Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

ارمان ایک طویل داستان

Featured Replies

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author

تمام دوستوں کا حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ 

  • Author

 

سعدیہ كے منہ سے اپنی انگلیاں نکالی اور اسے  پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ،
جس سے اس کا چہرہ میرے قریب آ گیا ، 
میں اس کی ہوس سے بھری آنکھوں میں آخری بار اپنے لیے محبّت  ڈھونڈ رہا تھا ،
لیکن ہوا وہی ،
میرے ارمانوں کا حقیقت سے نہ تو پہلے کوئی واسطہ تھا اور نہ ہی اب تھا اور جب مجھے
یقین ہوگیا کہ وہ وہی پرانی سعدیہ ہے جس نے محبّت کو ہمیشہ ہوس کی پیاس سے نیچے سمجھا ہے ،
 تو میں اس کو ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بری طرح جکڑ لیا . . . .

" جانور بن گئے ہو کیا . . . "
 مجھے دکھا دے کر وہ بولی اور اپنے ہونٹ ہاتھ 
سے سہلانے لگی . . . .

" سوری . . . " 
میں وآپس اس کے قریب گیا اور اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی براہ کو اس کے سینے سے الگ کیا اور ایک بار  پھر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بری طرح جکڑ لیا . . .

 سعدیہ نے اِس بار بھی پوری کوشش کی مجھے دور کرنے کی ،
 لیکن وہ اِس بار  ناکام رہی . . .

 لیکن کچھ دیر كے بَعْد مجھے اس کی
پرواہ ہونے لگی ،
اس کا درد میرا درد بن گیا ،
اور میں نے اس کے گلابی ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے الگ کر دیا اور اس کی گانڈ کو پکڑ لیا اور اس کی گانڈ پر ہاتھوں سے دباؤ ڈالا . . . . .

" گندے بچے . . . . "
میرے طرف جھک کر میرے کانوں كے پاس آ کر وہ بولی .

میں نے سعدیہ  سے کچھ نہیں کہا اور اسے پکڑ کر اُلٹا گھوما دیا ،
اب اس کی پیٹھ میرے سینے سے اور اس کے
کولہے میرے لنڈ سے ٹچ ہو رہے تھے ، . . 

سعدیہ شاید جان چکی تھی کی اب میں کیا اور کیسے کرنے والا ہوں ،
اور ویسے بھی جس لڑکی کو ہر دن اپنے بستر کا ساتھی بدلنے کی بیماری ہو ،
 وہ کم سے کم سیکس كے پوزیشن تو جان ہی جاتی ہے . . . .

 سعدیہ نے میرے بولنے سے پہلے ہی اپنے دونوں ہاتھ سامنے کی طرف بستر پر تیکاے اور اپنی گانڈ میری طرف کرکے تھوڑا جھک گئی اور بولی . . .

" اس کو کہتے ہے زبردست چودائی کرنا . . . 
اب کیوں روکے ہو ،
 ڈال دو اندر اور ایسا ڈالنا کہ اندر تک دستک دے جائے . . . . "

دِل کر رہا تھا کہ سعدیہ کا قتل کر دوں اور پھر اس کی لاش كے پاس بیٹھ کر زندگی بھر رونا شروع کر دوں ،
دِل کر رہا تھا کہ سامنے كے دیوار پر سعدیہ کا سَر اتنی زور سے دے ماروں کی اس کا سَر ہی نہ رہے . . . . 

وہ مجھ سے ایسے بات کیسے کر سکتی ہے ، جب کے میں اسے . . . . . . . . . .

 اور ایک بار  پھر دِل كے ارمان ہوس میں دھول گئے ،

یہ میرے لیے پہلی بار  نہیں تھا . . . . .

" چلو ارمان  ، 
چودو مجھے  . . . 
آئی ایم ویٹنگ . . . "
 اپنی گانڈ ہلاتی ہوئی سعدیہ بولی . . .

میں نے اپنے کپڑے اتارے اور سعدیہ كے گانڈ پر اپنے ہاتھ سے دبائو بڑھانے لگا وہ ابھی سے مستی بھری آوازیں نکالنے لگی ،
اس کی پینٹی کو نیچے کھسکا کر اپنے ہاتھوں سے اس کی چوت کو پھلایا ،
 اور اپنے لنڈ کو اس کی چوت سے لگایا اور آہستہ آہستہ سے اندر کی طرف دھکہ دیا . . . .


" آہ ہ ہ ہ ہ . . . . . . . "
سعدیہ کی سیسکاریاں شروع  ہوگئی ،
اب کی بار خود میرے منہ سے بھی مستی بھری 
آوازیں باہر نکل رہی تھی .

میرا آدھا لنڈ اس کی چوت میں دستک دے چکا تھا ،
جب کہ سعدیہ اپنے کہولوں کو آگے پیچھے ہلا کر مزہ  لے رہی تھی ،
میں نے ایک اور دھکہ مارا اور پورا لنڈ اس کی چوت میں سماں گیا ،
اس کے بَعْد میں نے اپنے ڈھکے تیز کر دیئے ، میرے تیز ڈھکوں كے وجہ سے اس کا پورا جسم  بری طرح ہل رہا تھا ، 
میں جب بھی اپنا لنڈ اندر ڈالتا وہ اپنی کمر کو میری طرف پوش کرتی اور سامنے کی دیوار کی طرف اپنا چہرہ کرکے ایک لمبی سسکی بھرتی اور اس کے بَعْد جیسے ہی میں اپنا لنڈ باہر نکلتا ، 
وہ پھر مستی میں چار چاند لگا دینے والی آوازوں كے ساتھ پہلے والے پوزیشن پر آ جاتی . . . . . 

ایک  پل كے لیے میں روکا اور اس کے گانڈ کے  ابھاروں کو اپنے ہاتھوں سے مسلتے ہوئے اور پھر تیز رفتاری سے اسے چودنے لگا ،
 
سعدیہ سے ایک لگاؤ سا ہوگیا تھا مجھے اس وقت ،
 اس لیے جب وہ چیختی تو میں تھوڑی دیر كے لیے روک جاتا اور پھر جب وہ وآپس نارمل ہو جاتی تو میں پھر سے شروع ہو جاتا . . .

