Disable Screen Capture Jump to content
Novels Library Plus ×
URDU FUN CLUB

احساس پیار کا


Recommended Posts

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ دنیا ایک یونیورسٹی یا کارخانہ ہے کیونکہ جب ہم دنیا میں آتے ہیں تو ہم دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں اور پر جیسے جیسے بڑے ہوتے جاتے ہیں اپنے اردگرد کے ماحول سے متاثر ہو کر سیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور جو کچھ سیکھا یا دیکھا ہوتا ہے اس میں سے ہر بات یا کام نہیں کرتے جو ہمارے دل کویا ارد گرد کے ماحول کے مطابق لگے ہم وہ کرتے ہیں

میرے ایک استاد کا کہنا تھا کہ ہر علم حاصل کرو چاہے اس علم کا تعلق کس بھی  ذات یا مذہب سے ہواس کو سیکھو ضرور اگر تمہارے پاس سیکھنے کا ٹائم ہو۔

حاصل کرو عمل مت کرو کیونکہ کیا پتہ آگے زندگی میں اس کا آپ کو پتہ چلے یا واسطہ پڑے اور تب آپ حیرانی و پریشانی میں مبتلا ہو، کیونکہ علم معلومات کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے اور معلومات انسان کو زندگی کے ہر موڑکام آتے ہیں ۔

کہنے  کا مطلب یہ ہے

 کہ دوستوں کہانی کو  کہانی سمجھ کے پڑھیں حقیقت سمجھ کر نہیں اور نہ اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں

میں  کوئی رائٹرنہیں  ہوں ۔۔۔ لیکن زندگی حقیقتوں سے تھوڑا بہت روشناس ہوں۔ اس لیئے ایک کوشش کی ہے

 زیر نظر کہانی بھی ایک خیالی کہانی ہے۔ جوکہ رومن میں تھی اس کو میں نے اردوں میں کنورٹ کیا ہے اور اس میں کافی ایڈیٹنگ اور چینجنگ  کی ہے ۔ اگر آپ لوگوں کو پسند آئی تو آگے اپڈیٹس دوں  گا نہیں تو یہاں ہی ختم کر دوں گا۔

کمنٹس کا انتظار رہے گا

شکریہ

گل لالا

Link to comment

یکم جنوری 2022 سے نئے رولز کو لاگو کر دیا گیا ہے ۔ تمام سائلنٹ ممبرز کو فورم پر کچھ سیکشن کی اجازت نہ ہو گی ۔ فری سیکشن پر مکمل پرمیشن کے لیے آپ کو اپنا اکاؤنٹ اپگریڈ کرنا ہو گا ۔ اپگریڈ کرنے کی فیس صرف 5 ڈالر سالانہ ہے ۔ آپ کو صرف 5 ڈالر کی سالانہ ادائیگی کرنا ہو گی ۔ اور آپ کا اکاؤنٹ ایک سال کے لیے ایکٹو ہو جائے گا۔

  • Replies 37
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Top Posters In This Topic

قسط نمبر 01

آج اسکول میں کافی بھیڑ لگی ہوئی تھی شہزاد ابھی تک نہیں آیا دانش اس کا انتظار کر رہا تھا اسکول میں کیونکہ آج ڈیٹ شیٹ ملنی تھی اس لیئے سارے طالب علم آئے ہوئے تھے۔

لیکن اپنے ہیرو کا راستے میں آٹو خراب ہوگیا ہے۔

ابے آج تیرا دوست نہیں آیا کہیں امتحان سے ڈر کر بھاگ تو نہیں گیا

 یہ آواز تھی اشرف عرف اچھو کی جو دوستو کے ساتھ آ رہا تھا اسکول میں اور آتے ساتھ ہی دانش سے سوال کیا

 

 دانش: سب کو پتا ہے کہ کس کو امتحان کا ڈر ہے

اچھو: ہم سے زبان لڑاتا ہے تیری اتنی ہمت بہت اچل رہا ہے تمہیں آج ٹھیک کرنا پڑے گا

دانش: لگتا ہے پچھلی بار کی دھلائی بھول گئے ہو تم لوگ

 آچھو: وہ تو سر نے آکر بچا لیا تھا نہیں تو ہاتھ پاؤں توڑ دیتے تم لوگوں کے آج دیکھتیں ہیں تم لوگوں کو چھٹی کے وقت آج تو تیرا دوست بھی نہیں آیا ڈر گیا کیا۔

ڈانش

ڈرتا تو وہ کسی کے باپ سے بھی نہیں تم اپنی خیر مناؤ کیونکہ ابھی وہ یہاں نہیں ہے۔

 آچھو

تو اج فیصلہ ہو جائے گا؟ تیار رہنا بھاگ مت جانا

تبی اسکول کی گھنٹی بجتی ہے اور سب کلاس میں چلے جاتے ہیں۔ اور تب کلاس میں ایک پری داخل ہوتی ہے جسے دیکھ کر سب آہیں بھرتے ہیں اس کے کالے خوبصورت بال نیلی آنکھیں چاند سا چہرہ بہت ہی خوبصورت ناک گلاب کی پنکھڑی جیسے ہونٹ معصوم چہرہ بہت ہی نازک گڑیا جیسا بدن۔

دانش

تم آگئی وہ کہاں ہے دراصل دانش ڈر گیا تھا آچھو لوگوں کی باتوں سے کیونکہ وہ چار تھے اور یہ اکیلا اگر ان سے کرتا تو مارنے سے زیادہ مار کھاتا۔

میرا

ہاں وہ آرہا ہے اس کا آٹو خراب ہوگیا ہے کچھ دیر تک آجائیگا آج ویسے بھی پڑھائی ہونی تو ہے نہیں اس لیئے اگر لیٹ بھی ہوجائے تو کوئی مسلہ نہیں۔

تو یہ ہے میرا اپنے ہیرو کو دل و جان سے چاہنے والی خوبصورتی کی مورت یہ جب سے اس اسکول میں آئی ہے تب سے اپنے ہیرو کو پیار کرتی ہے۔ لیکن آپنا ہیرو اس کو گھاس نہیں ڈالتا کیونکہ اسے زندگی میں بہت آگے بڑھنا ہے اس کے اپنے خواہشات ہیں جن کو پورا کرنا اس کا خواب ہے۔

دراصل شہزاذ کے ماں باپ اس کو آٹو سے ہی اسکول بھیجتے ہیں جس کو وہ ماہانہ رقم ادا کرتے ہیں ویسے تو شہزاد کو بائیک چلانی آتی ہے لیکن اس کے ماں باپ نہیں چاہتے کہ شہزاد بائیک چلائے کیونکہ جوان خون ہے اور آج کل نوجوان لڑکے جس طرح بائیکس چلاتے ہیں اور ان کے ساتھ حادثات ہوتے ہیں تو شہزاد بھی کہیں ا۔ جے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خود کو کسی حادثے کا شکار نہ کر بیٹھیے۔

دانش

دل ہی دل میں یار جلدی آجا نہیں تو آج میری خیر نہیں پر سے پنگا پڑ گیا آچھو لوگوں سے۔

گیارہ بجے اسکول چھٹی ہوئ تو سبہی کو ڈیٹ شیٹ مل گئی شہزاد کی ڈیٹ شیٹ دانش نے لے لی۔ اور گھر جانے لگا تبھی ان چاروں نے راستے میں دانش جو گھیر لیا میرا اور مینا بھی ساتھ تھیں۔

آچھو

نہیں آیا تیرا ڈرپوک دوست لگھتا ہے کہ اسے پتہ چل گیا تھا کہ آج اس کی پٹائی ہونے والی ہے۔ اس لیئے کیوں نہ آج تمہاری ہی دھلائی کر دی جائے اس کو بعد میں دیکھ لیں گے۔

ایک نے ڈنڈا پکڑا ہوا تھا وہ اس نے آچھو کو پکڑا دیا اور آچھو نے ڈنڈا جیسے ہی سر سے بلند کر کے دانش جو مارنے لگا تو پیچھے سے شہزاد نے ڈانڈا پکڑ لیا اور ایک زور دار مکا آچھو کے منہ پر رسید کیا تو آچھو کو دن میں تارے نظر آنے لگے تو دوسرا آگے آیا اس کے پیٹ میں شہزاد نے کار رسید کی تو وہ اوغ کی آواز نکالتے ہوئے وہیں بیٹھ گیا تیسرے نے جیسے ہی اٹیک کرنے کی کوشش کی اس کو دانش نے دبوچ لیا اور اس کی پٹائی کرنے لگا اتنے میں چوتھے نے شہزاد کی ٹانگ پر تو شہزاد ناچ کر رہ گیا لیکن اس نے اوسان برقرار رکھے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر دھوبی پٹکا مارا کیونکہ وہ دوبارہ سے ڈنڈا گھما کر مارنے والا تھا تب تک آچھو کچھ ہوش میں آیا تو شہزاد کو مارنے کے لیئے آگے بڑھا تو شہزاد نے اس کو مکوں پر رکھ لیا اور ایسے لگ رہا تھا جیسے مکوں کی مشین چل پڑی ہو آچھو کی حالت خراب ہوگئی اور وہ بلبلانے لگا۔

وہاں موجود راہگیروں نے جب دیکھا کہ جھگڑا اور زیادہ بڑھ رہا ہے تو وہ آگے آئے بیچ بچاؤ کرانے اور شہزاد کو پکڑ کر ٹھنڈا کرنے لگے آچھو اور اسکے دوستوں نے یہ دیکھ کر وہاں سے دوڑ لگائی اور غائب ہوگئے۔

شہزاد کا غصہ ختم ہوتے ہی دانش نے سوال کر دیا

کہاں رہ گیا تھا تو جو اتنا لیٹ آیا؟

شہزاد

یار وہ پہلے آٹو خراب ہوگیا پر تھوڑا مارکیٹ میں کام تھا اس لیئے دیر ہوگئی سوری یار انہوں نے اکیلا دیکھ کر تجھے گیر لیا۔

دانش

تو اگر ٹائم پر نہ آتا تو آج آچھو اور اس کے دوستوں نے میری تو واٹ لگا دینی تھی۔

شہزاد

ایسے ہی واٹ لگتی تیری میں ہونا سب کو دیکھ لوں گا تو بتا لڑائی شروع کیسے ہوئی۔

دانش

کچھ نہیں یار بس یہ لوگ جیسے ہی اسکول آئے تو جھگڑا کرنے لگے تو میں نے بھی کہ دیا کہ دیکھ لیں گے۔ لیکن جب تو نہ آیا تو میری تو پھٹنے لگ گئی تھی میں نے سوچا کہ بیٹا آج تیری خیر نہیں آج تو پٹنا تیرے نصیب میں ہے۔

میرا پریشانی سے شہزاد کی ٹانگ دیکھتے ہوئے

دیکھاؤ مجھے چھوٹ کہاں لگی ہے۔ ارے یہ تو سوج گئی ہے ساری ٹانگ چلو تمہیں ڈاکٹر کے پاس کے چلوں۔

شہزاد

میں بلکل ٹھیک ہوں

میرا

خاک ٹھیک ہو اپنی حالت تو دیکھو ٹانگ کیسے سوجھی ہوئ ہے۔

شہزاد

یہ تو معمولی سی چوٹ ہے صبح تک ٹھیک ہو جائے گی۔

میرا

تم اب لڑائی جھگڑا مت کرو کسی سے بھی اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو

یہ کہ کر میرا رونے لگ گئی تب شہزاد دانش اور مینا نے اس کو چپ کرایا اور اس کے بعد سب اپنے اپنے گھر چل دیئے۔

