December 13, 20178 yr وہ جن کی چھاؤں میں پلے بڑے ہوئے ادھر ادھر پڑے ہیں سب کٹے ہوئے ہزیمتوں کے کرب کی علامتیں چراغ طاق طاق ہیں بجھے ہوئے تمام تیر دشمنوں سے جا ملے کمان دار کیا کریں ڈٹے ہوئے وصال رت میں ہجر کی حکایتیں اداس کر گئی ہیں دل کھلے ہوئے گھروں کی رونقیں وہی جو تھیں کبھی مگر بھلا دیے گئے گئے ہوئے تنی تنی سی گردنیں جھکی ہوئی دعا کو ہاتھ ہیں سبھی اٹھے ہوئے
Create an account or sign in to comment