Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Guru Samrat

کوا چلا ہنس کی چال

Recommended Posts

Story Ka Aaghaz Bohat Acha Interesting Lag Raha Hai, Dekhte Hain Aage Kya Hota Hai :)

Waise Agar Woh Wife Ko Really Apne Baraber Ka Samjhta Tha To Office Main Wife Ki Better Position Se Use Upset Nahi Hona Chahye Tha :P

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے کسی بھی گروپ یا اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر ثانی سے شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین کر دیا جائے گا ۔ اور دوبارہ ایکٹو بھی نہیں کیا جائے گا ۔ موجودہ اکاؤنٹ کینسل ہونے پر آپ کو نئے اکاؤنٹ سے کسی بھی سیئریل کی نئی اپڈیٹس کے لیئے دوبارہ قسط 01 سے ادائیگی کرنا ہو گی ۔ سابقہ تمام اقساط دوبارہ خریدنے کے بعد ہی نئی اپڈیٹ آپ حاصل کر سکیں گے ۔ اکاؤنٹ بین ہونے سے بچنے کے لیئے فورم رولز کو فالو کریں۔ اور اپنے اکاؤنٹ کو محفوظ بنائیں ۔ ۔ ایڈمن اردو فن کلب

Achhi Kahani Hai Guru,

Aamir bechaare ne to apni biwi k liye bohat mehnat ki hai Lykin aakhir kaar Aamir bhi to ek Mard hi hai na, Bechara kaise bardasht kar le ke Uski hi biwi Uski Boss ban jaai, Lykin Jab Kawwa Hans ki Chaal Chalta hai aur apni Chaal ko bhi Bhool jaai to Aisa hi hota hai.....

Nice Story Guru

Waiting for Updates

Share this post


Link to post

وہ گھر میں بات بات پر اپنی بیوی کو جھاڑ پلا کر مردانگی کی دھوم مچانے والا مرد آفس میں اپنی بیوی کے سامنے سر جھکا کر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ اس حالت نے انکے درمیان ایک اجنبیت کی دیوار سی کھڑی کر دی تھی۔ سارا پیار جیسے کہیں جا سویا تھا یا پھر کسی ویرانے میں منہ چھپا کر پڑا اپنی بد نصیبی پر ماتم کناں تھا۔ عامر نے بہت خیال رکھنے والے شوہر کی بجائے اب ایک خطرناک دل جلی ساس کا روپ دھار لیا تھا اور ہر وقت اپنی بیوی کو طعنوں کی زد میں رکھ لیا تھا۔
ان دونوں کے درمیان ایک شدید سرد جنگ کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایمن سب دیکھ رہی تھی سب سمجھ رہی تھی مگر اس معاملے کو سلجھانے میں بری طرح ناکام ہو رہی تھی۔ اس نے بار بار عامر کو اپنی محبت کا یقین دلانے اور خود کو جان بوجھ کر ہر بات میں عامر سے کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرنا شروع کر دی تھی۔

