Disable Screen Capture Jump to content
Novels Library Plus ×
URDU FUN CLUB

سوتن میری سہیلی


Recommended Posts

حوریہ نے دیکھا گلاس ڈور سے کوئی ھے جو باہر سے ان کو  کرنے آرہا ھے تو اس نے نیہا کی طرف دیکھا جو آنکھیں بند کئیے گھوڑی بنی ھوئی تھی اور اسکی چوت کا گلابی سوراخ ڈور کی طرف تھا اور ایک دم ڈور کھلا تو حور نے دیکھا شاہد روم میں آ گئیا دراصل شاہد کو میسج پر حوریا سب کچھ بتا چکی تھی

حوریہ نے اشارے سے نیہا کو چپ رہنے کا اشارہ کیا وہ پرے ہٹ گئ اور شاہد نے پاؤں کے بل بیٹھ کر حور کے چوتڑ پر اپنا ہاتھ رکھا اور اسکی چوت کے گیلے پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے اور چوسنا شروع کردیا شاہد کی زبان کا لمس پاکر نیہاکو کرنٹ سا لگا تو اس نے پیچھے ہاتھ مار کر دیکھا تو اسکے ہاتھوں میں شاہد کے چھوٹے چھوٹے بال آ گئے وہ جھٹ سے کھڑی ھو گئ

نیہا جیسے ھی کھڑی ھوئی اسکو برہنہ حالت میں دیکھ شاہد کا لنڈ کھڑا ھوگیا اسکی پینٹ میں ہلچل سی پیدا ھو گئ بھابھی تم نیہا بولی تم کب آۓ اور حوریہ تم نے بتایا نہیں کہ شاہد آ گئیا ھے شاہد باہر جانے لگا تو حور نے نیہا کے کان میں کہا اب موقع ھے ایسا پرفارم کرو کہ شاہد کو سب سچ ھی لگے کہ تم بہت مجبور ھو کر کر رہی نیہا بولی وہی تو میں کر رھی ھوں تم تماشہ دیکھو

شاہد کمرے سے باہر جا چکا تھا حوریہ ننگی بھاگتی ھوئی گئ اور بولی کدھر جارھے ھو نیہا کی باتوں کا برا مت مانو الٹا ھم آج اسکو اپنے مشن میں شامل کر لیتے ھیں یہی تو مو قع ھے حوریہ نے دونوں طرف تیر چلا دیا شاہد نے نیہا کا پتلا گورا وجود دیکھ کر کہا لگتا ھے آج بادل کھل کر برسیں گے تو نیہا بولی آج برسات بھی دیکھنی ھے اور رفتار بھی حوریہ نے شاہد کی پینٹ کی زپ کھولتے ھوۓ کہا آج میدان خالی ھے نوابزادے تم اپنے گھوڑے کھل کر دوڑاؤ

حوریہ نے شاہد کے لنڈ پر اپنے لب رکھ دئیے اور اسے چوسنے لگی شاہد نے بھی اس جشن کا آغازکرتے ھوۓ اپنے ھونٹ نیہا کے ھونٹوں سے ملا دئیے حور نے شاہد کے سپاڑے پر اپنے لب تنگ کر دئیے اور شاہد سرور میں ڈوب گیا اچانک نیہا شاہد سے لب ہٹاکر اسے غور سے دیکھنے لگی شاید اسکا ناٹک کرنے کا موڈ تھا

نوابزادہ شاھد نے اس کا بدن بغیر کپڑوں کے دیکھا تو اس کے اندر کی جوانی شور مچانے لگی اور کیوں نہ مچاتی نیہا سنجرانی تھی ہی اتنی پیاری 24 سالہ خوبرو ،32سائز کے چھاتیوں اور گلابی چوت کے ساتھ کسی بھی مرد کو اپنے آگ کے کنویں جیسی چوت میں پانی بہانے پر مجبور کر سکتی تھی ۔شاہد نے پہلے اس کے مموں کو دبا کے چوسنا شروع کیا تو