 اور کبھی کبھی جب وہ درد سے چیختی تو میں اپنا لنڈ ایک تیز جھٹکے كے ساتھ اس کے چوت میں ڈال دیتا اور پھر اس کے مموں  کو زور سے سے دباتے ہوئے اپنا لنڈ کو اس کی پھدی كے اندر ہی ہلانے لگتا ،
میرا ایسا کرنے پر سعدیہ میری کمر کو پکڑ کر مجھے دور کرنے کی کوشش کرتی . . . .

" آہ ہ ہ ہ ہ . . . .
اوئی ی ی ی ی. . . . .  
 ارمان تھنکس اس کے لئے . . . "
وہ یہ بولتے بولتے اِس بار بھی مجھ سے پہلے فارغ ہوگئی ،
میرا لنڈ اب بھی اس کی چوت میں تھا ، جس کی وجہ سے اس کی چوت سے نکلتا گرم پانی مجھے اپنے لنڈ پر محسوس ہوا . . . .

 میں بھی اب گیم ختم کرنے والا تھا ،
اس لئے میں نے سعدیہ کی کمر کو پکڑ کر اس کی طرف جھک گیا اور اسے  بستر پر پورا الٹا  لیٹا کر اس کے  اوپر آ گیا ،
 اس کی چوت کا پانی پورے  بستر میں پھیل 
رہا تھا ، 
میں نے اس کی گانڈ کے ابھاروں کو الگ کیا اور اپنے لنڈ کو ایک ہی جھٹکے میں اندر تک گھسہ  دیا ،
اور اپنی پوری طاقت كے ساتھ سعدیہ کو چودنے لگا ، 
وہ بری طرح چییخی . . .
 تو میں نے کہا کہ ، 
بس کچھ دیر کی بات ہے ،
برداشت کر لو . . . .

اس نے ویسا ہی کیا . . . 

بستر كے سرہانے کو پکڑ کر اس نے اپنے جسم کو ٹائیٹ کر لیا وہ بستر کو جکڑنے لگی تھی . . . .

 اور میں اس کی کمر ،
 اس کی پیٹھ پر تیزی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے فارغ ہوگیا ،
میرا لنڈ سعدیہ کی چوت میں ہی تھا ،
 سعدیہ بہت تھک چکی تھی ،
ساتھ میں
میں بھی حانپ رہا تھا ، 
مجھے سعدیہ كے اوپر لیٹے لیٹے کب
نیند آ گئی پتہ ہی نہیں چلا . . . .

صبح میری آنکھ ایک گرم سرپرائز سے کھلی ، جسے اکثر لوگ بلوجاب کہتے ہے ، 
میں سعدیہ كے بستر پر ننگا لیٹا ہوا تھا اور وہ میرے لنڈ پر اپنے گرم گرم ہونٹ پھیر رہی تھی ، . . .


" اسے اچھی اور خوشامد صبح کیا ھوگی ارمان ، 
جب کوئی تمہیں بلوجاب دے کر اٹھائے . . . " 
میرے لنڈ کو چُوسنا بن کرکے اپنے ہاتھ سے سہلاتے ہوئے سعدیہ بولی . . .

تقریباً دس منٹ تک وہ میرے لنڈ کو چوستی رہی اور اس کے بَعْد میں اک بار پھر فارغ ہوگیا ،
 پچھلی رات تِین بار فارغ ہونے کی وجہ سے پیٹ میں بہت درد ہو رہا تھا ،
 کمزوری بھی محسوس ہو رہی تھی اور سَر بھی بہت بھاری ہو رہا تھا . . . . .

" میں چلتا ہوں . . . " 
باتھ روم سے نکل کر میں نے اپنے کپڑے پہنے . . .

" جاؤ ، 
اور اپنا خیال رکھنا . . . "

میں اِس انتظار میں اب بھی کھڑا تھا کی کہی شاید اسے  میری آنکھوں میں کچھ ایسا دِکھ جائے ،
جسے وہ مجھے  گلے لگا لے ،
 لیکن ایسا نہیں ہوا ، 
یہاں تک کہ اس نے میری آنکھوں کی طرف دیکھا تک نہیں ،
اس کی نظر اب بھی میرے لنڈ پر تھی ،
 سعدیہ میرے لنڈ کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی . . . . .

" تمہارا ہونے والا شوہر کیا کرتا ہے . . . . "

" تم کیوں پُوچھ رہے ہو . . . "

" جنرل نالج كے لیے ، 
کیا پتہ یہ سوال ،
زندگی كے امتحان میں آ جائے "


" یہ ’
مذاق نہیں ہے ارمان . . .
 تم جاؤ ،
اور آج كے بَعْد سمجھ لینا كے ہم ایک دوسرے سے ملے ہی نہیں . . . "

میں نے ایک جھوٹی مسکراہٹ سے سعدیہ کو دیکھا اور بولا . . . 
" تنہائی میں جینے والے لوگوں کو اکثر ان کے چھوٹے سے چھوٹے سہارے سے اتنی محبت ہو جاتی ہے کہ وہ ان کے لیے خود کو مٹا دیتے ہیں . . . . .

 تمہیں کبھی کسی سے محبّت ہو تو میری بات پر غور کرنا ،
 ورنہ لوگ تو اپنوں کو پل بھر میں بھول
جاتے ہے ، 
میں تو ویسے بھی تمھارے لیے غیر ہوں . . . . "

 

 

سعدیہ كے ذہن میں ہزاروں سوال چھوڑ کر میں اس کے گھر سے سیدھے باہر نکل گیا ،
 میں اپنے کواٹر کی طرف آ رہا تھا کہ کاشف نے مجھے کال کی . . .

" کہاں ہے بھائی ، 
آنے کا ارادہ ہے یا اسی كے ساتھ ہی رہیگا . . . " 
میں نے کال ریسیو کی تو کاشف تانے مارتا
ہوا بولا . . .