اس باس کی پوسٹ کو بھی محض ایک اتفاق کہ کر اسکا دل صاف کرنا چاہا بلکہ اب تو وہ پہلے سے بھی ذیادہ عامر کا خیال رکھتی تاکہ عامر کو ایسا کچھ محسوس نہ ہو مگر افسوس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عامر قدرت کی اس ستم ظریفی کو سہ نہیں پا رہا تھا وہ بار بار خود کو ہی مورد الزام ٹھہراتا کہ جسکی غلط لائف پلانینگ نے یہ دن دیکھائے تھے۔ نا وہ ہنس کی چال چلنے کی کوشش کرتا اور نا ہی وہ اپنی بیوی سے جاب کرواتا تو یہ سب بھی نا ہوا ہوتا۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ بہت دیر ہو چکی تھی۔
اگر وہ زبردستی کسی بھی اور بہانے سے اب ایمن کی جاب چھڑوا بھی دیتا تو بھی وہ زندگی بھر ایمن کے سامنے اسکا سر جھکا ہی رہتا کیونکہ وہ اپنی اپنی جگہ وہ دونوں ہی جاب نا کروانے کی اصل وجہ سے تو خوب واقف تھے ۔ وہ انا گزیدہ ہر وقت ادھر ادھر تڑپتا پھرتا تھا اورکسی پل بھی چین نہیں پاتا تھا ۔
ایمن کی مصالحت کی ساری کوششیں جب بےکار جانے لگیں تو اس نے بھی جیسے ہمت ہار دی اور ہر وقت کا طنز سہتے سہتے خود کو واقعی عامر کے مقابلے پر سچ مچ لے آئی اور وہ بہت چڑ کر وہ سب کچھ بے فکری سے کرنے لگی جسے دیکھ دیکھ کر عامر کے تن بدن میں مزید آگ بھر جاتی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
ایمن کو کمپیوٹر میں کام کرتے کرتے اچانک اپنے پیچھے ایک سایہ سا نظر آیا تو ڈر کر زور سے چیخ مار کر اچھلی تو جِم بے اختیار قہقہے لگانے لگا۔ جِم اسکا نیا باس تھا بہت ہینڈسم اور بہت جولی سا تھا۔ جہاں بیٹھتا ہنسا ہنسا کر سب کی آنکھوں میں پانی لے آتا ابھی اسے آفس جوائن کئے پندرہ دن بھی نہیں ہوئے تھے مگر آفس میں جیسے اسکے ہونے کا احساس خوشی اور ہنسی بن کر ہر کونے میں پھیلا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ اور ان پندرہ دنوں میں جم نے کم سے کم ایک سو دوست بنا لئے تھے اور پچاس بار ایمن کے حسن کی نہ صرف بہت بےباک تعریف کی تھی بلکہ کء بار اپنے ساتھ لنچ پر بھی انوائیٹ کر چکا تھا۔ ہر بار ایمن نے اس سے معذرت کر لی کہ اسکا کلچر اس بات کی اجازت نہیں دیتا اور ویسے بھی وہ اپنے ہیسبینڈ کے علاوہ کسی اور کے ساتھ باہر نہیں جایا کرتی۔

