Jump to content
URDU FUN CLUB

Recommended Posts

#جنسی_کہانی 
#وطن_کا_سپاہی 
#قسط _2

ایسے علاوں میں اکثر جہازوں کا تیل بھی سمندری پانی میں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے جو مچھلیوں کی زندگی کے لیے زہر کا کام 
کرتا ہے۔ میجر دانش کے لیے اس پانی میں اپنی آنکھیں کھولنا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ وہ محض پائپ کی مدد سے سانس لینے پر 
ہی گزارا کر رہا تھا اور اس انتظار میں تھا کہ جہاز بندرگاہ سے دور نکل جائے تاکہ وہ لوگوں کی نظروں میں آئے بغیر جہاز پر 
چھڑ سکے۔
مزید 10 منٹ گزرنے کے بعد میجر دانش کو احساس ہوا کہ شاید اب پانی کچھ صاف ہے کیونکہ اب اس میں چکناہٹ اور بدبو 
نہیں رہی تھی۔ میجر دانش نے آنکھیں کھولیں تو واقعی پانی قدرے صاف تھا جسکا مطلب تھا کہ اب جہاز بندرگاہ سے دور نکل آیا 
ہے۔ میجر دانش نے سپورٹ کی طرف دیکھ جس کو پکڑ کر وہ جہاز کے ساتھ ساتھ سفر کر رہا تھا ، وہاں ایسی بہت سی سپورٹ 
تھیں۔ یہ اصل میں لوہے کے راڈ سے سیڑھیاں بنائی گئی تھیں جنکی مدد سے کوئی بھی جہاز کی اوپر والی سطح تک پہنچ سکتا 
تھا۔ضرورت پڑنے پر سمندر کے درمیان انہی سیڑھیوں کا استعمال کرکے سمندری پانی میں اترا جاتا ہے اور جہاز کی بیرونی 
مرمت کی ضرورت ہو تو وہ کام بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہی سیڑھیوں کی مدد سے میجر دانش نے پانی سے سر باہر نکاال اور 
فورا ہی پیچھے بندرگاہ کی طرف دیکھا جو اب خاصی دور رہ چکی تھی اور بالکل دھندلی نظر آرہی تھی۔ اب کم سے کم وہاں 
سے کوئی بھی میجر دانش کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔ میجر دانش سیڑھیوں کا استعمال کرتے ہوئے جہاز کے اوپر چڑھ چکا تھا۔ 
حیرت انگیز طور پر یہاں سیکیورٹی کے لیے کوئی موجود نہیں تھا بالکہ ہر طرف خاموشی تھی۔ 
میجر دانش جھک کر چلتا ہوا اور اپنے آپ کو مختلف چیزوں کی اوٹ میں چھپاتا ہوا ایک کیبن تک پہنچ چکا تھا۔ یہاں سے جہاز 
کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔ اندر پائلٹ بھی موجود تھا اور میجر دانش کو فورا ہی اندازہ ہوگیا کہ جہاز کا رخ مسقط اومان اور دوسرے 
عرب ممالک کی طرف تھا۔ یہ چیز میجر دانش کے لیے حیران کن تھی کیونکہ میجر دانش کے خیال کے مطابق کرنل وشال کو 
انڈیا جانا چہیا تھا مگر اس جہاز کا رخ دوسری طرف تھا۔ ابھی میجر دانش یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی رہا تھا کہ اسے دور 
سے ایک چھوٹا جہاز اسی طرف آتا نظر آیا۔ اور جس جہاز پر میجر دانش سوار تھا اسکی رفتار بھی سلو ہونے لگی۔ میجر دانش 
کی چھٹی حس نے کام کیا اور وہ فورا ہی دوبارہ انہی سیڑھیوں سے اتر کر پانی کے نیچے چال گیا۔ وہ پائپ میجر نے اپنی شلوار 
کے نیفے میں پھنسا لیا تھا پانی کے نیچے جا کر میجر نے دوبارہ پائپ نکاال اور اسی کی مدد سے سانس لینے لگا۔ کچھ ہی دیر 
میں چھوٹا جہاز بڑے جہاز کی دوسری سائیڈ پر آکر رک گیا۔ میجر دانش نے پانی سے سر باہر نکاال تو اسے اطراف میں کچھ 
نظر نہ آیا، وہ پانی میں ہی جہاز کا سہارا لیکر دوسری طرف گیا تو اس نے دیکھا کہ کرنل وشال ایک سیڑھی کے ذریعے بڑے 
جہاز سے چھوٹے جہاز میں سوار ہو رہا تھا۔ میجر دانش ایک دفعہ پھر پانی کے نیچے گیا اور تیرتا ہوا چھوٹے جہاز کی دوسری 
سائیڈ پر پہنچ گیا اور وہاں بھی موجود پانی کے نیچے جہاز کے ساتھ لگی سیڑھیوں کا سہارا لیا۔ کچھ دیر کے بعد جہاز نے چلنا 
شروع کیا۔ اب کی بار اس جہاز کی رفتار پہلے جہاز سے بہت زیادہ تھی اور میجر دانش کو پانی کے نیچے رہنا مشکل ہوگیا تھا۔ 
2