نیہا سنجرانی کو اس کے پاگل پن پر پیار آنے لگا اس نے.شاہد کو سر کے بالوں سے پکڑا تو نوابزادہ شاھد اس کے ابھرے ہوئے پستانوں کو اور ذیادہ برباد کرنے لگا وہ کبھی .نیہا سنجرانی کو دیکھتا کبھی مموں کو چوستا اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کیا چوسے اور کہاں کہاں سے چوسے وہ اس کے گرم جسم کو برداشت نہیں کرپا رہا تھا اس کے نظروں میں عجیب سی لالچ تھی وہ لالچی نطروں سے .نیہا سنجرانی کے پستانوں کو دیکھ کے چوس رہا تھا

نیہا اس کی نظروں کو سمجھ رہی تھی اس لئے جب وہ اس کی طرف دیکھتا تو .نیہا ہلکا سا مسکرادیتی اور .شاہد اس کی اس ادا سے متاثر ہوکر اس کے بٹن دار پستانوں کو چماٹ لگا کے اور زیادہ چوسنے لگتا۔

قریب 20 منٹ تک وہ اس کے پستانوں پر حملہ آور ہوتا رہا اتنے ٹائم میں کسی بھی مرد کی پیاسی عورت جس کو اپنے شوہر کے ہتھیار سے کبھی خوشی نہ ملی ہو گرم ہوجاتی ہے اور .نیہا کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا اس کے شادی کو 4 سال ہوگیئے تھے لیکن اس کے شوہر.بہرام حسن کے ناکارا لنڈ کے پانی سے اس کی چوت کی زمین ابھی تک سرسبز نہیں ہوسکی تھی 4 سال کی چودائی کے باوجود بھی وہ بنجر تھی اس نے اپنے شوہر کا بہت علاج کروایا بہت حکیموں کے پاس اس کو لیکر گئی جس طرح ہر عورت اولاد چاہتی ہے اسی طرح .نیہا بھی چاہتی تھی کہ اس کا گود بھر جائے وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھیلے ان کو اپنی چھاتیوں کا دودھ پلائیں لیکن ان سب کے لئے اسے کسی ایسے مرد کی ضرورت تھی

جو اس کی چوت کو اپنے لنڈ کی سفید دھار سے بھر دے جو اس کی چوت کی بنجر چوت کو سرسبز کرنے کا باعث بنے جبکہ دوسری طرف اس کا اپنا شوہر. صرف نام کا ہی مرد تھا باقی اس میں مردوں والی کوئی خوبی نہیں تھی اس میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ اپنی بیوی کے بیضے تک اپنا پانی پہنچا سکے۔

 اس امید پر اپنے ناکارا شوہر کے آگے ٹانگے کھول کر لیٹی رہی کہ کسی نہ کسی دن تو اس کا پانی میری چوت کی انتہا تک پہنچ کر ٹھہر ہی جائے گا لیکن وہ غلط تھی اس کے شوہر میں یہ خوبی ہی نہیں تھی کہ وہ اولاد پیدا کر سکے آخرکار تنگ آکر اس نے غیر ارادی طور پر کسی ایسے قابل بھروسہ مرد کو تلاش کرنا شروع کی جو اس کو صاحب اولاد بناسکے اس نے اپنے شوہر سے علیحدگی کا سوچا اور اس سلسلے میں اس نے نوابزادہ شاھد سے مدد طلب کی..نیہا چونکہ اس کے شوہر کا لنگوٹیا یار تھا اور ان لوگوں کے پرسنل لائف سے کافی حد تک با خبر بھی تھا۔ اس لیئے نیہا نے نوابزادہ شاھد کو سارا قصہ بیان کیا کہ تیرے دوست سے اب مجھے کوئی امید نہیں ہے اور میں مزید اس کو اپنی جوانی روندھنے نہیں دے سکتی اس لئے میرے پاس ایک ہی آپشن بچا ہے شاہد یہ سن کر کافی دیر تک سوچتا رہا

پھر اچانک بولا " اگر تم نے اس کو چھوڑا تو کوئی بھی اس سے شادی نہیں کرے گی اور تمہیں تو پتہ ہے وہ کتنا جذباتی ہے کہی وہ مایوس ہوکر اپنی زندگی ہی ختم نہ کردے" نیہا نے.نوابزادہ شاھد کی بات سن کر حیرانی سے کہا " یعنی تم چاہتے ہو کہ میں اس کی خوشی کے لئے اپنی خوشیاں داو پہ لگاو؟ "

