Disable Screen Capture Jump to content
Novels Library Plus ×
URDU FUN CLUB

راوالپنڈی کے راجا بازار میں ہوئی ملاقات ایک خوبصورت آنٹی سے پارٹ ٹو


Recommended Posts

راولپنڈی کے راجا بازار میں ہوئی ملاقات بہت خوبصورت آنٹی سے پارٹ 2 

قسط نمبر 1

تو دوستو حاضر ہوں اپنی کہانی کے نئے مرحلے کے ساتھ پہلے میں آپ سب نے پڑھا ہوگا کہ کیسے راجا بازار راولپنڈی میں دکھنے والی آنٹی کے بیڈ روم تک پہنچ کر سیکس کا پہلا تجربہ کیا۔

تو دوستو آنٹی کے ساتھ سیکس کرتے ہوئے مجھے کوئی 3 ماہ ہو چکے تھے اور ہمارے خوب مزے جاری تھے اکثر تو ہفتے کی رات میں آنٹی کے گھر ہی گزارنے لگ گیا جب آنٹی کا بیٹا آیا ہوتا تو ہمیں دوری رکھنی پڑتی ایسا تو نہیں تھا کہ ہم روز ہی سیکس کرتے لیکن ہفتے میں دو بار تو پکا تھا ہم دونوں ایک دوسرے کے لیئے ایسے تھے جیسے جوان پریمی جوڑا ایسے ہی ایک دوسرے کا خیال رکھنا محبت کرنا سیکس کرنا سب ہی کمال چل رہا تھا لیکن ابھی تک آنٹی کی نند کے ساتھ کوئی سین نہیں بنا تھا اسکی وجہ یہ نہیں تھی کہ (اب سے میں آنٹی کی نند کا نام ہی لکھوں گا ) آنٹی نسرین کوئی کم خوبصورت تھی وہ بھی ایک کمال جسامت کی مالک تھی البتہ رنگ آنٹی شبانہ جیسا گورا چٹا تو نا تھا لیکن سانولہ بھی نہیں تھا کیوں کہ آنٹی شبانہ ایک کشمیری عورت ہھی تو انکا رنگ گلابی سفید تھا اور آنٹی نسرین راولپنڈی کی ہی رہنے والی تھی تو پنجابی عورتوں والا سفید رنگ تھا آنٹی نسرین کی عمر بھی زیادہ نا تھی وہ صرف 35 سال کی تھی شادی جلدی ہو گئی تھی جو کہ 8 سال چلی اولاد نا ہونے کی وجہ سے چھوٹی موٹی نوک جھوک بڑے بڑے جھگڑوں میں تبدیل ہوئی اور حل طلاق نکلا اور آنٹی گھر بیٹھ گئی آنٹی شبانہ نے بتایا تھا کہ انکے گھر والوں نے دوبارہ شادی کی بہت کوشش کی لیکن آنٹی اب کسی پے اعتبار نہیں کرتی ایک ڈر سا بیٹھ گیا ان کے دل میں اور یہ بھی کہتی کے جب اولاد نہیں ہونی تو کسی کا گھر کیوں جان کے خراب کرنا اس لیئے ابھی تک بیٹھی۔

آنٹی نسرین کا قد مناسب تھا ممے 36 اور گانڈ 34 تھی پیٹ کافی قصا ہوا تھا جو آنٹی کی جسامت پے خوب جچتا تھا آنٹی کی سیسکی چال اور للچائی نظریں بہت بار بہکاتی تھی لیکن میں آنٹی شبانہ کو اس قدر اپنا ماننے لگا کے ایسا لگتا کے کسی اور کو دیکھنا بھی گناہ ہو اور سچی بات ہے دل میں کہیں تھوڑا ڈر بھی تھا حالانکہ کے آنٹی سب کچھ جانتی تھا ہم تو دروازہ بھی کم ہی بند کرتے اور آنٹی کو درشن کا موقع دیتے لیکن پھر بھی پتہ نہیں کیوں ڈر سا تھا کہ کہیں آنٹی شبانہ ناراض نا ہو جائیں میں آنٹی کو کھونا نہیں چاہتا تھا اس لیئے بھی بعض آیا ہوا تھا۔