وہ سیڑھیوں سے ہوتا ہوا اوپر جہاز پر چڑھ آیا اور ایک لوہے سے بنے ڈبے کی اوٹ میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ اس جہاز کا رخ 
پہلے جہاز کے الٹی طرف تھا۔ یعنی کہ یہ جہاز دشمن ملک ہندوستان کا تھا اور کرنل وشال پاکستان کی سیکورٹی ایجینسیز کی 
آنکھوں میں دھول جھونک کر ہندوستان کی طرف جا رہا تھا۔ میجر دانش کے پاس یہ آخری موقع تھا کرنل وشال کو روکنے کے 
لیے۔ اس نے فورا ہی فیصلہ کیا کہ اسے اس جہاز پر قبضہ کرنا ہوگا اسے واپس پاکستان لیجانا ہوگا۔ گو کہ یہ ایک ناممکن کام تھا 
مگر میجر دانش کو اس وقت کچھ اور سجھائی نا دیا اور وہ فورا ہی چھپتا چھپاتا جہاز کے کنٹرول روم میں پہنچ گیا۔ شیشے کی 
کھڑکی سے اس نے اندر دیکھا تو جہاز کا پائلٹ سکھ تھا۔ ہلکی داڑھی اور سر پر سکھوں کے سٹائل کی پگڑی موجود تھی۔ یہ 
نشانی میجر دانش کے شک کو یقین مین بدلنے کے لیے کافی تھی۔ میجر دانش جسکے کپڑے بھیگے ہوئے تھے ایک ہی آن میں 
دروازے تک پہنچا اور بغیر آہٹ پیدا کیا پائلٹ کے سر پر پہنچ گیا۔
اس سے پہلے کے ڈرائیور کو کچھ سمجھ آتی میجر دانش کا وار اسکی گردن کے پچھلے حصے پر پڑا اور پائلٹ کو اپنا سر 
گھومتا ہوا محسوس ہوا اور پھر اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ میجر دانش کے ایک ہی وار نے پائلٹ کو بیہوش کر دیا تھا۔ جہاز میں موجود نقشے کی مدد نے میجر دانش نے اندازاہ لگایا کہ واپس پاکستان کی بندر گاہ پر پہننے کے لیے اسے جہاز کو بائے 
طرف گھمانا ہوگا اور میجر دانش نے ایسا ہی کیا۔ جہاز کی سپیڈ تیز ہونے کی وجہ سے جہاز نے تھوڑے ہچکولے لیے مگر 
میجر دانش نے فورا ہی اسکو قابو میں کر لیا اور جہاز کی سپیڈ بھی کم کر دی۔ جب جہاز صحیح ڈائریکشن میں جانے لگا تو 
میجر دانشے نے سپیڈ پھر سے بڑھا دیی۔ 
جہاز کے نیچے موجود وی آئی پی کمرے میں کرنل وشال نے فوری طور پر محسوس کیا کہ جہاز کو جو ہچکولے آئے ہیں یہ 
کسی انجان اور اناڑی پائلٹ کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ کرنل وشال نے فوری طور پر اپنے ساتھ ایک کیپٹن کو لیا اور کنٹرول روم 
کی طرف بڑھنے لگا۔ کرنل وشال کی عمر 45 کے قریب تھی اور قد 6 فٹ 2 انچ تھا۔ دیو ہیکل جسامت کا حامل کرنل وشال 45 
سال کا ہونے کے باوجود جسمانی طور پر فٹ اور بہت سے جوان افسروں پر بھاری تھا۔ اوپر سے اسکا دماغ بھی کسی کمپیوٹر 
کی طرح تیز چلتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جہاز کو ہلکے سے ہچکولوں نے اسے خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔
دوسری طرف میجر دانش اپنی دھن میں مگن جہاز کی رفتار میں مسلسل اضافہ کیے جا رہا تھا ۔ وہ جلد از جلد جہاز کو پاکستان 
کی سمندری حدود میں پہنچانا چاہتا تھا جہاں سے پاکستانی نیوی فوری اس جہاز کو گرفتار کر لیتی اور کرنل وشال بھی پکڑا جاتا۔ 
مگر اس سے پہلے کہ جہاز پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہوتا میجر دانش کو دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ میجر دانش کی 
چھٹی حس نے اسے خطرے سے آگاہ کیا اور وہ بغیر پیچھے دیکھے ایک قالبازی لگا کر اپنے دائیں طرف گھوم گیا۔ ایک سیکنڈ 
کی دیر میجر دانش کو اگلے جہاں پہنچا سکتی تھی۔ کرنل وشال کے ساتھ آنے والے کیپٹن نے ایک بھاری بھر کم لوہے کا راڈ 
میجر دانش کے سر پر مارنے کی کوشش کی تھی مگر میجر دانش اپنی پیشہ وارانہ تربیت کی وجہ سے اس وار سے بچ گیا۔ اس 
سے پہلے کہ کیپٹن اگال وار کرتا میجر دانش ایک ہی جست میں اسکے سر پر پہنچ چکا تھا اور اپنے آہنی ہاتھوں سے کیپٹن کی 
گردن کو ایک ہی جھٹکے میں توڑ چکا تھا۔ 
کیپٹن میجر دانش کے وار سے زمین پر گر چکا تھا اور اسکی آخری سانسیں نکل چکی تھیں۔ میجر دانش نے بغیر وقت ضائع 
