسے بھی میمن اسپتال دو کمروں کا کوئی چھوٹا اسپتال نہیں ہے جو منہ اٹھا كے چلے جاؤ گے . . .
 بیٹا اندر گھسنے كے لیے آئی ڈی کارڈ مانگتے ہے . . . . . "

 ہم دونوں كے بڑھتے قدم وہی روک گئے اور اظہر كے ہاتھ سے شوکت نے بائیک کی
چابی چھین کر کہا
 " گانڈ پر لات مار كے باہر کرینگے وہاں کا سکیورٹی گارڈز . . . . "

" تو اب کیا کرے . . . . "

" چار بجے تک روک ،
بھائی کو ریلوے اسٹیشن چھوڑنے كے بَعْد میں بھی ساتھ میں چلوں گا . . . . "

اس دن شوکت كے بھائی نے ایک گھنٹے اچھی طرح سے بور کیا اور شوکت كے روم کو صاف دیکھ کر خوش بھی بہت ہوئے ،
 اور جاتے جاتے ہم تینوں کو اچھی طرح سے پڑھنے کی نصیحت بھی دی،
 ساڑھے چار بجے كے لگ بھگ شوکت ریلوے اسٹیشن سے وآپس روم میں آیا اور ہم تینوں میمن اسپتال كے لیے نکال پڑے . . . . . .

" لے آگیا میمن اسپتال،
اب بول اندر جانے کا کیا جوگار ہے . . . " 
شوکت جب بائیک پارک کرکے آیا تو میں نے اس سے پوچھا . . . .

" میرے چاچو یہاں ایڈمٹ ہے ،
ان کو باہر بلاتا ہوں . . . . "
یہ کہتے ہوئے شوکت نے موبائل نکالا اور
پھر اپنے چاچو سے بات کی ، . . . 
کچھ ہی دیر میں شوکت كے چاچو باہر آئے ،
شوکت اور اس کے چاچو نے کچھ دیر سلام دعا کے بعد چند رسمی بات چیت کی اور پھر ہمیں دو کارڈ دے کر بولے کہ تم تینوں میں سے صرف دو لوگ ہی اندر جا سکتے ہو . . . .

 جانا تو ہم تینوں کو تھا اس لئے ہم تینوں ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے کہ کون
اپنی قربانی دے گا . . . .

 لیکن جب کوئی فیصلہ نہیں ہوا تو چاچو نے ہم تینوں کو کچھ دیر رکنے كے لیے کہا
اور پھر جوگار کرکے ایک اور کارڈ لیکر آئے . . . .

" شوکت ،
 اپنے چاچو سے پُوچھ كے دیکھ کہ یہ سارہ کو جانتے ہے یا نہیں . . . . "

" پاگل ہے کیا . . . . "

" تو پاگل ،
 تیرا باپ . . . . . "
 اس سے آگے میں نے کچھ نہیں بولا اور تھوڑی دور کھڑے شوکت كے چاچو كے پاس
گیا ،
جو کسی سے بات کر رہے تھے . . . . .

" چاچو،
 ہمارے کالج کی ایک لڑکی نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے ، . . . 
اسے  آپ جانتے ہے کیا . . . . . "

" سارہ . . . . . . "

" او خیر "
اندر ہی اندر خوش ہوتے ہوئے میں نے شوکت كے چاچو سے کہا 
" ہاں وہی ، 
جب یہاں آئے ہے تو سوچا کہ اس سے بھی مل لیں . . . . "

" وہ میرے قریبی دوست  شکیل جلبانی  کی اکلوتی بیٹی ہے ، 
سارہ کی خودکشی کی خبر سن کر مجھے بھی دکھ ہوا تھا ،
 لیکن اب وہ ٹھیک ہے اور اگر اسے ملنا چاھتے ہو تو 133 نمبر روم میں چلے جاؤ "

" تھینک یو چاچو "

وہاں سے خوشی خوشی میں اظہر اور شوکت كے پاس آیا اور انہیں روم نمبر 133 میں چلنے كے لیے کہا ، . .

گئے تھے بڑے عاشق بن کر ،
سوچا تھا کسی نہ کسی بہانے اس سے بات کر ہی لوں گا ،
پھر اس کا حال احوال بھی پُوچھ لوں گا ،
لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے علاوہ کچھ ہوا . . . . 

جس روم میں سارہ ایڈمٹ تھی ،
ہم تینوں اس روم كے باہر چُپ چاپ کھڑے اندر جھانک رہے تھے کیونکہ اندر جھانکنے كے سوا ہم تینوں یا پھر یوں کہے کہ میں کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا ،
کیوںکہ جو کام مجھے کرنا تھا وہ روم نمبر 133 میں کوئی اور کر رہا تھا ،
جن ارمانوں کو لے کر میں یہاں آیا تھا وہ سب ارمان جس روم میں سارہ ایڈمٹ تھی اس کے باہر بکھر چکے تھے ،
کانوں میں ایک بار پھر وہی آواز گونجی جسے میں سننا نہیں چاہتا تھا ،
 جسے میں برداشت نہیں کر سکتا تھا . . . . . " 

عشق  ،
محبت کا چَکَر ہے بھائی ، 
تو اسے بھول جا . . . . "

 اس وقت اظہر بھی چُپ تھا اور شوکت بھی چُپ چاپ کھڑا تھا . . . . . 

روم كے اندر سارہ ایک لڑکے سے بات کر رہی تھی ،
سارہ کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس لڑکے کی آنکھیں بھی ہلکی نم تھی ،
دونوں میری یک طرفہ محبّت کی دھجیاں اڑا کر اپنے لیے فیملی پلاننگ کر رہے
تھے . . . . . 

جس لڑکے نے سارہ  کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا اسے میں نے کالج میں شاید کئی بار دیکھا تھا ،
اور اگر میرا اندازہ سہی تھا تو وہ یقینن میرا سینیر ہے . . . . . .

" اس کا نام صغیر ہے اور یہ سیکنڈ ایئر میں پڑھتا ہے. . . . "
  شوکت نے آہستہ سے کہا ،
لیکن اگر وہ زور سے بھی کہتا تو کوئی فرق نہیں پڑتا کیوںکہ وہاں ہمیں سننے والا کوئی نہیں تھا ،
جو بیمار تھے وہ تو اپنے روم میں ہی لیٹے پڑے تھے اور جو ان کے احباب تھے وہ یا تو اپنے مریضوں كے ساتھ روم میں تھے یا پھر
باہر کی ہوا کھانے كے لیے باہر گئے ہوئے تھے . . . 

اس وقت ہم تینوں روم نمبر 133 کی کھڑکی کے اندر دیکھ رہے تھے ،
ہم تینوں نے دیکھا کہ اس لڑکے نے سارہ کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور کچھ
بولنے لگا . . . 

جسے سن کر سارہ کی آنکھیں خوشی سے چھلک اٹھی . . . .

اس وقت آنکھوں میں آنسو اس کے بھی تھے ، اس وقت دِل میرا بھی رویا تھا . . . . .

 اس وقت اپنی محبّت كے سامنے وہ
بھی چُپ تھی ،
 اس وقت اپنی محبّت كے سامنے چُپ میں بھی تھا . . . . 

اس کے بغیر جینے کی عادت نہ تو اسے تھی اور
اس کے بغیر جینا میرا بھی مشکل تھا . . . . . .

آہستہ آہستہ میرے قدم خود بہ خود باہر كے لیے چل پڑے ،
اب حالات بالکل الگ تھے،
 جہاں کچھ دیر پہلے تک میں یہاں آنے كے لیے بے تاب ہو رہا تھا وہی اب میں جلد سے جلد یہاں سے دور جانا چاہتا تھا ،
جہاں کچھ دیر پہلے میرا دِل اس کے دیدار كے لیے اچھل اچھل کر بے تحاشہ پاگل ہو رہا تھا وہی اب میرا دِل جیسے دھڑکنا بول گیا تھا . . . . 

 

اسپتال سے باہر جاتے وقت میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ،
لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں ایسا لگ رہا تھا کہ  میں وہاں ،
 اس بڑے سے عالیشان اسپتال میں بالکل اکیلا ہوں . . . .

 کوئی اگر وہاں آہستہ سے بھی کچھ بولتا تو اس کی آواز زور سے میرے کانوں میں چب رہی تھی . . . . 

مجھے اس وقت ایسا لگنے لگا تھا جیسے کہ میں برسوں سے اس جگہ قید ہوں اور وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہوں . . . . . . .

" ارمان . . . . . "
میرے کاندھے کو پچھے سے پکڑ کر اظہر نے مجھے زور سے ہلایا . . . .
 " کہاں جا رہا ہے . . . . "

" باہر . . . . "
 اپنے چاروں طرف دیکھتے ہوئے میں نے اظہر سے کہا ، 
" کیوں کچھ ہوا کیا . . . "

" یہ باہر کا راستہ نہیں ہے . . . 
سامنے دیکھ تو اس روم کی طرف جا رہا ہے جسے مردے خانہ کہتے ہیں . . . . "

اظہر سچ کہہ رہا تھا ،
میرے سامنے کچھ فاصلے پر وہی روم تھا ، میرا سَر گھومانے لگا اور اس کے بَعْد میری آنکھوں كے سامنے اندھیرہ چھانے لگا میں اس وقت نیند کی آغوش میں جانا چاہتا تھا اور میرے دل میں نا جانے کیا آیا جو میں اسی روم کی طرف چل پڑا جہاں مرے ہوئے لوگوں كے جسموں کو رکھا جاتا تھا . . . .

 میرا دماغ میرے قابو میں نہیں تھا . . . .
 میں بس نیند کی آغوش میں جانا چاہتا تھا . . . .

" یار روک ، . . . " 
شوکت اور اظہر نے مجھے پکڑا لیکن میں انہیں اپنے ساتھ لیتے ہوئے آگے بڑھنے لگا . . . . .

" یار ، 
کیا مروائے گا ہمیں . . . "
 اظہر میرے کان کے پاس چلا کر کہا اور اچانک ہی میں ہوش میں آیا . . . . .

" مجھے کیوں پکڑ كے رکھا ہے . . . " 
ان دونوں کو گھوراتے ہوئے میں نے کہا ، . . . .

شوکت کچھ کہنا چاہتا تھا ،
لیکن اظہر نے اسے اشارہ کرکے خاموش کروا دیا اور خود بولا . . . . "
 کچھ نہیں چل یہاں سے . . . . "

جہاں ایک طرف سارہ نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی وہی میرے اور سارہ كی محبّت نے بھی ،
جو کہ شروع تک نہیں ہوئی تھی ،
خود کشی کرنے کی کوشش کی . . . . .

 وہ دن مجھے آج بھی یاد ہے جب میں بہک کر اس مردے خانے کی طرف جا رہا تھا . . . . 

انجینیئر تھا اس لئے چھوڑ دیا ورنہ اگر ڈاکٹر ہوتا تو دماغ نکال کر اس میں
میرے اس دن كے راویے کی وجہ ڈھونڈتا . . . . . . . .


" تھوڑی برف ڈال ، 
بہت کڑوی ہے . . . . " 
کاشف نے اپنا گلاس خالی کر کے کہا 
" یہ کیا بے ، 
تو تو افسردہ کر رہا ہے مجھے اپنی یہ اسٹوری سنا کر . . . . 

اس کی اور میری محبت کی بڑی عجیب داستان ہے . . .


اس دن نہ جانے مجھے کیا ہو گیا تھا ،
 سارہ کو صغیركے اتنے قریب دیکھ کر میں اپنا آپ کھو بیٹھا تھا . . .

 اس دن میں شوکت كے روم میں  نہیں روکا ،
اظہر کا بہت دل کر رہا تھا لیکن میری وجہ سے ،
میرے ہاسٹل واپس آنے کی ضد کی وجہ سے شوکت نے مجھے اور اظہر کو شام كے وقت ہاسٹل چھوڑ دیا . . . .

" مجھے یہ بتا کہ ان دونوں کا یہ چکر کب سے اور کیسے شروع ہوا تھا . . . . " 
ہاسٹل كے اندر داخل ہوتے ہی میں نے اظہر سے کہا . . . .

" میں سب کا بائیو ڈیٹا لیکر نہیں بیٹھا ہوں ، جو تو سب کے بارے میں مجھ سے پوچھتا ہے . . . . "
 اظہر نے غصّے سے کہا . . . .