 

گھر جو کہ سکون و اطمنان ، چاہت و محبت کا نام ہے  گھر جس میں رہنے والے ایک دوسرے کے ساتھ بے غرض اور پر خلوص  رہتے ہیں

شہزاد کے گھر میں شہزاد سمیت کل 9 افراد رہتے ہیں ، اعظم کان پڑے تایا، اس کی بیوی فرزانہ ، اور ایک بیٹا کامران اور بیٹی ثمرین۔ شہزاد کے والد ساجد خان جو کہ اعظم خان سے چھوٹا ہے اور شہزاد کی امی رمشا۔ اعظم خان اور ساجد کان کا چھوٹا بھائی اسد خان اور اسکی بیوی فریال ان کی کوئی اولاد نہیں ہے ۔ یہ سب شہزاد کے گھر کے افراد ہیں۔

 

گھر پہنچ کر رمشاء نے کھانا لگایا اور شہزاد بھی فریش ہو کر کھانا کھانے لگا۔ کھانا کھاتے وقت ایک نظر تھی جو شہزاد پر تھی اور چوری چوری اس جو دیکھ رہی تھی۔

جیسے ہی کھانا ختم ہوا سب اپنے اپنے روم میں چلے گئے

تب شہزاد کے روم میں آگئ ڈاکٹر صاحبہ

ثمرین

ہر جس سے لڑائی کر کے آیا ہے

شہزاذ

میں نے کب لڑائی کی ہے

ثمرین

اچھا اب جھوٹ بھی بولنے لگ گئے یا۔ بتاؤ پر تم لنگڑا کر کیوںچل رہے ہو

شہزاد

میں کب لنگڑا کر چلا ہوں

ثمرین

میں نے دیکھا تھا جب تم اپنے کمرے سے آرہے تھے اب جلدی جلدی بتاؤ کیا ہوا

شہزاد

وہ تو موچ آگئی تھی پاؤں میں واشروم میں پسل گیا تھا اس لیے تھوڑا لنگڑا کر چلا میں

ثمرین

پر جھوٹ لگتا ہے چاچی کو بتانا پڑے گا تب تو بتائیے گا کہ کیا ہوا

ساتھ ثمرین نے آواز لگائی

چاچی زرا سنئے

ثمرین نے جیسے ہی آواز لگائی وکی نے جمپ مار کر اس کا منہ بند کر دیا اور منت کرنے لگا کہ کسی کو مت بتانا

ثمرین

تو ہر اچھے بچے کی طرح جلدی سے بتاؤ کیا ہوا

تو شہزاد نے پوری کہانی بتائ کہ کیا ہوا اور کس طرح جگھڑا ہوا تو ثمرین نے کہا کہ مجھے دیکھاؤ کہاں چوٹ لگی ہے

شہزاد

میں نہیں دیکھا سکتا جہاں چوٹ لگی ہے

ثمرین غصے سے

تو ہر میں چاچی کو بتانے جارہی ہوں

تو شہزاد نے جلدی سے پینٹ نیچے کی اور بستر کی چادر سے اپنے اوپر کے حصے کو ڈھانپ دیا

ثمرین نے جیسے ہی چوٹ دیکھی اس کے منہ سے ہائے کی آواز نکلی اور دوڑکر کمرے سے نکل گئی اور بھاگ کر دوائی کے کر آگئی اور دوائی لگانے لگی ادھر جیسے ہی ثمرین نے دوائی لگانے کے لیئے شہزاد کو چھوا تو اس کے جسم میں شرارے سے دوڑنے لگے ایک دم کچھ نئے احساسات محسوس کرنے لگا جن کی اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کو آخر کیا ہوگیا۔

۔۔۔۔جاری ہے

Link to comment

قسط نمبر 02

ثمرین نے شہزاد کو چھوا تو اس کو کرنٹ لگ گیا اور اس کو ایک نیا احساس ہوا پہلی بار کسی نے اُسے اس طرح چھوا شہزاد کسی اور ہی دنیا میں چلا گیا۔

ثمرین نے بھی پہلی بار کسی مرد کو اس طرح پینٹ نیچے کر کے چھو رہی تھی ہل چل تو اس کے دل میں بھی بہت ہوی اس کابھی دل سینہ پھاڑ کر دھڑکنے لگا لیکن اس نے خود پر بہت جبر کر کے اپنے آپ کو سنبھال لیا۔ شہزاد کو دوائی لگا کر باقی دوائی کے کر چلی گئی اور سیدھی اپنے کمرےمیں گئی کیونکہ اس کو اپنے آپ کو نارمل کرنا تھا۔

شہزاد بھی ثمرین کے جانے کے بعد کچھ دیر تک تو سوچ میں ڈوبا رہا کہ آخر اس کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے کیو اس کی فیلینگز ایسی ہوئی لیکن اس کو جواب سمجھ نہیں آیا تو اس نے اپنے اسکول بیگ کو کھولا اور پڑھائی میں مصروف ہوگیا

چار بجے تک پڑھتا رہا پر اس کے روم میں فریال چاچی چائے دینے آئ

شہزاد

چاچی آپ مجھے کہ دیتی میں اجاتا خود چائے لینے آپ نے کیو تکلیف کی۔

فریال

اس میں تکلیف کی کیا بات ہے میرا بھی تو حق بنتا ہے کہ آپ ے بیٹے کی خدمت کروں جب تک میری بہو نہیں آجاتی۔

فریال چاچی شہزاد کو چیرتے ہوئے بولی اور شہزاد  شرم سے لال ہوگیا

شہزاد معصوم سی شکل بنا کر

چاچی آپ بھی نہ ایسے ہی تنگ کرتی رہتی ہیں جاؤ میں آپ سے بات نہیں کرتا۔

فریال چاچی ہنستے ہوئے

آلے آلے می لے منے کو غصہ آگیا

اور شہزاد کو گلے لگا لیا شہزاد نے بھی چاچی کو اپنی بانہوں میں کس لیا

تھوڑی دیر چاچی ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہی اور پر چلی گئی شہزاد بھی چائے پی کر باہر ٹھلنے کے لیئے چلا گیا تاکہ تھوڑا دماغ فریش ہو جائے کیونکہ بارہ بجے سے لگاتار پڑھ رہا تھا

کھیل کر جب شہزاد واپس گھر آیا تو سب گھر والے آنگن میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے شہزاد سیدھا اپنے چاچا اعظم خان کے پاس بیٹھ گیا اور وہ پڑھائی کے بارے میں پوچھنے لگے ساتھ فرزانہ اور رمشاء بیٹھیں ہوئ تھی پر سب گپ شپ میں مصروف ہوگئے باتوں باتوں میں پتہ ہی نہیں چلا کب نو بج گئے پر فریال چاچی نے کھانے کا پوچھا اتنے میں ساجد خان اور اسد خان  بھی آگئے پر سبھی کھانا کھانے لگےکیونکہ کھانے کی روٹین تھی سبھی نو سے دس بجے تک کھانا کھا لیتے تھے۔

کھانے کے دوران ثمرین باربار شہزاد کو دیکھ رہی تھی آدھر اپنا ہیرو بھی نظر بچا بچا کر ثمرین کو دیکھ رہا تھا اتنے میں اسد نے بات شروع کی

اسد

بھائی جان مجھے کل مال لینے جانا ہے فیصل آباد تو ہو سکتا ہے مجھے واپس آنے میں دو دن لگ جائیں تو میں سیما دیدی کے گھر ہی رکجاؤں گا

یہ سن کر فریال اداس ہوگئ کیونکہ اسے اکیلے سونے میں ڈر لگتا تھا پہلے جب اسد خان کہیں جاتے تھے تو رمشاء اس کے پاس سوتی تھی لیکن کل رمشاء کو بھی اپنے میکے جانا تھا کسی کام سے۔

اعظم خان بولا

کوئی بات نہیں تم تسلی سے جاؤ دکان پر میں چلا جاؤں گا۔

پہلے بھی جب کبھی اسد خان جاتے تھے تو اعظم خان ہی دکان سنبھال تھے۔

پر سب نے کھانا کھایا اور اپنے اپنے کمروں میں سونے چلے گئے۔

شہزاد بھی اپنے کمرے میں جا کر پر سے پڑھائی میں لگ گیا۔

گیارہ بجے ثمرین اس کو دودھ دینے آئ تو چوٹ کے بارے میں بھی پوچھا تو شہزاد نے بتایا کہ اب ٹھیک ہے ثمرین دیکھنا تو چاہتی تھی چوٹ لیکن پر اس نے کچھ کہا نہیں کیونکہ چوٹ کافی اپر لگی تھی اس وقت تو شہزاد کو بلیک میل کرنے کے چکر میں نہ اس نے دیکھا اور نہ شہزاد کو یہ سوچ آئ تھی کہ چوٹ کافی اوپر لگی ہے اس نے بھی بغیر سوچے پینٹ نیچے کر دی تھی اس لئے اس  بار ثمرین نے دیکھنے کی زد نہیں کی اور چلی گئی اپنے کمرے میں سونے۔

شہزاد دیر رات تک پڑھتا رہا اور دو بجے کے قریب سوگیا کیونکہ صبح اسکول تو جانا نہیں تھا۔ اور صبح دیر تک سوتا رہا۔ اس کو جگانے فریال آئی اس کے کمرے میں

فریال

شہزاد اٹھ جاؤ دیکھو دس بج گئے ہیں سہانہ دیدی بلا رہی ہیں

شہزاد

سونے دو نہ مجھے

فریال

اٹھتا ہے یا ڈالوں پانی

شہزاد

کیا چاچی آپ بھی تنگ کرتی ہیں سونے نہیں دیتیں

پھر شہزاد اٹھ کر نہانے چلا گیا اور فریال اس کے لیئے دودھ گرم کرنے۔ شہزاد نہا کر آیا تو فریال اس کے لیئے دودھ لے کر کھڑی تھی شہزاد نے دودھ پی کر ختم کیا اور ناشتہ کرنے بیٹھ گیا

رمشاء جی نے مکھن کے پراٹھے کھلائے اپنے لال کو پر شہزاد اپنے کمرے میں چلا گیا پڑھنے کے لیئےآج سارا دن اپنے کمرے میں ہی رہا

اسد تو صبح ہوتے ہی چلا گیا تھا مال لینے اور رمشاء جی بھی شہزاد کو ناشتہ کر وا کر چلی گئی اپنے میکے آج ثمرین بھی کالج سے لیٹ آئ اور کھانا کھا کر اپنے کمرے میں جا کر سو گئی۔

رات کو کھانے کے بعد فریال نے فرزانہ سے کہا کہ مجھے تو اکیلے سونے میں ڈر لگتا ہے پہلے دیدی ساتھ سو جاتی تھی آج تو وہ بھی نہیں ہے تو میں شہزاد کے کمرے میں سو جاؤں۔ شہزاد کو سبھی بچہ سمجھتے تھے تو فریال کی بات فرزانہ نے فوراً مان لی۔

فرزانہ

سو جاؤ وہاں لیکن تمہیں نیند کیسے آئے گی وہاں تو سنگل بیڈ لگا ہوا ہے

فریال

وہ میں دیکھ لوں گی

فرزانہ

جیسے تمہاری مرضی

فریال کام ختم کر کے شہزاد کے کمرے میں چلی گئی جہاں شہزاد بیٹھ کر پڑھائی کر رہا تھا شہزاد فریال کو دیکھ کر

شہزاد

چاچی کوئی کام تھا مجھ سے تو بلا لیتی۔

فریال

نہیں میں تو یہاں پر اپنے بیٹے کے پاس سونے آئ ہوں۔

شہزاد ہنستے ہوئے

آپ کو اپنے کمرے میں کیا ڈر لگتا ہے

فریال

ہاں ڈرہی تو لگتا ہے اسی لیئے تو یہاں آئ ہوں

شہزاد آپ کوئی چھوٹی بچی ہو جو آپ کو ڈر لگتا ہے۔ خیر یہ بھی آپ کا اپنا کمرہ ہے سوجاؤ میں وہاں صوفے پر سو جاؤں گا آپ یہاں آجاؤ۔

فریال

کوئی ضرورت نہیں وہاں سونے کی چپ چاپ یہاں بیڈ پہ سوجاؤ نہیں تو میں چلی جاؤں گی اگر تمہیں برا لگ رہا ہے تو۔

شہزاد

نہیں نہیں چاچی ایسی کوئی بات نہیں۔ ہے میں تو ویسے ہی کہ رہا تھا

فریال ہنستے ہوئے

تو آکر سوجاؤ میں تمہیں نہیں کھاؤں گی۔

شہزاد بھی ہنستے ہوئے اپنی کتابیں سمیٹنے لگ گیا اور پر بیڈ پر آکر لیٹ گیا۔

فریال

تمہاری کوئی گرل فرینڈ ہے سچ سچ بتانا

شہزاد

آپ کو کوئی چوٹ تو نہیں لگی جو ایسے سوال پوچھ رہی ہیں۔

فریال

نہیں میں بلکل ٹھیک ٹھاک ہوں تم نخرے نہیں کرو اور مجھے بتاؤ۔

 

جاری ہے۔۔۔۔

 

 

Link to comment
  • 3 weeks later...