کیے اپنا اگال وار کرنل وشال پر کیا مگر وہ حیرت انگیز طور پر پھرتیال نکال ۔ وہ نا صرف میجر دانش کے وار سے بچ نکال 
بلکہ میجر دانش کے وار سے بچ کر اس نے اپنی لمبی ٹانگ ہوا میں گھمائی جو میجر دانش کی کمر پر لگی اور میجر دانش ہوا 
میں اچھلتا ہوا کنٹرول روم کی دیوار پر جا کر لگا۔ لیکن اگلے ہی لمحے میجر دانش نے دیوار کا سہارا لیتے ہوے واپس چھالنگ 
لگائی اور کرنل وشال کی گردن پر وار کیا، مگر اس بار بھی کرنل وشال کی پھرتی نے اسے بچا لیا، اس سے پہلے کہ میجر 
دانش کے ہاتھ کرنل وشال کی گردن پر پڑے کرنل وشال نے کمال مہارت سے میجر دانش کے بازو پر اپنا وار کیا اور میجر دانش 
کو اپنے بازو کی ہڈی دو حصوں میں تقسیم ہوتی محسوس ہوئی۔ اس سے پہلے کہ میجر دانش اگال وار کرتا، کرنل وشال نے میجر 
دانش کا وار اسی پر آزمایا اور گردن پر حملہ کیا۔ کرنل وشال نے کراٹے کے مخصوص انداز میں اپنے ہاتھ کی ہڈی کو میجر 
دانش کی گردن کی ہڈی پر اسطرح مارا کہ میجر کو اپنا آپ ہوا میں اڑتا محسوس ہوا اور جسم ہلکا ہوتا ہوا محسوس ہوا۔
میجر دانش نے گھوم کر دوبارہ کرنل وشال پر حملہ کرنے کی کوشش کی جو اب کی بار بالکل پرسکون کھڑا تھا۔ اس سے پہلے 
کے میجر دانش کے ہاتھ کرنل کی گردن تک پہنچتے میجر کا دماغ اسکا ساتھ چھوڑ چکا تھا اور وہ اپنے وزن پر ہی نیچے گرتا 
چال گیا۔ نیچے گرنے سے پہلے ہی میجر دانش کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا چکا تھا۔ اور جیسے ہی وہ نیچے گرا، کرن وشال 
دروازہ کھول کر باہر جا رہا تھا۔ 
میجر دانش کے حواس بحال ہوئے تو اسنے اپنے آپ کو زمین پر پڑا محسوس کیا۔ کچھ دیر میجر دانش آنکھیں کھولے 
بغیر زمین پر پڑا رہا اور اپنی اطراف کا جائزہ لینے کی کوشش کرنے لگا۔ جو آخری بات اسکو یاد آئی وہ کرنل وشال کا 
پرسکون چہرہ تھا۔ میجر دانش کے ہاتھ اسکی گردن کی طرف بڑھ رہے تھے مگر نجانے کیوں اسکی گردن تک پہنچنے 
سے پہلے ہی اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا 

اب میجر دانش محسوس کرنے لگا کہ اسکے آس پاس کوئی کھڑا ہے یا نہیں؟؟؟ 
مگر اسکو ایسا کچھ بھی محسوس نہ ہوا، نہ کسی کے قدموں کی آہٹ تھی اور 
نہ ہی کسی کی باتیں نہ ہی کسی کے سانس لینے کا احساس۔ اچانک ہی میجر 
دانش کو احساس ہوا کہ اسے جہاز کے چلنے کی آواز بھی نہیں آرہی اور نہی 
پانی پر جہاز کے ہچکولے محسوس ہو رہے ہیں بلکہ جس جگہ پر وہ لیٹا ہوا 
تھا وہ بہت ہی پرسکون اور ساکت جگہ تھی۔ یہ جہاز تو ہرگز نہیں ہوسکتا تھا۔ 
میجر دانش نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولیں تو اسنے اپنے آپ کو ایک بند 
کمرے میں پایا۔ اس نے اپنی گردن کو ادھر ادھر گھما کر دیکھا تو وہ ایک 
خالی کمر تھا جس میں میجر دانش کے عالوہ اور کوئی موجود نہیں تھا ۔ میجر 
دانش نے ایک جست میں اٹھنے کی کوشش کی مگر اسے بری طرح ناکامی 
ہوئی۔ اسکے ہاتھ اور ٹانگیں کسی بہت ہی مضبوط شے سے بندھے ہوئے تھے۔ 
یہ شاید نائلون کی رسی تھی۔
میجر دانش کو فوری طور پر احساس ہوگیا کہ وہ کرنل وشال کے سامنے بری 
طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اور اس وقت یقینا اسی کی قید میں ہوگا۔ اگال خیال جو 
اسکے ذہن میں آیا وہ یہ تھا کہ کرنل وشال اسے بے ہوشی کی حالت میں دشمن 
ملک ہندوستان ہی لے آیا ہوگا۔ اور اب میجر دانش دشمن ملک کی قید میں ہے۔ 
یہ احساس ہوتے ہی میجر دانش کے اوسان خطا ہونے لگے اور اسکی سوچنے 
سمجھنے کی صالحتیں ختم ہونے لگیں۔ میجر دانش نے ہمیشہ یہ دعا مانگی 
تھی کہ دشمن کی قید میں جانے سے بہتر شہید ہونا ہے۔ مگر اسکے برعکس 