ایک رات میں آنٹی کے ساتھ خوب مستیوں کے بعد آنٹی کی باہوں میں آرام کر رہا تھا آنٹی کے مموں کو پیار سے سہلا رہا تھا اور آنٹی میرے بالوں سے کھیل رہی تھی کہ آنٹی نے سوال کیا شاہ کیا تمہارا دل نسرین کے ساتھ سیکس کرنے کو نہیں کرتا تو میں چونکہ اور پوچھا کہ آپ کیوں پوچھ رہی ایسا تو آنٹی نے کہا شاہ میں جانتی ہوں کہ نسرین ہمارے بارے میں کسی کو نہیں بتائے گی لیکن مجھے پھر بھی ڈر لگا رہتا ہے اس لیئے میں چاہتی ہوں کہ تم نسرین کو بھی خوش رکھو تاکہ ہو منہ بند رکھے اور مجھے اس پے ترس بھی آتا ہے عمر میں کم ہے مجھ سے اور شادی شدہ زندگی گزارنے کے بعد پھر سے اکیلے زندگی گزارنے پر مجبور ہے اس میں بھی تڑپ ہے بھوک ہے سیسکی کی کئی بار وہ تمہں کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی ہے جیسے تمہیں کھا ہی جائے اور اکثر مجھے کہتی بھی کہ کتنی خوشنصیب ہو کہ ایسا لڑکا ملا جو کسی کو بھی سکون دے سکتا مجھے ایسا ہی لگتا شاہ کے وہ انتظار میں ہے کہ تم کب اسے سکون دو گے میں نے کہا آنٹی لیکن میں نے تو آپ کے علاؤہ کبھی نہیں سوچا بھی نہیں(سچ تو یہ کے آنٹی کے منہ سے آنٹی نسرین کا سن کر دل میں لڈو پھوٹنے لگ گئے اور دل کیا آج ہی آنٹی کام بنا دیں میرا اور لن سن کر ہی ڈنڈا ہو گیا جسے آنٹی شبانہ نے بھی نوٹ کیا )کے کسی سے کروں گا آنٹی ہنسی اور کہا پاگل میں تو بوڑھی ہوتی جا رہی کب تک تمہارا ساتھ دوں گی کل کو شادی بھی نہیں کرو گے تو میں نے کہا نہیں کروں گا اور آپ کہاں سے بوڑھی ہو رہی نا تو آپ کے ممے ڈھیلے نا پھدی اور چدائی تو کمال ہے آپکی ایسے تو جوان لڑکی بھی نا کرے آنٹی نے مجھے سر پے چپت لگائی اور کہا بدمعاش لڑکے انسان بنو اور چھوڑو باتیں یہ جو چھیڑ چھاڑ میں گیلی کر دی اور اپنی نئی آنٹی کا سن کر جو لوڑا کھڑا کیا نا پہلے ان دونوں کا بندوبست کرو آنٹی کی اس بات سے میں تھوڑا شرمندہ تو ہو گیا کیوں کے میں کچھ اور کہہ رہا تھا اور لن کچھ اور اس کے ساتھ ہی آنٹی نے مجھے اپنے اوپر کھینچ لیا ننگے تو ہم پہلے ہی تھے میں نے سیدھا آنٹی کے مموں پر حملہ کیا اور مموں کو دبانا اور چوسنا شروع کر دیا اس قدر مزے دار ممے جب سامنے ہوں تو کیسے بندہ باز آئے میں آنٹی کے مموں کو بہت بار کاٹا چبایا دبایا مسلا آنٹی کو بھی اب میرا یہ انداز بہت پسند آ گیا تھا اگر میں زرا سا پیار سے سیکس کرتا تو آنٹی کہتی وحشیوں والا سیکس کرو مجھے جس کا عادی کیا ہے اب پیار والا سیکس مزا نہیں دیتا آنٹی کے میٹھے مموں کو میں کم از کم 15 منٹوں تک مسلتا رہا آنٹی بھی آہوں اور سسکیوں کے ساتھ انجائے کرتی رہی پھر میں نے آنٹی کی گردن ہونٹ چہرہ خوب چوما چاٹا پھر نیچے آتے ہوئے پیٹ پر کچھ دیر زبان گھمائی اور ٹانگوں کے درمیان میں آ کر دونوں تھائیز کو ہاتھوں سے خوب مسلنے لگا زبان پھیرنے لگا دانتوں سے کاٹنے لگا آنٹی سسکیوں کے ساتھ اپنا ایک ہاتھ میرے بالوں میں اور دوسرے سے میری کمر پے ناخن گاڑھ رہی تھی آنٹی بھی دوران سیکس اب اتنی ہی وحشی ہو جاتی کے جتنا میں وحشیانا سیسکی کرتا اور مجھے تکلیف تو بہت ہوتی لیکن برداشت کرنا پڑتا آنٹی سیسکی آہوں میں جب میرا نام پکارتی کبھی شاہ کبھی میرا ٹھوکو کبھی میرا شہزادہ میرا مٹھا تو مجھے بہت اچھا لگتا آنٹی کی تھائیز سے کھیلنے کے بعد مجھے شرارت سوجھی اور میں نے زبان آنٹی کی پھدی کے آس پاس تو گھمانا شروع کر دی لیکن پھدی پے نا لگائی کچھ دیر تو آنٹی نے برداشت کیا پھر ایک دم ظالمانہ طریقے سے میرے بالوں سے پکڑ کر کہا شاہ تو تم ایسے نہیں مانو گے اور