قسط نمبر 03

شہزاد شرماتے ہوئے

نہیں چاچی میری کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے۔

فریال

تو تیری کسی لڑکی سے سے بھی دوستی نہیں ہے کیا؟

شہزاد

ہاں ہے چاچی آپ ہو ثمرین دیدی ہیں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنا کہ کر شہزاد خاموش ہوگیا تو فریال نے فوراً پوچھا

اور اور کون بتاؤ جلدی جلدی سے شاباش

شہزاد

نہیں چاچی اور کوئی نہیں بس آپ لوگ ہی ہو

فریال ناراضگی سے

تو تم مجھے اپنی دوست نہیں سمجھتے ٹھیک ہے میں تم سے آج کے بعد بات نہیں کروں گی۔

شہزاد نہیں چاچی ایسی کوئی بات نہیں ہے

فریال

تو بتاؤ مجھے جو بھی بات ہے۔

شہزاد

میرا

فریال مزے لیتے ہوئے

اچھاااااااااا تو میرا تمہاری گرل فرینڈ ہے وہ تو بہت خوبصورت اور پیاری ہے۔ ہممممممم بتانا پڑے گا دیدی کو کہ آپ کا لڑکا اب بڑا ہوگیا ہے۔

شہزاد گھبراتے ہوئے

نہیں نہیں چاچی ہم بس کلاس فیلوز اور دوست ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

فریال ہنستے ہوئے

بدو میں تو مذاق کر رہی تھی۔

شہزاد

بس وہی کہتی رہتی ہے کہ میں تم سے پیار کرتی ہوں تمہارے لیئے جان بھی دے دوں گی۔ لیکن میں تو اس سے بات بھی بہت ہی کم کرتا ہوں۔

شہزاد ڈر کے مارے سب کچھ بتا دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے پاپا سے بیت ڈرتا ہے۔

فریال

شہزاد میرا بہت خوبصورت اور سلجھی ہوئی سمجھدار لڑکی ہے اور تم سے پیار بھی کرتی ہے تو تم اس سے بات کیا کرو کیونکہپیار کرنے والے بہت مشکل سے ملا کرتے ہیں

شہزاد

ٹھیک ہے چاچی میں بات کیا کروں گا اس سے۔

فریال گرم جوشی سے

تو ٹھیک ہے آج سے ہم پکے دوست ہوئے

شہزاد ہاتھ ملاتے ہوئے

ٹھیک ہے چاچی

فریال

پکے دوست آپس میں ہر بات کرتے ہیں ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں چھپاتے اور نہ آپس کی بات کسی اور جو بتاتے ہیں اس بات کو یاد رکھنا

شہزاد

بلکل چاچی اب میں ہر بات آپ کو بتایا کروں گا کوئی بات آپ سے نہیں چھپاؤ گا۔

فریال کس بھرے انداز سے

ٹھیک ہے میرا منا اب سو جاؤ صبح جلدی اٹھنا بھی ہے کیونکہ صبح مجھے ہی ناشتہ تیار کرکے سب کو دینا ہے اب سو جاؤ گڈ نائٹ۔

شہزاد

گڈ نائٹ چاچی

====================

وہاں دوسری طرف ثمرین جب سے اپنے کالج سے آئی تھی بہت پریشان تھی کالج سے بھی لیٹ آئی تھی کوئ تھا جو اسے پریشان کر رہا تھا آج آتے ہی وہ اپنے روم میں چلی گئی اور وہاں دیر تک روتی رہی کیونکہ کالج کے کچھلڑکے تھے جو اسے تنگ کرتے تھی لیکن ان لڑکوں نے آج اس کو بہت تنگ کیا تھا اور یہ بات وہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھیں اسے ہی کچھ کرنا تھا لیکن وہ ایک نازک لڑکی تھی وہ ان کا کچھ بگاڑ بھی نہیں سکتی تھی اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرہے آخر اس نے ایک فیصلہ کیا کہ وہ ان سے آخری بار بات کرے گی اگر تو وہ تنگ کرنے سے باز آئے تو ٹھیک نہیں تو خودکشی کر کے گی یہ سب سوچ کر اس نے اپنے بیگ میں زہر کی بوتل رکھ لی۔

 

ثمرین کو کوئی بہت غور سے دیکھ رہا تھا اور اس کی حرکتوں اور بے خیالی سے سمجھ گیا تھا کہ کوئ مسلہ ہے جو ثمرین کو پریشان کر رہا ہے لیکن وہ کچھ بول نہیں رہا تھا

اور وہ اور کوئی نہیں فریال ہی تھی اور شہزاد کے پاس بھی وہ اسی لیئے گئی تھی کہ شائد شہزاد کو کچھ پتا ہوگا تو وہ اس سے کسی طریقے سے پوچھ لے گی۔ لیکن شہزاد سے بات کر کے اس کو مایوسی ہوئی کہ شہزاد کو کچھ نہیں پتہ نہیں تو وہ باتوں باتوں میں کہ دیتا۔

فریال اب شہزاد کے پاس ہی سوئی ہوئی تھی۔ صبحِ صبح جب فریال کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بے ترتیبی سے چپک کر لیٹے ہوئے ہیں فریال کو اپنی ران پر اوپر کی طرف کسی سخت چیز کی چبھن محسوس ہو رہی تھی پہلے تو اس نے توجہ نہیں دی لیکن جب اسے احساس ہوا کہ یہ تو کچھ اورہے تو یک دم اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا اور اس کے جسم میں چونٹیاں سی دوڑ گئی اس نے سوچا کہ شہزاد تو ابھی بچہ ہے اس کا نونو اتنا بڑا کیسے ہو سکتا ہےآف ہائے یہ اتنا بڑا۔

اصل میں صبح صبح ہر مرد چاہے وہ بچہ ہو یا بڑا اس کا لن کھڑا ہوتا ہی ہے اور پر جب ایک نرم گرم جنس مخالف ساتھ ہو اور اس کی گرمی پاکرتولن نے ضرورت سے زیادہ ہی اکھڑنا ہے تو قصور شہزاد کا تو نہ ہوا نہ

فریال کو اپنی ٹانگوں کے بیچ میں گیلا گیلا سا محسوس ہوا تو اس نے اپنا ہاتھ جب آپنی چوت پہ لگایا تو اس کی چوت پوری گیلی ہوچکی تھی یہ دیکھ کر وہ گھبرا کر جلدی سے اٹھی اور واشروم میں گھس گئی شہزاد ویسے ہی لیٹا رہا فریال واشروم سے سیدھی کچن میں گئی اور ناشتہ تیار کرنے میں لگ گئی لیکن اس کے ذہن میں شہزاد اور اس کا ہتھیار ہی گھومتا رہا اور اس کا جسم بار بار لرز جاتا۔ اس نے بڑی مشکل سے خود کو کنٹرول میں کیا کیونکہ وہ اب کوئی سولہ سالہ کنواری لڑکی تو تھی نہیں شادی شدہ اور لن کی آشنا تھی کیونکہ آپنے شوہر کے لن کے ساتھ بہت کھیل چکی تھی۔

فریال ناشتہ تیار کر کے جب شہزاد کو اٹھانے اس کے کمرے میں دوبارہ گئی تو اس کی نظریں سیدھی سب سے پہلے شہزاد کے لن پر گئی جو اب بھی کسی ٹاور کا نظارہ پیش کر رہا تھا یہ دیکھ کر اس کے جسم میں پر سے چونٹیاں رینگنے لگی جن کا رخ اس کی چوت کی طرف تھا اور اس کا ہاتھ بے اختیار آپنی چوت پہ چلا گیا

اصل میں اسد خان کئی کئی دن فریال کو نہیں چودتا تھا اور اگر کبھی اس کا دل چودنے کو کرتا تو اپنا پانی صرف نکالتا تھا اور فریال کو ویسے ہی بیچ میں چھوڑ دیتا اور فریال تڑپتی رہ جاتی لیکن شکایت یا نہ آسودگئ کا گلا نہیں کرتی تھی اور خاموشی سے برداشت کرتی تھی

اسی لیئے شہزاد کا تنا ہوا جاندار ہتھیار دیکھ کر اپنے آپ پر قابو کھو بیٹھی اس نے دروازہ اندر سے لاک کیا اور سیدھی بیڈ پر جا کر شہزاد کا لن ہاتھ میں پکڑ لیا بلکل آرام سے لیکن لن پکڑتے ہی اس پر ایک نشہ سا چھا گیا اور اس کا ہاتھ خودکار طریقے سے اس کی شلوار میں گھس کر اس کی چوت پر پہنچ گیا ایک ہاتھ سے وہ وقص کے لن کو ناپنے لگی تقریباً نو انچ کے لگ بھگ ہوگا شہزاد کا لن اور ہلکے ہلکے سے اس کو دبانے لگی ادھر اس کے دوسرے ہاتھ کی درمیانی انگلی اس کے چوت کے اندر باہر ہونے لگی۔ شہزاد جوانی کی نیند کی آغوش میں گدھے گھوڑے بیچ کر سویا ہوا تھا

فریال کچھ دیر تک شہزاد کے لن سے کھیلتی رہی ور تیز تیز اپنی چوت میں انگلی اندر باہر کرتی رہی کہ اچانک فریال کی ٹانگیں کانپنے لگی اور وہ اس قدر شدت سے جھڑیں کہ بیڈ سے نیچے گر گئی کیونکہ وہ بیڈ پر گھوڑی سٹائل میں ہو کر یہ سب کر رہی تھی

فریال کے گرنے کی آواز سے شہزاد جاگ گیا اور فریال کو بیڈ سے نیچے دیکھ کر پوچنے لگا