" کچھ جوگار نہیں ہے . . . "

" بہت اچھا جوگار ہے . . . .
 یہاں سے کچھ فاصلے پر شراب خانہ ہے وہاں سے ایک بوتل لا اور پی کر سارہ اور اپنی یکطرفہ محبّت کو ختم کر دے . . . . سمجھا . . . "

" سیدھا طرح بول نا کہ تو ڈر گیا ہے . . . "

"جیسے تو سمجھ . . . . "

میں سمجھ گیا تھا کہ اظہر ناراض ہے اور اس کی ناراضگی کی وجہ شاید یہ تھی کہ میں نہ تو خود شوکت كے روم میں روکا اور نہ ہی اسے رکنے دیا . . .

" ارمان کا روم یہی ہے کیا . . . "
 میں اپنے بستر پر اور اظہر اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا ،
 تبھی مجھے یہ آواز سنائی دی ،
میرے روم كے باہر کوئی تھا جو میرے بارے میں پُوچھ رہا تھا ،
میں خود باہر جانے كے لیے اٹھا ہی تھا کہ 
دنداناتے ہوے تِین لڑکے میرے روم میں آ دھمکے  . . . .

" تم دونوں میں سے ارمان کون ہے . . . "

" میں ہوں . . . "
 میں نے ان سے کہا اور اندر ہی اندر سوچ لیا کہ اگر یہ کچھ اُلٹا سیدھا کرینگے تو میں بنا کچھ سوچے ان سے مقابلہ کروں گا . . . . . .

" اسے جانتا ہے . . . " 
ان تینوں میں سے ایک كے ہاتھ میں ایک فوٹو تھا ،
جسے دیکھا کر وہ مجھ سے پُوچھ رہے
تھے . . .

 ان کے ہاتھ میں اسی شخص کی فوٹو تھی جس نے کاشف اور ان پانچ لڑکیوں كے ساتھ مل کر مجھے مارا تھا . . . . .

" ہاں . . . . "

" اس نے کاشف كے ساتھ مل کر تجھے مارا تھا . . . . "

" نشان ابھی تک میرے پیٹھ میں ہے . . . . "

" تو سن . . . "
 ایک نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور میری طرف دیکھ کر بولا 
" یہ کمینہ سب سے بڑا چوتیا
ہے اور کاشف اسے بھی بڑا ، 
ایک سینیر ہاسٹل والا جونئیر ہاسٹل والے کی تنظیم سازی کا پوچھ لے تو وہ چلتا ہے کیوںکہ
ہاسٹل والے سینیر کا یہ جاننا اس کا حق ہے . . . . 

لیکن اگر کوئی شہر والا ہاسٹل والے کی تنظیم سازی کرنے کی کوشش کرے تو 
پھر ان کا بینڈ بجانا پڑھتا ہے . . . .

ایک تو ہم نے بہت مارا ،
اب یہ تیرے پاس بھول كر بھی نہیں بھٹکے گا اور رہی بات کاشف کی . . . .
 تو کل صبح بریک ٹائم میں بائیک اسٹینڈ پر ملنا . . .

 

 

"تھینک یو سر . . . . " 
میں خوشی سے نچانا چاہتا تھا ، 
لیکن میں نے خود کو کنٹرول کیا . . . .

" ایک بات بتا . . . "
واپس جاتے ہوئے اُن میں سے ایک نے کہا
 " تو نے آج ان پانچوں لڑکیوں کو چھیڑا تھا کیا . . . "

" ہلکا سا مذاق کیا تھا ان کے ساتھ . . .
 لیکن آپ کو کس نے بتایا . . . "

" مجھے کس نے بتایا وہ چھوڑ اور اگر وہ کل کالج كے پیچھے والے گیٹ كے پاس دوبارہ ملے تو ہلکا مذاق نہیں تھوڑا زیادہ کر لینا . . . . "

" اظہر یہ کون تھا . . . . "
 ان تینوں كے جانے كے بَعْد میں نے اظہر سے پوچھا . . . .

" یار اس کو نہیں جانتا . . . "

" نہیں. . . کون ہے . . . "

" کاشف کا سب سے بڑا دشمن ،
اصل نام نہیں معلوم لیکن اس کو سب سردار کہتے ہے . . . . . "
سردار کو ہاسٹل میں رہنے والے اسٹوڈنٹ شہنشاہ كے نام سے بھی پکارتے ہے . . .

 کہتے ہے کہ جب سردار فرسٹ ایئر میں
تھا تو اس کو کسی سیئنر نے بہت مارا تھا جس کا کا تعلق ایک سیاسی تنظیم تھا ،
 لیکن اس کے بَعْد اس نے یونین کا الیکشن جیتا اور پورے کالج میں مشہور ہوا اور جب وہ تھڑڈ ایئر میں آیا تو جس سیئنر نے اس کو مارا تھا اسے اس نے کتوں کی طرح مارا تھا . . . . . 

اب وہ فورتھ ایئر میں تھا اور ہاسٹل كے اسٹوڈنٹ کو پریشان کرنے والو کی حالات بگاڑ دیتا تھا . . . . .

 ہاسٹل والوں کے اتفاق کا سب سے بڑا پہلو شاید سردار ہی تھا . . . . .

 لیکن کچھ پاگل ہوتے ہے جو خود کو تیس مار خان سمجھ کر ہوشیاری دیکھاتیں ہیں . . . . 


میری پٹائی ہاسٹل كے جس سیئنر نے کی تھی وہ بھی ان پاگلوں میں سے تھا اور ہمیشہ سردار كے خلاف جاتا تھا ،
 اگر کاشف كے ساتھ مل کر اس نے
میری پٹائی نہ کی ہوتی تو شاید سردار  اسے چھوڑ بھی دیتا اور بات دب بھی جاتی . . . . 

لیکن جب میں نے کل ان پانچ لڑکیوں کو چھیڑا تو وہ خبر پورے کالج میں آگ کی طرح پھیل گئی اور وہی گراؤنڈ سے میری پٹائی کی خبر سردار تک پونچھ گئی . . . . . .

ایک بار  پھر سے مجھے کل کا انتظار تھا ،
میں چاہتا تھا کہ ایک بار پھر سے وہ پانچوں لڑکیاں کالج كے پیچھے والے گیٹ كے پاس کھڑی رہے اور میری ملاقات ان سے ہو جائے . . . . . .

اس دن کی بات ہی الگ تھی ،
دو شیر آمنے سامنے تھے ، 
فرق صرف اتنا تھا کہ ایک اصلی تھا تو دوسرا
پلاسٹک کا بے جان . . . . .

 ایک شیر تو میں تھا اور دوسرا شیر وہ پانچوں لڑکیاں خود کو بول رہی تھی ،
وہ اس وقت کالج كے پیچھے والے گیٹ كے پاس کھڑے ہو کر اِس دھن میں مگن تھی کہ ان کے بوائے فریںڈ میری اچھی خبر لینگے ،
لیکن اس سے بھی اچھی خبر تو میرے پاس تھی . . . . 

 وہ پانچوں بھی شاید کالج كے
پیچھی والے گیٹ پر میرا ہی انتظار کر رہی تھی . . . . .

" لا یار سگریٹ دے ، 
دھواں اڑاتے ہوئے جاؤں گا . . . . "

 جھاڑیوں میں گھوستے ہوئے میں نے کہا
 " اور وہاں میری بےعزتی نہ کر دینا ،
میں جو بھی کہو ویسے ہی کرنا اور ایسا برتاؤ  کرنا جیسے میں تیرا باپ ہوں . . . "

" جا اکیلے ہی گانڈ مارا لے پھر . . . "

" مذاق کر رہا تھا ،
چل آجا . . . "

سگریٹ كے کش مارتے ہوئے میں ان کی طرف تیش سے بڑھا ،
 آنکھوں پر کالا چشمہ اور انگلیوں میں
سگریٹ لہراتا ہوا میں ان کے پاس پہنچھا . . . .

" کیا حال ہے چڑیلوں ،
وو دن یاد نہیں جو آج یہاں پھر سے مروانے آ گئی ہو . . . . "
اپنا چشمہ نیچے کرکے میں نے سگریٹ کا کش لیا اور اس کا دھواں ان پانچوں کی طرف پھیک  دیا . . . .

" زیادہ اوور ایکٹنگ مت کر "
 اظہر میرے کان میں بڑبڑایا . . . .

" چپ کر . . . "
 دھیمی آواز میں میں نے کہا " 

چل اب دیکھ . . . "

" اچھا یہ بتاؤ ،
 تم پانچوں بندریاں یہاں کیا سوچ کر کھڑی ہو . . . . "

پہلے چڑیل اور پھر بندری. . . .
 اپنے لیے ایسے لفظ سن کر ان کا پہلے سے ہی سب کچھ لال ہوگیا تھا تبھی سمیرہ نے مجھے دھمکی دی کہ کاشف تجھے چھوڑے گا نہیں  . . . . .

" کیوں تمھیں پکڑنا چھوڑ دیا ہے کیا . . . "
" آج تجھے بھاگا بھاگا کر مارے گیں ہمارے بوائے فرینڈ  . . . . "

" ہاے قسم سے میں بہت ڈر گیا  . . . . "
اپنے جیب سے تارا سپاری کا پیکٹ نکال کر میں نے منہ میں ڈَالا . . . . 

نہ جانے وہ کیا سوچ کر آج یہاں کھڑی ہوکر میرا انتظار کر رہی تھی . . .
 خیر میں نے اپنا پروگرام
جاری رکھا اور سب سے پہلے سمیرہ كی چھاتیوں پر نظر ڈالی . . .

" یار ،
 اظہر آج کل ٹینس بال بہت مہنگے ہوگئے ہے اور ان کو دیکھو دو دو لٹکا كے گھوم رہی ہے . . . ."

" کمینے، 
تجھ جیسے لڑکوں کو میں اپنے جوتے کی نوک پر رکھتی ہوں ،
 گو فک یورسیلف اینڈ یور فیملی ، "
 سمیرہ چلاتے ہوئے بولی . . . .

" اور تجھ جیسی لڑکیاں میں اپنے لنڈ کی ٹوپی پر رکھتا ہوں صرف سفید پانی نکالنے کے لئے ، . . . . . "

" کیا . . . . "
وہ اپنا سَر غصے سے کھجاتے ہوئے بولی . . . .

" مطلب کی دِل كے ارمان آنسو میں بہہ گئے "

" تو روک ،
ابھی کاشف کو بلاتی ہو . . . . "
 پیر  پٹخ کر سمیرہ وہاں سے چلی گئی اور اس کے پیچھے  پیچھے باقی لڑکیاں بھی چل دی . . . .

" کیا جواب دیا ہے تو نے یار  . . . . . "
اظہر نے ان لڑکیوں کو جاتے ہوے دیکھا اور مجھ سے کہا 

 اور اب تو سمیرہ کی گانڈ سے اپنی نظر ہٹا . . . . "

" وہ تو بس میں . . . . . .
 کیونکہ ہم کو ہر لڑکی جاتے ہوے اچھا لگتا ہے آتے ہوے نہیں "

" یہ مت بھول کہ ابھی ہم بھی کالج كے پیچھے ہی کھڑے ہے ،
جلدی چل ورنہ کلاس كے لیے دیر ہو
جائے گی . . . . "


پنگہ تو آج ھونا ہی تھا ،
 کیونکہ کاشف اور اس کے دوست مجھ پر پہلے سے ہی بگڑے ہوئے تھے اور اوپر سے
آج میں نے ان کی بچیوں کو بھی چھیڑا تھا ،
 اور جہاں تک میرا اندازہ تھا اس کے مطابق وہ پانچوں پھر سے میری شکایت کریں گی اور اس کے بَعْد کاشف اپنی پوری تنظیم كے ساتھ مجھے مارنے آئیگا لیکن اس کے اور
میرے درمیان سردار کھڑا تھا . . . . .

" اگر سردار نہیں آیا تو . . . . "
 میرے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہی تھی ،
جب میرے دِل میں یہ خیال آیا . . . .
 کیوںکہ میں جانتا تھا کہ اگر سردار نہیں آیا تو کاشف اور اس کے چمچے میرا بہت برا
حشرہ کرینگے ،
 میں نے خود کو کئی بار سمجھایا کہ یہ سب میرا وہم ہے ،
 سردار میرا ساتھ ضرور دیگا لیکن جب دِل نہیں مانا تو میں نے اپنا موبائل نکال کر سردار کا نمبر ڈائل کیا اور اُدھر سے بہت جلد جواب ملا . . . . 

 

" تجھے بولا تھا نہ،
 اپنی اوقات میں رہنا . . . . " 
سردار نے آتے ہی اک لات کاشف کو ماری . . . .