" بس کواٹر میں ہی آ رہا ہوں . . . "

" جلدی آ ،
 تیرے لیے سرپرائز ہے ، 
اور وہ سرپرائز اتنا بڑا ہے کہ ،
 تو . . . . "


میں جہاں تھا وہی کھڑا ہو گیا اور کاشف سے بولا 
" کیا ہے وہ سرپرائز . . . "

" ھممممممم . . . . 
تو پہلے کواٹر میں آجا ، . . "
 اور اس نے کال کاٹ دی


" پاگل بنا رہا ہوگا کاشف . . . "
یہی سوچتے سوچتے میں کواٹر میں آیا ،
میں نے کاشف کو آواز دی لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور پھر جب باتھ روم كے اندر سے مجھے شاور كے چلنے کی آواز آئی تو
میں سمجھ گیا کہ کاشف اندر ہے ، 
میں نے ٹائم دیکھا ساڑے نو بج رہے تھے ،
 اب اتنا ٹائم نہیں تھا کہ میں آج ڈیوٹی پر جاتا ،
اور ویسے بھی آج میرا موڈ نہیں تھا . . . .

 میں نے کمرے کی کھڑکی کھولی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا . . . .

 تبھی مجھے ایک آواز سنائی دی جس نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ كر رکھ دیا . . . . 

ایسا لگا کہ دِل کی دھڑکنیں روک گئی ہو . . .

" کیا بات ہے یار،
بہت دنوں سے حویلی میں نہیں آیا . . . "

میری جگہ اس وقت کوئی اور ہوتا تو شاید نظر اندازِ کر دیتا اِس آواز کو ،
لیکن میرے لیے یہ الفاظ،
یہ جملے بہت اہمیت کی حامل تھی . . . .

 میں پیچھے دیکھے بنا ہی جان گیا تھا کہ میرے پیچھے کون ہے ،
لیکن اتنے مہینوں بَعْد وہ کیسے یہاں آیا . . . . .

ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ میرے سَر پر ایک زوردار  تھپڑ پڑا ،
مارنے والے نے اتنی زور سے مارا تھا جیسے کہ نسلوں کا بدلہ لے رہا ہو . . . . . 

وہ کوئی اور نہیں بلکہ میرا خاص نہیں میرا سب سے خاص دوست اظہر تھا ،
اور میں بھی اس کا سب سے خاص دوست تھا . . . . .


" اوے کمینے لڑکیوں کی طرح ادھر ہی دیکھتے رہیگا یا پھر گلے بھی ملے گا . . . . "
اس کی آواز میں مجھے اپنے لیے وہی اپنایت محسوس ہوئی ،
جو کالج كے دنوں میں ہوا کرتا تھی،

میں ایک جھٹکے سے پیچھے مڑا اور اظہر کو   گلے لگا لیا . . . . .

 میں اور اظہر ایک دوسرے كے لیے اتنے خاص تھے کہ ہم دونوں gay ہوتے
 ( جو کہ نہیں تھے ) تو آج ایک دوسرے سے شادی کر لی ہوتی. . . . . .

اپنے غصے اور مجھ سے ناراضگی کا ایک اور اظھار کرتے ہوئے اس نے مجھے زور سے ایک لات ماری اور بولا 
" بہن چود گانڈ مروا رہا تھا تو یہاں ،
 تیرا نمبر تبدیل ہوگیا ، 
گھر سے بنا بتائے غائب ہے اور یہاں تک کہ . . . یہاں تک کہ . . . 

" مجھ پر ایک لات کا پیار اور کرتے ہوئے بولا " 

یہاں تک کہ تو نے مجھے بھی نہیں بتایا ،
کہا گئی تیری وہ بڑی بڑی باتیں . . . "

ہماری دُنیا میں ایک کہاوت بہت مشہور ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ملے تو بھی بہت
ہوتا ہے ، 
لیکن مجھے تو آج پورا کا پورا ایک جہاز مل گیا تھا اظہر كے روپ میں . . . . .

" بھڑوے ،
خود کو انجینئر بولتا ہے ، 
تو نے سب انجیرنز کا نام خاک میں ملا دیا . . . . "

 وہ اب بھی مجھ پر بہت غصہ تھا . . . .

" چھوڑ پرانی باتوں کو اور بتا یہاں کیسے آیا اور کاشف کہاں ہے ،
کہی تو نے اس کا قتل تو نہیں کر دیا . . . "

" بلکل ،
سہی سمجھا بے ،
اس کی لاش باتھ روم میں پڑی ہے ،
پلیز پولیس کو بتا دے . . . . "

کچھ دیر تک ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ہنس پڑے . . . .

" اب چال بتا ،
 تو یہاں کیوں ہے . . . " 
اپنی ہنسی روک کر اظہر بولا ، 
وہ اب سنجیدہ تھا . . . .

" سب کچھ چھوڑ چھاڑ كے آ گیا میں ، 
گھر والے ملک سے باہر ہے ،
نہ تو انہیں کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی مجھے . . . "

 

 

" تیرے بھائی کی شادی ہونے والی تھی ،
اس وقت جب تو گھر چھوڑ کر یہاں آ گیا تھا . . . "

" کمینے میری غلطیوں کی فہرست پکڑ كے بیٹھ گیا ہے. . .
 اب جان نکال کر ہی دم لے گا "
 میں نے اندر ہی اندر سوچا . . .

" وہ سب تو چھوڑ "
 اظہر کا چہرہ پھر لال ہونے لگا ، 

" مجھے یہ بتا کہ تو نے مجھے کال کیوں نہیں کی ،
کالج میں تو میرا بیسٹ فرینڈ بنا پھرتا تھا . . . . "

اظہر كے اِس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور  میں اسے کچھ کہتا بھی تو کیا یہ کہتا کہ
" مجھ میں اب جینے کی خوائش نہیں ہے . . . 

" یا پھر یہ کہتا کہ "
 سارہ كے جانے كے بَعْد جیسے میرے دِل نے
دھڑکنا بند کر دیا ہے . . . "

" کچھ بولے گا بھی یا نہیں . . . "
 وہ مجھ سے پھر مخاطب ہوا . . . .

" وجہ جاننا چاہتا ہے ،
تو سن . . . .
 جب میں اپنی بی۔ٹیگ کی خالی ڈگری لے کر گھر گیا تو جانتا ہے میرے ساتھ کیا سلوک ہوا . . . 