اپنی پھدی کو ہلا ہلا کر میرے میں پے رگڑنے لگی آنٹی کی پھدی پے جیسے ہی میرا منہ لگا ایسے آنٹی اوپر ہوئی جیسے آنٹی ابھی اٹھ کر چھت سے جا لگے گی اور زور دار آواز میں کہا شاہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔ ادھر چاٹو اسکو و و و و و و و میں بھی سمجھ گیا اب آنٹی کے ظلم سے بچنا ہے تو آنٹی کی خواہش پوری کرنی پڑے گی اس لیئے آنٹی کی پھدی کو مزے لے لے کر چومنے چاٹنے لگا جسے آنٹی خوب انجوائے کر رہی تھی اور اپنے ہاتھوں سے اپنے بڑے بڑے ممے دبا رہی تھی اور سر ادھر ادھر مار رہی تھی کچھ دیر میں مجھے لگنے لگا کے آنٹی ابھی فارغ ہو جائیں گی تو میں نے منہ پھدی سے ہٹا لیا آنٹی نے کہا شاہ بس تھوڑی دیر اور کر لو میں نے کہا آنٹی فارغ ہونا ہی ہے تو لوڑے سے ہوں منہ سے کیوں تو آنٹی نے کہا پھر دیر نا کرو پلیز جلدی ڈالو میں آنٹی کی ٹانگوں کے درمیان آیا اور لن پھدی پے سیٹ کیا اور زور دار جھٹکا مارا جسے تو مزہ آیا ہی آنٹی نے بھی زوردار سسکی لی اور کہنے لگی ہاں شاہ ایسے ہی اور زور سے لگاؤ زورررررررررر ڈالو اور زوررررر سےےےےےےےےےے شاہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ مزہ ہ ہ ہ ہ ہ۔ آ گیا شاہ ہ ہ ہ ہ۔ جھٹکے لگاؤ زورررررررررر سےۓے لگاؤ فک میییییییییییی شاہ ہ ہ ہ ہ۔ میرے پیارےےےےےے شاباششششششششش اور میں بھی اپنا پورا زور لگا لگا کر جھٹکے مار رہا تھا اور مزے کے آسمانوں میں تھا آنٹی کی چودائی کرتے اتنا وقت گزر گیا مطلب مہینوں سے چود رہا تھا لیکن ہر بار پہلے سے بھی زیادہ مزا آتا آنٹی بھی خوب انجوائے کرتی اور ہمیشہ پہلے سے زیادہ جوش کے ساتھ میرا ساتھ دیتی آنٹی کو چودتے ہوئے میں بھی آنٹی کو نام لے لے کر چود رہا تھا کہ لو شبانہ میری شبانہہہہہہہہ لو اپنے ٹھوکو کا لوڑا یہ ہے ہی آپکا لوڑا میری جان میں صرف آپکا اور آپ میری جان ہو میری پیاریییییییییی یہ لو لوڑاااآاااااا لو لنننننننن اور خوب مزے میں چود رہا تھا آنٹی کو ہمیں سیکس اتنا مزہ آتا ایسا کھو جاتے کے ہمیں نا احساس ہوتا اور نا پھر ڈر کے آنٹی کی نند نسرین آنٹی بھی ہیں گھر میں پھر ہم اس پوزیشن میں تھوڑا تھک گئے تو پوزیشن چینج کی اب آنٹی سائیڈ پے کروٹ لے کر لیٹی تھی اور میں نے ایک ٹانگ اٹھا کر آنٹی کی پھدی میں لن ڈال دیا آنٹی کی گاںڈ بہت بڑی تھی اور خوبصورت بھی لیکن میں نے آج تک آنٹی کی گاںڈ نہیں ماری کیوں کے مجھے ڈر تھا کہ کہیں آنٹی کو برا نا لگے اور ویسے بھی میں گانڈ دیکھنے کا شوقین زیادہ تھا مارنے کی طلب زیادہ نہیں تھے اس طرح کچھ دیر پھدی مارنے کے بعد آنٹی اچانک بہت تیزی سے تھر تھرا نے لگی اور چیخنے لگی اور ساتھ فارغ ہونے لگی جھٹکے لے لے کر فری ہوئی اور آنکھیں بند کر کے کہنے لگی شاہ پلیز بس کر دو میں نے لیکن میں تو فری نہیں ہوا آنٹی نے کہا میں کرتی ہوں نا پلیز اب بس کرو تو میں نے لن نکال لیا آنٹی اٹھی اور مجھے لٹا کر میری ٹانگوں میں آئی میرا لن پکڑا اور سہلانے لگی پھر زبان نکال کر لن چاٹنے لگی ایسے مزے سے چاٹ رہی تھی کہ بس کیا بتاؤں ہم سب نے پورن موویز میں دیکھا ہوا جب ایک ملف آنٹی ایک نوجوان لڑکے کا لوڑا منہ میں لے کر چوستی ہو دیکھ کر برداشت نہیں ہوتا اور میرے ساتھ تو ہو رہا تھا ایسا کیسے برداشت کرتا بس دو منٹ ہی برداشت ہوا اور آنٹی کو جیسے ہی سمجھ آئی آنٹی نے لن منہ سے نکالا اور زور زور سے لن ہلانے لگی اور میں جھٹکے کھاتا فارغ ہو گیا اور سکون میں آ گیا مزے دار راؤنڈ کے بعد ہم سو گئے اور آنٹی نسرین والی بات وہی کی وہی رہ گئی۔