" سردار ،
 یہ تیرا معملہ نہیں ہے . . . "

" کیا بولا تھا میں نے . . . . 
ہاسٹل کے لڑکوں کو ہاتھ تک مت لگانا ،
 لیکن تو نہیں مانا. . . . "

"  اوئے سردار. . . .
 آج اتنے سارے لڑکے  تیرے ساتھ ہے اس لیے اچھل رہا ہے . . . .
 بھول مت میں تیرا بھی سینیر ہوں . . . . "

" چپ کر بولتا بہت ہے . . . . . " 
نہ جانے اظہر کو کیا ہوا اور اس نے ایک تھپڑ کاشف كے گال پر مار دیا 

" اس دن والا بائیک اسٹینڈ کا حساب کلئیر  ہوا . . . "

" دیکھ کیا رہے ہو ، 
مارو کمینوں کو . . . "
کاشف نے وہاں موجود اپنے دوستوں سے کہا . . . .

کاشف اور اس کے دوست ہم سے لڑنا شروع ہو گئے،
لیکن ہم ان سے کئی گنا زیادہ تھے اس لئے چند منٹوں میں ہی ہم نے ان سب کو بری طرح مارا ، 
لاتوں سے ،
 ہاتھوں سے ان سب کو فٹ بال کی طرح دھویا اور کچھ دیر میں ہی کاشف اور اس کے دوست زمین پر لٹے کرہ رہے تھے . . . . . .

" کیا حال ہے گدھے . . . "
 جہاں کاشف  لیٹا ہوا تھا ، 
اس کے پاس جا کر میں نے کہا اور پوری طاقت كے ساتھ ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر دے مارا . . . .
 کیا پاور تھی اس کے گال پر خون جام گیا . . . .
 اور اس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا ،
 ایک طرف کا گال سفید تو دوسری طرف کا ایک دم لال . . . . . .

" چال پُش اپ کر . . . . "
 آرام سے وہاں بیٹھ کر میں نے کاشف سے کہا . . . . .

" میں کوشش کرتا ہوں . . . "
الٹے لیٹے ہوئے اس نے کہا . . . .

" آ جاؤ سب لوگ  . . . . "
آج بھی وہی ہونے والا تھا جو کچھ دن پہلے اسی گراؤنڈ پر ہوا تھا ،
 لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ آج گراؤنڈ میں میری جگہ مجھے لیٹانے والا لیٹا ہوا تھا اور اس کے اوپر کودنے کی باری میری تھی . . . .
اور اگر
ٹیکنیکل لینگویج میں کہاجائے تو اسے
" تھوری آف ریلاتیوتی" یا  " فریم آف ریفرنس" بھی کہہ سکتے ہے ،

" سوری . . . . "
کاشف نے آہستہ سی آواز میں کہا ،
 اس دن کی طرح آج اس کے منہ سے بھی خون نکال رہا تھا . . .
 اس دن کی طرح  آج اس کا جسم بھی وہاں کی دھول مٹی سے بھرا ہوا تھا . . . .

" روک کیوں گئے مارو سب کو . . . 
آخر  تھوری آف ریلاتیوتی کا قانون بھی تو ثابت کرنا ہے . . . . "

" تجھے چھوڑوں گا نہیں . . . "

" سوری کاشف سر ،
آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے . . . .
مار تو آپ کو كھانی ہی پڑے گی "

" میں چلتا ہوں ، 
نیکسٹ کلاس اٹینڈ کرنی ہے . . . " 
سردار بھائی نے اپنی گھڑی میں دیکھتے ہوئے کہا اور اپنے کپڑوں کو ٹھیک کرنے لگے. . .

" لیکن ابھی تو بریک ٹائم ختم ہونے میں بہت ٹائم ہے . . . . "

" سر نے آج پہلے بلایا ہے ،
میں چلتا ہوں،
تم لوگ عیش کرو . . . . "
 اتنا کہہ کر سردار وہاں سے چلا گیا . . . .

" یار ،
روک کیوں گیا ،
 پُش اپ کر . . . "
 گانڈ پر ایک زور کی لات مار کر میں نے کاشف سے کہا ،
 اور میری دیکھا دیکھی سب کی گانڈوں پڑ لات پڑی . . . . .


" بس ،
 اب اور نہیں . . . . "
 ہانپتے ہوئے کاشف نے کہا. . . .

کاشف كے دوست تو کب کے ہار مان چکے تھے اور ان سب کا مار کھا كر برا حال بھی تھا ،
ان سب کی حالت دیکھ کر دل میں آیا کہ سب کو چھوڑ دوں ،
 لیکن اچانک اظہر میرے پاس آیا اور میرے کان میں کچھ ایسا کہا ،
 جسے سن کر میں فورا کاشف كے پاس پہنچا . . . .

" چل جلدی کر ابھی سو بار اور اوپر نیچے ھونا ہے . . . . "

" نہیں،
اب ہمت نہیں ہے . . . " 
پسینے سے بھیگا ہوا کاشف زمین پر لیٹ گیا اور لمبے لمبے سانسیں لینے لگا . . . .

" ایک شرط میں چھوڑوں گا تجھے . . . "

" ہاں بول  . . . . "

" ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں کال کرکے بلا . . . . "

میرے پروگرام کو سمجھتے ہوے کاشف نے صاف منع کر دیا اور اسی وقت اظہر نے پاس پڑا ہوا ایک موٹا سا ڈنڈا اُٹھا کر کاشف كے سَر پر نشانہ لگایا اور زور سے ڈنڈے کو اس کے سَر کے بلکل پاس زمین پر دے مارا . . . .

کاشف نے سوچا کہ اظہر اسے مارنے والا ہے ،
اس لیے اس نے زور سے چلاتے ہوے کہا کہ وہ تیار ہے ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں بلانے كے لیے . . . . . .

" پانی دو کاشف سر کو . . . . "
کاشف جب ہانپتے ہوئے اُٹھ کر وہاں بیٹھا تب میں نے اپنے ہی کلاس والے ایک لڑکے سے کہا اور لڑکوں کے ہجوم میں سے کسی نے کہا کہ کاشف کو پانی نہیں اپنا پیشاب پلا دو. . . . 

خیر میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور کاشف کو بوتل والا پانی پلایا . . . . .

" سمیرہ،
 کہاں ہو . . . . "
کاشف نے سمیرہ کو کال کی اور میں نے اسے لوڈ سپیکر آن کرنے کا اشارہ کیا . . .

" کب سے ڈھونڈ رہی ہو تجھے . . . . 
چوت میں کجلی ہو رہی ہے . . .
 کہاں ہو تم . . . . "

" واہ . . . . "
 میں نےدھیرے سے کہا اور سب کو اشارہ کیا کی کوئی نہیں ہنسے . . . . . 

" میں ،
 گراؤنڈ میں ہوں . . . . "
کاشف میری طرف دیکھتے ہوئے سمیرہ سے بولا
" یہی آ جاؤ . . . "

" اسی گراؤنڈ پر نہ جہاں کچھ دن پہلے ہم نے فرسٹ ایئر كے ایک لڑکے کو مارا تھا. . . . "

موبائل کا لوڈ سیپکر اب بھی آن تھا اور میں سب کچھ سن رہا تھا ،
 " آجا کمینی ، تو آجا ایک بار
" میں نے خود سے کہا. . . .

" ہاں ،
 اسی گراؤنڈمیں ہوں . . . "

"  یہاں میری چوت جلی جا رہی ہے اور تم وہاں کیا کر رہے ہو . . . .
 تم نے تو کہا تھا کہ بریک ٹائم میں بائیک
اسٹینڈ پر ملنا ،
 اور جب میں وہاں پہنچی تو نہ تو تم وہاں تھے اور نہ ہی تمہارا کوئی دوست . . . . "

" تو اپنی چوت میں انگلی ڈال اور سیدھے گراؤنڈ پہنچ . . .
 ورنہ اگلی بار بہت بری طرح گانڈ ماروں گا . . . .
 سمجھی "

" اوکے ،
 میں ابھی آئی . . .
 کنڈم ہے نہ اِس بار ،
 یاد ہے آخری بار بہت پروبلم ہوئی تھی . . . "

" سب ہے ،
 تو آجا جلدی سے . . . "

" فلیور کون سا ہے ، 
آئی لائک اسٹرابیری کنڈم . . . . "

کاشف نے اپنا سَر پٹخ کر کال بند کر دی اور  پھر میری طرف دیکھنے لگا ، 
جانے اسے ایسا کیوں لگنے لگا کہ میں اسے اور اس کی محبوبہ کو وہاں سے سہی سلامت  جانے دوں گا . . . .

 ہم میں سے سب سینیرز وہاں سے چلے گئے اور گراؤنڈ میں اس وقت فرسٹ ایئر كے بیس یا پچیس لڑکے موجود تھے . . . .

 ہم سب مختلف جگہوں پر چھپ گئے تھے اور کاشف کو دوبارہ سے پُش اپ کرنے كے لیے بول دیا اور اسے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اِس دوران ایک بار بھی روکا تو ہم سب اسے پاگل کتا سمجھ کر اس پر پتھر برسانا شروع کر دیں گے . . . .

"کاشف . .
 یہ کیا ؟ "
 اپنی اسکوٹی سے اتر کر سمیرہ ،
 کاشف کی طرف بھاگی اور اسی دوران میں باہر نکلا اور کاشف كے پاس کھڑے ہوگیا . . . . . 

" ہیلو . . . "

" سر میں ارمان . . . . "

" ارمان . . . . "
 اس نے میرا نام ایسے لیے جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہو اور پھر بولا
 " ہاں بولو ،
ارمان . . . "

" وہ سر 
 میں نے آج پھر ان لڑکیوں کو چھیڑا ،
جو کالج كے پیچھے والے گیٹ پر کھڑی رہتی ہے . . . . "

" گڈ ،
لیکن ابھی کال کیوں کی. . . . "

" سر ، 
وہ سمیرہ بول كر گئی ہے کہ وہ مجھے دیکھ لے گی اور اس کا اشارہ صاف تھا کہ وہ مجھے  کاشف سے . . . . "

" دَر مت ،
آج بریک ٹائم میں کال کرنا "
 میری بات کاٹ کر سردار نے کہا اور کال کاٹ دی . . . .

موبائل جیب میں رکھا کر میں نے ٹائم دیکھا ،
بریک ہونے میں چند منٹ ہی باقی تھے اور میری سانسیں تیز ہونے لگی تھی . . . . . 

ٹیچر نے دس منٹ پہلے ہی کلاس چھوڑ دی تھی لیکن یہ ہدایت دی تھی کہ جب تک بریک  کا ٹائم نہیں ہو جاتا کوئی بھی کلاس سے باہر نہیں نکلے گا . . . . .

 کتابوں سے تو دشمنی ہوگئی تھی اس لئے پڑھائی كے بارے میں سوچنا میں نے مناسب  نہیں سمجھا اور ایک بار پھر سردار كے بارے میں سوچنے لگا . . . . .

سردار  ایک طرف اِس سال یونین الیکشن میں صدر کی پوسٹ كے لیے کھڑا ہوا تھا وہی دوسری طرف بھی کاشف بھی صدر کی پوسٹ كے لیے اک مضبوط امیدوار كے روپ میں سردار كے خلاف تھا ،
 اس لئے دونوں میں نوک جھونک ایک نارمل سی بات تھی . . . .
 لیکن یہ نوک جھونک اِس سال سے نہیں بلکہ بہت پرانی تھی . . . .

 پچھلے سال کاشف  نے کالج كے مین گیٹ كے پاس ہاسٹل کے ایک لڑکے کی شرٹ پھاڑ دی تھی اور اسے  بہت مارا بھی تھا اور
جب یہ بات سردار کو پتہ چلی تو وہ پورے ہاسٹل والوں کو لے کر دوسرے دن کاشف کو اس کی کلاس میں گھوس کر سب کے سامنے کاشف کو اوقات میں رہنے کی ہدایت دی  تھی . . . .

کاشف نہ تو اس وقت سردار کا کچھ کر پایا اور نہ ہی اس کے بَعْد سردار کا کچھ اُکھاڑ سکا . . . . .

 سردار كے پاس جہاں یکطرفہ  ہاسٹل میں رہنے والے 200 لڑکوں کا سپورٹ تھا وہی کالج اسٹاف بھی اس کے ساتھ تھا ،
کالج اسٹاف کا سردار كے ساتھ ہونے کی سب سے بڑی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ اپنے کلاس کا سب سے اچھا طالب علم بھی تھا ،
 اوپر سے فٹبال کا ایک شاندار پلیئر بھی تھا . . . . .
" ملٹی ٹیلینٹڈ نوجوان . . . "
 سردار کو یہی بول سکتے ہے . . . . .