گھر میں بڑے بھائی کی شادی کی تیاری چل رہی تھی اس لئے گھر میں لوگوں کہ ہجوم سا رہتا  تھا ،
 اور جب کوئی میرے بارے میں پوچھتا تو سب یہی کہتے کہ . . . .
 ہمارے خاندان میں سب سے خراب میں ہوں ،
میں ہی ایک اکیلا شخص ہوں ،
 جس نے اپنے خاندان کا نام ڈوبا دیا . . .

 ایسا اس لئے ہوا کیوںکہ میرے پاس پیسہ نہیں تھا ،
میرے پاس نوکری نہیں تھی . . . . .

 مجھ سے کہی بھی تھوڑی سی بھی غلطی ہو جاتی تو میری اس غلطی کو میرے پڑھائی سے جوڑ دیا جاتا . . . . 

میں اپنے ہی گھر میں رہ کر پاگل ہو رہا تھا ،
اور پھر جس دن لڑکی والے ہمارے گھر آئے تو بھائی نے ایک چھوٹی سی بات پہ سب کے سامنے مجھ پر ہاتھ اٹھا دیا . . . .

 بس اسی وقت میرے دِل اور دماغ دونوں نے ایک ساتھ چلا کر کہا کہ بس بہت ہو گیا ،
اور مجھے سب سے برا تب لگا جب مجھے کسی نے نہیں روکا . . .
 سب یہی چاھتے تھے کہ میں ان کی زندگی سے چلا جاؤں ، 
سو میں نے وہی کیا . . . . " 

یہ سب بولتے بولتے میں بہت غم زدہ ہوگیا تھا ،
اظہر کو اپنی زندگی كے کچھ گزرے وقت سنا کر میں نے اپنے زخم پھر سے تازہ کر لیے تھے . . . . 
کاشف بھی تب تک آ چکا تھا اور دروازے پر چُپ چاپ کھڑا میری باتیں سن رہا تھا . . . . . .

کچھ دیر تک ہم تینوں میں سے کوئی کچھ نہیں بولا ، 
اور پھر اظہر نے اپنا بیگ اپنی طرف کھیچ کر
کھولا اور شراب کی ایک بوتل نکال کر بولا . . .
" یہ لے تیرا گفٹ . . . "

میری نم آنکھوں میں ایک ہنسی جھلک آئی
" تو کمینے ابھی تک بھولا نہیں . . . "

یہ ہم دونوں کی ایک خاص عادت تھی کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو گفٹ كے طور پر ہمیشہ شراب ہی گفٹ کی تھی . . .
 اور سب سے بڑی بات یہ کی اظہر نے ہی مجھے شراب پینے کی عادت لگائی تھی . . . . . .

" شباب سے زیادہ  شراب اچھی  . . . " 
یہ بولتے ہوئے میں نے اس کے ہاتھ سے بوتل چھینی اور کاشف کی طرف دیکھ کر بولا "
آج رات کا جوگار ہوگیا بے . . . "

میرے ایسا کہنے پر کاشف كے ساتھ ساتھ اظہر بھی ہنس پڑا . . .

کاشف اور اظہر ہی میری موجودہ زندگی میں میرے اپنے تھے ، 
کاشف كے والد انسپیکٹر تھے اور اظہر ریلوے
میں کسی اچھی پوسٹ پر تھا . . .

" شادی ہو گئی تیری . . . " 
شراب کی بوتل کو ایک کنارے پر رکھ کر میں نے اظہر سے پوچھا . . . .

" کہاں شادی ،
ابھی تو زندگی کی انجویمنٹ باقی ہے . . .
شادی کرتے رہینگے آرام سے . . . . "

"کاشف  ، لے پیگ تو بنا ،
 سَر دَرْد کر رہا ہے . . . . "

" ارمان  ،
یہ سعدیہ کون بے "

" ہے ،
محلے میں رہنے والی ایک لڑکی . . . "
 میں نے بولا . . . .

" میں نے سوچا نہیں تھا کہ اس کے جانے كے بَعْد تو کسی لڑکی كے ساتھ دوستی کرے گا . . . 

" اظہر جانتا تھا کہ مجھے اس کا نام لینا اب پسند نہیں ہے ،
 اس لئے اس نے اس کا نام نہیں لیا . . . .

" سوچا تو میں نے بھی نہیں تھا ،
لیکن معلوم نہیں یہ کیسے ہو گیا . . . . "

" لو پکڑو . . . "
اسی دوران کاشف نے ہم تینوں کا پیگ تیار کر دیا ،
جسے  پی کر کاشف بولا 
" یار اظہر ،
میں نے اسے کتنی بار اس کی بیتے لمحوں كے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی ،
 لیکن اس نے مجھے ایک بار بھی نہیں بتایا اور ہر بار  کسی نہ کسی بہانے سے ٹال دیا . . . . "


" دماغ مت کھا یار تو اب 
 ایک اور گلاس بنا . . . 
شراب بہترین ہے . . " 

میں نے ایک بار  پھر کاشف کی بات کو ٹالنے
کی کوشش کی . . . .
 لیکن شاید آج میں کامیاب نہیں رہوں گا اس کا مجھے اندازہ ہو گیا تھا . . . . .

" آج تو خلاصہ ہوکر ہی رہیگا کاشف . . . "
اپنا پیگ گلے سے نیچے اتار کر اظہر بولا
 " فکر مت کرو
، آج یہ سب کچھ بتاۓ گا. . . . "

" میں کچھ نہیں بتانے والا . . . "

" نہیں بتائے گا . . . "

" بلکل بھی نہیں . . . "

" اک بار اور سوچ لے . . . "

" میں نے بول دیا نہ ایک بار . . . "

" پھر وہ باتھ روم والی بات میں کاشف کو بتا دونگا ، 
سوچ لے . . . "

اظہر نے میری کمزوری کو پکڑ لیا تھا ،
دو تین گلاس پینے سے دماغ بھی ایک دم ریلکس ہو گیا تھا ،
 ایک دم بہترین . . . . . .