دوسرے دن صبح اٹھا کیوں کے اتوار کا دن تھا اگر صبح صبح ہی گھر جاتا تو جواب کیا دیتا کے اتوار کے دن کو منانے کے لیئے دوستوں کے ساتھ گئے اور اتنے جلدی آ گئے اس لیئے آنٹی کے گھر ہی رہا ناشتہ کیا آنٹی نسرین اور آنٹی شبانہ کے ساتھ گپ شپ میں دن گزارا اور اکثر جب رات کو رہتا تو ایسی ہی روٹین ہوتی ہماری جب راجا بازار جانا ہوتا تو آنٹی اکیلے ہی جاتی کیوں کہ اگر میں ساتھ جاتا تو لوگوں کی نظروں میں آتا اس لیئے آنٹی کے گھر آنے جانے کا وقت میرا لیٹ نائیٹ ہی ہوتا ہماری خوب گپیں ہوتی اکثر آنٹی نسرین ہماری رات کی کہانی ہمیں سناتی مطلب مزاق مزاق میں بتاتی کے کیسے آہئیں اور سسکیاں نکلتی اور کیسے جملے نکلتے ہمارے منہ سے جسے سن کر ہم انجوائے بھی کرتے اور شرم بھی آتی آنٹی نسرین نے بہت بار ہمیں کہاں کے میرے سامنے ہے کر لیا کرو سیکس کونسا مجھے نہیں پتہ سب کچھ تو میں دیکھ چکی ہوں لیکن پتہ نہیں عجیب سی جھجھک تھی اِس لے ہم انکار کر دیتے اس سنڈے کو جب آنٹی نے نسرین آنٹی کے بارے میں پوچھا تھا تو صبح سے میری نظر بھی نسرین آنٹی کے لیئے اور طرح تھی جس کو نسرین آنٹی اور شبانہ آنٹی دونوں نے ہے نوٹ کر لیا تھا اور نسرین آنٹی نے تو شبانہ آنٹی کے کچن میں جانے کے بعد اتنا بھی کہہ دیا تھا کے شاہ آج خیر ہے نا مجھ پے کیوں گندی نظر رکھے بیٹھے ہو اور زور سے ہنس دی جس پے میں شرمندہ سا ہو گیا اور کہا نہیں ایسی کوئی بات نہیں اِس واقع کے کچھ دن بعد کی بعد کی بات ہے کے آنٹی شبانہ نے مجھے کال کی اور کہا کے اِس ہفتے کو میرا بیٹا آ رہا ہے اور میں نے اس کے ساتھ گاؤں جانا ہے لیکن نسرین ساتھ نہیں جا رہی کیا تم اس کے پاس رہ سکتے ہو میرے لیئے کچھ مشکل تو تھا کیوں کے اب بندہ گھر ہر سنڈے کو تو بہانہ کر کے نہیں نا جا سکتا لیکن میرے دِل میں لالچ بھی تھا کے کیا پتہ نئی آنٹی کا مزہ بھی مل ہے جائے.