بریک میں میں نے ایک بار پھر سردار کو کال کی اور اس نے مجھے بتایا کہ آگے کیا کرنا ہے . . . . .

 میں ،
اظہر كے ساتھ کلاس سے باہر آیا اور بائیک اسٹینڈ کی طرف بڑھنے لگا . . . .

 یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہاں اِس وقت کاشف کی پارٹی جمع ھوگی . . . .

 لیکن ہمارے پلان كے مطابق مجھے بائیک اسٹینڈ پر جانا ہی تھا . . . . .

" کالج میں جا کر پڑھائی کرنی بے ،
چھانے بازی میں مت پڑ جانا اور نہ ہی اِس چکر میں پڑھنے کی کوشش کرنا . . . "

 میرے بھائی کے اِس پہلی نصیحت  کی میں نے کل ہی دھجیاں اڑا دی تھی . . . .

 کیونکہ اگر ایک لڑکا کسی لڑکی سے
ملنے اسپتال میں جاتا ہے وہ بھی بنا جان پہچان كے تو اسے پاکستان كے لوگ چھانے بازی ہی کہتے ہے . . . . .

 یا پھر اس کی شروعات
" شراب،
 سگریٹ ان سب کو چھوا بھی تو سوچ لینا . . . . " 
بھائی کے اِس مشورے کا حال بھی پہلے والے مشورے کی طرح تھا . . . .


" اور اگر  لڑائی جھگڑے اور تنظیم بازی کی ایک بھی خبر گھر پر آئی تو اسی وقت تیرا ٹی۔سی نکلوا دوں گا سمجھا . . . " 

اور اب میں اپنے بھائی کی اِس آخری نصیحت کی بھی دھجیاں اڑانے جا رہا تھا . . . . . . .

" کاشف وہ دیکھ . . . . "
 مجھے دیکھ کر بائیک اسٹینڈ پر بیٹھے ایک بھاری بھرکم جسم کے مالک نے میری طرف
اشارہ کیا . . . .


" ارمان . . . . "
 اِس نام نے وہاں بائیک اسٹینڈ پر بیٹھے سبھی لوگوں کی زندگی میں ہل چل مچا کر رکھ دی
تھی . . . .
 ان سب کو یہ ہضم نہیں ہو رہا تھا کہ کل کا آیا ہوا لڑکا ان کی بچیوں كے ساتھ ایسا برتاؤ
کر رہا ہے  . . . . . 

کاشف اپنی بائیک پر ٹیک دیئے کسی شہنشاہ کی طرح بیٹھا ہوا تھا ،
لیکن اس وقت اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ  آج اس کی شہنشائی کی گدی زمین میں گرنے والی تھی . . . . . .

"  بہن كے لوڑوں جا کر پڑھائی کرو ،
ورنہ اِس سال بھی فیل ہو جاؤگے . . . . . "
 میں نے بولا اور جوش جوش میں اظہر بھی بول پڑا
" اور تو کاشف ، 
کمینے تجھ سے بڑا گدھا میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا ، 
گانڈو تجھے شرم نہیں آتی کیا جو سات سال سے فیل ہوتا آ رہا ہے "

" یہ سب مجھ سے بول رہا ہے کیا . . . "
کاشف ایک جھٹکے سے کھڑا ہو گیا ،
میں جانتا تھا کہ اب اگر اس نے مجھے پکڑ لیا تو زندہ نہیں چھوڑے گا . . . 
 لیکن میں کیا کرتا رسک تو لینا ہی تھا کیوںکہ یہ سب ہمارے پلان کا حصہ تھا  . . . . .

" کاشف ،
تو ایک بات بتا ،
 تو ہر سال فیل ہوتا ہے تو تیرے گھر والے تجھے گالیاں نہیں دیتے کیا ،
کمینے تیری شادی كے لیے جب لڑکی والے  آئینگے تب تو کیا بولے گا کہ تو نے آٹھ سال انجینیئرنگ کی لیکن پھر بھی انجینیئرنگ
مکمل نہیں کر پایا . . . . 
گانڈو انوائرومینٹ جیسے سبجیکٹ میں تو فیل ہوا ہے ،
 اس سبجیکٹ میں تو اگر میں دائیں ہاتھ کی جگہ بائیں ہاتھ سے بھی لکھتا تو پاس ہو جاتا . . . . "

اظہر مسلسل کاشف کی شلوار اتارے جا رہا تھا اور اس کا اثر بھی کاشف پر ہونے لگا تھا ،
وہ اپنے دوستوں كے ساتھ غصے میں میری طرف بھاگا ، 
اور وہاں میں اور اظہر بھی بھاگنے لگے  . . . . . 

میں اور اظہر  آگے اور کاشف اور اس کے دوست پیچھے تھے ، . . .

" یار اظہر اگر ،
سردار بھائی والا پلان مکمل نہیں ہوا تو . . . "

" یار ڈرا مت ،
 تیرے چکر میں آ کر میں نے بھی کاشف کو اتنی گالیاں دے دی ہے کہ ،
 اب وہ مجھے بھی زندہ
نہیں چھوڑے گا . . . . "

" چل اور تیز بھاگ ،
 ورنہ یہ پکڑ لینگے . . . . "

بھاگتے بھاگتے میں اور اظہر اسی گراؤنڈ پر پہنچے جہاں کچھ دنوں پہلے میری عزت کی دھجیاں اڑائی گئی تھی . . . .

 گراؤنڈ میں داخل ہو کر ہم دونوں روک گئے . . . . .


سب سے پہلے کاشف  آگے بڑھا لیکن تبھی سردار  ہاسٹل کے سارے لڑکوں کو لیکر وہاں آ پہنچا جنہیں دیکھ کر کاشف  اور اس کے دوستوں کی حالت خراب ہو گئی . . . . میری طرف بڑھتے ہوئے کاشف كے قدم وہی روک گئے اور وہ کبھی میری طرف دیکھتا تو کبھی سردار کی طرف تو کبھی ہاسٹل كے لڑکوں کی طرف . . . . . 

 

" تجھے بولا تھا نہ،
 اپنی اوقات میں رہنا . . . . " 
سردار نے آتے ہی اک لات کاشف کو ماری . . . .

" سردار ،
 یہ تیرا معملہ نہیں ہے . . . "

" کیا بولا تھا میں نے . . . . 
ہاسٹل کے لڑکوں کو ہاتھ تک مت لگانا ،
 لیکن تو نہیں مانا. . . . "

"  اوئے سردار. . . .
 آج اتنے سارے لڑکے  تیرے ساتھ ہے اس لیے اچھل رہا ہے . . . .
 بھول مت میں تیرا بھی سینیر ہوں . . . . "

" چپ کر بولتا بہت ہے . . . . . " 
نہ جانے اظہر کو کیا ہوا اور اس نے ایک تھپڑ کاشف كے گال پر مار دیا 

" اس دن والا بائیک اسٹینڈ کا حساب کلئیر  ہوا . . . "

" دیکھ کیا رہے ہو ، 
مارو کمینوں کو . . . "
کاشف نے وہاں موجود اپنے دوستوں سے کہا . . . .

کاشف اور اس کے دوست ہم سے لڑنا شروع ہو گئے،
لیکن ہم ان سے کئی گنا زیادہ تھے اس لئے چند منٹوں میں ہی ہم نے ان سب کو بری طرح مارا ، 
لاتوں سے ،
 ہاتھوں سے ان سب کو فٹ بال کی طرح دھویا اور کچھ دیر میں ہی کاشف اور اس کے دوست زمین پر لٹے کرہ رہے تھے . . . . . .

" کیا حال ہے گدھے . . . "
 جہاں کاشف  لیٹا ہوا تھا ، 
اس کے پاس جا کر میں نے کہا اور پوری طاقت كے ساتھ ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر دے مارا . . . .
 کیا پاور تھی اس کے گال پر خون جام گیا . . . .
 اور اس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا ،
 ایک طرف کا گال سفید تو دوسری طرف کا ایک دم لال . . . . . .

" چال پُش اپ کر . . . . "
 آرام سے وہاں بیٹھ کر میں نے کاشف سے کہا . . . . .

" میں کوشش کرتا ہوں . . . "
الٹے لیٹے ہوئے اس نے کہا . . . .

" آ جاؤ سب لوگ  . . . . "
آج بھی وہی ہونے والا تھا جو کچھ دن پہلے اسی گراؤنڈ پر ہوا تھا ،
 لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ آج گراؤنڈ میں میری جگہ مجھے لیٹانے والا لیٹا ہوا تھا اور اس کے اوپر کودنے کی باری میری تھی . . . .
اور اگر
ٹیکنیکل لینگویج میں کہاجائے تو اسے
" تھوری آف ریلاتیوتی" یا  " فریم آف ریفرنس" بھی کہہ سکتے ہے ،

" سوری . . . . "
کاشف نے آہستہ سی آواز میں کہا ،
 اس دن کی طرح آج اس کے منہ سے بھی خون نکال رہا تھا . . .
 اس دن کی طرح  آج اس کا جسم بھی وہاں کی دھول مٹی سے بھرا ہوا تھا . . . .

" روک کیوں گئے مارو سب کو . . . 
آخر  تھوری آف ریلاتیوتی کا قانون بھی تو ثابت کرنا ہے . . . . "

" تجھے چھوڑوں گا نہیں . . . "

" سوری کاشف سر ،
آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے . . . .
مار تو آپ کو كھانی ہی پڑے گی "

" میں چلتا ہوں ، 
نیکسٹ کلاس اٹینڈ کرنی ہے . . . " 
سردار بھائی نے اپنی گھڑی میں دیکھتے ہوئے کہا اور اپنے کپڑوں کو ٹھیک کرنے لگے. . .

" لیکن ابھی تو بریک ٹائم ختم ہونے میں بہت ٹائم ہے . . . . "

" سر نے آج پہلے بلایا ہے ،
میں چلتا ہوں،
تم لوگ عیش کرو . . . . "
 اتنا کہہ کر سردار وہاں سے چلا گیا . . . .

" یار ،
روک کیوں گیا ،
 پُش اپ کر . . . "
 گانڈ پر ایک زور کی لات مار کر میں نے کاشف سے کہا ،
 اور میری دیکھا دیکھی سب کی گانڈوں پڑ لات پڑی . . . . .


" بس ،
 اب اور نہیں . . . . "
 ہانپتے ہوئے کاشف نے کہا. . . .

کاشف كے دوست تو کب کے ہار مان چکے تھے اور ان سب کا مار کھا كر برا حال بھی تھا ،
ان سب کی حالت دیکھ کر دل میں آیا کہ سب کو چھوڑ دوں ،
 لیکن اچانک اظہر میرے پاس آیا اور میرے کان میں کچھ ایسا کہا ،
 جسے سن کر میں فورا کاشف كے پاس پہنچا . . . .

" چل جلدی کر ابھی سو بار اور اوپر نیچے ھونا ہے . . . . "

" نہیں،
اب ہمت نہیں ہے . . . " 
پسینے سے بھیگا ہوا کاشف زمین پر لیٹ گیا اور لمبے لمبے سانسیں لینے لگا . . . .

" ایک شرط میں چھوڑوں گا تجھے . . . "

" ہاں بول  . . . . "

" ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں کال کرکے بلا . . . . "

میرے پروگرام کو سمجھتے ہوے کاشف نے صاف منع کر دیا اور اسی وقت اظہر نے پاس پڑا ہوا ایک موٹا سا ڈنڈا اُٹھا کر کاشف كے سَر پر نشانہ لگایا اور زور سے ڈنڈے کو اس کے سَر کے بلکل پاس زمین پر دے مارا . . . .

کاشف نے سوچا کہ اظہر اسے مارنے والا ہے ،
اس لیے اس نے زور سے چلاتے ہوے کہا کہ وہ تیار ہے ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں بلانے كے لیے . . . . . .

" پانی دو کاشف سر کو . . . . "
کاشف جب ہانپتے ہوئے اُٹھ کر وہاں بیٹھا تب میں نے اپنے ہی کلاس والے ایک لڑکے سے کہا اور لڑکوں کے ہجوم میں سے کسی نے کہا کہ کاشف کو پانی نہیں اپنا پیشاب پلا دو. . . . 