شہزاد

چاچی کیا ہوا یہ آواز کیسی تھی آپ ٹھیک تو ہو؟

فریال اپنی سانسوں پر قابو پاتے ہوئے گھبراہٹ میں

شہزاد تم جاگ رہے تھے

شہزاد نہیں چاچی آپ کے گرنے کی آواز سن کر جاگا ہوں

فریال

تمہیں جگانے آئی تھی تو پاؤں مڑگیا اور میں گر گئی

شہزاد جلدی سے اٹھتے ہوئے

اوہ چاچی آپ کو چوٹ تو نہیں لگی

فریال نہیں میرے منے میں بلکل ٹھیک ہوں تم فریش ہوجاو اور نیچے آکر ناشتہ کر لو

شہزاد

جی اچھا چاچی میں ابھی فریش ہو کر آتا ہوں

فریال صبح صبح ثمرین کے کمرے میں گئی تو اس نے ثمرین سے پوچھا کہ کیا بات ہے تم اداس اور پریشان سی لگتی ہو تو ثمرین نے پڑھائی کا بہانا کیا اور واشروم میں چلی گئی تو فریال نے اس کی ایک بک نکال کر چھپا دی اور وہاں سے شہزاد کے کمرے میں آگئی جہاں اس کے ساتھ یہ صورتحال پیش آئی

 

شہزاد فریش ہوکر نیچے آیا اور ناشتہ کرنے بیٹھ گیا بڑی چاچی فرزانہ نے شہزاد کو ناشتہ کروانے لگ گئی ساتھ میں آعظم خان جی بھی آکر بیٹھ گئے ان کیلئے فریال نے پراٹھے بنا کر رکھ دیئےساتھ میں مکھن اور ساگ بھی دیا جو اس نے مزے سے کھایا۔ پر ناشتہ کرنے کے بعد اعظم خان دکان پر چلا گیا اور شہزاد اپنے کمرے میں پڑھنے کے لیئے چلا گیا۔

ثمرین تیار ہوکر بغیر ناشتہ کئے کالج چلی گئی

جاری ہے ۔۔۔۔

Link to comment
  • 3 weeks later...

قسط نمبر 04

 

ثنا کالج کے لیئے گھر سے بغیر ناشتہ کیئے نکل گئی جہاں دانیال اس کا انتظار کر رہا تھا

دانیال پچھلے تین سال سے ثمرین کے پیچھے پڑا ہوا تھا آئے روز اس کو تنگ کرنا اور چھیڑنا اس کا معمول تھا اس نے اپنا ایک گروپ بنایا ہوا تھا جس میں اس کے آوارہ دوست عمران۔فرمان۔ ذیشان۔ اور احسان شامل تھے ان سب کا ایک ہی مقصد تھا ثمرین کو چودنا جو ابھی لگ بھگ پورا ہونے والا تھا انہوں نے ثمرین کی ننگی ویڈیواپنے کالج کے واشروم میں کومل کی مدد سےچپکے سے بنائی تھی جو کہ دانیال گروپ کی رنڈی تھی وہ بھی ان کے ساتھ ملی ہوئی تھی اسی نے ٹوائلٹ جاتے ہوئے ثمرین کا پیچھا کیا اور چپکے سے اس کی ویڈیوبنا کر دانیال کو دے دی ان کا پلان تھا کہ پہلے دانیال ثمرین کو چودے گا اس کے بعد سب دوست مل کر چودیں گے اور پر سارے کالج میں ثمرین کو بدنام کریں گے کیونکہ ثنا نے دانیال کو تھپڑ مارا تھا جب دانیال نے ثمرین کے ساتھ بدتمیزی کی تھی۔ دانیال کا پلان تھا کہ ثمرین کی چودتے ہوئے ویڈیو بنائی جائے گی اورپر اس کو بلیک میل کر کے اپنی رکھیل بنائیں گے

ثمرین کالج دیر سے آئ تو دانیال غصے سے بولا

بہت چربی ہے تجھ میں کیا وائرل کردوں تمہاری ویڈیو۔

ثمرین ہاتھ جوڑتے ہوئے

پلیز ایسا مت کرنا میں ہاتھ جوڑتی ہوں تمہارے پاؤں پڑتی ہوں مجھے بدنام مت کرو پلیز مجھے چھوڑ دو میری ویڈیو ڈیلیٹ کر دو میں تمنسے سارے کالج کے سامنے معافی مانگ لوں گی تمہارے پیر پکڑ لوں گی۔

دانیال تنزیہ ہنستے ہوئے

اب وہ وقت گزر گیا چپ چاپ میری بات مان کو اسی میں تمہاری بھلائی ہے ورنہ ساری دنیا تمہارا ننگا جسم دیکھے گی

ہاہاہاہاہاہاہاہا

ثمرین روتے ہوئے

میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے کیو میری زندگی برباد کرنا چاہتے ہو

دانیال

اس کا مجھے کچھ نہیں پتہ اب کچھ نہیں ہوسکتا اب تمہارے ہاتھ میں ہے کہ میری بات مان کو یا پر اپنی اور اپنے خاندان کی عزت کا جنازہ نکلوا لو۔ میرے ساتھ میرے فارم ہاؤس چلو مجھے ایک مرتبہ خوش کردو پر اپنی ویڈیو لےجاؤ۔

ثمرین بہت زیادہ روتے ہوئے بولی

پلیز مجھے برباد نہ کرو مجھ پہ رحمنکرو مجھے چھوڑ دو۔

دانیال غصے سے

تمہیں ایک گھنٹے کا وقت دیتا ہوں نہیں تو تمنخود سمجھ دار ہو اگر تم نے کسی کو بتایا یا خودکشی کرنے کی کوشش کی پر بھی ویڈیو ساری دنیا دیکھے گی اور ساتھ میں تمہارے ماں باپ کی عزت بھی وہ کسی کو منہ دیکھانے کے لائق نہیں رہیں گے اس لیئے وہ بھی خودکشی کریں گے۔ تو اس لیئے صرف ایک گھنٹہ دے رہا ہوں سوچ لو۔

یہ کہ کر دانیال ثمرین کو روتا چھوڑ کر چلا گیا اپنے دوستوں کے پاس اور انہیں بتانے لگا کہ ثمرین کو میں کی کر جاؤ گا تم لوگ بعد میں پیچھے آجانا ہر اس کو مل کر رنڈی بنائیں گے تو عمران بولا

پہلے ہم۔لوگ جاتے ہیں وہاں پر سیٹنگ بھی کرلیں گے اور کیمرہ بھی لگا دیں گے پر تم ثمرین کو ساتھ لے کر آجانا

دانیال

ٹھیک ہے تم لوگ نکل جاؤ میں بلبل کو لے کر آتا ہوں۔

دانیال کے دوست اسی وقت کالج سے چلے گئے اور فارم ہاؤس پہنچ کر جلدی جلدی کیمرہ لگا دیا

ادھر دانیال کی باتیں سننے کے بعد ثنا نے بھی ہار مان لی اور چلنے کے لیئے تیار ہوگئی کیونکہ وہ اپنے ماں باپ کا سننکر ڈرگئی کہ اس کی وجہ سے وہ اپنی جان گنوائیں گے۔

دانیال

ثمرین اب چلتے ہیں چلو گاڑی میں بیٹھو

ثمرین ہاں میں سر ہلاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی۔

دانیال گاڑی چلاتا ہوا سیدھا اپنے فارم ہاؤس پر گیا جہاں اس کے دوست اور اور ان کی رکھیل کومل پہلے سے موجود تھے۔ ثمرین ان کو دیکھ کے اور ڈر گئی

ثمرین ڈرتے ہوئے دانیال سے بولی

یہ سب یہاں کیا کر رہے ہیں؟

دانیال

یہ ویسے ہی یہاں ہوتے ہیں تم چلو میرے ساتھ بیڈروم میں ہم وہاں مزے کریں گے۔

ثمرین روتی ہوئی ایک بار پر اس کے پاؤں میں بیٹھ گئی اور دانیال کے پیر پکڑ کر منتیں کرنے لگی لیکن دانیال پر تو شیطان سوار تھا اور ظالم کو مظلوم کے تڑپنے ہر رحم نہیں آتا بلکہ خوشی ملتی ہے اس لیئے وہ نہ مانا اور ثنا کو بازو سے پکڑ کر بیڈروم کی طرف چلنے لگا۔

ادھر گھر میں جب شہزاد اٹھا تو فریال نے اس کو ثمرین کی کتاب دی جو اس نے چھپائ تھی اور کہا

فریال

شہزاد یہ ثمرین کی کتاب ہے وہ بھول گئی ہے آج اس کے ٹیسٹ ہیں اور یہ اس کو ضروری چاہئے تو زرا جلدی سے اس کو کالج میں دے آؤ۔

تو شہزاد فوری اٹھا اور فریش ہونے کے لیئے واشروم میں گا گیا اور جلدی سے فریش ہو کر چلدیا ثمرین کے کالج کی طرف لیکن جیسے ہی وہ کالج کے گیٹ کے پاس پہنچا تو اس نے ثمرین کو ایک گاڑی میں بیٹھے دیکھا اور ثمرین رو رہی تھی اور اپنی آنکھیں صاف کر رہی تھی ساتھ میں ایک لڑکا بیٹھا تھا جو گاڑی چلا رہا تھا اور اس کی شکل ہے بڑی خبیث مسکراہٹ تھی یہ سب شہزاد نے چند سیکنڈ میں نوٹ کیا کیونکہ گاڑی سامنے سے آئ تھی اور اس کے پاس سے گزر گئی اس نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا جس کی وجہ سے ثمرین بھی اس کو نہ پہچان سکی ہوگی۔ شہزاد نے فوراً بائیک گھمائی اور گاڑی کے پیچھے چل دیا گاڑی بہت سپیڈ سے جارہی تھی شہزاد کو بھی بہت تیز بائیک چلانی پڑ رہی تھی اور

اس کو کافی مشکل پیش آرہی تھی اور گاڑی کافی آگے نکل گئی لیکن شہزاد نے گاڑی کا پیچھا نہیں چھوڑا آگے اس نے بہت دور سے گاڑی کو مین روڈ سے مڑتے ہوئے دیکھا جب وہ وہاںپہنچا تو اس نے دیکھا کہ یہ کسیدیہات کی طرف جانے والا راستہ ہے لیکن اس کو گاڑی نظر نہیں آئی خیر وہ بھی اسی راستے پر آگے جانے لگا تو کافی آگے جا کر اسے ایک حویلی کی طرز کی عمارت نظر آئ جس کے چاروں طرف باؤنڈری بھی تھی اور اس کا ایک بڑا سا دروازہ تھا جو اس وقت کھلا ہوا تھا شہزاد سیدھا اس عمارت کی طرف گیا اور گیٹ کے پاس پہنچ کر اس نے اپنی بائیک روک دی کیونکہباؤنڈری کے اندر عمارت کے پاس اس کو وہ گاڑی بھی نظر آئ اور ثنا اور کچھ اور حرامی ٹائپ کے لڑکے اور ایک لڑکی بھی نظر آئ ثمرین کو اسی لڑکے نے جس کے ساتھ گاڑی میں آئی تھی نے بازو سے پکڑا ہوا تھا اور عمارت کے اندر کی طرفجارہا تھا اور ثمرین ہاتھ جوڑتی ہوئی رو رہی تھی

شہزاد چلاتے ہوئے

حرامزادے تیری اتنی ہمت کہ تو میری بہن کو ٹارچر کرے

اور بائیک سے اچل کر اترا وہاں ایک موٹا سا لکڑی کا ڈنڈا پڑا ہوا تھا اس نے جھپٹ کر وہ ڈنڈا اٹھایا کیونکہ اس نے دیکھ لیا تھا کہ اس کے سامنے ایک پورا گروپ ہے حرامیوں کا