شراب کی بوتل خالی ہوچکی تھی اور میں بھی اب بلکل تیار تھا کاشف کو وہ سب بتانے كے لیے ، 
جو میں نہیں بتانا چاہتا تھا . . . .

" ایک اور گلاس بنا . . . . "
میں نے کہا


 

📢 Post Your Ad Here
  • Author

 

ہر وہ چاہت ختم ہو جاتی ہے ،
جس کی ہمیں تمنّا ہوتی ہے . . . 

خواب ہمارے حقیقت كے سامنے دم
توڑ دیتے ہے اور بچتی ہے تو صرف راکھ ،
یادوں کی راکھ ،
جس کے سہارے ہم پھر اپنی باقی کی زندگی
اجڑاتے ہے ،
کبھی کبھی  آپ کے ساتھ ایسا کچھ ہو جاتا ہے جس کی آپ نے کبھی توقعہ تک نہیں کی ہوتی ہے . . . .

" کالج میں جا کر پڑھائی کرنا بے ،
چھانے بازی میں مت رہنا اور نہ ہی اِس چکر میں پڑھنا . . . " 
میرا بھائی مجھے گاؤں سے رخصت کرتے ہوئے نصیحت کر رہا تھا وہ بھی بڑے پیار سے . . .

" جی بھائی . . . "

" شراب ،
 سگریٹ ان سب کو چھوا بھی تو سوچ لینا . . . . "

" جی بھائی . . . "

" اور سن ارمان لڑائی جھگڑے اور تنظیم میں جانے کی ایک بھی خبر گھر پر آئی تو اسی وقت تیری ٹی-سی نکلوا دوںگا سمجھا . . . "

" جی بھائی . . . " 

میرا بھائی مجھے بلکل اس طرح سمجھا رہے تھے ،
جیسے کہ آرمی کا کرنل اپنے سپائیوں کو قانون پر عمل درآمد کرنے كے لیے کہہ رہا ہو . . .

 سرور بھائی مجھے کالج میں چھوڑنے بھی آئے تھے ،
 اور میرے لاکھ منع کرنے كے باوجود میرے رہنے کا انتظام ہاسٹل میں کر دیا تھا اور ابھی رخصت ہوتے وقت مجھے سب بتا كے جا رہے تھے کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے . . . . . 

بھائی كے جانے كے بَعْد میں وآپس ہاسٹل آیا ، 

اِس دوران جو ایک بات میرے ذہن میں کھٹک رہی تھی ،
وہ یہ تھی کہ تنظیم سازی سے کیسے بچا جاۓ، 
کچھ دنوں پہلے ہی اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک اسٹوڈنٹ نے تنظیم سازی سے تنگ آ کر اپنی جان دے دی تھی . . . . 

کالج والوں نے ایک اچھا کام کیا تھا اور وہ تھا کہ فرسٹ ایئر کا ہاسٹل ہمارے سینیرز سے
الگ تھا ،
 لیکن شام ہونے تک پورے ہاسٹل میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ آج رات کو دس بجے سینیرز ہاسٹل میں تنظیم سازی کا عمل کرنے  آئینگے ، 
جب سے یہ سنا تھا ، 
دِل بری طرح دھڑک رہا تھا ، 
ہر آدھے گھنٹے میں پانی پینے كے بہانے نکلتا اور دیکھ کر آتا کہ کہی کچھ ہوا تو نہیں ہے ،
 وہ پوری رات میری زندگی کی سب سے خراب رات تھی ، . . .

 پوری رات میں چین سے نہیں سو سکا ،
 اس رات کوئی نہیں آیا اور دوسرے
دن میری آنکھ میرے روم کو کسی نے کھٹکھٹایا تب کھلی . . . .

" گھوڑے بیچھ کر سوتے ہو کیا . . . " 
ایک لڑکا اپنا بیگ لیے روم كے باہر کھڑا تھا ، اور پھر مجھے پکڑ کر باہر کھینچ لیا ،


" یہ ،
 یہ کیا کر رہے ہو. . . "
میں نے چلاتے ہوئے بولا . . .

" چلو میرا سامان اٹھاؤ یار . . . 
بہت بھاری ہے . . . . "
" تم بھی اسی روم میں رہو گے. . . "

" بالکل سہی سمجھے ،
 اور میرا نام ہے اظہر. . . . "

" ارمان . . . " 
میں نے ہاتھ ملاتے ہوئے اسے کہا ،
 اور جب اس کا پورا سامان روم كے اندر آ گیا تو میں نہانے كے لیے چل دیا . . . .

آج اس عادت کو چھوڑے ہوئے تو بہت دن ہو گئے ہے ،
 لیکن اس وقت میری ایک عجیب عادت تھی ، میں جب بھی کسی لڑکے سے ملتا تو سب سے پہلے یہی دیکھتا کہ وہ مجھ سے زیادہ ہینڈسم ہے یا نہیں ، 
اور اظہر کو دیکھ کر میں نے خود سے چیخ چیخ کر یہی کہا تھا کہ "
 میں اس سے زیادہ ہینڈسم ہوں . . . . "

" تم آج کالج نہیں جاو گے کیا . . . "
کالج كے لیے تیار ہوتے ہوئے میں نے اظہر سے پوچھا ، 
اظہر ہائیٹ میں میرے برابر ہی تھا ، 
لیکن اس کا رنگ کچھ سانولا تھا . . . .

" جاؤں گا نہ . . . "

" نو بجے کالج شروع ہوتا ہے  . . . "

" تو . . . . " 
بستر پر پڑے پڑے اس نے کہا . . .

" تو ، 
تیار نہیں ھونا کیا ،
ساڑے آٹھ تو کب كے ہو گئے ہے . . . "

" دیکھو ،
 میں کوئی لڑکی تو ہوں نہیں ، 
جو پورے ایک گھنٹہ تیار ہونے میں ٹائم لگا دوں اور ویسے بھی میں گھر سے نہا کر آیا تھا تو آج نہانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا . . . "


" لگتا اسے باہر کی ہوا لگ گئی ہے . . . "

اس کے بَعْد میں نے اتنا دیکھا کہ ، 
آٹھ بج کر 45 منٹ ہوتے ہی اس نے اپنا بیگ اْٹھایا اور روم میں لگے شیشے میں ایک بار اپنا چہرہ دیکھا اور میرے ساتھ ہاسٹل سے باہر آ گیا . . . .