خیر میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور کاشف کو بوتل والا پانی پلایا . . . . .

" سمیرہ،
 کہاں ہو . . . . "
کاشف نے سمیرہ کو کال کی اور میں نے اسے لوڈ سپیکر آن کرنے کا اشارہ کیا . . .

" کب سے ڈھونڈ رہی ہو تجھے . . . . 
چوت میں کجلی ہو رہی ہے . . .
 کہاں ہو تم . . . . "

" واہ . . . . "
 میں نےدھیرے سے کہا اور سب کو اشارہ کیا کی کوئی نہیں ہنسے . . . . . 

" میں ،
 گراؤنڈ میں ہوں . . . . "
کاشف میری طرف دیکھتے ہوئے سمیرہ سے بولا
" یہی آ جاؤ . . . "

" اسی گراؤنڈ پر نہ جہاں کچھ دن پہلے ہم نے فرسٹ ایئر كے ایک لڑکے کو مارا تھا. . . . "

موبائل کا لوڈ سیپکر اب بھی آن تھا اور میں سب کچھ سن رہا تھا ،
 " آجا کمینی ، تو آجا ایک بار
" میں نے خود سے کہا. . . .

" ہاں ،
 اسی گراؤنڈمیں ہوں . . . "

"  یہاں میری چوت جلی جا رہی ہے اور تم وہاں کیا کر رہے ہو . . . .
 تم نے تو کہا تھا کہ بریک ٹائم میں بائیک
اسٹینڈ پر ملنا ،
 اور جب میں وہاں پہنچی تو نہ تو تم وہاں تھے اور نہ ہی تمہارا کوئی دوست . . . . "

" تو اپنی چوت میں انگلی ڈال اور سیدھے گراؤنڈ پہنچ . . .
 ورنہ اگلی بار بہت بری طرح گانڈ ماروں گا . . . .
 سمجھی "

" اوکے ،
 میں ابھی آئی . . .
 کنڈم ہے نہ اِس بار ،
 یاد ہے آخری بار بہت پروبلم ہوئی تھی . . . "

" سب ہے ،
 تو آجا جلدی سے . . . "

" فلیور کون سا ہے ، 
آئی لائک اسٹرابیری کنڈم . . . . "

کاشف نے اپنا سَر پٹخ کر کال بند کر دی اور  پھر میری طرف دیکھنے لگا ، 
جانے اسے ایسا کیوں لگنے لگا کہ میں اسے اور اس کی محبوبہ کو وہاں سے سہی سلامت  جانے دوں گا . . . .

 ہم میں سے سب سینیرز وہاں سے چلے گئے اور گراؤنڈ میں اس وقت فرسٹ ایئر كے بیس یا پچیس لڑکے موجود تھے . . . .

 ہم سب مختلف جگہوں پر چھپ گئے تھے اور کاشف کو دوبارہ سے پُش اپ کرنے كے لیے بول دیا اور اسے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اِس دوران ایک بار بھی روکا تو ہم سب اسے پاگل کتا سمجھ کر اس پر پتھر برسانا شروع کر دیں گے . . . .

"کاشف . .
 یہ کیا ؟ "
 اپنی اسکوٹی سے اتر کر سمیرہ ،
 کاشف کی طرف بھاگی اور اسی دوران میں باہر نکلا اور کاشف كے پاس کھڑے ہوگیا . . . . . 

 

 

" سن بھڑوے ،
 اگر تو ایک سیکنڈ كے لیے بھی روکا تو سب كے سب مل کر مرینگے تجھے . . .
 نہ ہی روکنا اور نہ ہی کچھ بولنا . . . . "
 میں نے دھیرے سے کہا . . .

سمیرہ جب کاشف اور میرے بلکل قریب آ گئی تو میں نے اپنا دائیاں پیر اْٹھایا اور پُش اپ کرتے ہوے کاشف كے اوپر رکھ دیا ، . . . ، 
جس سے کاشف روک گیا 

" آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے ،
اب اوپر اٹھے ہو تو نیچے تو جانا پڑیگا ڈیو ٹو گریوٹی . . . "
کاشف كی پیٹھ پر پیر سے دباؤ بڑھاتے ہوے میں نے کہا . . . . . .

سمیرہ سمجھ گئی کی کچھ گڑبڑ  ہے ، ورنہ . . . . . . 
اس نے  آس پاس دیکھا تو اسے اس کے باقی ساتھی بھی پڑے دکھائی دیئے . . . .

" یہ سب تم نے کیا کیا ؟ "

" ہاں  ،"

" تمہاری اتنی ہمت کہ تم اپنے سیئنر پر ہاتھ اٹھاؤ ، " 
سمیرہ نے مجھ سے کہا اور پھر کاشف کی طرف دیکھ کر بولی 
" چلو کاشف ،
اٹھو . . . "

" یہ تو آج اٹھ چکا ہے. . . . .
 اب تیری باری ہے . . . "

" ممے دبا دے ارمان ،
 چود دے اسے ، 
کیا پٹاخہ ہے ،
چھوڑنا مت . . . . "
 یہ میں نے اندر ہی اندر سوچا اور سمیرہ سے کہا
" ٹینس بال کے ریٹ کیا ہے . . . "

" ہیں . . . . . "

" زیادہ چوکنے کی ضرورت نہیں ہے ،
جب زمین پر پڑے اِس گدھے سے تو چوت اور لنڈ کی بات کر سکتی ہے تو پھر ٹینس بال كے بارے میں بات کرنے میں کیا حرج ہے . . . . . .

 چل بتا تیرے ٹینس بال ٹائیٹ ہے یا ڈھیلے ڈھیلے . . . . "

"  ٹائیٹ . . . . "

" سائز کیا ہے . . . "

" کیا . . . . "
 ناک چڑا کر سمیرہ بولی ،

" میں نہیں ڈرا ،
اس لئے اپنا یہ بناوٹی غصہ اتار کر پھیک دے . . . . "
 یہ کہتے ہوئے میں نے کاشف کی طرف نظر ڈالی . . . . 
کمینہ زمین پر پڑا ہانپ رہا تھا ،
 اِس وقت اس کی سانسیں ہی اتنی تیز چل رہی تھی کہ وہ ہماری آواز نہیں سن سکتا تھا اور ہمیں دیکھنے كے لیے وہ اپنا سَر گھمائے ،
اتنی اس میں طاقت نہیں بچی تھی . . . . . . .

" سائز نہیں بتایا "
میں نے اپنا سوال ڈھورایا . . .

" تم اس طرح ان الفاظوں میں مجھ سے بات کیوں کر رہے ہو. . . . "
وہ پریشان ہو کر بولی . . .

" اس دن اسی گراؤنڈ میں سینڈل پہن کر جب میرے اوپر کود رہی تھی ،
تب یہ سمجھ میں نہیں آیا تھا کیا تجھے ،
روز کالج كے پیچھے والے گیٹ پر کھڑے ہوکر دوسروں کو گالی دینا ، 
کینٹین میں بیٹھے ایک بھوکے لڑکے كے چہرے پر سموسہ مالتے وقت تیرے دل میں یہ خیال کیوں نہیں آیا . . . . "

" سوری . . . . "
اپنی آنکھوں میں معافی کی طلب لیے سمیرہ بولی ،
وہاں آس پاس کھڑے میرے سب دوستو کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا . . . 

جب سمیرہ نے سوری بولا تو اظہر اپنے جوشیلے اندازِ میں میرے پاس
آیا . . . .
" سوری سے کام نہیں چلے گا ،
میں تو گانڈ ماروں گا . . . . "

" ہمممممم. . . . . . "

" اظہر تو ان سب کو سنبھال ،
میں سمیرہ کو کونے میں لیکر جاتا ہوں . . . . "

اظہر مجھ پر بہت چلایا ،
 مجھے بہت روکا اور کہا کہ تو سحرش میڈم كے مزے لیتا ہے ،
 سمیرہ کو میرے ساتھ بھیج دے ، . . .
 لیکن میں نہیں مانا اور سمیرہ کا ہاتھ زبردستی پکڑ کر ایک طرف لے
گیا . . . . .

 ہمارا کالج دور سے دور لمبے چوڑے علاقے میں پھیلا ہوا تھا ،
جہاں بےحد زیادہ ہریالی تھی ،
جھاڑیاں ،
 درخت لمبی لمبی گھاس سب کچھ تھا . . . .

" تمھیں اس وقت اجتماعی زیادتی ٹھیک لگے گی یا پھر . . . " 
چلتے چلتے جب ہم دونوں گراؤنڈ سے بہت دور آگئے تو میں نے سمیرہ سے پوچھا اور اس کا ہاتھ چھوڑ دیا . . . . .

" ارمان ،
میں کوئی رنڈی نہیں ہوں ، 
جو ہر کسی كے ساتھ وہ سب کچھ کروں . . . ."

" مطلب کے زیادتی "

" میں کیس کر دوں گی . . . . "

" پھر تو زیادتی کرنا پڑے گی . . . . . "

ابھی میں سمیرہ کو لیکر گھنی جھاڑیوں میں گھس رہا تھا ،
جیسے جیسے  ہم دونوں آگے بڑھ رہے تھے سمیرہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو رہا تھا ،
اور ایک جگہ پر آکر وہ روک گئی . . . .

" میں شور مچا دوں گی اور کالج میں شکایت بھی کروں گی کہ تم نے میرے ساتھ مس ریپ کیا . . . . "

سمیرہ کی بات پر میں مسکرایا اور کہا
 " میرے خیال سے میرے پیٹھ پر تمھارے سینڈل كے نشان ابھی تک موجود ہے اور اگر میں نے اس کی شکایت کی تو تمھارے ساتھ ساتھ تمھارے ان سارے دوستوں کی بھی زندگی برباد ہو جائے گی ،
جو اس دن گراؤنڈ میں موجود تھے ، . . . "

سمیرہ غصے سے میری طرف دیکھنے لگی اور سمیرہ کو دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا کہ وہ مجھے اندر ہی اندر گالیاں دے رہی ہے . . . . .

" کھڑی مت رہو ،
جلدی چلو . . . . 
کیونکہ دو تین گھنٹوں سے پہلے میں نہیں فارغ ہوتا ،
اور اگر دو رائونڈ مارنے کا سوچا تو پھر چھے سات گھنٹے پکے . . . . . "

یہ سن کر تو سمیرہ کی حالت اور خراب ہو گئی ،
وہ زمین آسمان ایک کر کے سوچنے لگی کہ مجھ سے کیسے بچا جائے ،
 وہ وہاں سے بھاگ بھی سکتی تھی ،
لیکن اس کے قدم میری پٹائی والی دھمکی كے وجہ سے بندھے ہوئے تھے . . . . .

 وہ ڈری ہوئی تھی اور اس کا ڈر بڑھانے كے لیے میں نے ایک اور دھماکہ کیا . . . . .

" جلدی سوچو ،
 کیوںکہ جب میں تمھارے ساتھ کبڈی کھیلوں گا تو اس کی ویڈیو بھی ریکارڈ کروں گا ،
اور اگر اندھیرہ زیادہ ہوگیا تو ویڈیو کوالٹی اچھی نہیں آئیگی . . . . . "

" پلیز ویڈیو ریکارڈ مت کرنا . . . . "
 اس کے قدم آخر کار میری طرف بڑھے ،
وہ میرے پاس آکر بولی 
" میں بدنام ہو جائوں گی . . . . "

" میں تو ہاسٹل میں ہر ایک کو وہ ویڈیو سینڈ کروں گا ، 
ساتھ ہی ساتھ فیس بک میں فیک آئی ڈی سے اپ لوڈ کرکے،
سارے ٹیچرز کو ٹیگ بھی کروں گا . . . . "

" پلیز ایسا مت کرنا . . . . " 
وہ روتے ہوئے بولی
 " اگر تم نے ایسا کیا تو میں خودکشی کر لوں گی . . . . "

" خودکشی . . . . . "
 اس کی طرف دیکھ کر میں نے کہا 
" اور تم جیسوں کی وجہ سے جو اسٹوڈنٹ خودکشی کرتے ہے ،
 ان کے بارے میں کبھی سوچا ہے . . . 
 آج پتہ چلے گا کہ گھٹ گھٹ کر  اپنا سَر جھکا کر جینا کیسے کہتے ہے . . . . 