فرمان شہزاد کو دیکھتے ہوئے قہقہے لگاتے ہوئے

آج تو تیری بہن کو تیرے سامنے چودیں گے

احسان بولا

سالے چوتیے تو یہاں آیا کیسے

ذیشان بولا

رنڈی کا بچہ آ تو گیا لیکن اپنے پیروں پر چل کے واپس نہیں جائے گا

عمران بولا

ارے نہیں نہیں یہ تو لایئو شو دیکھنے آیا ہے اپنی بہن کا۔

دانیال غصے سے

باتیں بند کرو اور سالے کو پکڑو

اور ساتھ ہی ثمرین کے منہ پر ایک تھپڑ مار کر بولا

سالی رنڈی توجھے بولا تھا نا کہ کسی کو کچھ نہیں بتانا اب دیکھ تیرا اور تیرے بھائی کا کیا حال کرتے ہیں ہم

اتنے میں شہزاد آگے بڑا اور ڈنڈا سیدھا عمران کے سر پر مارا وہ تو وہیں لمبا کیٹ گیا اور بے ہوش ہو گیا ذیشان آگے بڑنے لگا تو شہزاد نے سیدھی لات اس کے سینے پر ماری اور وہ سیدھا زمین پر گر گیا اور اس کا سر زور سے زمین سے ٹکرایا پیچھے سے فرمان نے بوتل اٹا کر شہزاد کے سر پر ماری اور شہزاد کا سر گھوم گیا اور سر سے خون بہنے لگا شہزاد نے خود کو سنبھالا اور ڈنڈا گھوما کر اس کے منہ پر مارا تو فرمان ایسے تڑپنے لگا جیسے پانی سے مچھلی نکالو تو تڑپتی ہے اتنے میں احسان آگے آیا اس نے ہاتھ میں راڈ اٹھایا ہوا تھا شہزاد کو مارنے کے لیئے لیکن شہزاد نے گھوم کر اس کی ٹانگوں کے بیچوں بیچ لات ماری اور احسان مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگا

یہ سب کاروائی ایک منٹ کے اندر اندر ہوگئی دانیال جو سمجھ ہی نہیں آیا کہ ہوا کیا اور اس کے سارے دوست زمین ہے پڑے تڑپ رہے تھے شہزاد ڈنڈا سونت کر دانیال کی طرف تیزی سے بڑھا تو دانیال نے جلدی سے پستول نکال کر شہزاد پر گولی چلادی شہزاد پستول دیکھتے ہی جلدی سی ایک سائیڈ پر ہوا اور ڈنڈا گھما دیا ڈنڈا سیدھا دانیال کے ہاتھ پر لگا جو اس نے نے آگے کیا ہوا تھا اور اس میں اس نے پستول پکڑا ہوا تھا لیکن شہزاد بھی پستول کی گولی سے نہ بچ سکا اس کے سائیڈ پر ہونے کی وجہ سے گولی اس کے بازو کو چیرتے ہوئے نکل گئی اس کے باوجود شہزاد رکا نہیں اس نے دوبارہ ڈنڈا گھوما گھوما کر دانیال کی ٹھکائی شروع کر دی اور دانیال کی چیخیں گونجنے لگی لیکن شہزاد نہیں رکا اور دانیال چیختے چیختے بے ہوش ہوگیا تا ثمرین نے آگے بڑھ کر شہزاد کو روکا۔

Link to comment
  • 3 weeks later...

قسط نمبر 05

 

شہزادجذبات سے مغلوب ہوکر دانیال کو ڈنڈے سے مار رہا تھا اور دانیال چیختے چیختے بیہوش ہوگیا تو ثمرین نے آگے بڑھ کر اس کو روکا تو شہزاد کو کچھ ہوش آیا

شہزاد ثمرین سے

یہ سب کیا کہانی ہے مجھے سب کچھ بتاؤ

تو ثمرین نے روتے روتے پوری کہانی شہزاد کو بتادی کہ اس کے ساتھ یہ سب کیسے اور کیوں ہوا

ثمرین کی پوری بات سن کر شہزادکا دماغ ایک بار پر گھوم گیا اس نے سب کے موبائل فون اٹھا کر اپنے ہاس رکھے اچانک اس کو کچھ یاد آیا تو اس نے ثمرین سے کہا کہ یہاں ایک لڑکی بھی میں نے دیکھی تھی وہ کہاں گئی تو ثمرین بھی چونک گئی اور کومل رنڈی کو ڈھونڈنے لگی کومل اندر واشروم میں چھپی ہوئی تھی ثمرین نے اس کو بالوں سے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے باہر لے کر آئ کومل رو رہی تھی اور ثمرین سے معافیاں مانگ رہی تھی شہزاد نے اس سے اس کا موبائل لیا اور ثمرین کو اشارہ کر دیا کہ شروع ہوجاتو ثمرین نے اس کی دھلائی شروع کر دی ادھر شہزاد نے ایک دفع پر سے سب کو ڈنڈے سے مارنے لگا اچانک اس کو چکر آنے لگے اور وہ وہاں پر گرتے گرتے بچا اور بیٹھ گیا ادھر ثمرین کومل رنڈی کی حالت خراب کر چکی تھی وہ زمین پر پڑی تڑپ رہی تھی اسی دوران ثمرین کی نظر شہزاد پر پڑی اور اسنے شہزاد کوجھومتے ہوئے اور بیٹھتے ہوئے دیکھا تو جلدی سے شہزاد کے پاس آئ شہزاد کے سر اور بازو سے بہت خون بہا تھا اس کی شرٹ ساری خون سے بھری ہوئی تھی ثمرین نے جلدی سے اپنا دوپٹہ پھاڑا اور شہزاد کے سر اور بازو پر کس کے باندھ دیا اور اس کو کہا کہ اس حالت میں ہم گھر نہیں جاسکتے میری ایک دوست ہے قریب میں اس کے گھر جاتے ہیں وہ ہماری مدد کرسکتی ہے اس صورتحال میں اور وہاں سے گھر بھی فون کر کے بتا دیں گے کہ ہم گھر لیٹ آئیں گے

تو شہزاد اس کی بات مان گیا اور ثمرین کا سہارا لے کر بائیک کی طرف چلنے لگے۔ شہزاد نے بائیک کو سٹارٹ کیا اور بہت سنبھل کر چلانے لگا اور ثمرین آگے مین روڈ سے اس کو راستہ سمجھانے لگی کے کس طرف اور کہاں جانا ہے۔

ثمرین موجودہ صورت حال سے بہت خوش تھی کہ بچنے کی کوئی امید نہ ہوتے ہوئے بھی پتہ نہیں کیسے ایک غیبی امداد کے طور پر شہزاد وہاں پہنچ گیا اور اس نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دانیال اور اس کے دوستوں کے ساتھ لڑ پڑا اور کسی فلمی سین کی کی طرح لیکن اصل میں اس نے سب کو زمین چٹائی اور ان کا بہت برا حال کر دیا لیکن ثمرین جتنی خوش تھی اس سے زیادہ پریشان اور گھبرائ ہوئ تھی کیونکہ یہ ساری لڑائی کسی فلم کی لڑائی نہیں تھی کہ ہیرو کو کچھ نہ ہو اور وہ سب کو دھو دے یہ ایک اصلی جنگ ہوئی تھی جس میں شہزاد کی اپنی حالت بہت خراب ہوگئی تھی وہ جوش و جذبے سے لڑا لیکن زخمی خود بھی بہت ہوا اور اس کا کافی خون بہا تھا اس وجہ سے ثمرین بہت پریشان تھی اور دل ہی دل میں دعائیں مانگ رہی تھی کہ شہزاد کو کچھ نہ ہو اس کی جان چلی جائے لیکن شہزاد ٹھیک ٹھاک ہوجائے

شہزاد بہت مشکل سے ثمرین کی دوست ماہم کے گھر پہنچا تو ثمرین جلدی سے بائیک سے اتری اور گھر کی بیل بجا دی

گھر کا دروازہ جلدی ہی کھل گیا اور دروازہ کھولنے والی ایک چھبیس ستائیس سالہ بہت خوبصورت لڑکی ماہم تھی جو کہ ثمرین کی بیسٹ فرینڈ تھی۔ ثمرین اور شہزاد کی حالت دیکھ کر اس کے چہرے پر حیرت اور پریشانی چاگئ اور اس نے ایک ہی سانس میں کہا

ثمرین کیا ہوا اور یہ کون ہے اس کی یہ حالت کیسے ہوئی

ثمرین نے جلدی سے شہزاد کو سہارا دیا اور اس کو لے کر گھر میں گھستے ہوئے ماہم کو بولی

ثمرین بولی

ماہم میری مدد کرو مجھے تمہاری مدد درکار ہے

ماہم اور ثمرین نے ملکر شہزاد کو سنبھالا اور اس کو اندر کمرے میں کے جا کر بیڈ پر لیٹا دیا تو ماہم ایک بار بھر پوچھنے لگی

یہ سب کیا ہے اور یہ کون ہے مجھے بتاؤ پلیز

ثمرین بولی

بعد میں سب بتاتی ہوں پہلے تم شہزاد کا کچھ کرو ہم ہسپتال نہیں جاسکتے

ماہم بولی

اس کو وہاں دوسرے کمرے میں لے جاتے ہیں اس میں سارا میڈیکل کا سامان بھی پڑا ہے

تو ثمرین نے جلدی سے دوبارہ شہزاد کو اٹھایا ماہم نے بھی مدد کی اور شہزاد کو دوسرے کمرے میں لے گئے اور وہاں سٹریچر قسم کے بیڈ پر اس کو لیٹا دیا

ماہم نے جلدی سے کسی فون کیا اور کچھ انجیکشن اور دوائیاں منگوائی اتنی دیر میں ماہم نے شہزاد کے زخموں کی صفائ شروع کر دی تھی ادھر کچھ ہی دیر میں ایک لڑکا آ کر انجیکشن اور دوائیاں دے گیا کیونکہ میڈیکل سٹور گھر کے پاس ہی تھا

ماہم نے جلدی جلدی شہزاد کے زخموں کو ساف کر کے مرہم پٹی لگائ اور اس کو کچھ انجیکشن بھی لگائے اس کے بعد اس نے کچھ گولیاں نکالی اور ثمرین جو پانی کا اشارہ کیا اور وہ گولیاں شہزاد کو سہارا دے کر ایک ایک کر کے پانی کے ساتھ کھلادیں

اصل میں ماہم ایک ڈاکٹر تھی اور اس نے گھر پر ہی ایک چھوٹا سا کلینک بنایا ہوا تھا جہاں وہ صرف اپنے جان پہچان والوں کا ہی علاج معالجہ کرتی تھی۔ ہسپتال وغیرہ کی جا۔ وہ ایک حادثے کی وجہ سے چھوڑ چکی تھی

اس حادثے کی کہانی آگے چل کر آپ کو پتہ لگ جائے گی

 

انجیکشن اور دواؤں کے زیر اسر شہزاد ہر نیند طاری ہو گئی تو ماہم نے ثمرین کو بتایا کہ شہزاد اب تین سے چار گھنٹوں کے لیئے سوتا رہے گا کیونکہ اسے آرام کی ضرورت ہے اٹھنے کے بعد شہزاد کافی بہتر ہوگا۔

ثمرین نے سوچا گھر فون کر کے دیر سے آنے کی اطلاع کردی جائے اور گھر فون ملا دیا فون فریال چاچی نے اٹھایا اور ہیلو کیا