میں بنا سوچے ہی آنٹی کو ہاں کر دی اور پِھر سوچنے لگا گھر کیا بہانہ کروں گھر میں مجھے زیادہ پوچھتا تو کوئی نہیں تھا کیوں کے سب کو پتہ تھا آفس اور گھر کے سب کام وقت پے کرتا تھا اور کسی کو میری وجہ سے کوئی پریشانی نہیں تھی لیکن پِھر بھی روز روز ایسا کرنا بھی شک میں ڈال سکتا تھا اِس لے اِس بار میں نے گھومنے کا بہانہ نہیں بنایا اور ایک کزن کے پاس لاہور جانے کا بہانہ بنایا اسے کال کر کے کہہ دیا کے میں دوستوں کے ساتھ ناراں کاغان جانا چاہتا ہوں پر ابو نہیں مان رہے تو تمھارے پاس اینے کا کہہ کر جا رہا ہوں جس پر وہ راضی ہو گیا مجھے اتنا جھوٹ بولنا پڑے گا کبھی سوچا نا تھا لیکن ایک پھدی بھی کیا کیا کرواتی ہے اِس لے بہانے کرنے ہی پڑے اور میں بےصبری سے ہفتے کا انتظار کرنے لگا جیسے کیسے کر کے ہفتے کا دن آیا میں آفس سے تھوڑا جلدی چھٹی لے کر آ گیا کیوں کے اگر لیٹ نکلتا تو گھر والو کو شک ہوتا کے اتنا دور جانا ہے اور اتنی لیٹ کیوں جا رہا ٹائم سے کیوں نہیں گیا آفس سے گھر آیا اور بائیک گھر ہے کھڑی کی اور سامان کا بیگ لے کر گھر سے نکل گیا آنٹی کو بتایا کے میں گھر کیا بہانہ بنایا اور اب کہا ہوں تو آنٹی نے کہا کے ہم لوگ تو نکل گئے گھر سے لیکن تم اتنی جلدی گھر نا جانا تھوڑا لیٹ جانا اِس لے میں ٹائم پاس کے لئے کسی ایسی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں گھر سے یا آفس سے کوئی دیکھ نا لے تو مجھے یہی ذہن میں آیا کے ابھی پیروھائی اڈے کی طرف چلا جاؤں اگر کسی نے دیکھا بھی تو شک تو نہیں کرے گا مغرب تک کا انتظار کیا مغرب کے بعد نکلا اور سیدھا آنٹی کے گھر گیا آنٹی کے بارے میں سوچ سوچ کر ہی میرا دِل باغ باغ ہو رہا تھا اور کہی نا کہی دِل میں ڈر بھی تھا کے پتہ نہیں کچھ ایسا ویسا تو نہیں ہو گا کچھ غلط نا ہو جائے جب میں گھر پہنچا تو آنٹی دیکھ کر حیران ایسے ہوئی جیسے انہیں پتہ ہی نا ہو کے میں نے آنا ہے اور میرا بیگ دیکھ کر پوچھا کے تم کہیں جا رہے ہو کیا میں نے کہا نہیں میں تو یہی آپ کے پاس آیا رہنے تو کہنے لگی تمہاری معشوق نئے بتایا نہیں تمہیں وہ تو گاؤ چلی گئی ہیں میں نے کہا بتایا تو ہے تو کہنے لگی پِھر یہاں کا رستہ کیسے بھول گئے اس ٹائم مجھے سمجھ آیا کے یہ آنٹی شبانہ کا اپنا پلان تھا انہوں نے آنٹی کو نہیں بتایا کے میں آ رہا ہوں پِھر آنٹی نے مجھے بٹھایا اور کہا میں چائے لے کر آتی ہوں آنٹی چائے لے کر آئی اتنی دیر میں میں واشروم جا کر فریش ہو کر آیا آنٹی چائے لے کر آئی تو پوچھا یہاں آنے کے لئے بیگ کی کیا ضرورت تھی میں نے آنٹی کو ساری بات بتائی تو آنٹی نئے کہا کے اگر تم نا بھی آتے تو کونسا میں نے ناراض ہو جانا تھا میں نے کہا نہیں آنٹی آپ کو گھر میں اکیلا کیسے چھوڑتا تو کہا ہاں واقعی مجھے اکیلا گھر میں دیکھ کر کیسے چھوڑتے اور ساتھ ہے ہنس دی مجھے سمجھ تو آ گئی لیکن میں کیا بولتا کچھ دیر ہم نئے گپ شپ کی اور ٹی وی دیکھنے لگ گئے جس میں اتنا مزہ نا آیا تو آنٹی نے کہا تم بیٹھو میں كھانا لگا دیتی ہوں پِھر گپ شپ کرے گے ٹی وی دیکھنے میں تو مزہ نہیں آ رہا۔