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس

Bhai Jan maza a gya update ka. Aur ek bat tau man, ni pary gi update beshak late do lekan dyty کمال ho aur update k wait ka haq adda kar dyty ho.... Bohat khushi hoti mujy apki ilupdate dekh k..... Aur sonny py sohagga ye k urdu me dyty ho bohat maza aya update parh k.... اگلی اپڈیٹ ka wait rahy ga.... Samera ki kya durgat banaty ho es chez ka wait ha.... Salamat rahien.... Salamti ki dhero duayein 💐💐💐💐

  • Author

" تجھے بولا تھا نہ،
 اپنی اوقات میں رہنا . . . . " 
سردار نے آتے ہی اک لات کاشف کو ماری . . . .

" سردار ،
 یہ تیرا معملہ نہیں ہے . . . "

" کیا بولا تھا میں نے . . . . 
ہاسٹل کے لڑکوں کو ہاتھ تک مت لگانا ،
 لیکن تو نہیں مانا. . . . "

"  اوئے سردار. . . .
 آج اتنے سارے لڑکے  تیرے ساتھ ہے اس لیے اچھل رہا ہے . . . .
 بھول مت میں تیرا بھی سینیر ہوں . . . . "

" چپ کر بولتا بہت ہے . . . . . " 
نہ جانے اظہر کو کیا ہوا اور اس نے ایک تھپڑ کاشف كے گال پر مار دیا 

" اس دن والا بائیک اسٹینڈ کا حساب کلئیر  ہوا . . . "

" دیکھ کیا رہے ہو ، 
مارو کمینوں کو . . . "
کاشف نے وہاں موجود اپنے دوستوں سے کہا . . . .

کاشف اور اس کے دوست ہم سے لڑنا شروع ہو گئے،
لیکن ہم ان سے کئی گنا زیادہ تھے اس لئے چند منٹوں میں ہی ہم نے ان سب کو بری طرح مارا ، 
لاتوں سے ،
 ہاتھوں سے ان سب کو فٹ بال کی طرح دھویا اور کچھ دیر میں ہی کاشف اور اس کے دوست زمین پر لٹے کرہ رہے تھے . . . . . .

" کیا حال ہے گدھے . . . "
 جہاں کاشف  لیٹا ہوا تھا ، 
اس کے پاس جا کر میں نے کہا اور پوری طاقت كے ساتھ ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر دے مارا . . . .
 کیا پاور تھی اس کے گال پر خون جام گیا . . . .
 اور اس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا ،
 ایک طرف کا گال سفید تو دوسری طرف کا ایک دم لال . . . . . .

" چال پُش اپ کر . . . . "
 آرام سے وہاں بیٹھ کر میں نے کاشف سے کہا . . . . .

" میں کوشش کرتا ہوں . . . "
الٹے لیٹے ہوئے اس نے کہا . . . .

" آ جاؤ سب لوگ  . . . . "
آج بھی وہی ہونے والا تھا جو کچھ دن پہلے اسی گراؤنڈ پر ہوا تھا ،
 لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ آج گراؤنڈ میں میری جگہ مجھے لیٹانے والا لیٹا ہوا تھا اور اس کے اوپر کودنے کی باری میری تھی . . . .
اور اگر
ٹیکنیکل لینگویج میں کہاجائے تو اسے
" تھوری آف ریلاتیوتی" یا  " فریم آف ریفرنس" بھی کہہ سکتے ہے ،

" سوری . . . . "
کاشف نے آہستہ سی آواز میں کہا ،
 اس دن کی طرح آج اس کے منہ سے بھی خون نکال رہا تھا . . .
 اس دن کی طرح  آج اس کا جسم بھی وہاں کی دھول مٹی سے بھرا ہوا تھا . . . .

" روک کیوں گئے مارو سب کو . . . 
آخر  تھوری آف ریلاتیوتی کا قانون بھی تو ثابت کرنا ہے . . . . "

" تجھے چھوڑوں گا نہیں . . . "

" سوری کاشف سر ،
آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے . . . .
مار تو آپ کو كھانی ہی پڑے گی "

" میں چلتا ہوں ، 
نیکسٹ کلاس اٹینڈ کرنی ہے . . . " 
سردار بھائی نے اپنی گھڑی میں دیکھتے ہوئے کہا اور اپنے کپڑوں کو ٹھیک کرنے لگے. . .

" لیکن ابھی تو بریک ٹائم ختم ہونے میں بہت ٹائم ہے . . . . "

" سر نے آج پہلے بلایا ہے ،
میں چلتا ہوں،
تم لوگ عیش کرو . . . . "
 اتنا کہہ کر سردار وہاں سے چلا گیا . . . .

" یار ،
روک کیوں گیا ،
 پُش اپ کر . . . "
 گانڈ پر ایک زور کی لات مار کر میں نے کاشف سے کہا ،
 اور میری دیکھا دیکھی سب کی گانڈوں پڑ لات پڑی . . . . .


" بس ،
 اب اور نہیں . . . . "
 ہانپتے ہوئے کاشف نے کہا. . . .

کاشف كے دوست تو کب کے ہار مان چکے تھے اور ان سب کا مار کھا كر برا حال بھی تھا ،
ان سب کی حالت دیکھ کر دل میں آیا کہ سب کو چھوڑ دوں ،
 لیکن اچانک اظہر میرے پاس آیا اور میرے کان میں کچھ ایسا کہا ،
 جسے سن کر میں فورا کاشف كے پاس پہنچا . . . .

" چل جلدی کر ابھی سو بار اور اوپر نیچے ھونا ہے . . . . "

" نہیں،
اب ہمت نہیں ہے . . . " 
پسینے سے بھیگا ہوا کاشف زمین پر لیٹ گیا اور لمبے لمبے سانسیں لینے لگا . . . .

" ایک شرط میں چھوڑوں گا تجھے . . . "

" ہاں بول  . . . . "

" ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں کال کرکے بلا . . . . "

میرے پروگرام کو سمجھتے ہوے کاشف نے صاف منع کر دیا اور اسی وقت اظہر نے پاس پڑا ہوا ایک موٹا سا ڈنڈا اُٹھا کر کاشف كے سَر پر نشانہ لگایا اور زور سے ڈنڈے کو اس کے سَر کے بلکل پاس زمین پر دے مارا . . . .

کاشف نے سوچا کہ اظہر اسے مارنے والا ہے ،
اس لیے اس نے زور سے چلاتے ہوے کہا کہ وہ تیار ہے ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں بلانے كے لیے . . . . . .

" پانی دو کاشف سر کو . . . . "
کاشف جب ہانپتے ہوئے اُٹھ کر وہاں بیٹھا تب میں نے اپنے ہی کلاس والے ایک لڑکے سے کہا اور لڑکوں کے ہجوم میں سے کسی نے کہا کہ کاشف کو پانی نہیں اپنا پیشاب پلا دو. . . . 

خیر میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور کاشف کو بوتل والا پانی پلایا . . . . .

" سمیرہ،
 کہاں ہو . . . . "
کاشف نے سمیرہ کو کال کی اور میں نے اسے لوڈ سپیکر آن کرنے کا اشارہ کیا . . .

" کب سے ڈھونڈ رہی ہو تجھے . . . . 
چوت میں کجلی ہو رہی ہے . . .
 کہاں ہو تم . . . . "

" واہ . . . . "
 میں نےدھیرے سے کہا اور سب کو اشارہ کیا کی کوئی نہیں ہنسے . . . . . 

" میں ،
 گراؤنڈ میں ہوں . . . . "
کاشف میری طرف دیکھتے ہوئے سمیرہ سے بولا
" یہی آ جاؤ . . . "

" اسی گراؤنڈ پر نہ جہاں کچھ دن پہلے ہم نے فرسٹ ایئر كے ایک لڑکے کو مارا تھا. . . . "

موبائل کا لوڈ سیپکر اب بھی آن تھا اور میں سب کچھ سن رہا تھا ،
 " آجا کمینی ، تو آجا ایک بار
" میں نے خود سے کہا. . . .

" ہاں ،
 اسی گراؤنڈمیں ہوں . . . "

"  یہاں میری چوت جلی جا رہی ہے اور تم وہاں کیا کر رہے ہو . . . .
 تم نے تو کہا تھا کہ بریک ٹائم میں بائیک
اسٹینڈ پر ملنا ،
 اور جب میں وہاں پہنچی تو نہ تو تم وہاں تھے اور نہ ہی تمہارا کوئی دوست . . . . "

" تو اپنی چوت میں انگلی ڈال اور سیدھے گراؤنڈ پہنچ . . .
 ورنہ اگلی بار بہت بری طرح گانڈ ماروں گا . . . .
 سمجھی "

" اوکے ،
 میں ابھی آئی . . .
 کنڈم ہے نہ اِس بار ،
 یاد ہے آخری بار بہت پروبلم ہوئی تھی . . . "

" سب ہے ،
 تو آجا جلدی سے . . . "

" فلیور کون سا ہے ، 
آئی لائک اسٹرابیری کنڈم . . . . "

کاشف نے اپنا سَر پٹخ کر کال بند کر دی اور  پھر میری طرف دیکھنے لگا ، 
جانے اسے ایسا کیوں لگنے لگا کہ میں اسے اور اس کی محبوبہ کو وہاں سے سہی سلامت  جانے دوں گا . . . .

 ہم میں سے سب سینیرز وہاں سے چلے گئے اور گراؤنڈ میں اس وقت فرسٹ ایئر كے بیس یا پچیس لڑکے موجود تھے . . . .

 ہم سب مختلف جگہوں پر چھپ گئے تھے اور کاشف کو دوبارہ سے پُش اپ کرنے كے لیے بول دیا اور اسے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اِس دوران ایک بار بھی روکا تو ہم سب اسے پاگل کتا سمجھ کر اس پر پتھر برسانا شروع کر دیں گے . . . .

"کاشف . .
 یہ کیا ؟ "
 اپنی اسکوٹی سے اتر کر سمیرہ ،
 کاشف کی طرف بھاگی اور اسی دوران میں باہر نکلا اور کاشف كے پاس کھڑے ہوگیا . . . . . 

مجھے اس دن کیسا لگا ھوگا ،
جب تم نے کینٹین میں سب کے سامنے میرے چہرے پر سموسہ تھوپا تھا ،
اسے تو میں بھول بھی جاؤں . . . . 

لیکن اس دن گراؤنڈ میں جب تم اور تمہاری فرینڈز نے اپنی نوک دار سینڈل پہن کر میرے پیٹھ کا جو حال کیا تھا . . . . 

دوسروں کی جان کی کوئی قیمت نہیں سمجھتے ہو تم لوگ اور آج خود پر بن آئی تو اوقات پر آ گئے . . . . "

 میں کچھ دیر كے لیے روکا اور پھر چلا کر کہا . . .
" آج دو نہیں تین رائونڈ ماروں گا ،
اور اگر موڈ ہوا تو پوری رات چودوں گا اور اِس دوران تو نے تھوڑا سا بھی شور کیا تو . . . .
 ہر روز چودوں گا . . . "

اس دن مجھے لڑکیوں كے بارے میں ایک اور بات پتہ چلی ،
 لڑکیاں بھلے ہی کتنی بھی آگے نکل جائے ،
وہ بھلے ہی شیر بنتی رہے . . . .
 لیکن جب ان کی باری آتی ہے تو وہ وہی جانے پہچانے اندازِ میں رونا دھونا شروع کر دیتی ہے . . . . . 

جیسا کہ سمیرہ ابھی کر رہی تھی ،
جب میں سمیرہ کو لیکر گراؤنڈ سے نکلا
تھا تو سوچا تھا کہ وہ جلد ہی اپنی پھدی میں لنڈ لے لے گی اور تھوڑی ہمت ، 
تھوڑی مستی بھی دیکھائے گی . . .
 لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا . . . 
وہ اِس وقت سڑک كے درمیان اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر رو رہی تھی . . . . .

" چل ڈرامہ بند کر ،
جہاں تجھے چودوں گا وہ جگہ بس قریب ہی ہے . . . . "
 اس کا ہاتھ پکڑ کر میں نے اسے اٹھایا ، . . . . 

وہ چپ چاپ میرے ساتھ چلنے لگی ،
 بغیر کچھ بولے . . . .

" ایک بار میں نے ایک لڑکی کو چودا تھا اور جوش میں آ کر  اپنا پورا ہاتھ اس کی پھدی میں گھسا دیا تھا . . . . "
 میں اب بھی اس کو ڈارنے میں مشغول تھا . . . . .
 لیکن وہ چُپ رہی . . . 
سڑک پر چالتے چالتے میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے دائیں ممے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ کو اسکے کاندھے پر رکھا کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا . . .
 میں نے اسے خود سے چپکا لیا تھا اور اگر ہمیں اس وقت کوئی دیکھتا تو وہ بس یہی کہتا کہ
 " وہ دیکھو لیلیٰ مجنوں کی جوڑی جا رہی
ہے . . . . "

سمیرہ سارے رستے اپنا سَر نیچے کئے روتے ہوئے چلتی رہی . . . .