فرسٹ ایئر کی کلاسز میں تھوڑی تبدیلی کی گئی تھی ،
تنظیموں کے سینیرز لڑکے ہمارا نام اپنی اپنی تنظیموں میں نہ لکھ  سکے ،
اس لئے ہماری کلاس کو ایک گھنٹے پہلے ہی شروع کر دیا تھا اور سینیرز کی کلاس ختم ہونے سے ایک گھنٹے پہلے ہی ہمارا  ڈے اوف ہو جانا تھا . . . . . 

لیکن کچھ سینیرز ایسے بھی ہوتے ہے جن کی گانڈ میں کچھ زیادہ ہی خارش ہوتی ہے اور
وہ ہماری ٹائمنگ میں ہی کالج آ جاتے تھے ، . . .

" یار تیرا سبجیکٹ کون سا ہے . . . "
راستے میں،
 میں نے اسے پوچھا . . .

" مکینیکل . . . " 
کاشف نے جواب دیا ،

" میرا بھی مکینیکل . . . " 
تھوڑا خوش ہوتے ہوئے میں نے کہا " 

مطلب کہ ہم دونوں ایک ہی کلاس میں
بیٹھینگے . . . "


" روک روک . . . " 
مجھے کاشف نے روکا ،
 ہم اس وقت کالج سے تھوڑی سی دوری پر تھے ، 
یا پھر یوں کہہ کہ ہم کالج  تقریباً پہنچ ہی گئے تھے . . .


" کیا ہوا . . . "

" اُدھر دیکھ ،
 کچھ سینیرز کھڑے ہے . . .
 پیچھے کے راستے سے چلتے ہے  . . . "

" تجھے معلوم ہے دوسرا راستہ . . . "

" مجھے سب معلوم ہے ، 
چل آجا . . . "

 ہم دونوں نے وہی سے ٹرن مارا اور کچھ دیر پیچھے چلنے كے بَعْد اس نے مجھے جھاڑیوں میں گھسہ دیا . . . .

" تجھے پکا معلوم ہے راستہ . . . "

" ہاں میرے بھائی کہ کچھ دوست یہاں سے پاس ہوئے ہے ،
انہوں نے ہی مجھے بتایا تھا اِس راستے كے بارے میں . . . . "

جیسے تیسے کر کے ہم دونوں آگے بڑھتے رہے اور پھر مجھے کالج کی دیوار بھی نظر آنے لگی ،
کالج كے اندر جانے کا ایک اور راستہ ہے ،
 یہ مجھے اظہر نے بتایا تھا . . . 

جب ہم دونوں اس جھاڑیوں والے راستے سے نکل کر باہر آئے تو مجھے وہ گیٹ دکھا ،
 جس کے بارے میں اظہر نے کہا تھا ، 
وہ گیٹ کالج میں کام کرنے والے ورکرز كے لیے تھا ، 
جن کا گھر وہی قریب ہی تھا . . . . .


" کوئی فائدہ نہیں ہوا ، "
اظہر بولا "
وہ دیکھ کمینی سینیر گرلز کھڑی ہے ،


دُنیا میں 99 % لڑکیاں خوبصورت ہوتی ہے اور جو 1 % باقی بچتی ہے وہ آپ کے کالج میں پڑھتی  ہے ،
ایسا میں نے کہی سنا تھا ،
 لیکن میری آنکھوں كے سامنے ابھی پانچ چھے سینیر لڑکیاں کھڑی تھی ،
جو ایک سے بڑھ کر ایک تھی ،
 ان پانچ چھے سینیر گرلز کو دیکھ کر ہی ایسا لگنے لگا تھا جیسے کے دُنیا کی 99 % خوبصورت لڑکیاں ہمارے کالج میں ہی پڑھتی ہو . . . .


" یار ،
کیا مال ہے . . . "
 میں نے اظہر سے کہا . . .

" چُپ کر اور انہیں دیکھے بنا سیدھے چل ، 
سن  پکڑ لیا تو برا حال کر دینگی . . . "

" یار یہ لڑکیاں ہے ،
اتنا کیوں دَر رہا ہے . . .
 گھوما كے دوں گا ایک ہاتھ سب بھاگ جائینگی  . . . " 
میں نے مردانہ آواز میں بولا ،

" یار تو تو ان کو بھاگا دے گا ،
لیکن جب انہی لڑکیوں كے پیچھے سارے سینیرز آئینگے تب کیا کرے گا . . . . "


" اچھا کرنا کیا ہے ، 
یہ بتا . . . "

" کچھ نہیں کرنا بس چُپ چاپ اندر گھس جانا . . . "

" اوکے . . . "
میں نے ایسے کہا جیسے کوئی بہت بڑا مشن پورا کر لیا ہو .

ہم دونوں ان لڑکیوں کی طرف بنا دیکھے سامنے چلے جا رہے تھے ،
اور جب ہم نے ان لڑکیوں کو کراس کیا
تو اس وقت دِل کی دھڑکنیں بڑھ گئی ،
دل مچل رہا تھا کہ ان کو دیکھوں ،
ان کی چھاتیوں کو دیکھ کر اپنے
اَرْمان پورا کروں . . . 

لیکن میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور چُپ چاپ سامنے دیکھ کر چلتا رہا . . . .

" اوئے ماں کے لال . . . "
ہم بس گیٹ سے اندر ہی گھسنے والے تھے کہ ان لڑکیوں نے آواز دی . . . .