میجر دانش اس وقت دشمن کی قید میں تھا۔
اوسان بحال ہونے پر میجر دانش نے پھر سے اٹھنے کی کوشش کی اور تھوڑی 
سی کوشش کے بعد وہ اب اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔ گوکہ اسکی ٹانگیں اور ہاتھ اب 
 ابھی بندھے ہوئے تھے جنکو کسی بھی طور پر کھولنا ممکن نہ تھا۔ نائلون کی 
رسی اسکے ہاتھوں پر بہت مضبوطی سے بندھی ہوئی تھی جس پر اگر وہ زور 
آزمائی کی کوشش کرتا تو وہ رسیاں اسکی جلد کے اندر دھنس جاتیں۔ وہ جانتا 
تھا کہ زور آزمائی کے زریعے اس رسی سے اپنے آپ کو آزاد کرنا ممکن 
نہیں۔ 
اب وہ کمرے میں ساکت بیٹھا آکس پاس کا جائزہ لے رہا تھا۔ یہ کمرہ مکمل طور 
پر خالی تھا۔ کمرے میں کوئی الئٹ نہیں تھی صرف ایک سائیڈ پر دیوار میں 
موجود روشندان سے ہلکی ہلکی روشنی اندر آرہی تھی۔ سامنے ایک بڑا سا 
لوہے کا مضبوط دروازہ تھا جو یقینا کسی محفوظ ترین کمرے میں ہی ہوسکتا 
ہے۔ عام گھروں میں یا دفاتر میں اس طرح کے دروازے موجود نہیں ہوتے۔ 
محض 2 منٹ کے جائزے میں ہی میجر دانش کو احساس ہوگیا کہ یہاں سے 
اسکا بچ کر نکلنا ممکن نہیں۔ 
وہ اب سر ج ھکائے بیتے ہوئے لمحوں کہ یاد کر رہا تھا۔ اسکا گھر سے نکل کر 
گاڑی میں ہنڈا اکارڈ کا پیچھا کرنا وہاں سے پھر بھاگتے ہوئے بندرگاہ تک پہنچ 
کر گندے پانی میں پائپ کے ذریعے سانس لینا پھر جہاز چینج کرنا اور وہاں 
سے کرن وشال سے آمنا سامنا ہونا۔ یہ سب چیزیں اسکے ذہن میں ایک فلم کی 
طرح چل رہی تھیں۔ اسی فلم میں اچانک ہی میجر دانش کو ایک اور چہرہ یاد 
آیا۔ یہ چہرہ کسی اور کا نہیں بلکہ اسکی اپنی نئی نویلی دلہن عفت کا چہرہ تھا۔ 
عفت کا خیال ذہن میں آتے ہی ایک جھماکا ہوا اور میجر دانش کو یاد آیا کہ 
ابھی ایک دن پہلے ہی تو اسکی شادی ہوئی تھی۔

میجر دانش میرون کلر کی شیروانی میں قیامت ڈھا رہا تھا۔ آج میجر دانش کی 
شادی کی پہلی رات تھی۔ اسکی بیوی عفت اپنے کمرے میں موجود دلہن بنی 
بیٹھی اپنے دلہا کا انتظار کر رہی تھی جبکہ باہر کمرے کے سامنے میجر دانش 
کی بہنیں اسکا راستہ روک کر کھڑی تھیں۔ فوزیہ جسکی عمر25 سال تھی اور 
پنکی جو ابھی 21 سال کی تھی دونوں ہی اپنے بھائی کا راستہ روک کر کھڑی 
 تھیں۔ ساتھ میں کچھ کزنز اور بھی تھیں جو دولہے میں کو اپنی نئی نویلی دلہن 
کے پاس جانے سے روک رہی تھیں۔ میجر دانش نے جیب سے ہزار ہزار کے 
10 نوٹ نکالے اور پنکی کی طرف بڑھائے وہ جانتا تھا کہ فوزیہ 10 ہزار 
میں نہیں مانے گی مگر پنکی چھوٹی ہے شاید وہ مان جائے گی۔ مگر اس سے 
پہلے کہ پنکی وہ پیسے پکڑتی اور دانش کو اندر جانے کا راستہ دیتی فوزیہ 
نے فورا ہی دانش کا ہاتھ جھٹک دیا اور بولی ہم تو اپنے پیارے بھائی سے 
سونے کا سیٹ لیں گی پھر اندر جانے کی اجازت ملے گی۔ یہ سن کر میجر 
دانش نے اپنی امی کی طرف دیکھا مگر وہ بھی آج اپنی بیٹیوں کا ساتھ دینے کا 
ارادہ رکھتی تھیں۔ انہوں نے بھی کہ دیا کہ تم بہن بھائیوں کا آپس کا معاملہ ہے 
میں اس معاملے میں کچھ نہیں بول سکتی۔
میجر دانش نے بہت کہا کہ سونے کا سیٹ تم عمیر سے لے لو میرے پاس یہی 
پیسے ہیں مگر نا تو فوزیہ مانی اور نہ ہی پنکی۔ بال آخر میجر دانش کو ہار 
ماننی پڑی اور اسنے بری میں بنائی گئی سونے کی چین جو اسکی بیوی عفت 
کے لیے بنائی گئی تھی وہ فوزیہ کو دی اور پنکی سے وعدہ کیا کہ اسکو بھی 
ایک اچھی سونے کی چین دلوائی جائے گی۔ اس وعدے کے بعد دونوں بہنوں 
نے دانش کی جان چھوڑی اور عمیر کی طرف بھاگیں۔ عمیر میجر دانش کا 
چھوٹا بھائی تھا جسکی عمر 27 سال تھی اور اسکی بھی آج ہی شادی ہوئی 
تھی۔ اب راستہ روکنے کی باری اسکی تھی اور دونوں بہنیں فوزیہ اور پنکی 