" جاؤ . . . . "
میں نے جب سمیرہ سے یہ کہا تو اس نے حیران ہو کر میری طرف دیکھا ،
جیسے اسے یقین نہیں ہوا ہو کہ میں نے اسے جانے كے لیے کہا ہے . . . . .

" مجھے معلوم ہے کہ میں خوبصورت ہوں ،
لیکن اب مجھے دیکھنے كے بجائے ،
 سامنے دیکھو . . . . 
تمہاری اسکوٹی کھڑی ہے . . . . "

ایک بار پھر وہ چُپ تھی ،
وہ چپ چاپ کبھی مجھے دیکھتی تو کبھی اپنی اسکوٹی کی طرف . . . .
 لیکن پھر کچھ دیر بَعْد وہ مجھے گھورنے لگی ،

" مجھے پسند تو نہیں کرنے لگئی ، " 
اس کو دیکھ کر میں نے کہا ،
لیکن جب وہ پھر بھی مجھے گھورتی رہی
تو میں نے ایک زوردار تھپڑ  اس کے گال پر جھڑ دیا اور وہ چونک کر ہوش میں آئی . . . .

" دیکھا ،
یہ کوئی سپنا نہیں ہے ، . . .
 اب جلدی سے چلے جاؤ . . . . "

" تم تو کہہ رہے تھے کہ . . . . . . . . "

" سب جھوٹ تھا . . . "
 اس کی بات کاٹتے ہوے میں نے کہا 

" میرا ویسا اِرادَہ بالکل بھی نہیں تھا ، . . .
 میں نے جب تمہیں یہاں بلایا تو سمجھ گیا کہ ہاسٹل كے میرے دوست تم پر ٹوٹ پڑے گے اور تب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا ،
اور ان ہوس كے پیاسوں سے تمہیں بچانے كے لیے ہی میں تمہیں اپنے ساتھ لے آیا تھا ،
کیوںکہ مجھے معلوم تھا کہ وہ کچھ دیر میں یہاں سے چلے جائینگے . . . . .
 لیکن میں نے یہ بھی سوچا تھا کہ تمھارے دوست ،
 تمہارا یار کاشف تمہیں کال کرے گا ،
پر افسوس کہ اس نے ایک کال تو کیا ایک میسج تک نہیں کیا . . . . "

" ووو . . . وہ . . . . "
 وہ ہکلاتے ہوئے بولی ،
 اب اسکی آنکھیں خوشی سے بھر آئی تھی " موبائل سائیلنٹ پر تھا . . . . "
" میں جاؤں . . . . " 
اپنی اسکوٹی کی طرف دیکھ کر وہ بولی . . . 
" تھینکس . . . "

" اور ایک بات ، 
جو تم سے کہنی تھی . . . . "

" بولو . . . "

" میں نے ابھی تک کسی لڑکی کو نہیں چودا ہے ،
 صرف مٹھ ہی ماری ہے. . . . 
وہاں میں نے تم سے دو گھنٹے ،
 تِین گھنٹے . . .
 والی جو بھی بات کہی ،
وہ سب جھوٹ تھی . . . . "

وہ مسکرانے لگی اور اپنی اسکوٹی اسٹارٹ کی تب میں نے ایک اور بار  اسے ٹوکا 
" ایک اور بات ہے ، 
جو کہنی تھی . . . "

" بولو . . . "
 پہلے كے طرح ہی اس نے مسکرا كے کہا . . . .

" میں تمہارا ویڈیو بھی نہیں بنا سکتا تھا . . . کیوںکہ میرا موبائل میرے بیگ میں ہی ہے . . . ."

" اب جاؤں ،
 یا کچھ اور کہنا ہے . . . "

" ایک مشورہ لیتی جاؤ . . .
کاشف  نے اپنی جان بچانے كے لیے تمہیں یہاں بلا لیا تھا ، 
 ہو سکے تو اپنے لیے کوئی دوسرا بوائے فرینڈ ڈھونڈ لینا . . . . "


جب ہاسٹل پہنچا تو میرے دوست اگے پیچھے  ایسے کھڑے تھے جیسے کہ کوئی بہت بڑا شہنشاہ داخل ہوا  ہو . . . .

 سب مجھے دیکھ  دیکھ کر مسکرا رہے تھے ،
ابھی میں اپنے روم میں پہنچا ہی نہیں تھا کہ 
چھوٹے قد کا ملک ،
منو وہاں آیا اور میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا . . .
" چودا اسے  . . . . "

میں نے آس پاس کھڑے لڑکوں کو دیکھا اور دھیرے سے کہا
 " نہیں یار ، 
چھوڑ دیا ،
 بےچاری رونے لگی تھی . . . . "

" کھسرا ہے تو ، "
 پتہ نہیں اس وقت اظہر کہا سے ٹپک پڑا اور دوسری طرف سے اس نے میرے کاندھے پر ہاتھ
رکھا اور ڈانٹ چباتے ہوئے غصے سے بولا
 " کتے ، 
نہ تو خود کیا اور نہ ہی مجھے کرنے دیا ،
 اب میں تجھے چودوں گا . . . . 
چل روم میں تو "

جیسے ہی سب کو معلوم چلا کہ میں نے سمیرہ كے ساتھ کچھ نہیں کیا ہے تو سب مجھے گالیاں دینے لگے ،

کچھ بول رہے تھے کہ اتنا اچھا موقع میں نے ہاتھ سے جانے دیا . . . . 
کچھ نے یہ بھی کہا کہ پاگل بنا رہا ہے ہمیں ،
اُدھر سمیرہ کو چود بھی دیا اور یہاں آ کر نہ کہہ رہا ہے . . . . . 
اور باقی جتنے بچے تھے سب نے کھسرے کہ لقب دے ڈالا ،
 لیکن ان سب کو کیا پتہ کہ اِس دِل كے ارمان تو کچھ اور ہی تھے . . . . . . .


کاشف اور اس کے دوستوں کی ہاسٹل والوں نے دھولائی کی ہے ،
 یہ خبر راتوں راتوں تقریباً سب کو پتہ چل 
چکی تھی اور جو دو نام ابھر کر سامنے آئے تھے وہ تھے سردار اور ارمان . . . . 

فرسٹ ایئر كے ایک لڑکے نے اپنے سینیر کو بہت مارا ہے، 
یہ خبر تقریباً ہر کسی کے پاس پہنچ چکی تھی ،
جس کا مطلب تھا کہ کالج میں میری شہرت راتوں رات بڑھ چکی تھی . . . . .

 کاشف کی تھوکائی سے جہاں کچھ لوگ خوش تھے وہی بہت سے لوگ ایسے تھے 
، جن کو میں نے اپنا دشمن بنا لیا تھا . . . . 

دوسرے دن سے دوبارہ سے وہی روزانہ کا معمول شروع ہوگیا ،
 

 

لیکن آج میں اور اظہر کالج كے پیچھے والے گیٹ سے نہیں بلکہ سامنے والے گیٹ سے گئے . . . . 

آج مجھے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا کہ کون جونئیر ہے اور کون سینیر اور جب میں فرسٹ ایئر کی کلاس والی کوری ڈور میں پہنچا تو وہاں کلاس كے باہر کھڑے سب اسٹوڈنٹ کی
نظر مُجھ پر جم سی گئی . . . .

" دیکھ یار ،
میرے ساتھ چلنے کا فائدہ "
 بکواس کرتے ہوئے اظہر نے کہا

" صبح صبح دماغ مت خراب کر. . . .
ابھی سر صدیقی بھی آئیگا اور فیزکس كے قانون پڑھا پڑھا كر سَر پر ہتھوڑے
مارے گا . . . . . "

کلاس میں بیگ رکھ کر میں باہر آ گیا لیکن اظہر کسی لڑکے کی نوٹ بک سے کچھ اسائنمنٹ چھپنے لگا ، . . . . 

کلاس شروع ہونے میں ابھی ٹائم تھا ،
 اس لئے میں نے باہر کھڑے لڑکوں كے ساتھ گپ شپ مارنا
ہی مناسب سمجھا ،
وہاں کچھ لڑکے ہاسٹل كے بھی تھے تو کچھ لڑکے شہر والے بھی تھے ،
 سب اپنی آنکھوں میں چمک لیے مجھ سے پُوچھ رہے تھے کہ کیا میں نے سچ میں کاشف اور اس کے دوستو کو مارا ہے یا یہ صرف ایک افواہ ہے . . . . . .

" ارمان كی کتاب میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب حقیقت ہوتا ہے ،
 افوہیں تو اِس پاگل كی کتاب میں ہوتی
ہے ،
جو اپنے موبائل میں میسج ٹائپ کر رہا ہے . . . . . " 
منو کی طرف دیکھ کر میں نے اشارہ کیا اور اس کے ہاتھ سے موبائل چھین لیا . . . .

" یار میری بچی کا میسج آنے والا ہے ،
 بچودیاں مت کر . . . . "

" لوڑا بچی ،
تیرے سے کون سی لڑکی سیٹ ہوگی . . . . "

" یہ وہی لڑکی ہے . . . . "

" کون وہی . . . . "

" یار وہی . . . . "

" نام تو بتا . . . "

" سارہ . . . . " 
منو شرما کر بولا ، 
وہ سارہ  کا نام لیتے وقت ایسے شرما رہا جیسے کے مہندی لگانے والی رسم ہو رہی ہو ، . . . .

میں نے نمبر دیکھا ، 
کمینہ سچ میں سارہ  سے میسج میسج  کھیل رہا تھا ، 
یقین تو نہیں ہو رہا تھا لیکن سارہ  کا جب رپلائے آیا تو مجھے یقین کرنا پڑا . . . . .

" کہاں ہو . . . . "
سارہ نے میسج کیا . . .

" اپنی کلاس كے باہر کھڑا ہو ، "

" میں تمہیں پہچانوں گی کیسے . . . "

" تم بس کالج آؤ ،
میں تمہیں پہچان لوں گا . . . . . . "

" کلاس سے باہر نکلو ،
میں بس پہنچنے ہی والی ہوں . . . . "

" میں باہر ہی ہوں . . . . "
میسیج ٹائپ کرکے منو نے سارہ کو سینڈ کر دیا ، 
اور وہاں کھڑے سب لڑکوں کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا،
خود میرا بھی حال یہی تھا کہ اس نے سارہ کو ملنے كے لیے راضی کر لیا . . . . 

کہی یہ اس کے ساتھ سیٹ ہوگئی تو . . .

" سارہ . . . . "
 اِس نام کو میں اسپتال والے واقعے کے بعد سے بھولنے لگا تھا ،
لیکن آج منو اور سارہ كے دوران ہونے والے  اِس
میسج میسج كے کھیل نے میرے اندر ایک حل چل سی پیدا کر دی تھی ، 
پھر میری آنکھوں کے سامنے صغیر اور سارہ کا اسپتال کے کمرے والا منظر آ گیا . . . .

 اور جب کچھ دیر بعد کوری ڈور میں سارہ کو صغیر كے ساتھ آتے ہوئے دیکھا تو دِل سے آواز آئی کہ کاش سارہ صغیر کو چھوڑ کر میرے پاس آ جائے ، 
دِل سے آواز آئی کہ کاش صغیر کو دوسری لڑکی پسند آ جائے ،
اور وہ سارہ کو چھوڑ دے ،
 آواز آئی کہ کاش سارہ كے دِل میں بھی میرے لیے وہی ارمان جاگ جائے جو ارمان میرے دِل میں اس کے لیے تھے . . . . . .

تبھی زوردار  آواز آئی ،
 کسی نے کسی کو زوردار تھپڑ مارا تھا ،
 اور جب نظریں آواز کی طرف گئی تو
ہنسی كے ساتھ غصہ بھی بہت آیا،
 صغیر نے منو کو کرارا قسم کا تھپڑ مارا تھا ، ہنسی اس لئے آ رہی تھی کیوںکہ منو جہاں کچھ دیر پہلے سارہ  كے لیے اپنے ارمانوں کو اُچھال رہا تھا وہ اب اپنے گال سہلا رہا
تھا ،
غصہ اس لئے آیا کیوںکہ جس کو پانے کی تمنا کالج كے پہلے دن سے تھی اس کے بوائے فرینڈ نے میرے دوست کو مارا تھا . . . . . . . .

