Jump to content
URDU FUN CLUB

مجھے تو۔بس اس کے پیسوں کی ضرورت تھی


Recommended Posts

 

میرے گھر کام کرنے والی ماسی، آج دس دن کی چھٹی کے بعد آئی تھی، وہ میرے پاس سر جھکاۓ بیٹھی تھی، اس کے آنسو ہی تھم نہیں رہے تھے، وہ روتے ہوۓ بار بار ایک ہی بات کیے جا رہی تھی، کے سب اس کا کیا دھرا ہے اس کی بیٹی کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی تھی اور بچہ کا گلا گھونٹ کر مار ڈالا تھا۔

مجھے لگا کہ اس کے رونے کی وجہ وہ صدمے اور غم ہیں جو اس کی بیٹی کا گھر اجڑنے سے اس کو ملے ہیں ۔ مگر جب اس نے بار بار یہ تکرار کی کہ اس نے اپنی بیٹی کا گھر اجاڑا ہے اسی کی وجہ سے آج بچے زندہ نہیں ہیں تو مجھ میں تجسس بیدار ہوا کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ وہ ایسے کہہ رہی ہے ۔اس کی کہانی اسی کی زبانی سنۓ ۔

میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا اور شادی بھی ایک ایسے ہی انسان سے ہوئی جو کام کم اور چونچلے زیادہ کرتا تھا ۔ دن بھر یا تو آرام کرتا رہتا یا آئینہ دیکھتا رہتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ نے اس کو بہت پیاری شکل دی تھی مگر شادی کے بعد خالی شکل سے پیٹ نہیں بھرتا لہذا گھر میں ہر وقت کا فساد شروع ہو گیا میں بھی کم عمر تھی سوچا تھا کہ شوہر کے گھر سب خواہشیں پوری ہوں گی جب نہیں ہوئیں تو لاوہ اندر ہی اندر پکنے لگا۔

شوہر کا بھی آگے پیچھے کوئی نہ تھا اور مجھے لگتا تھا کہ ماں باپ نے بھی ایک کھانے والے کے کم ہونے کا شکر کیا اور پلٹ کر پوچھا تک نہیں ۔ اس ایک کمرے کی کوٹھڑی میں ہم دونوں ہی ہر وقت ایک دوسرے سے سر ٹکراتے رہتے تھے ۔

اسی دوران اللہ نے ایک بیٹی سے بھی نواز دیا جو ہو بہو باپ کی شکل تھی وہی حسین نیلی آنکھیں ، گلابی رنگت اس کو پا کر میں بھی کچھ بہل گئی۔ اپنی بھوک تو برداشت کر لیتی تھی مگر بیٹی کی بھوک برداشت نہ کر پائی اور اس کو لے کر لوگوں کے گھروں میں کام کرنا شروع کر دیا اس کی پیاری اور معصوم شکل کے سبب نہ صرف سب اس کو پیار کرتے کرتے بلکہ اس کو ملنے والے تحفے اور پیسے مجھے بھی سکھ دینے لگے۔

میرے اندر کی چھپی ہوئی لالچی ،خواہشوں کی ہوس کی ماری عورت جاگ گئی اب میں اور کچھ کروں نہ کروں اپنی بیٹی کو خوب صاف ستھرا اور چمکا کے رکھتی تاکہ کسی کو اس کے آنے پر کو‎ئی اعتراض نہ ہو اور سب اس کو پیار کریں۔ پتہ ہی نہیں چلا کب وہ جوان ہو گئی مجھے تو بس اس پیسے سے مطلب تھا جو وہ مجھے لا کے دیتی تھی۔

اس کے رشتے بھی آنے لگے تھے مگر مجھے ڈر تھا کہ اگر اس کی شادی کر دی تو میرے خرچے کیسے پورے ہوں گے مگر اس کے باپ نے زبردستی میری مخالفت کے باوجود اس کی شادی اپنے دوست کے بیٹے سے کر دی جو کہ ہم سے ذیادہ پیسے والا تھا میری بیٹی بھی شادی کے بعد خوش تھی مگر میں خالی ہاتھ رہ گئی تھی جو مجھے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔

 

میں نے اپنی بیٹی کو دن رات اس کے سسرال والوں کے خلاف بہکانا شروع کر دیا اس کا ایک بیٹا بھی ہو گیا میں نے اس کو احساس دلایا کہ اس کے شوہر نے اس کو گھر میں قید کر ڈالا ہے ۔وہ اس کی خوبصورتی کے سبب اس سے احساس کمتری میں مبتلا ہے جب کہ وہ میری بیٹی کا بہت خیال رکھتا تھا اس کی ہر ضرورت پوری کرتا تھا مگر میری ضرورتوں کا تو کوئی پورا کرنے والا نہ رہا تھا اس لۓ ایک چھوٹی سی بات کو بنیاد بنا کر میں نے اپنی بیٹی کو گھر بٹھا لیا اور طلاق کا مطالبہ کر دیا۔

میرا داماد میرے آگے بہت رویا گڑگڑایا مگر میرا فیصلہ اٹل تھا مجبورا اس نے میری بیٹی کو طلاق دی اور ایک سال کا بیٹا ساتھ لے گیا۔ گھر جا کر اس کو بھی مار ڈالا اور خود بھی خودکشی کر لی ۔آج میری بیٹی ایک زندہ لاش کی طرح میرے ساتھ ہے اب مجھے اس کے لۓ کام کرنا ہے میری لالچ نے اس کو برباد کر دیا یہ کہتے ہوۓ وہ اٹھ کر صفائی کرنے لگی اور میں سوچتی رہ گئی کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟

Link to comment

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...