یہ سن کر جم برا سا منہ بناتا اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتا وآپس چلا جاتا مگر ہر آدھے گھنٹے بعد پھر کسی نا کسی بہانے اسکے آفس میں آ دھمکتا اور کہتا
" تم کس قدر خوبصورت ہو مجھے انڈین بیوٹی بہت انسپائیر کرتی ھے۔ کاش کہ تم شادی شدہ نا ہوتیں تو میں ابھی اسی وقت تمھیں اغوا کر کے تم سے شادی کر لیتا"
یہ سن کر وہ غٍصےٍسے لال ہو جاتی اور کہتی پہلی تو بات یہ کہ میں انڈین نہیں بلکہ پاکستانی ہوں ، کتنی بار تم کو یہ بات بتاؤں تم لوگ کیوں اس فرق کو نہیں سمجھتے ہو اور دوسری بات کہ تم اپنے آفس میں جاؤ۔ مجھ سے ایسی فضول باتیں مت کرو کیونکہ میں بہت ہیپیلی میریڈ ہوں اور ہمارے کلچر میں کسی سے بھی ایسی باتیں نہیں کی جا سکتیں۔
ہوں! ہیپیلی میریڈ؟
وہ طنزیہ ہنکارا بھرتا۔۔۔ وہ بھی اس سڑیل کوے کے ساتھ؟ وہ ایک آنکھ بند کر کے عامر کی طرف اشارہ کرتا۔۔۔۔۔
"تم جیسی بیوٹی کوئین کا اس کوے کے ساتھ ہونا ایک ظلم ہے اس پر بھی اور تم پر بھی۔۔۔۔۔۔ اسکو چھوڑ کر مجھ سے شادی کر لو پلیز۔ میں تمھیں دنیا میں جنت دیکھا دوں گا تم کو مجھ سا قدردان نہیں ملے گا۔ میں تمھارے لئے اپنا مذہب بھی بدل ڈالوں گا ۔ جو تم کہو گی زندگی بھر وہی کروں گا۔ میں تو تمھیں ایک نظر دیکھنے کو ترستا ہوں اور وہ کوا تمھیں کتنی نفرت بھری نگاہوں سے دیکھا کرتا ہے ہر وقت۔ کیا تم مجھے اس سے بے خبر ر سمجھتی ہو؟ میں سب جانتا ہوں تمھارے اس کے ساتھ اس بے بنیاد تعلق کوٹوٹنے سے اب کوئی نہیں روک سکے گا۔"
یہ کہ کر وہ خباثت سے ہنسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ـ
جم ""
" نکلو میرے آفس سے ابھی اسی وقت ورنہ میں بھول جاؤں گی کہ تم میرے باس ہو۔ "وہ غصے سے دھاڑی
اپنی اتنی انسلٹ وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ غیر بھی اب جاننے لگے ہیں کہ اسکے اور عامر کے درمیان کچھ کھٹ پٹ چل رہی ہے۔
"اب تم مجھے " ہیرایس" کر رہے ہو۔ میں تمھاری بےکار باتوں کو مذاق سمجھ کر برداشت کر رہی ہوں اور تم حد سے باہر ہو رہے ہو۔اگر تم ابھی میرے آفس سے نہیں نکلے تو ایچ آر کو فون کر کے ابھی تمھیں "ہراسمینٹ" کے کیس میں اندر کروا دوں گی""
یہ سن کر جم آفس سے تو باہر نکل گیا مگر جاتے جاتے کہ گیا ۔ میری پیشکش پر غور ضرور کرنا........ زندگی بہت خوبصورت ہے اور اس طرح سرد جنگ میں نہیں گزاری جا سکتی جیسے تم اور عامر گزار رہے ہو اور اس بات کا آفس میں بھی سبکو علم ہو چکا ہے"۔
اور ہاں سنو۔۔۔ وہ اس کی میز کے قریب آ کر بولا۔۔۔۔۔
"ہیراس" تو تم نے بھی مجھے اپنی بیوٹی سے کیا ہوا ہے میں اب کس سے شکایت کروں؟ کیا اب 911 والوں کو کال کروں؟ یا پھر اجازت ہو تو شادی کا کیک بک کروانے کے لئے فون کر دوں؟"
٭٭٭٭٭٭٭٭
عامر یہ سب کچھ شیشے کی دیوار کے پار سے شاکی نگاہوں سے دیکھا کرتا۔ وہ کچھ بھی سن تو نہیں سکتا تھا مگر سب سمجھتا تھا اسکو صاف صاف اندازہ ہو رہا تھا کیا چل رہا ہے۔۔ جم کے بار بار ایمن کے آفس کے چکر لگانے کا کیا مطلب تھا؟ یہ بات ایک شوہر سے ذیادہ کون سمجھ سکتا تھا مگر زیادہ تر وہ بدلے میں ایمن کو خوش ہونے کی بجائے بہت غصے میں بھرے ہوا دیکھتا تھا اور اسکو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ایمن جم کو آفس سے نکل جانے کا کہ رہی ہوتی ہے۔ چونکہ شیشے کی دیوار کی وجہ سے وہ کچھ سن نہیں سکتا تھا اس لئے صرف ان دونوں کی حرکات و سکنات سے اپنے شکوک کی عمارت بناتا اور توڑتا رہتا تھا۔ بہرحال کم سے کم اسکو یہ اطمینان تو حاصل تھا کہ اس نے ایمن کو کھبی بھی جم کے ساتھ ایک منٹ کے لئے بھی آفس سے باہر جاتے نہیں دیکھا تھا۔ ان دونوں کے درمیان بھلے کوئی بات چیت نہیں بھی تھی مگر پھر بھی عامر کو اپنی بیوی کی پاک دامنی پر اتنا ہی بھروسہ تھا جتنا سورج کے مشرق سے نکلنے پر ہو سکتا تھا۔
اس کے باوجود ایک دو بار ہزاروں شکوک شبہات اور نفرت لہجے میں سموئے عامر نے ایمن سے جم کے بارے میں پوچھنے کی کوشش بھی کی مگر وہ صاف مکر گء کہ ایسی کوئی بات ہی نہیں ہے اور عامر کو صرف وہم ہو رہا ہے ورنہ جم تو ہر ایک کے ساتھ ایسے ہی فرینک نیس سے بات کرتا ہے۔
الٹا ایمن نے عامر کا دل صاف کرنے کی کوشش بہت تیز کر دی تھی۔ اس سے صاف لفظوں میں بات کرنے اور یہ آفس چھوڑنے کی پیشکش بھی کی اور یہ بھی کہا وہ کسی دوسری سٹیٹ میں موو ہو جاتے ہیں۔ وہ ہر حال میں اپنا گھر بچانا چاہ رہی تھی مگر عامر کے دل میں ، جوکہ شک سے ایسے لبالب بھر چکا تھا جیسے گلاس پانی سے بھر جاتا ہے اور اس میں شاید ایمن کے لئے کوئی جگہ نا بچی تھی۔

 

Share this post


Link to post

sir ji awesome... extreme awesome .. is type ki stories share kerte rahe kerin sabaq amoz be hein aur interesting be..!

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...