" شاید میرے کان بج رہے ہے . . . "

" نہیں بیٹا ،
یہ کان نہیں بج رہے ہے ،
یہ ان گوری گوری حوروں کی آواز ہے . . . "

" تو اب کیا کرے ،
 تیزی سے اندر بھاگ لیتے ہے ،
کالج كے اندر وہ بدمعاشی نہیں کر پائیں گی . . . "

" اس وقت بھاگنے کا مطلب ہے

 

 

" اس وقت بھاگنے کا مطلب ہے ان کا دھیان اپنی طرف کرنا،
بَعْد میں یہ اور بھی مسلہ بنا لیں گی . . . "

" جلدی بتا ، 
کرنا کیا ہے . . . "
 میرے قدم وہی روک گئے تھے اور پسینے سے برا حال تھا ،
اس وقت میں نے سوچا تھا کہ شاید اظہر میں تھوڑی ہمت ھوگی ،
 لیکن جیسے ہی اس کو دیکھا ،
 تو جو میرے منہ سے نکلا وہ یہ تھا . . .

" بہن چود یہ تو مجھ سے بھی زیادہ ڈرا ہوا ہے . . . . "

" ماں کے لاڈلو ، 
سنائی نہیں دیتا کیا تم دونوں کو اِدَھر آؤ . . . " 

جن لڑکیوں کو کچھ دیر پہلے میں جنت کی
حوریں سمجھ کر لائن مارنے کی سوچ رہا تھا ، وہ اب دوزخ کی چڑیلیں بن گئی تھی . . .

" جی . . .
 جی . . . 
میم ،
آپ نے ہمیں بلایا . . . "
 اظہر نے ان کے پاس جا کر بولا ، 
میں اس کے پیچھے کھڑا تھا . . .

" تم ہٹو . . . "
اظہر کو زور سے دھکہ دے کر ان چڑیلوں نے میری طرف دیکھا . . .

" اور چکنے کیا حال ہے . . . "

" جی ٹھیک. . . "
 کانپتے ہوئے میں نے کہا ،
 اس وقت میں پورا جسم پسینے سے بھیگ چکا تھا . . .

" سگریٹ پئے گا . . . "
 اُن میں سے ایک لڑکی نے سگریٹ نکالی اور میری طرف بڑھا کر پوچھا . . . .

میں نے ایک دو بار سگریٹ پی تھی ،
 لیکن کسی دودھ پیتے بچے کی طرح ، کش کھینچا اور پھر دھواں باہر پھینک دیا . . . .

 میں یہاں یہ سوچ کر آیا تھا کہ جس طرح میں ہمیشہ سے اسکول میں اچھا سٹوڈنٹ تھا ، اسی طرح یہاں بھی ٹوپ کروں گا ،
 اور سگریٹ ،
 شراب اور لڑکی کو بس دور سے دیکھ کر مزہ
لوں گا . . . .

" چلو سگریٹ جلاو . . . "
 ان چڑیلوں میں سے ایک چڑیل نے سگریٹ میرے منہ میں پھنسا دیا اور اس وقت
میرے ذہن میں میرے بڑے بھائی كے کہی ہوئی  بات آئی . . .

" ارمان سگریٹ اور شراب کو چھوا بھی تو سوچ لینا . . . "

" جی بھائی . . . "

" میں سگریٹ نہیں پیتا سوری . . . "
 ان لڑکیوں نے جو سگریٹ میرے منہ میں پھنسائی تھی اسے ایک جھٹکے سے
میں نے منہ سے نکال کر زمین پر پھینک دیا ، جس سے ان کا غصہ آسمان کو چھو گیا . . .

" کیوں کمینے،
 تو کیا سمجھا کہ پیچھے كے راستے سے آئیگا تو تنظیم سازی سے بچ جائیگا اور تجھ میں اتنی ہمت کہاں سے آئی جو تو نے سگریٹ کو پھینک دیا . . . "

ان کے منہ سے گالی سنی تو مجھے یقین ہی نہیں ہوا کی ایک لڑکی بھی گالی  دے سکتی ہے ، 
میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ كے ان لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا . . . .

 تب  اُن میں سے کسی کا فون بجا اور وہ سب چلی گئی لیکن جاتے  جاتے انہوں نے مجھے دھمکی دے ڈالی کہ وہ مجھے اِس کالج سے بھگا کر رہیگی . . . . . . .


" تیری تو گانڈ پھٹ گئی بیٹا . . . . "
 ان کے وہاں سے جانے كے بَعْد اظہر میرے پاس آیا . . .

" اب کلاس چلے . . . "

جب تک ہم کلاس كے اندر نہیں پہنچے اظہر تنظیموں كے بارے میں بتابتا کر ڈراتا رہا ،
لیکن میں ایسے ری ایکٹ کر رہا تھا ،
جیسے کہ مجھے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا ہو ، 

لیکن اصلیت یہ تھی کہ  یہ سب صرف ایک
دکھاوا تھا ،
میں خود بھی اندر سے بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا . . . .

" وہ دیکھ اس چشمے والی کو ،
دیسی آم لگ رہی ہے ،
 اک بار کھانے کو مل جائے تو مزہ آ جائے . . . "

شریف تو میں بھی نہیں تھا ،
لیکن اِس طرح  سب کے سامنے ایسی باتیں کرنے سے میں گریز کرتا تھا ،
جسے سب کو اکثر یہی بھرم ہوتا تھا کہ میں بہت بڑا شریف ہوں اور اکثر میرے ایگزام كے رزلٹ اِس بات پر مہر لگا دیتے تھے . . .

 لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ میرا جتنا بھی اچھا وقت تھا وہ ختم ہو چکا تھا اور میں یہاں اپنی زندگی کی بربادی لینے آیا تھا . . . . .

" فرسٹ کلاس کس کی ہے . . . . "
میں نے اظہر سے پوچھا ، . . .

" یار ، 
میرا بھی آج پہلا دن ہے . . .
 اور ابھی سے دماغ مت کھا . . . "

فرسٹ ایئر میں سبھی سبجیکٹ والوں کا کورس سیم ہوتا ہے ،
اس لئے دو دو سبجیکٹ والوں کو ایک ساتھ ارینج کیا گیا تھا ،
 میرا اور اظہر کا سبجیکٹ مکینیکل تھا ،
لیکن ہمارے ساتھ مائننگ سبجیکٹ كے بھی اسٹوڈنٹ تھے ،
اور مجھے جو ایک بات پتہ چلی وہ یہ تھی کہ ،
 مجھے صرف اپنے سبجیکٹ كے سینیرز سے بچنا تھا اور میں ہاسٹل میں رہتا ہوں تو اس لئے میری تنظیم سازی صرف ہاسٹل كے سینیرز ہی کر سکتے ہے ،
جو لوکل ہے یا پھر شہر میں رہتے ہے ، 
وہ لوکل تمہاری تنظیم سازی کر لے تو تم انہیں کچھ کہہ نہیں سکتے ہو اور شہر والے کوئی تنظیم سازی کرے تو ہاسٹل والے ساتھ دیتے ہے ،
 ایسا قانون یہاں چلتا تھا . . . . .