Link to comment

کچھ ممبرز مسلسل  رومن اردو میں کمنٹس کر رہے ہیں جن کو اپروول کی بجائے مسلسل ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے ان تمام ممبرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ یہ کمنٹس رولز کی خلاف ورزی ہے فورم پر صرف اور صرف اردو میں کیئے گئے کمنٹس ہی اپروول کیئے جائیں گے اپنے کمنٹس کو اردو میں لکھیں اور اس کی الائمنٹ اور فونٹ سائز کو 20 سے 24 کے درمیان رکھیں فونٹ جمیل نوری نستعلیق کو استعمال کریں تاکہ آپ کا کمنٹ با آسانی سب ممبرز پڑھ سکیں اور اسے اپروول بھی مل سکے مسلسل رومن کمنٹس کرنے والے ممبرز کی آئی ڈی کو بین کر دیا جائے گا شکریہ۔

  • Replies 124
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Top Posters In This Topic

پہلا پارٹ زیادہ اچھا تھا۔لگ رھا ھے تمہیں سٹوری اختتام کرنے کی بہت جلدی ھے سٹوری کا ٹیمپو بہت تیز ھے۔شبانہ کے ساتھ سیکس بھی زیادہ تفصیل سے بیان کرنا چاہیے تھا۔بس یونہی تین مہینے گزار دیے

Link to comment
9 hours ago, cmpunk said:

پہلا پارٹ زیادہ اچھا تھا۔لگ رھا ھے تمہیں سٹوری اختتام کرنے کی بہت جلدی ھے سٹوری کا ٹیمپو بہت تیز ھے۔شبانہ کے ساتھ سیکس بھی زیادہ تفصیل سے بیان کرنا چاہیے تھا۔بس یونہی تین مہینے گزار دیے

جناب بات یہ ہے کہ لوگ زیادہ دیر ایک ہی بات کو پسند نہیں کرتے بور ہو جاتے ہیں شبانہ کے ساتھ سیکس میں ہر بار وہی ہونا کونا اسکا جسم بدلتا رہنا اور سٹوری فاسٹ اس لیئے بھی ہے کہ جلد ماضی سے حال میں میں آ جائیں اور لوگوں کو زور کے حالات سے زور ہی مزا دیں 

آپ تھوڑا سا انتظار کریں جلد سٹوری میں بہت بدلاؤ آئیں گے 

رہنمائی کا شکریہ

Link to comment

آپ نے بلکل بجا فرمایا کہ ایک ہی بات بوریت کا باعث بن جاتی ہے۔ ساتھ ہی آپ کی طرف سے یہ عندیہ دینے کا شکریہ کہ بہت جلد ہم حال میں آ جائیں گے جہاں ہیرو نت نئے لوگوں اور تجربات سے آشنا ہو گا۔ جو کہانی کو مزید دلچسپ بناتا چلا جائے گا۔

Link to comment
×
×
  • Create New...