عمیر کرا راستہ روکے کھڑی تھیں۔ جسکا کمرہ میجر دانش کے کمرے کے 
ساتھ ہی تھا۔ لیکن دانش کے پاس اب اتنا صبر نہیں تھا کہ وہ دیکھتا عمیر سے 
بہنوں نے کیا لیا اسنے دروازہ کھوال اور اندر جا کر سکھ کا سانس لیا۔ 
سامنے بیڈ پر گالب کے سرخ اور سفید پھولوں کی سیج بنی ہوئی تھی۔ بیڈ کے 
ایک طرف سرک پتیاں بکھری پڑی تھیں۔ پورا کمرہ گالب کی خوشبو سے 
مہک رہا تھا۔ اور سامنے ہی سرخ عروسی جوڑے میں ملبوس 20 سالہ عفت 
سمٹی بیٹھی تھی۔ یوں تو میجر دانش اور عفت کی عمر میں 12 سال کا فرق تھا 
مگر دونوں ہی اس شادی سے بہت خوش تھے۔ عفت نے جب سے دانش کو 
دیکھا تھا وہ تو اسکی دیوانی ہوگئی تھی، اس دیوانگی نے عمر کا یہ بڑا difference بھی مٹا دیا تھا اور وہ صرف دانش کی ہی ہوکر رہ گئی تھی۔ عفت نے اپنے نام 
کی الج بھی رکھی تھی۔ وہ ہر طرح کی غیر اخالقی چیزوں سے دور رہی اور 
اس نے اپنی عزت کی حفاظت بھی کی۔ اپنی جوانی پر اسنے کسی غیر مرد کا 
سایہ تک نہیں پڑنے دیا تھا۔ عفت ایک آزاد خیال اور ماڈرن لڑکی ضرور تھی 
مگر اسکے ساتھ ساتھ شرم و حیا اور پاکدامنی میں بھی اپنی مثال آپ تھی۔ 
اگرچہ وہ غیر مردوں سے پردہ نہیں کرتی تھی مگر کبھی کسی غیر مرد کو 
اسنے اپنے قریب بھی نہیں آنے دیا تھا۔ گوری رنگت اور بھرپور جوانی کے 
باوجود عفت نے اپنی عفت کو قائم رکھا تھا اور میجر دانش کو بھی عفت کی 
پاکدامنی اور حس ِن اخالق نے متاثر کیا تھا۔
یہی وجہ تھی کہ میجر دانش عفت کو اپنی شری ِک حیات بنانے کے لیے خوشی
ہوگیا تھا۔ کمرے میں داخل ہوکر سب سے پہلے دانش نے اپنی خوشی راضی
شیروانی اتاری۔ مسلسل 4 گھنٹے سے دانش اس ہیوی شیروانی میں بڑی مشکل 
سے گزارہ کر رہا تھا۔ وہ اپنی شادی کے لیے پینٹ کوٹ سلوانا چاہتا تھا مگر 
عفت کی فرمائش پر اس نے شیروانی سلوائی۔ دانش اس طرح کے لباس کا 
بالکل عادی نہ تھا۔ مجض اپنی ہونے والی بیوی کے کہنے پر اس نے 4 گھنٹے 
سے شیروانی زیب تن کر رکھی تھی۔ شیروانی اتار کر ایک سائیڈ پر رکھنے 
کے بعد وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا سیج کے قریب پہنچا ، جہاں سمٹی ہوئی عفت 
شرم کے مارے اور بھی سمٹ گئی تھی۔ میجر دانش کرتے اور پاجامے میں 
ملبوس اپنی بیوی کے سامنے بیٹھ گیا تو عفت نے گھونگٹ میں سے ہی آنکھیں 
اٹھا کر دانش کا دیدار کیا۔ سرخ دوپٹے میں سے دانش کامدھم مگر مسکراتا ہوا 
چہرہ نظر آیا۔ دانش کے چہرے پر نظر پڑتے ہی عفت کے چہرے سرخی آگئی 
اور اسنے دوبارہ اپنی نظریں جھکا لیں۔ دانش نے بھی اپنی دلہن کا یہ انداز 
دیکھا تو بے اختیار اس پر پیار آگیا، دانش نے آہستگی کے ساتھ اپنے دونوں 
ہاتھوں سے عفت کا گھونگٹ اوپر اٹھایا۔ ۔ ۔ گھونگٹ اٹھاتے ہی بے اختیار دانش 
کے منہ سے اپنی بیوی کے حسن میں تعریفی کلمات نکلنا شروع ہوئے جنہیں 
سن کر عفت کے چہرے کا رنگ انار کے رس کی طرح سرخ ہونے لگا۔ شرم 
کے مارے وہ نا تو اپنی آنکھیں اوپر اٹھارہی تھی اور نہ ہی کچھ بول پا رہی 
تھی۔ 
دانش نے اپنی ایک انگلی سے عفت کا چہرہ اوپر اٹھایا تو بھی عفت کی آنکھیں 
جھکی رہیں۔ اس پر دانش نے بے اختیار کہا اب ہم اتنے بھی برے نہیں جو آپ 
ہماری طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کریں۔ یہ سنتے ہی بے اختیار عفت نے اپنی 
آنکھیں اٹھائیں اور دانش کو دیکھنے لگی۔ بڑی بڑی آنکھوں میں موجود خوشی 
واضح نظر آرہی تھی۔ اور انمیں چھپا دانش کے لیے پیار بھی اب واضح ہوگیا 
تھا۔ دانش بے اختیار آگے بڑھا اور ان حسین آنکھوں پر ایک بوسہ دے دیا۔ 
عفت نے دانش کو بالکل منع نہیں کیا محض اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ دانش نے 