ثمرین

چاچی ہم تھوڑا لیٹ آئیے گے آپ گھر میں سب کو بتا دینا

فریال

کیا ہوا کوئی پریشانی تو نہیں شہزاد کہاں ہے

ثمرین اس اچانک سوال پر ہکلا گئ

چاچی وہ وہ

فریال جلدی سے بولی

کیا وہ لگائی ہے مجھے بتاؤ کیا مسلہ ہے

چاچی کی بات سن کے ثمرین اور گھبرا گئیبولی

چاچی چاچی کوئ مسئلہ نہیں

فریال

تو شہزاد سے میری بات کرا جلدی سے

ثمرین بولی

چاچی وہ واشروم گیا ہے

فریال پریشانی سے بولی

ثمرین تم مجھے سچ سچ بتاؤ کیا ہوا ہے میرا دل بہت گھبرا رہا ہے کیونکہ شہزاد کو میں نے ہی تمہارے پیچھے بھیجا تھا اس لیئے اب مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے سچ سچ بتانا پلیز پلیز میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی مجھے بتاؤ

فریال کی بات سن کر ثمرین کا دل بھر آیا کیونکہ وہ جانتی تھی کی فریال چاچی ان سب سے کتنا پیار کرتی ہیں اور ان کی کتنی فکر کر رہیں ہیں تو اس نے فیصلہ کیا اور کہا

چاچی نی آپ جو ایڈریس سمجھا رہی ہوں یہاں ہر آجاؤ آپ میں آپ کو سب کچھ بتا دوں گی

فریال جلدی سے بولی

ایڈریس سمجھاؤ میں ابھی آئی

تو ثمرین نے ماہم کے گھر کا پتہ تفصیل سے سمجھایا اور ہر فون بند کر دیا

ثمرین کو فون بند کرتے دیکھ کر ماہم بولی

ثمرین اب مجھے بتاؤ کے کیا بات ہے اور تم لوگوں کی یہ حالت کیسے ہوئی اور جس نے کی مجھے سب کچھ سچ بتاؤ تم میری بیسٹ فرینڈ ہو اور آج تک میں نے تم سے کوئی بات نہیں چھپائی

اس پر ثمرین بولی

ماہم میں تم سے کوئی بات نہیں چھپاتی اور نہکبھی ایسا ہوا ہے بس تم تھوڑی دیر تک صبر کرلو فریال چاچی آرہی ہے پر دونوں کو ایک ساتھ سب کچھ بتا دوں گی کچھ نہیں چھپاؤں گی

ماہم

ٹھیک ہے ثمرین جیسے تمہاری مرضی

تھوڑی دیر بعد دروازے کی گھنٹی بجی تو ماہم نے جا کر دروازہ کھولا تو فریال ہی آئی ہوئی تھی ماہم اس کو لے کراندر کمرے میں گئی جہاں شہزاد بے ہوش پڑاہوا تھا اور ثمرین رو رہی تھی فریال کو دیکھ کر ثمرین جلدی سے اُٹھی اور فریال کو گلے لگ کر روتے ہوئے کہنے لگی کی

یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے چاچی میں اس سب کی قصور وار ہوں

فریال بولی

رو مت میری بچی چپ ہو جا  اور مجھے بتا کے کیا ہوا ہے تم لوگوں کے ساتھ اور شہزاد کی یہ حالت کس نے کی ہے؟

تو روتے روتے ثمرین نے ماہم اور فریال کو ساری کہانی بتا دی کہ کس طرح اس کے کالج کے لوفر اس کو بلیک میل کر رہے تھے اور اس کی عزت خراب کرنے کے چکر میں تھے کہ عین موقع پر شہزاد پہنچ گیا اور ان کے ساتھ جان پر کھیل کر لڑا اور مجھے بچایا لیکن اس کو بھی کافی چوٹیں آئی جس کی وجہ سے اس کی یہ حالت ہوگئی۔

ساری بات سُن کر فریال چاچی کے تو ہوش ہی اُڑ گئے اور شہزاد کو گولی لگنے کا سُن کر تو اس کی دھڑکنیں رکھنے لگی وہ بھاگ کر شہزاد کے پاس گئی اور اس کے جسم پر جگہ جگہ ہاتھ پھیرکے دیکتھی رہی اس کی ایسی حالت دیکھ کے ثمرین تو اور رونے لگی لیکن ماہم جلدی سے اُٹھ کر فریال چاچی کے پاس گئی اور اس کو تھام کر حوصلہ دیا اور کہا

فریال چاچی شہزاد کو کچھ نہیں ہوا بلکل ٹھیک ہے پستول کی گولی اس کوصرف زخمی کر کے بازو سے نکل گئی ہے اور زیادہ خون بہنے کی وجہ سے اس کو کمزوری ہوگئی ہے میں نے انجیکشن لگا دیئے ہیں اور دوائی دی ہے اب یہ جیسے ہی ہوش میں آئے گا تو بہت بہتر ہوگا

تب جا کے فریال کو کچھ سکون آیا نہیں تو وہ بہت زیادہ گھبراگئی تھی۔ تب فریال چاچی نے کہا

مجھے پہلے ہی پتہ تھا کہ کچھ تو گڑبڑ ہے تبھی میں نے صبح تمہاری کالج کی کتاب چوری کی اور بھر تمہارے جانے کے بعد شہزاد کو تمہارے پیچھے کتاب دے کر بھیجا کہ تم بھول گئی ہو۔ اتنا سب کچھ ہوگیا میں تو سمجھی تھی کہ تھوڑی بہت پریشانی ہوگی تم کو لیکن اتنا بڑا حادثہ اُپر والا خیر کرے اور شہزاد کو کچھ جہ ہو نہیں رہ میں دیدی کو کیا جواب دوں گی؟

ماہم بولی

شہزاد ابھی بلکل ٹھیک ہے آپ دل چھوٹا نہ کریں 2 سے 3 گھنٹے میں ہوش آجائے گا پر اپ خود دیکھ لینا کہ بلکل ٹھیک ہوگا۔

فریال دعا مانگتے ہوئے بولی

اُپر والا کرے کہ ایسا ہی ہو۔

فریال چاچی شہزاد کے پاس ہی بیٹھ گئی اور ماہم ثمرین کو لے کر دوسرے کمرے میں چلی گئی اس نے ثمرین کو اپنا ایک جوڑا نکال کر دیا کہ وہ اپنے کپڑے چینج کرلے کیونکہ اس کے کپڑوں کی بھی حالت بہت خراب تھی اس پر جگہ جگہ خون لگا ہوا تھا اور اس کے بال بھی بکھرے ہوئے تھے ماہم نے اس کو کہا کہ کپڑے چینج کرکے فریش ہو کر آجاؤ۔ ماہم نے ایک جوڑا کپڑوں کا اور نکالا شہزاد کے لئے وہ جوڑا لے کر فریال کے پاس کلینک کے کمرے میں آئی اور کپڑے فریال کو دیتے ہوئے بولی کہ یہ شہزاد کو پہنا دیں اس کے کپڑوں کی بہت بری حالت ہے اور کچھ میں نے پٹی وغیرہ کرنے کے لئے کینچی سے پھاڑ دیئے تھے۔

تو فریال نے کہاں کہ

میں اکیلے تو شہزاد کو کپڑے نہیں پہنا سکوں گی تم کو میری مدد کرنی ہوگی

ماہم نے کہا کہ ٹھیک ہے

پھر دونوں نے مل کر شہزاد کی قمیض پہلے کاٹ کر نکالی اور اس کے جسم کو تولیے سے صاف کر کے دوسری شرٹ پہنائی اس کے بعد جب شلوار اتارنے کی باری آئی تو دونوں تھوڑی سی جھجک گئی اور ایک دوسرے کی طرف دیکھا تو فریال نے ہاں میں سر ہلا دیا اور شہزاد کی شلوار بھی اتاری تو جیسے ہی شلوار نیچے ہوئی تو دونوں کی نظریں شہزاد رُستم زماں پر پڑی جو سوئی ہوئی حالت میں ہونے کے باوجود ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے سویا ہوا شیراس حالت میں بھی کسی راجہ کی شان تھی اس میں فریال بھی اس کو دیکھ کے حیران رہ گئی جبکہ صبح اسی شیر کو دیکھ کر اس کی حالت پتلی ہوگئی تھی اور وہ خود پر قانو نہ رکھ سکی اور شلوار میں ہی رُستم زماں کو کسی ناگ کی طرح پھن پہلائے ہوئے پکڑا تھا اور اب اس کو دیکھ کے اس کو جھٹکا لگ گیا لیکن اس نے خود کوقابو میں رکھا لیکن ماہم کا جہرہ لال سُرخ ہوگیا شرم کے مارے اس کی بھی دھڑکن بے ترتیب ہوگئی لیکن وہ بھی کوئی اناڑی نہیں تھی اور نہ پہلئ دفعہ دیکھ رہی تھی بس فرق یہ تھا کہ اس عمرمیں اتنا بڑا ہتھیار اس نے بھی نہیں دیکھا تھا سُنا ضرور تھا لیکن دیکھا نہیں تھا

خیر دونوں نے مل کر شہزاد کو شلوار پہنائی اور ماہم گندے کپڑے لے کر کمرے سے باہر چلی گئی جبکہ فریال کمرے میں موجود واشروم میں گئی ہاتھ دھونے (ابھی کسی اور فن کا نہ سوچیں) واشروم سے واپس آکر فریال شہزاد کے سٹریچر نما بیڈ کے پاس موجود کرسی پر بھیٹھ گئی اور شہزاد کے ہوش میں آنے کا انتظار کرنے لگی

کافی دیر کے بعد شہزاد کو ہوش آیا تو پہلے تو اس کو سمجھ نہیں آیا کہ کہاں ہے وہ خالی الذہنی کی حالت میں چت کو دیکھتا رہا جب اس کو یاد آیا کہ وہ اپنے گھر پر نہیں بلکہ ثمرین کی دوست کے گھر ہے اور جس حالت میں وہ ثمرین کے ساتھ یہاں آیا تھا وہ یاد آتے ہی وہ تیزی سے اُٹھنے لگا لیکن اس کے سر اور بازو میں درد کی شدید لہریں بلند ہوئی اور اس کے منہ سے ہائے کی آواز نکل گئی

شہزاد کی آواز سنتے ہی فریال ایک دم اُٹھی کیونکہ بیٹھے بیٹھے اس کی آنکھ لگ گئی تھی اور تیزی سے شہزاد پر جھک گئی اور اس کو پکڑ کر دوبارہ آرام سے سُلا دیا اور کہا کہ

شہزاد جلدی نہ کر صبر کر تھوڑا آرام سے ابھی لیٹا رہ تو زخمی ہے ٹھوڑا آرام کر۔

 شہزاد فریال چاچی کو دیکھ کے حیران ہوگیا اور کہا

چاچی آپ یہاں کیسے پہنچی ؟

فریال ناراضگی کی اداکاری کرتے ہوئے بولی

جی ہاں میں یہاں اپنے منے اپنے دوست کے پاس لیکن اس سے اتنا نہ ہوسکا کہ مجھے بتادیتا بس اتنا ہی پیار ہے اپنی چاچی سے ؟

شہزاد جلدی سے بولا

نہیں نہیں چاچی آپ تو میری سب سے پیاری چاچی ہوایسا نہ بولوچاچی

فریال اُٹھلاتے ہوئی بولی

رہنے دے پتہ چل گیا مجھے کہ میں کتنی پیاری ہوں

شہزاد بولا

نہیں چاچی سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کروں؟ ویسے چاچی اپ کب آئیں اور کیسے اپ کو پتہ چلا؟

فریال بولی

مجھے تقریبا تین سے چار گھنٹے ہوگئے ہیں

اور پر ثمرین کا گھر پہ فون آنے سے لے کر اب تک کی ساری تفصیل بتادی اور شہزاد سے پوچھا کہ اب تمہاری طبیعت کیسی ہے کیسا محسوس کر رہے ہو؟

شہزاد بولا

کہ میں اب تو کافی بہتر محسوس کر رہا ہوں اور اپ پریشان نہ ہوں میں ٹھیک ہوں

اتنے میں ثمرین اور ماہم کمرے میں داخل ہوئی

اور شہزاد کو دیکھ کر وہ ایک دفعہ پر سے رونے لگی اور اور دونوں ہاتھ جوڑ کر بولی

شہزاد مجھے معاف کر دو یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثمرین نے اتنا ہی کہا تھا کہ شہزاد نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔

 

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Link to comment
  • 3 weeks later...