"  لنگور کی اولاد ، 
شکل تو دیکھ لیتا آئینے میں مجھے میسج کرنے سے پہلے . . . . "
 سارہ منو کا مذاق اڑا رہی تھی اور صغیر جس نے ابھی حال ہی میں منو کو تھپڑ جھڑا تھا وہ بھی ہنس رہا تھا . . . . . . . 


صغیر کالج کا بہت مشہور اسٹوڈنٹ تھا اور کاشف کا قریبی رشتے دار بھی تھا ، 
رنگ روپ اور چال چلن اس کی دولت کے عکس کو نمایاں کرتے تھے،
اور کل رات ہاسٹل میں کسی نے مجھے یہ بتایا تھا کی کاشف کی طرح وہ بھی کبھی کبھی بدمعاشی کر لیتا ہے اور اسی سلسلے میں کچھ دنوں پہلے کالج سے نکالتے نکالتے بچا تھا ، 
ہوا کچھ یوں تھا کہ شہر کی بس میں اس نے فرسٹ ایئر كے ایک لڑکے کو بالوں سے پکڑ کر چلتی بس کی کھڑکی سے باہر پھیک دیا
تھا . . . . . .

" سن  لنگور ، 
دوباہ اگر سارہ كے آس پاس بھٹکا تو پورے کالج میں بھاگا بھاگا کر ماروں گا . . . . . 
" صغیر نے کاشف سے اپنی رشتے داری کی اکڑ دکھاتے ہوئے کہا . . . .

" سائنس کہتی ہے تم جیسے انسانوں کے آباواجداد بندر اور لنگور تھے ،
 اس لئے اپنے باپ دادا کی عزت کرو . . . . . " 
منو كے کاندھے پر ہاتھ رکھا کر میں نے کہا
 " دوباہ ہاتھ اٹھایا تو ہاتھ توڑ دوں گا . . . "

اس وقت مجھ میں اتنی ہمت شاید جلن کی وجہ سے آئی تھی ،
 ورنہ منو میرا اتنا خاص دوست نہیں تھا کہ  میں اس کے لیے لڑائی کرتا . . . .

" کیا بولا تو نے . . . "

" اس کو دور کر دے ورنہ ،
بچی كے سامنے بے عزتی ہو جائے گی . . . . " 

میرا اشارہ سارہ کی طرف تھا ،
 جو حالت وہاں صغیر کی تھی وہی حالت سارہ  کی بھی تھی ،
 میرے لیے صغیر كے ساتھ ساتھ سارہ كے دل  میں بھی نَفرت تھی . . . . . .

" سارہ جان . . . .
 تم یہی کھڑی رہنا ، 
میں دیکھتا ہوں کہ کل کا آیا یہ لونڈا کیا کرتا ہے . . . "
یہ کہتے ہوئے اس نے ایک بار اور منو کو مارا . . . .

" ایسا ہے ،
پھر یہ لے . . . " 
میں اسے تھوڑا پیچھے کیا اور ایک زور دار تھپڑ صغیر کو جڑ دیا ، . . .

وہ تھپڑ میں نے اپنی پوری طاقت كے ساتھ مارا تھا ،
اس لئے اس کی گونج سب کے کانوں تک تو پہنچی تھی ،
وہاں کھڑے سب اسٹوڈنٹ میں سے کسی کی آنکھیں بڑی ہوگئی تو کسی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ،
کچھ لڑکیوں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا کر لڑکیوں والی اسٹائل میں اوووو بھی کیا . . . . 

فرسٹ ایئر کی سب کلاس میں جتنے بھی اسٹوڈنٹ بیٹھے تھے وہ سب لڑائی کا نام سن کر باہر کوری ڈور پر آ گئے ، 
تب مجھے لگا کے صغیر کو نہیں مرنا چاہئے تھا ، . . . 

صغیر کی معشوقہ بھی وہی کھڑی تھی ،
اس لئے وہ اس کے سامنے مجھے گالی نہیں دے سکتا تھا اور میرے سامنے وہ جسے میں معشوقہ بنانا چاہتا تھا وہ کھڑی تھی ،
 اس لئے اس وقت گالی تو میں بھی نہیں دے سکتا تھا . . . .

 

  • Author

" چل سائڈ میں کمینے . . . "
 میرا کالر پکڑ کر صغیر نے کہا  اور جواب میں میں نے بھی اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا کالر کھینچ کر پکڑ لیا . . . . .

" تو خود کو سمجھتا کیا ہے  ،
 تجھے ذرا بھی اندازہ ہے کہ میں کون ہوں اور میں کیا کر سکتا ہوں "
 ڈانٹ پیس کر اس نے دھیرے سے کہا . . .

" میرا ہاتھ فری ہے ،
اگر  ایک بار مارنا شروع کروں گا تو مارتا ہی جاؤں گا اور جسے مارتا ہوں اس کا کیا حال ہوتا ہے یہ تو کاشف سے پُوچھ لینا . . . . . "

صغیر تھوڑا ڈھیلا پڑ گیا میری بات سن کر اور مجھ سے پوچھا کہ میں رہتا کہاں ہو اور جب
میں نے اسے بتایا کہ میں ہاسٹل کا ہوں تو اس نے میرا نام پوچھا . . . .

" ارمان . . . . "
 میں نے اپنا نام بتایا اور میرے اِس نام کا بہت زیادہ اثر صغیر پر ہوا اس نے فوراً  میرے گریبان سے اپنا ہاتھ ہٹا دیا . . . .

" سردار كے دم پر اُچل رہا ہے تو ، 
اگلے سال کیا کرے گا جب وہ نکل جائے گا . . . ."

" میں اِسی ایک سال میں ہی تم لوگوں کی اتنی گانڈ مار لوں گا کی اگلے سال کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی . . . "

" یار ارمان مار کمینے کو . . . "
 منو نے چلا کر کہا ،

" تو چُپ کر ڈرپوک ،
 ورنہ ایک تھپڑ ماروں گا تو یہی سے نیچے گر جائیگا . . . . "

" چل چھوڑ ،
مجھے کلاس اٹینڈ کرنی ہے " 
کہتے ہوئے میں نے صغیر کو دور دھکیلا اور کلاس میں جانے لگا ،
تبھی صغیر کی آواز میرے کانوں میں گونجی . . . .

" اگر اتنا ہی دم ہے تو آج بریک ٹایم پر کینٹین میں ملنا . . . . "

" سوری ، 
ٹایم نہیں ہے . . . " 
پیچھے موڑے بنا ہی میں نے کہا اور کلاس كے اندر داخل ہوگیا ، . . .

جن سے تھوڑی بہت جان پہچان تھی وہ سب لوگ اپنی کلاس سے باہر نکل آئے تھے ،
لیکن جو میرا سب سے خاص دوست
تھا ،
جو میرا روم میٹ ہونے كے ساتھ ساتھ میرا کلاس فیلو ،
میرا بینچ میٹ تھا بس وہی کلاس سے
باہر نہیں آیا تھا ، 
اور اس کا پتہ مجھے تب لگا جب میں نے کلاس میں جاتے ہی اظہر کو اسائنمنٹ لکھتے ہوئے دیکھا ، . . . .

" کیا لکھ رہا ہے . . . " 
میں نے نارمل ہوتا ہوے کہا،
جب کہ سچ تو یہ تھا کہ میں اس وقت بہت ہی غصے میں تھا . . . . .

 اظہر کو تو یہ تک نہیں معلوم تھا کہ کچھ دیر پہلے میری لڑائی سارہ كے بوائے فریںڈ سے ہو رہی تھی . . . .

" کہاں تھا تو . . . . " 
اسائنمنٹ چھاپتے ہوئے اس نے کہا . . .

" باہر گیا تھا ،
کیوں "

" ابھی کچھ دیر پہلے آتا تو بہترین نظارا دکھاتا تجھے ،
 باہر دو لڑکوں کی لڑائی ہو رہی تھی . . . "

" کون سے دو لڑکوں کی . . . "

" معلوم نہیں ،
 میں تو اسائنمنٹ لکھ رہا تھا . . . . "

اس کے اگلے ہی لمحے میں نے اظہر کو ایک مکا مار کہا 
" کمینے باہر میں ایک سینیر لڑکے سے لڑ رہا تھا اور تو یہاں بیٹھ کر پڑھائی کر رہا تھا . . . . "

" تیری لڑائی "
 وہ چونک گیا 
" نام بتا کمینے کا ،
کلاس میں گھس کر ماریں گے . . . "

"صغیر، 
مکینیکل سیکنڈ ایئر . . . .
سارہ کا معشوق . . . "
 صغیر کا نام سن کر اظہر كے تیور کم ہو
گئے اور پھر سے اسائنمنٹ لکھنے لگا ،

" پھٹ گئی نہ ،
اس کا نام سن کر . . . "

" میں کسی سے نہیں ڈرتا . . . "

" تو چل نہ ،
چل کلاس میں گھس کر مارتے ہے اسے . . . . "

" کسی  اور  دن . . . "

" کمینہ ڈرامے باز. . . . "
 بیگ کھولتے ہوئے میں نے اظہر سے پوچھا 
" آج فرسٹ کلاس کس کی ہے . . . "

" سحرش میڈم کی "

سحرش میڈم  کا نام سنتے ہی ایک بار پھر سے موڈ خراب ہوگیا کیوںکہ آج اسائنمنٹ چیک کرانا تھا ،
اور اسائنمنٹ کرنا تو دور میں نے ابھی تک نوٹ بک بھی نہیں خریدی تھی ، 
اوپر سے آخری اسائنمنٹ بھی ان کمپلیٹ تھا ، . . . 

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا باہر کھڑے سبھی اسٹوڈنٹ اندر آنے لگے ،
 میری نظر ایک بار پھر سب کے طرف تھی ، میں چاہتا تھا کہ اِس بار کوئی تو ایسا ہو جو اسائنمنٹ نہ کرنے والوں کی فہرست میں اپنا نام لکھوائے ،
لیکن اس دن صرف میں اکیلا ہی تھا . . 
کمینے سب پڑھاکو تھے . . . .

" ارمان ، . . . "

" یس میم " 
کھڑے ہو کر میں نے اپنا سَر جھکا لیا . . . .

" تمھارے دو اسائنمنٹ تھے ،
یاد ہے نہ  . . . "

" یس میم "
 سَر جھکا کر ہی میں نے جواب دیا . . .

" گڈ . . .
 لاؤ ، 
چیک کر دیتی ہوں . . . "

" اسائنمنٹ تو میں نے نہیں کیا ، 
سوری میم ،
اگلی بار تینوں اسائنمنٹ ایک ساتھ چیک کرا
دوں گا . . . . "
 میں نے سوچا کہ اِس بار معافی سے شاید کوئی بات بن جائے گی ، 
لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ، 
سحرش میڈم  بلی کی طرح مجھے  گھورتی  رہی اور پھر میرا رول نمبر نوٹ کرکے ، 
مجھے پریکٹیکل میں کم نمبر دینے کی دھمکی دی اور پھر بیٹھا دیا . . . . .

" لولولولولولولو . . . . . " 
اظہر ہنستے  ہوئے بولا

" یہ کیا ہے لولولولولو . . . . "

" کچھ نہیں ،
 تو اسے ایک بار  حویلی میں لے کے آجا قسم سے پورے سال کا اسائنمنٹ ایک بار میں اسے دے دوں گا ،
 کمینی كی کیا چوت ہوگی کیا ممے ہوں گے ، 
اگر یہ مجھ سے سیٹ ہو جائے تو قسم سے میں اپنی انجینیئرنگ کی پڑھائی چھوڑ دوں . . . . . "

" تیرا انسپیکٹر باپ تجھے جیل میں ڈال دے گا ،
اگر تونے انجینیئرنگ چھوڑی تو . . . . "

" اظہر اور ارمان . . . . "

" جی . . . 
جی میم "
ہم دونوں بھوکلا گئے اور نوٹ بک کھول کر پڑھنے کا ڈرامہ کرنے لگے . . . .

" گیٹ آؤٹ . . . . "

" کیا میم . . . . "

" گیٹ لوسٹ . . . .
 اب سنائی دیا . . . . "

" یس میم "

" سب تیری غلطی ہے ،
نہ تو اس کے ممے اور پھدی کی بات کرتا ،
نہ میں ہنستا اور نہ ہی وہ ہمیں باہر نکالتی . . . . "
 کلاس سے باہر نکلتے ہی میں اظہر  پر برس پڑا . . . .

 

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.