اپنے ہونٹ کچھ دیر آنکھوں پر رکھنے کے بعد اٹھائے دوبارہ سے حسن کے 
اس پیکر کو دیکھنے لگا۔ عفت کا چہرہ اب بھی خوشی اور پیار کے ملے جلے 
تاثرات کی وجہ سے سرخ ہورہا تھا۔ اور اسکی تیز تیز سا نسیں اسکے جزبات 
کی عکاسی کر رہی تھیں۔
اس سے پہلے کے میجر دانش دوبارہ حسن کے اس مجسمے کا بوسہ لیتا، عفت 
نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اپنی خوبصورت اور نازک ہتھیلی دانش کے سامنے 
پھیال دی۔ دانش نے حیران ہوکر عفت کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر عفت کی 
طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ تھوڑے سے وقفے کے بعد عفت نے پہلی بار 
اپنے ہونٹ کھولے۔ عفت نے بہت ہی پیار بھری آواز میں دانش کو مخاطب کیا 
اور بولی ہر شوہر اپنی بیوی کا چہرہ پہلی بار دیکھنے کے بعد اسے منہ 
دکھائی میں کچھ دیتا ہے۔ آپ تو میرا بوسہ بھی لے چکے مگر منہ دکھائی میں 
کچھ نہیں دیا۔ یہ سن کر دانش کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ شرمندہ 
ہو کر بوال کہ بس تمہاری خوبصورتی نے مجھے مدہوش کر دیا اور مجھے 
کچھ یاد ہی نہیں رہا۔ اپنے حسن کی تعریف میں یہ چند معمولی جملے عفت کے 
لیے بہت بڑا تحفہ تھے۔ انکو سن کر عفت کو لگا جیسے اسکی زندگی مکمل 
ہوگئی ہو اور اسے زندگی میں دانش کے ساتھ کے سوا اور کچھ نہیں چاہیے۔ 
اس سے پہلے کے عفت کچھ بولتی، دانش آگے جھکا ، اور بیڈ کے سائیڈ پر 
پڑے ٹیبل کا دراز کھول کر اس میں سے ایک چھوٹی سی ڈبیا نکالی جسمیں 
ایک سونے کی چین موجود تھی۔ اس چین میں ایک چھوٹا سا مگر بہت ہی
خوبصورت الکٹ بھی موجود تھا جو دل کی شکل کا تھا۔ میجر دانش نے وہ 
چین عفت کی طرف بڑھائی تو عفت نے اٹھالتے ہوئے کہا خود پہنائیں گے تو 
تحفے کی قدر کا پتا چلے گا۔ یہ سن کر دانش مسکرایا اور اپنے چین کی ہک 
کھول کر ہاتھ عفت کی گردن کی طرف لیکر گیا۔ عفت نے دانش کو رکنے کا 
اشارہ کیا اور اپنا بڑا سا دوپٹہ کندھوں سے ہٹا کر اپنا بھاری بھر کم سونے کا 
سیٹ اپنے گلے سے اتارنے لگی۔ سیٹ اتارتے ہوئے دانش بڑے ہی غور کے 
ساتھ اپنی شری ِک حیات کو دیکھ رہا تھا، دانش کی نظر جب عفت کے سینے پر
پڑی تو وہ اپنی آنکھیں جھپکانا ہی بھول گیا۔ عفت کی صراحی دار لمبی گردن 
اورگورا سینہ، نیچے سینے کے ابھار اور بیچ میں کلیویج الئن۔ عفت کے 
چہرے کے نین نقش تو پیارے تھے ہی مگر آج دانش اسکے سینے کے نشیب و 
فراز دیکھ کر سانس لینا ہی بھول گیا تھا۔ 
3
عفت جب اپنے گلے سے زیور اتار چکی تو اس نے دوپٹہ مزید پیچھے ہٹایا 
اور دانش کی طرف دیکھا جسکی نظریں عفت کے سینے پر گڑھی ہوئی تھیں۔ 
عفت نے بھی اس بات کو محسوس کر لیا اور اسکا سینا فخر سے اور پھولنے 
لگا۔ پھر اسنے دانش کے سامنے ایک چٹکی بجائی اور ایک ادا سے بولی کیا 
دیکھ رہے ہیں جناب؟؟ دانش کو ہوش آیا او ر وہ اپنی چوری پکڑی جانے پر 
تھوڑا شرمندہ بھی ہوا مگر پھر بوال اپنی قسمت کو داد دے رہا ہوں، ایسی 
خوبصورت اور جوانی سے بھرپور بیوی کا ساتھ خوش نصیب لوگوں کو ہی 
ملتا ہے۔ یہ کہ کر وہ آگے بڑھا اور اپنے ہاتھ عفت کی گردن کے پیچھے لے 
گیا۔ اس نے پیچھے سے چین کی ہُک بند کی۔ اور پھر پیچھے ہٹ کر عفت کے 
گلے میں موجود منہ دکھائی میں دی گئی چین کو دیکھنے لگا۔ چین میں لٹکتا 
ہوا الکٹ عفت کی کلیویج الئن سے کچھ اوپر تھا، دانش نے الکٹ کو دیکھا اور 
آگے بڑھ کر اپنے ہونٹ الکٹ والی جگہ پر رکھ کر ایک پیار بھرا بوسہ دیا۔ 
عفت کو دانش کے ہونٹ اپنے سینے پر محسوس ہوئے تو اسکی بھی ایک 
سسکی نکل گئی۔ یہ پہال موقع تھا کہ کسی مرد کے ہونٹوں نے عفت کے سینے
 پر پیار بھرا بوسہ دیا تھا۔ 
دانش نے یہیں بس نہی کی بلکہ آگے بڑھ کر عفت کی کمر کے گرد اپنے بازو 
