Jump to content
URDU FUN CLUB

شب انتظار


Recommended Posts

شب انتظار
(فیض احمد فیض)
تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے
تلاش میں ہے سحر، بار بار گزری ہے
جنوں میں جتنی بھی گزری، بکار گزری ہے
اگرچہ دل پہ خرابی ہزار گزری ہے
ہوئی ہے حضرت ناصح سے گفتگو جس شب
وہ شب ضرور سر کوئے یار گزری ہے
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
نہ گل کھلے ہیں، نہ ان سے ملے، نہ مے پی ہے
عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے
چمن پہ غارت گلچیں سے جانے کیا گزری
قفس سے آج صبا بے قرار گزری ہے

Link to comment

یکم جنوری 2022 سے نئے رولز کو لاگو کر دیا گیا ہے ۔ تمام سائلنٹ ممبرز کو فورم پر کچھ سیکشن کی اجازت نہ ہو گی ۔ فری سیکشن پر مکمل پرمیشن کے لیے آپ کو اپنا اکاؤنٹ اپگریڈ کرنا ہو گا ۔ اپگریڈ کرنے کی فیس صرف 5 ڈالر سالانہ ہے ۔ آپ کو صرف 5 ڈالر کی سالانہ ادائیگی کرنا ہو گی ۔ اور آپ کا اکاؤنٹ ایک سال کے لیے ایکٹو ہو جائے گا۔

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...