" کچھ بھی بول یار تنویر ،
 لیکن کالج اچھا ہے ،
 یہاں کی لڑکیاں بھی اچھی ہے . . . "
 پیچھے والے بینچ پر اپنے دونوں ہاتھ تھپ تھپا کر اظہر بولا ،
 اتنے دیر میں شاید وہ میرا نام بھول گیا تھا . . . .
" ارمان ، 
ناٹ تنویر . . . "

" اچھا نہ یار اب دماغ کھا مت . . . "

" پتہ نہیں کس سے پالا پڑا ہے . . . "
 میں بڑبڑایا  اور پھر آگے دیکھنے لگا . . . .


" گڈ مارننگ اسٹوڈنٹ . . . "
 اپنے سینے سے ایک بُک چپکا کر ایک میڈم  اندر آئی ،
 میڈم کیا وہ تو پوری حسن کی دیوی تھی ،
 5 ’ 8 " لگ بھگ قد،
 ماڈلز والی کمر ، 
گورا رنگ . . . .

 اسے کلاس كے اندر آتا دیکھ کر سبھی کھڑے ہو گئے اور کچھ لڑکوں کا بھی کھڑا ہو گیا ،

" بہن چود یہ کالج ہے یا ہیرا منڈی،
جدھر نظر گھماؤ ایک سے بڑھ کر ایک دکھتی ہے . . . "
 اظہر اپنے ٹھرکی انداز میں دھیرے سے بولا . . . .

اس کے بَعْد کچھ دیر تک انٹرودکشن چلا ،
جس میں ہمیں اس میڈم کا نام معلوم چلا ، . . .

 اس 5 ’ 8 " ہائیٹ والی میڈم کا نام سحرش تھا ،
اور وہ ہمیں کمپیوٹر سائنس پڑھانے آئی تھی ، 

بہن چود جتنی زیادہ گوری تھی اتنا ہی کالا اس کا دِل تھا ،
کلاس میں آتے ہی اس نے ایک ساتھ  دس  اسائنمنٹ دے دیئے اور بولا کہ ہر تین دن
میں وہ ایک اسائنمنٹ چیک کریگی اور تو اور نیکسٹ منڈے کو ٹیسٹ کا بول کر اس نے سب کی پھاڑ كر رکھ دی . . . . .


" یہ میڈم  کون ہے ،
اس کی ماں کی . . . "
اظہر رونے والی اسٹائل میں بولا "
باہر ملے گانڈ مار لوں گا اسکی . . . "

"حوصلہ کر بھائی . . . " 
اس کے کاندھے کو سہلا کر اسے دلاسہ دیتے ہوئے میں نے بولا . . . . .


" میرا لنڈ حوصلہ کر ،
اسے تو حویلی میں لے جا کر چودوں گا ، . . . "

" حویلی . . . . "
" تو بچہ ہے ابھی ،
 منٹو کو پڑھ ، 
یہ سب بڑے لوگ کرتے ہے . . . "

اظہر کیا کہنا چاہتا تھا ،
یہ تو میرے سَر كے اوپر سے نکل گیا ،
 
سحرش میڈم نے آتے ہی سب کی پھاڑ کر رکھ دی تھی ،
 یہ تو سچ تھا ،
 لیکن سچ یہ بھی تھا کہ اس ایک کلاس میں ہی آدھے سے زیادہ لڑکے ایک دوسرے کو
بولنے لگے تھے کہ"
 سحرش میڈم تیری بھابی ہے . . . . "

سحرش میڈم كے گھنے لمبے لمبے بال تھے ، . . . . 
سَر كے ،
اور اس کے بال اکثر اس کے چہرے پر آ جاتے ،
جنہیں کسی فلمی ہیروئن کی طرح اپنے سامنے آئے بالوں کو وہ پیچھے کرتی ،

اس پیریڈ میں ہماری کلاس کی لڑکیوں کی  شکلیں بنی ہوتی تھی ،
یوں تو پورا کالج حوروں سے بھرا پڑا تھا ،
 لیکن ہمارے سبجیکٹ کی لڑکیاں کومیڈی سرکس کی جوگر لگتی تھی ،
 سوائے ایک دو کو چھوڑ کر ،
انہیں کوئی نہیں دیکھنے والا تھا ،
کیونکہ جب ہیرا سامنے ہو تو کوئلے کی خوائش کون کرے گا . . . .


" تمہارا نام کیا ہے . . . . " 
" سنائی نہیں دیتا کیا . . . "

" یار تجھے بول رہی ہے ، 
کھڑے ہو . . . "
 اپنی کہنی کو اظہر نے میرے پیٹ میں دے مارا اور میں جیسے اپنے خیالوں سے باہر آیا . . . 

اِس طرح مجھے کھڑا کرنے سے میں تھوڑا ہڑبڑا  گیا تھا ، 
جس کی وجہ سے کچھ اسٹوڈنٹ ہنس بھی رہے تھے . . . . .

" یس میم . . . " 
میں اٹھ کھڑا ہوا ،
 میری حالت اس وقت بلکل ویسی تھی ، جیسے ایک بکرے کی حالت قصائی کو
دیکھ کر ہوتی ہے ،

" پہلے ہی دن ،
 پہلے ہی کلاس میں بے عزتی . . . "

 سچ بتاؤں ،
تو میری اس وقت پوری طرح پھٹی ہوئی تھی ، نا جانے وہ کیا بول دے . . . .

" تم اپنا رجسٹر لے کر اِدَھر آؤ . . . "
 سحرش میم نے مجھے سامنے بلایا . 

  • 1 month later...
📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.