ڈال لیے، عفت بھی ادائے دلربا سے اٹھی اور اپنے شوہر کے قریب ہوگئی۔ 
عفت نے کبھی کسی مرد کو اپنے قریب نہیں آنے دیا تھا مگر وہ اپنے جیون 
ساتھی اپنے شوہر سے کسی بھی قسم کی شرم محسوس نہیں کر رہی تھی۔ 
صن ِف نازک کی ادا اور فطری شرم تو اسمیں موجود تھی ہی مگر بناوٹی شرم
اور اپنے شوہر سے ہچکچانا یہ عفت کی فطرت میں شامل نہیں تھا۔ وہ جانتی 
تھی کہ جنسی تسکین نہ صرف اسکا حق ہے بلکہ اسکے شوہر کا بھی حق ہے۔ 
اور دونوں ایکدوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے تو مکمل تسکین حاصل کی 
جاسکتی ہے۔
عفت قریب ہوئی تو دانش نے اپنے ہونٹوں سے عفت کے نرم و نازک ہونٹوں 
پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ عفت کو 440 وولٹ کا جھٹکا لگا۔ وہ نہیں جانتی تھی 
کہ جب کوئی مرد عورت کے ہونٹوں کو چومتا ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے۔ 
آج پہلی بار اسکے ہونٹوں پر دانش کے ہونٹ لگے تو وہ اس احساس سے آشنا 
ہوئی۔ عفت نے بھی جواب میں دانش کے ہونٹوں کو چوما اور پھر دونوں 
ایکدوسرے کے ہونٹ چوسنا شروع ہوگئے۔ عفت کے ہونٹ کسی گالب کی 
پنکھڑی کی طرح نرم و نازک اور رسیلے تھے۔ دانش یہ رس اپنے ہونٹوں سے 
مسلسل چوس رہا تھا۔ اسی دوران عفت میں اپنے دوپٹے میں لگی سیفٹی پنز کو 
کھولنا شروع کیا اور کچھ ہی دیر میں بھاری دوپٹہ اسکے سر سے اتر چکا تھا۔ 
دوپٹہ اترتے ہی عفت کو اپنا آپ بہت ہلکا پھلکا محسوس ہونے لگا اور وہ اور 
بھی زیادہ شدت کے ساتھ دانش کی بانہوں میں اسکے ہونٹوں کو چوسنے لگی۔ 
دانش تھوڑی تھوڑی دیر بعد عفت کے اوپری ہونٹ کو اپنے منہ میں لیتا اور 
اسکو اچھی طرح چوستا اور پھر نیچے والے ہونٹ کو اپنے منہ میں لیکر 
چوستا۔ عفت کو یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اسکی زندگی میں یہ سب پہلی بار 
ہورہا تھا مگر وہ پوری طرح اسکی لزت سے لطف اندوز ہوری تھی۔
دانش نے اپنی زبان عفت کے ہونٹوں پر پھیرنا شروع کی تو وہ سمجھ گئی اور 
اپنے ہونٹوں کو کھول کر دانش کو اندر کا راستہ دکھایا۔ جیسے ہی عفت نے 
اپنے ہونٹوں کو کھول کر دانش کو راستہ دیا دانش کی زبان عفت کے منہ میں 
چلی گئی اور عفت کی زبان کے ساتھ کھیلنے لگی۔ عفت نے بھی دانش کا 
مکمل ساتھ دیا اور اپنے منہ میں اسکی زبان کو چوسنے لگی۔ عفت کے نرم و 
نازک ہونٹ جب اور گرم زبان جب دانش کی زبان کو چوس رہی تھی تو اسی 
دوران دانش کو اپنے انڈر وئیر میں ہلچل محسوس ہونے لگی۔ اور دانش کے 
ہاتھ خود بخود عفت کی کمر سے ہوتے ہوئے اسکو چوتڑوں تک جا پہنچے۔ 
گوشت سے بھرے ہوئے چوتڑ ہاتھ میں پکڑتے ہی دانش نے انکو زور سے دبا 
دیا اور عفت نے کے منہ سے ایک سسکی نکلی آووچ ۔ ۔ ۔ اب دونوں ایک 
دوسرے کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فرینچ کس کرنے لگے اور ساتھ ساتھ 
دانش کے ہاتھ عفت کے 32 "کے چوتڑوں کا مساج کرنے لگے۔ عفت کو بھی 
اپنی پینٹی میں گیال پن محسوس ہونے لگا۔ 
کچھ دیر عفت کے ہونٹوں کا رس چوسنے کے بعد اب دانش نے اپنے ہونٹوں کا 
رخ عفت کی گردن کی طرف کر دیا، جیسے ہی عفت کی گردن پر دانش کے 
ہونٹ لگے عفت تڑپ اٹھی۔ اسنے اپنا ہاتھ دانش کی گردن پر رکھ کر اسکو 
مضبوطی کے ساتھ تھام لیا اور دانش عفت کے اوپر جھک کر اسکی گردن پر 
زبان پھیرنے لگ گیا۔ دانش کبھی عفت کی گردن پر زبان پھیرت ا تو کبھی اپنے 
ہونٹوں سے چوستا۔ جب دانش اپنے دانتوں سے عفت کی گردن کو ہلکا سا دباتا 
تو شد ِت جذبات سے عفت کی سسکی نکلتی جسکو دانش بہت انجوائے کرتا۔
گردن سے ہوتے ہوئے اب دانش کی زبان عفت کی کلیویج الئن کو چوسنے 
لگی۔