" نہیں نہیں میرا ہرگز یہ مطلب نہیں تمہیں پورا حق ہے مرد سے خوشی حاصل کرنے کا" نوابزادہ شاھد نے فورا اس کے خیال کی تردید کردی۔

" پھر اس مسئلے کا حل کیا ہےشاہد ؟ تم ہی بتاو میں کیا کروں؟ "

نیہانے شاہد کو سوچو میں گم دیکھ کر سوال کیا۔

" میرے خیال میں ہمیں کچھ ایسا کرنا چاہئے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے"

نوابزادہ شاھد نے گہری سانس لے کر کہا۔

" کیا مطلب؟ شاہد نے ایک اور سوال کیا تو .شاہد اس کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا۔

" اگر تمہیں گھر کی دال نہیں پسند تو باہر کی بریانی کھالوں"

" کیا مطلب گھر کی دال نہیں پسند تو باہر کے بریانی کھالوں؟،،

پتہ نہیں نیہا واقعی نہیں سمجھی تھی یا سمجھنا نہیں چاہ رہی تھی لیکن .شاہد کے اتنے سمجھانے کے باوجود بھی نہیں سمجھی تو .شاہد کو غصہ آگیا اور اس نے نیہا کی آنکھوں میں دیکھ کے کہا۔ " یار اگر میرا دوست un fitہے تو کسی اور مرد سے"

"کیا؟؟؟"

شاہد نے ابھی جملہ پورا کرنے ہی والا تھا کہ نیہا نے اس کی بات بیچ میں کاٹ دی۔

" ہاں اب یہی ایک راستہ بچا ہے ۔ میں اپنے دوست کو مرتا نہیں دیکھ سکتا"

لیکن یہ تو گناہ بھی ہے اور اس کے ساتھ دھوکا بھی ہے "

" دیکھو..نیہااگر دھوکا دینے سے اس کی زندگی بچ سکتی ہے تو دھوکا دینے میں کوئی برائی نہیں"

نوابزادہ شاھد وہ بات تو میں سمجھ گئی لیکن اس دھوکے میں میرا ساتھ کون دیگا؟؟"

" میں"

" تم؟؟"

" ہاں نیہا میں مانتا ہوں یہ گناہ بھی ہے اور دھوکا بھی لیکن بات کا دوسرا رخ بھی تو دیکھو اس ایک گناہ سے میرا دوست بھی واپس جینے لگے گا تم صاحب اولاد بھی ہوجاوگی اور تمہیں جسمانی خوشی بھی ملی گی۔ بولو کیا تم تیار ہو؟"

شاہد کی باتیں سن کر اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئی تھی اس کا سارا جسم پسینوں سے شرابور ہوچکا تھا.شاہد اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا اس نے .شاہد کے سوال کے جواب میں بس اثبات میں سر ہلانا ہی مناسب سمجھا اور اٹھ کر اپنے بیڈ روم میں چلی گئی۔.شاہد اس کے پیچھے کمرے میں گیا اور کہا ابھی بہرام بھائی کا فون ایا وہ پہنچنے ھی والے ھیں اور

" میں کل 10 بجے آوں گا گھر پر ہی رہنا حور بولی دھیان سے پکڑے نہ جانا تو شاہد بولا میڈم ھے نہ سب سنبھال لینگی"

یہ کہہ کر شاہد واپس چلا گیا۔ اس کے بعد .نیہارات بھر سوچتی رہی کہ آیا میں ٹھیک کرنے جا رہی ہو یا غلط؟ وہ خود سے یہی سوال کر رہی تھی اور بار بار کر رہی تھی لیکن آخر کار اس نے اپنے آپ کو شاھد کے لئیے تیار کرلیا۔ اس نے سوچا کہ میں کیوں ساری زندگی اس بےکار مرد سے اپنا جسم نوچواوں میں کیوں ناں اپنا جسم ایسے مرد کے حوالے کروں جس کے لنڈ سے نکلی سفید دودھ کی دھار میرے چوت کی زمین کو سرسبز کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔

اگلی صبح کا سورج اس کی زندگی میں خوشیاں لے کر طلوع ہوا وہ آج جتنی خوش اور پر امید تھی اتنی خوشی اسے اپنی شادی کے 4 سالوں میں کبھی حاصل نہیں ہوئی تھی ۔ اس نے اپنے شوہر بہرام کو ناشتہ کروا کے آفس بھیجا اور اس کے جاتے ہی نوابزادہ شاھد کو کال کر کے اس کے جانے کی اطلاع دی اور پھر اپنے کمرے میں جاکے اپنی الماری کھول کر اپنا پسندیدہ شوخ رنگ کا سوٹ نکال کر پہنا اس کو ایسا لگ رہا تھا جیسے آج ہی اس کی شادی ہوئی ہو وہ تھی تو شادی شدہ لیکن اس کا جوان جسم ابھی بھی مرد کے مضبوط ہتھیار کے مزے سے محروم تھی اور جبکہ آج اس کی اس محرومی کو نوابزادہ شاھد ختم کرنے والا تھا تو وہ.شاہد کے لئے بالکل

ویسے ہی تیار ہوئی جیسے کوئی کنواری لڑکی اپنے شوہر سے پہلی بار ملنے کے وقت ہوتی ہے۔ آج وہ دلہن سے بھی پیاری لگ رہی تھی اس کے اپر کو اٹھی ہوئی چھاتیاں، نشیلی آنکھیں ، اس کے ہونٹوں کی لالی اور اس کی باہر نکلی ہوئی نرم و ملائم گانڈ جو اس شوخ کلر کے تنگ شلوار میں مزید شوخ اور نکلی ہوئی لگ رہی تھی کسی بھی شریف مرد کا لنڈ کھڑا کرواسکتی تھی۔ خیر وہ تیار ہوکر شاہد کی منتطر ہی تھی کہ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی وہ سمجھ گئی کہ شاہد ہی ہوگا اس لیئے وہ دروازہ کھولنے چلی گئی دروازہ کھولا تو باہر شاہد کھڑا تھا اس نے .نیہا کو دیکھا تو وہ کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ وہ اس کی آنکھوں میں ہی کھوگیا تھا کہ اتنے میں

نیہا نے کہا"

اندر آجاو.شاہد کوئی دیکھ لے گا"

وہ خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت میں اندر آگیا اورنیہا نے دروازہ مقفل کردیا۔ کچھ دیر تو وہ دونوں یونہی ایک دوسرے کو تکتے رہے پھر .نیہا نے چائے کا پوچھا تو .شاہد نے " نہیں میں پی کر آیا ہوں " کہہ کر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔.نیہا اب شرما رہی تھی لیکن .شاہد شرم و حیا گھر ہی چھوڑ کر آیا تھا اور اس نے .نیہا سے بھی کہا " دیکھو ہم جو بھی کر رہے ہے اس میں ہم سب کا بھلا ہے۔ اور تم مجھ پر بھروسہ رکھوں یہ راز ہمیشہ راز ہی رہے گا۔ اگر تم اب بھی مطمئن نہیں تو بے شک کہہ دو میں چلا جاوں گا"

نیہا نے یہ سن کر اس کے شلوار میں کھڑے ڈنڈے کی طرف اشارا کر کے اسے چیڑنے کے لیئے کہا " تم تو گھر سے ہی کھڑا کر کے آئے ہو اب واپس جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ سن کر دونوں مسکرانے لگے۔ اتنے غموں اور دکھوں کے بعد آخر کار آج اسے وہ قابل مرد مل ہی گیا تھا جو اس کے بدن کو آگ لگانے کے بعد اپنے جسم کے پانی سے بجھا بھی سکتا تھا ۔وہ دونوں ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے نہ کسی کا ڈر تھا نہ کسی کی فکر بس دونوں اپنے مستی میں مست تھے .نوابزادہ شاھدسے اپنے سخت پستان چسوا چسوا کر ڈھیلے کر چکی تو .شاہد کو کہنے لگی "