احساس پیار کا

قسط نمبر 06

رائٹر : گل لالا

٭٭٭٭٭٭

ثمرین اور ماہم کمرے میں داخل ہوئی

اور شہزاد کو دیکھ کر وہ ایک دفعہ پر سے رونے لگی اور اور دونوں ہاتھ جوڑ کر بولی

شہزاد مجھے معاف کر دو یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثمرین نے اتنا ہی کہا تھا کہ شہزاد نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا

شہزاد خبردار جو منہ سے آگے ایک لفظ بھی نکالا نہیں تو میں تم سے بات نہیں کروں گا۔

ثمرین بے اختیار شہزاد کے گلے لگ گئی اور کہا

شہزاد اگر تو بات نہیں کرے گا تو میں زندہ کیسے رہوں گی اب تو میری زندگی پر تیرا حق ہے کیونکہ اس زندگی کو تو نے برباد ہونے سے بچایا ہے اگر تو روٹھ گیا تو میں اپنی جان دے دوں گی۔

ثمرین کی بات سن کر شہزاد ہنسنے لگا اور کہا

میں تو مذاق کر رہا تھا پاگل اور تو اتنی سیرئس ہوگئی پگلی کہیں کی

ثمرین روتے ہوئے بولی

نہیں شہزاد میں سچ کہ رہی ہوں میری یہ بات یاد رکھنا کبھی مجھ سے نہیں روٹھنا

 ثمرین کا جذباتی سین دیکھ کر فریال ہنستے ہوئے بولی

ہم بھی یہاں پر ہیں کبھی ہم پر بھی اپنے پیار کی برسات کردو کیوں ماہم کیا خیال ہے؟

فریال کی بات سن کر ماہم بھی ہنسنے لگی اور کہا

آئے ہائے ہماری ایسی قسمت کہاں کہ کوئ ہم سے ایسی بات کرے اور ہم اس کے پیار کے سمندر میں غوطے لگائیں

ماہم کی بات سن کر فریال اور زیادہ ہنسنے لگی تو ثمرین اور شہزاد ایسے شرمانے لگے جیسے نئی نویلی دلہن اور دلہا چیڑ چھاڑ کرتے پکڑے جائیں۔ تب فریال بولی کہ

چلو اب ہم چلتے ہیں لیکن جائیں گے کیسے ؟

تب شہزاد بولا کہ

ایک بات دونوں سن لو گھر میں کسی کو بھی اس بات کا پتہ نہیں لگنا چاہئے

تو فریال بولی

اس میں ایسی کونسی چھپانے والی بات ہے جس کو بھی اس بات کا پتہ چلے گا سب تم سے خوش ہوں گے اور ہم سب تم پر فخر کرتے ہیں

شہزاد بولا

ںہیں چاچی یہ بات اگر فیملی میں کسی کو بھی پتہ چلی تو بات باہر بھی جائے گی اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی ثمرین دیدی کے بارے میں کوئی غلط بات کرے کسی بھی طرح ثمرین دیدی کی عزت پر آنچ نہیں آنی چاہئے۔ گھر میں ہم بتا دیں گے کہ ہمارا ایکسیڈنٹ ہوا تھا بائیک پسل گئی تھی جس کی وجہ سے مجھے چوٹ آئی ہے تو ثمرین نے گھر فون کیا تو اپ سے بات ہوئی تو اپ نے کہا کہ ابھی کسی کو نہیں بتاو میں آرہی ہوں۔ اسطرح آپ نے خود آکر مجھے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی اور دوائی وغیرہ دلائی بائیک ہم نے وہیں پر مکینک کے پاس کھڑی کر دی۔ یہ بات ہونی چاہئے گھر میں اس کے علاوہ کوئی بات کسی کو بھی کبھی پتہ نہ چلے یہ صرف ہمارا راز ہوگا۔

شہزاد کی بات سُن کر فریال بے اختیار شہزاد کی طرف بھڑی اور شہزاد کو کس کر گلے لگا لیا اور کہا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہا کہ

شہزاد ہم اور ہماری فیملی تم پر جتنا بھی فخر کریں کم ہے یہ بات ہم سب جانتے تھے کہ تم ہماری اور ہمارے خاندان کی شان ہو آج یہ ثابت بھی ہوگیا کہ تم نہ صرف ہماری شان ہو بلکہ ہماری آن بھی ہو ہم تم پر جتنا بھی فخر کریں اور جتنا بھی پیار دیں وہ کم ہے۔

یہ جذباتی سین دیکھ کر ماہم کی بھی آنکھوں میں آنسو آگئے تو وہ جلدی سے بولی کہ

شہزاد یاد رہے کل تم نے پٹی تبدیل کروانی ہوگی اور ثمرین تم شہزاد کا خیال رکھنا دوائی میں لکھ کر دیتی ہوں وہ جاتے ساتھ سٹور سے لیتے جانا اور وقت پر شہزاد کو دیتی رہنا یاد سے بھول نہیں جانا۔

ثمرین

ٹھیک ہے ماہم میں تمہارا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھوں گی

ماہم غصہ دکھاتے ہوئے بولی

ایک لگاو گی اگر دوبارہ یہ بات کی تو ثمرین کی بچی تم میری پہترین دوستوں میں سے ہو اور دوستی میں نہ احسان کیا جاتا ہے اور نہ لیا جاتا ہے جس کے بس میں جو ہوتا ہے وہ کرتا ہے دوبارہ ایسی بات نہیں کرنا

اور ثمرین کو گلے لگا لیتی ہے

ماہم نے دوائی لکھ کر دی تو فریال ٹمرین اور شہزاد گھر سے باہر نکلے اور ایک گزرتی ہوئی ٹیکسی کو ہاتھ دیا اتفاق سے وہ ٹیکسی خالی تھی ٹیکسی والے کو پتہ بتا کر وہ ٹیکسی میں بیٹھ گئے اور ڈرائیورکو کہا کہ راستے میں جا بھی میڈیکل سٹور نظر آئے اس کے پاس روکھ لینا دوائی لینی ہے کچھ دور ہی میڈیکل سٹور نظر آیا تو وہاں سے دوائی لے کر گھر کی طرف چل دئے

گھر پہنچ کر یہ لوگ جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے تو فرزانہ سامنے سے آرہی تھی اس نے جب شہزاد کو زخمی حالت میں دیکھا تو بھاگ کر ان کے پاس آئی اور شہزاد کے جسم پر ہاتھ پیرتے ہوئے پریشانی سے بولی

کیا ہوا ہے میرے بچے کوکیسے یہ چوٹیں آئی ہے اس کو میرا بچہ ہائے میں قربان جاو

تو فریال جلدی سے بولی

کچھ نہیں دیدی بس چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا ہے شہزاد شکر ہے کہ ٹھیک ٹھاک ہے زیادہ چوٹ نہیں آئی اس کو۔

فرزانہ اسی طرح پریشانی میں بولی

میرے بچے کیسے ہوا ایکسیڈنٹ تم ٹھیک تو ہو اف بہت درد ہورہا ہوگا تم کو میرے بچے فریال اس کو ڈاکٹر کے پاس لے کے گئی ہو نہیں تو ڈاکٹر کو گھر پر بلا لیتے ہیں۔

شہزاد جلدی سے ہنستے ہوئے بولا

نہیں بڑی ماں چاچی مجھے زبردستی ڈاکٹر کے پاس لے گئی تھی ثمرین نے گھر فون کردیا تھا تو چاچی جلدی سے وہاں آگئی تھی ڈاکٹر نےدوائی دی ہے اور میں بھی ٹھیک ہوں زیادہ چوٹ نہیں آئی اچھا ہوا کہ ثمرین دیدی کو کچھ نہیں ہوا وہ بلکل بچھ گئی

ثمرین بھی جلدی سے بولی

امی میں تو بچھ گئی ہوں لیکن شہزاد کو چوٹ لگی ہے اس کو اندر کمرے میں لے کر چلتے ہیں وہاں انٹرویو کر لینا اس کو آرام کی ضرورت ہے

فرزانہ بولی

ٹھیک ہے چلو میرے بچے

اور شہزاد کو کمرے کی طرف لے کر چلدئے فریال نے ثمرین کو اس کے کمرے میں بھیج دیا اور خود فرزانہ دیدی کے ساتھ شہزاد کو اس کے کمرے میں لے گئی

شہزاد کو اس کے کمرے میں چھوڑ کر فرزانہ نیچے چلی گئی لیکن فریال شہزاد کے ساتھ ہی رکھ گئی تو فریال شہزاد کو بولی

شہزاد تمہیں ڈر نہیں لگا وہاں پر کیونکہ وہ تو اتنے زیادہ تھے اور تم اکیلے

شہزاد بولا

نہیں چاچی دیدی کو روتے دیکھ کر تو مجھے پتہ نہیں کیا ہوگیا میرا دل کر رہا تھا کہ ان سب کو جان سے مار دوں کسی کو زندہ نہ رہنے دوں

فریال لاڈ بھرے انداس میں بولی

اوئے ہوئے ہمارا منا بڑا ہوگیا ہے

 (لیکن دل میں بولی کہ وہ تو کچھ زیادہ ہی بڑا ہوگیا ہے آج تو جان پر بن گئی تھی بڑی مشکل سے خود پر کنٹرول کیا تھا جب دیکھا تھا اور وہ ماہم کی بھی آنکھیں نکل آئی تھی دیکھ کے سویا ہوا بھی کتنا بڑا لگ رہا تھا ماہم تو کانپنے لگ گئی تھی دیکھنے سے ہی ابھی تک دل بے چین ہے دل کرتا ہے کہ دوبارہ دیکھوں اور اس کے ساتھ پیار کروں لیکن کیسے سمجھ نہیں آرہا تھا)

شہزاد فریال چاچی کو خاموش اور کھویا ہوا دیکھ کر حیران ہوگیا اور بولا

چاچی کیا ہوا کہاں کھو گئی ہو کوئی پریشانی ہے کیا مجھے بتاو چاچی؟

فریال چونک کر بولی

نہیں شیزاد کچھ نہیں بس ایسے ہی چلو تم آرام کرو اور میں کھانا بنا کر لاتی ہوں اپنے منے کے لیئے۔

اور شہزاد کے گال پر پیار سے بوسہ دے کر چلی گئی کھانا بنانے کے لئیے۔ شہزاد بھی لیٹ گیا کیونکہ اس کو بھی کمزوری محسوس ہوری تھی اور نیند آرہی تھی شہزاد کی بھی آنکھ لگ گئی