سوتن میری سہیلی

نوابزادہ شاہد

میرے چوت پر بھی نظر کرم کیجئے ناں " یہ کہہ کر اس نے شاہد کو آنکھ ماری تو اس کے منہ پر ہلکا سا چماٹ مار کر اس کے ٹانگوں کے بیچ میں اپنا منہ رکھ کر اس کے گلابی چوت کو چاٹنے لگا تو نیہا نے آہیں بھرنے لگی " آہ آہ آہ ہ ہ آہ شاہد آہ چاٹ ناں آہ" نیہا اپنی آہوں سے .شاہد کے جذبات کو مزید منتشر کر رہی تھی وہ مسلسل اس کی چوت میں زبان ڈالے اس کی چوت کا مزہ لے رہا تھا کیونکہ وہ بھی ایک غیر شادی شدہ مرد تھا اس نے بھی کبھی چوت کا نمکین پانی نہیں تھا چکا اس لئے آج اس کے چوت کا پانی ایسے چوس رہا تھا جیسے کہ تربوز سے رس چوستے ہے۔ " آہ شاہد آہ آہ آہ مزہ آرہا ہے آہ" مسلسل آہیں بھر رہی تھی اور اب تو .شاہد نے اس کے چوت میں اپنی ایک انگلی بھی ڈال دی تھی۔ جس سے نیہا کے نازک اندام میں ہلچل مچ گئی اس نےبالوں سے پکڑا اور اپنی چوت کے اپر اس کے کا منہ رکھوایا " آہ .شاہد چاٹو آہ آہ جان چاٹتے رہو پلیز آہ " وہ پاگل ہوگئی تھی اور اس کی یہی باتیں سن کر .شاہد بھی پاگل ہوچکا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو بھڑکا رہے تھے

شاہد کو تو کچھ بھی ہوش نہیں تھا آخر اس نے اپنے اپر ایسا مرد مسلط کیا تھا

جس نے کبھی چوت دیکھا ہی نہیں تھا اس لئے آج وہ نیہا کا گرم گلابی چوت اور نرم و ملائم گانڈ دیکھ کر اپنا بھرسوں کا بھوک مٹھا رہا تھا۔ تقریبا 10 منٹ تک وہ اسی طرح اس کے چوت کو مکھی کی طرح چوستا اور کتے کی طرح چاٹتا رہا وہ تو مزید بھی چاٹنا چاہتا تھا لیکن نیہا کی ہمت جواب دے گئی اس کی آہوں ں میں کافی تیزی آگئی تھی نیہا کی اہ اہ کی صدائیں کمرے سے باہر تک سنی جا سکتی تھی لیکن گھر میں کوئی تھا جو نہیں اس لئے وہ کھل کر چیخ رہی تھی اور دنیا کو بتانا چاہتی تھی کہ اج وہ

اپنا حق سود سمیت وصول کر رہی ہے ۔ جیسے جیسے نیہا کی آہیں بڑھتی گئی ویسے ویسے بھی اپنی مردانہ بھاری آواز میں غرانے لگا۔ " آہ .نیہاآہ ہ ہ ہ آہ آہ میری جان آہ مر جاوں گی آج آہ آہ .شاہد میں آہ آہ میرا پانی آہ آہ میرا پانی آرہا ہے آہ چاٹو چاٹ میرے راجہ آہ" یہ سب کہہ کر حرین اپنی چوت اچھال اچھال کر چٹوانے لگی۔ .نیہا آہیں بھر رہی تھی اور .شاہد غرا رہا تھا دونوں کی آوازیں فضاء میں کافی بھلی لگ رہی تھی دونوں خود سے بے خبر ایک دوسرے کو خوشی دے رہے تھے کہ اتنے میں حرین کے چوت سے گرم نمکین پانی کا فوارہ پھوٹ پڑا پانی اتنے سپڈ کے ساتھ نکلا کہ شاہد کے چہرے پر یوں جا کر لگا جیسے کسی نے غبارے میں پانی بھر کر اس کے منہ پہ مارا ہو۔ پانی کے ساتھ ہی .نیہاکی آہیں ختم ہوگئی تھی اس کے اندر کی آگ ختم تو نہیں ہوئی لیکن اس میں کمی ضرور آگئی تھی.

شاہد کے رخساروں پر اپنا پانی دیکھ کر وہ اس پر صدقے واری جارہی تھی اس نے اٹھ کر شاہد کو گلے لگایا اور اس کو لٹاکر اس کے جسم سے بہتے پسینے پر زبان لگا لگا کر اپنے اندر کی آگ کو مزید بڑکانے لگی تھی وہ .شاہدکے کمر اور سینے سے ہوکر نیچے اس کے تن سے کھڑے 8 انچ کے سانولے رنگ کے لنڈ تک آگئی۔ اس کے بعد اس نے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لے کر شاہد کی طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھ کے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں سے دبایا تو

شاہد کو شرم سی محسوس ہوئی لیکن پھر جیسے ہی وہ .شاہد کا ہتھیار ہاتھ سے مسل کے منہ میں لینے لگی.شاہد کی غرانے کی آوازیں کمرے میں پھیلنی شروع ہوئی"آآآ چوسو چوسو میری جان شٹ آہ چوس نا.نوابزادہ شاھدکا 8 انچ کا لنڈ .نیہا کے منہ میں تھا اور .شاہد غرانے لگاتا .شاہد نے اس کو بہت اشارے کیئے کہ اب چوڑ دو مجھے لیکن .نیہاتھی جو اس کے گولیوں کو پکڑے اس کا لنڈ منہ میں گھسائی جارہی تھی۔ وہ منظر بہت پیارا تھا۔ جب چوستے چوستے .

نیہاسنجرانی کے منہ کا تھوک جھاگ بن کر اس کے منہ سے نکلتا ہوا لنڈ سے ہوکر نیچھے ٹھٹھوں پر جاکے لگتا اور پھر بیڈ شیٹ میں جذب ہوجاتا۔ تقریبا 15 منٹ .نوابزادہ شاھد کا لنڈ اسی طرح اس کے منہ میں گھستا اس کے بعد جب وہ دوبارہ گرم ہوگئ....

نوابزادہ شاھدنے نیہا کی ٹانگیں اٹھاکر درمیان میں اپنا ٹوپہ رکھا اور اپنے جسم میں بھرپور قوت بھر کر ایک زوردار جھٹکا دیا جس سے حرین کی چیخ نکلی شائد پہلی دفعہ اس کے چوت کی انتہائی اختتامی دیوار سے کسی کا لنڈ ٹکرایا تھا۔ نیہا پر عجیب کیفیت طاری تھی اس بار دونوں ہی چیخ رہے تھے .

شاہدمسلسل اس کے چوت میں اپنا ڈنڈا گھسیڑ رہا تھا تقریبا 20 منٹ تک وہ کو مسلسل چودتا رہا اور آخر کار نوابزادہ شاھد کے جھٹکوں میں مزید تیزی آئی اور تیزی کے ساتھ ہی اس نے اپنے لنڈ کے مردانہ سپرم کے فوارے سے .نیہا کی بنجر چوت کو سیراب کردیا۔ وہ بے دم ہوکر اس پر گرپڑا اور .نیہانوابزادہ شاھد کے بالوں میں ہاتھ پیر کر پیار کرنے لگی۔

نیہاشاہد اور اپنے دوست کا گھر برباد ہونے سے بچانے کے لئے ہر حد تک جانے کی قسم کھائی تھی نیہا شاہد کے بالوں میں اپنی فنگر کی کنگھی کرتی ھوئے کہا ھم تمہارے ساتھ تھری سم کرنا چاہتی ہیں اج رات تم تیار رہنا شاہد بولا

Link to comment
  • 3 weeks later...

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

8 hours ago, Billu Bhai said:

واہ جناب سٹارٹ تو بہت اچھا ہے۔ 

مگر آپ سے ایک گزارش ہے کہ اگر سٹوری کو شروع کیا ہے تو پلیز اس کو مکمل بھی کریے گا۔ 

بہت شکریہ ایک نئی سٹوری شروع کرنے پہ۔ 

یہ ایک مختصر کہانی تھی۔ تین کردار شاید اکثر لطف اندوز ہوتے رہے ہوں گے۔ میں مختصر کہانی لکھنے والا ہوں۔

Link to comment
  • 2 weeks later...
×
×
  • Create New...