شام کو فریال کھانا تیار کرکے لے کر آگئی تو شہزاد جاگ رہا تھا اور پہلے سے بہت بہتر محسوس کر رہا تھا اس نے کہا

چاچی لاسٹک ہے تو مجھے تھوڑا لا کر دو

فریال حیرت سے بولی

لاسٹک کا کیا کرنا ہے کیا ضرورت پڑگئی تمہیں؟

توشہزاد بولا

وہ چاچی شلوار میں ڈالنا ہے مجھے واشروم استعمال کرتے وقت بہت مشکل ہوتی ہے شلوار میں لاسٹک ہوگی تو آسانی رہے گی۔

شہزاد کی بات سن کر فریال کے دماغ کی بتی جل گئی اور اس کے دل میں جلترنگ بجنے لگی اور اس کو شہزاد کے ساتھ فری ہونے کا چانس نظرآنے لگا اس کے دل میں ابھی سے صرف سوچ کر ہی گُدگدی ہونے لگی اور اس کی رانی رونے لگی۔ اب شہزاد کو رام کرنے کا ایڈیا اس کو مل گیا اور اس پر وہ بہت ہی خوش ہوئی اس کی آنکھوں میں خوابوں نے بسیرا کر لیا۔

ادھر شہزاد فریال چاچی سے اپنی کہی ہوئی بات کے جواب کے انتظارمیں چاچی کو دیکھے جارہا تھا لیکن چاچی تو خاموش اور گم سم تھی تو شہزاد نے پریشانی سے بولا

چاچی کیا ہوا آپکو کوئی پریشانی ہے یا کوئی اور وجہ ہے کہ اپ سوچوں میں ڈوب گئی اور میری بات کا جواب نہ دیا

فریال شہزاد کی آواز سنتے ہی اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آگئی اور فوری بات بنا کر بولی کہ نہیں کچھ نہیں بس ایسے ہی خیال آگیا کہ تمہاری امی رمشاء دیدی کو جب پتہ چلے گا کہ تیرا ایکسیڈنٹ ہوا ہے تو اس کی کیا حالت ہوگی؟

شہزاد ہنس کے بولا

ارے چاچی تم بھی نہ کیا کیا سوچتی رہتی ہو جب امی آئے گی تو دیکھا جائے گا میں بھی کونسا اتنا زخمی ہوا ہوں بس جب تک امی آئے گی میں ٹھیک ہوجاؤں گا۔ اپ میرا مسلہ حل کریں اور مجھے الاسٹک لا کر دیں تاکہ میں واشروم جا سکوں مجھے جلدی کر کے دیں۔

فریال سوچنے کی اداکاری کرتے ہوئے

اس ٹائم تو الاسٹک نہیں مل سکتا کیونکہ میرے پاس ختم ہوچکا ہے اور گھر باہر سے منگوانا پڑے گا اور اس ٹائم دکانیں بند ہونگی تو صبح ہی ملے گا تم کو اگر واشروم جانا ہے تو میں مدد کردیتی ہوں اس کے لئے پریشان ہونے کی تمہیں کوئی ضروت نہیں۔

شہزاد حیرت سے بولا

چاچی آپ کیسے ؟

فریال بولی

تو میں تیری گرل فرینڈ میرا کو بلا دیتی ہوں

فریال یہ کہ کر ہنسنے لگی اور شہزاد شرم سے لالا ہوکر بولا

چاچی آپ بھی میرا مذاق بنا رہی ہیں آپ کو بتایا تو تھا کہ میرا صرف میری دوست ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں

فریال بدستور ہنستے ہوئے بولی

میرے چنوں منوں میں تو مذاق کر رہی ہوں تم سے چلو میرے ساتھ میں لے کر چلتی ہوں تم کو واشروم آخر ہم بیسٹ فرینڈ ہیں اور فرینڈ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔

شہزاد شرماتے ہوئے اور گھبراتے ہوئے بولا

چاچی کوئی دیکھ لے گا تو کیا سوچے گا

فریال جس کے من میں لڈو پوٹ رہے تھے اپنی کامیابی پر جلدی سے دروازہ بند کرتے ہوئے بولی

سب گھر والے نیچے بیٹھے گپ شپ کر رہے ہیں اور پھر بھی احتیاط کے پیش نظر میں نے دروازہ بند کر دیا اب بے فکر ہو کر آجا شرما مت ایسا نہ ہو کہ یہیں پر کپڑے خراب ہوجائے تمہارے میرے منے ۔نہیں تو وہ بھی مجھے صاف کرنے پڑیں گے۔

اور ہنستے ہوئے شہزاد کو سہارا دے کر واشروم کی طرف لے جانے لگی تو شہزاد بھی ساتھ میں چل دیا۔ لیکن اس کا دل بڑی تیزی سے دھڑکنے لگ گیا کہ ایک عورت کے سامنے وہ واشروم استعمال کرنے کے لئے ننگا ہوگا اور عورت بھی اس کی پیاری چاچی اس کو ننگا دیکھے گی تو پتہ نہیں کیا سوچے گی۔ اور اس کو خود کیسا فیل ہوگا وہ خود اپنے اپ پر اپنی فیلینگز پر کتنا کنٹرول کرسکے گا؟

ادھر فریال کی کی اپنی بھی حالت ٹائٹ تھی اس نے شہزاد کو کہ تو دیا اور سوچا بھی اس نے بہت کچھ تھا اوراپنی خیالی دنیا میں تو وہ بہت آکے بڑھ گئی تھی لیکن اب جب عمل کرنے کا وقت آیا تو اس کے خود کے ہاتھ پیر کانپنے لگے لیکن وہ خود پر جبر کئے اپنے پلان کو عملی جامہ پہنانے پہ تلی ہوئی تھی اور خود پر آخری حد تک کنٹرول کر رہی تھی، بہر حال وہ کوئی بچی تونہ تھی ایک شادی شدہ عورت تھی اور مرد عورت کے درمیان کی ساری حدیں پلانگ چکی تھی اب اس میں وہ نئی نویلی لڑکیوں والی فیلنگز نہ تھی بلکہ اب وہ ایک پختہ سوچ اور مزاج کی تھی۔

شہزاد فریال چاچی کے ساتھ واشروم میں کھس گیا اور کموڈ کے پاس رکھا تو فریال چاچی نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کا ناڑؑا کھولا شہزاد نے شرم کے مارے اپنی آنکھیں بند کر لی لیکن فریال بھی شہزاد کے چہرے کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی کیونکہ وہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ شہزاد بدک جائے۔ ناڑاکھلنے کے بعد شہزاد نے اپنے صحیح ہاتھ سے اپنی شلوار سنبھالی ہوئی تھی اوردوسرے ہاتھ سے وہ اپنے ہتھیار کو نہیں پکڑسکتا تھا اوراس کو یہی پریشانی تھی لیکن فریال بھی اس بات کو سمجھتی تھی اور وہ یہ چانس مس نہیں کرنا چاہتی تھی اس نے فوری طور پر اپنا ہاتھ بڑھا کر شہزاد کا لن پکڑ کر کموڈ کی طرف اس کی ٹوپی کا رُخ کر دیا ادھر جیسے ہی فریال نے شہزاد کا لن پکڑا شہزاد پوری جان سے لرزگیا اور اس پر کپکپاہٹ شروع ہوگئی اور خود پر کنٹرول کرنے کے چکر میں اس کا پیشاب بھی نہیں ہورہا تھا کیونکہ اس کے ناگ سراُٹھانا شروع کردیا ناگن نے جو پکڑا تھا شہزاد بڑی مشکل میں پھنس گیا دل  کچھ کہ رہا تھا اور دماغ کچھ اور، کیا کرے اور کیا نہ کرے، کیا بولے اور کیا نہ بولے؟

فریال نے بھی لن کو پھولتے ہوے محصوس کر لیا اور اس کی چوت بھی پانی پانی ہوگئی اور لن مانگنے لگی لیکن وہ خود پر بہت جبر کر نے کے باوجود لن کو سہلانے لگی آگے پیچے کرنے لگی شہزاد فریال چاچی کے لن سہلانے پہ نشے کی سی حالت میں ہوگیا اس کی آنکھیں خودبہ خود بند ہوگئی اور اس کے دماغ کی بتی فیوز ہوگئی جو اسکو نصیحت کر رہی تھی اس کے باوجود وہ خود میں کچھ کرنے کی ہمت نہیں پا رہا تھا لن سہلاتے ہوئے اور ٹائٹ ہوگیا اور اس سے دھار نکلی جو سیدھی کموڈ کے پانی میں جاکرملنےلگی اور یہ دیکھ کر جذنات میں فریال نے شہزاد کا لن کچھ زیادہ ہی دبادیا کیونکہ اس کی اپنی بری حالت ہوچکی تھی تو شہزاد کے منہ سے درد کے مارے سسکاری نکل گئی اوراس کا زخمی ہاتھ بے اختیار سہارے کے لئے آگے ہوا اور اس نے کچھ پکڑ لیا اس کی آنکھیں تو بند تھی اس ٹائم لیکن ہاتھ نے اس کی بے خیالی میں اپنا کام پورا کر دیا اورفریال کا ایک ممہ بڑی زور سے پکڑ لیا جس کے بنا فریال کے منہ سے بھی ہلکی سی چیخ اوئی کی شکل میں نکل گئی اس پر شہزاد نے آنکھیں کھول کر جب دیکھا تو اس کے ہاتھ میں فریال چاچی کا ممہ دبا ہوا تھا اور کے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے۔ اس نے گھبرا کر جلدی سے فریال کا ممہ چھوڑا اور کہا

سہ سہ سہ سوری چاچی۔۔۔۔ غا ۔۔غا۔۔غلطی ہوگئی

اور جلدی سے اپنی شلوار اُٹھانے کو جھک گیا فریال نےکہا

کوئ بات نہیں  میں سمجھتی ہوں ۔ لیکن یار بہت زور سے دبایا ۔ تو نے اپنا کام کر لیا صبر صاف تو کردوں۔۔۔

یہ کہ کر فریال نے  بھی اس کا لن چھوڑ دیا اورجلدی سے ٹیشو پیپر اُٹھا کر شہزاد کے لن کی ٹوپی صاف کر کے  شہزاد کی شلوار درست کر کے ناڑا باندھ دیا۔ اور بیسن پر ہاتھ دھونے لگی نہ وہ شہزاد کی طرف دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی اور نہ شہزاد دونوں کے چہرے جذبات کی شدت سے لال انگارہ ہوچکے تھے۔

فریال نے شہزاد کے ہاتھ دھونے کے بعد دوبارہ شہزاد کو سہارا دیتے ہوئے کمرے میں لے کر آئی اورشہزاد کے لئے کھانا لگاتے  ہوئےکہا

فریال

تم آرام سےپیٹ بھر کر کھانا کھاو پر میں نے برتن بھی واپس لے کر جانے ہیں ۔

جاری ہے ۔۔۔۔

Link to comment
  • 2 weeks later...

زبردست گل لالا 

فورم پر ایک نئے رائٹر کا  اضافہ 

آغاز تو اچھا ھےتھوڑی املا کی غلطیاں ہیں ان کو درست کرنے کی کوشش کریں برائے مہربانی 

ناراضگی معاف 

Link to comment

بہترین آغاز کے ساتھ  کہانی بہت اچھے سے آگے بڑھ رہی ہے۔امید کرتے ہیں کہ آگے جا کر کہانی ایک بہترین کہانی میں ڈھل جائے گی اور فورم کو ایک عمدہ رائٹر آپ کی صورت میں مل جائے گا۔

Link to comment

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...