عفت کے بالوز کی فٹنگ بہت زبردست تھی جو اسنے سپیشل تیار کروایا تھا۔ 
وہ اپنے شوہر کو اپنے حسن سے مکمل طور پر مزہ دینا چاہتی تھی۔ فٹنگ 
والے بالوز میں عفت کے سینے کے ابھار بہت ہی خوبصورت کلیویج الئن بنا 
رہے تھے جو کسی بھی مرد کو پاگل کردینے کے لیے کافی تھی۔ ۔ دانش نے 
اب عفت کو بیڈ پر لٹا دیا تھا اور خود اسکے ساتھ لیٹ کر عفت کے اوپر جھک 
کر اسکے سینے پر پیار کر رہا تھا۔ دانش کا ایک ہاتھ عفت کی گردن کے نیچے سے نکلتا ہوا اسکے کندھے پر پیار کر رہا تھا اور دوسرا ہاتھ عفت کی 
بائیں ٹانگ کی تھائی پر مساج کر رہا تھا۔ اور عفت اپنا سر پیچھے کی طرف 
کھینچ کر ہلکی ہلکی سسکیاں لے رہی تھی۔
دانش کا ہاتھ اب عفت کی تھائی سے ہوتا ہوا اسکے بائیں ممے کے اوپر آگیا 
تھا۔ عفت کی سانسیں تیز تیز چلنے کی وجہ سے اسکے سینے کے ابھار یعنی 
کے اسکے ممے بھی اوپر نیچے ہورہے تھے۔ دانش نے بہت پیار سے عفت کا 
بایاں مما اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اسکو دبانے لگا۔ دانش کی زبان اب بھی عفت 
کی کلیویج الئن کو چوسنے میں مصروف تھی۔ کچھ دیر اسی حالت میں عفت 
کو پیار کرنے کے بعد دانش نے عفت اپنی جانب کروٹ دلوائی اور اسکی کمر 
پر موجود بالوز کی زپ مکمل کھول دی۔ اب میجر دانش اپنے مضبوط ہاتھ کے 
ساتھ عفت کی نرم و نازک کمر کا مساج کر رہا تھا۔ سنگ مرمر کی طرح مالئم 
کمر کا مساج کرتے ہوئے دانش اپنے آپکو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان 
تصور کر رہا تھا۔ 32 سال کی عمر میں 20 سالہ خوبصورت گرم جوانی کا مل 
جانا یقینی طور پر خوش قسمتی ہی ہو سکتی ہے۔ اور جوانی بھی ایسی جسکو 
آج تک کسی نے چھوا تک نہ ہو۔
کچھ دیر بعد میجر دانش نے عفت کا بالوز اتارا تو نیچے گورے جسم پر سرخ 
رنگ کا برا عفت کے مموں کو چھپانے کا اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ عفت کا 
لہنگا اسکے ناف سے کافی نیچے تھا لہنگے سے اوپر عفت کا گورا جسم 
شروع ہوتا نظر آرہا تھا جو بہت ہی صاف شفاف اور ہر قسم کے داغ سے پاک 
تھا۔ دانش نے اپنے ہونٹ عفت کی ناف پر رکھ دیے اور اسے چومنے لگا۔ اس 
عمل سے عفت کو ایک عجیب سرور مل رہا تھا جو اس نے پہلے کبھی نہ 
محسوس کیا اور نہ ہی اسکے بارے میں کبھی سوچا تھا۔ دانش نے اپنے دونوں 
ہاتھوں سے عفت کے ممے پکڑ رکھے تھے جو سرخ رنگ کے برا میں قید 
تھے اور وہ اپنی زبان اور ہونٹ عفت کی ناف میں گھما رہا تھا۔ عفت نے اپنے 
نازک مہندی والے ہاتھوں سے دانش کو سر سے پکڑ رکھا تھا اور مزے کی 
شدت سے اف، آوچ اوئی کی آوازیں نکال رہی تھی۔ اب دانش نے عفت کی ناف 
کو چھوڑ کو اپنی زبان کو اپر کی طرف پھیرنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ عفت 
کے مموں سے ہوتا ہوا دوبارہ اسکی کلیویج الئن میں اپنی زبان پھرینے لگا۔ 
عفت کے ہاتھ اب دانش کی کمر پر تھے اور وہ اپنے ہاتھوں سے دانش کی کمر 
کو جکڑے ہوئے تھی کچھ دیر کلیویج الئن کے ساتھ کھیلنے کے بعد دانش ایک 
بار پھر سے اپنی زبان کو نیچے کی طرف الیا اور ناف سے ہوتا ہوا اس سے 
بھی نیچے تک آگیا جہاں سے عفت کا لہنگا شروع ہوتا تھا۔ 
دانش نے عفت کے لہنگے سے اسکی ہُک کو کھوال اور دیکھتے ہی دیکھتے
اسکا لہنگا بھی اتار دیا۔ اب عفت محض سرخ رنگ کے برا اور سرخ رنگ کی 
ہی پین ٹی میں دانش کے سامنے لیٹی تھی۔ عفت کی آنکھوں میں اب الل ڈورے 
واضح نظر آرہے تھے جو اسکی سیکس کی خواہش کو واضح کر رہے تھے۔ 
دانش اب عفت کی گوری چٹی ٹانگوں پر پیار کرنے لگا۔ عفت کی ٹانگیں بالوں 
سے بالکل پاک تھیں۔ عفت نے اپنے شوہر کے ساتھ سہاگ رات منانے کی 
سپیشل تیاری کر رکھی تھی اسی لیے اس نے آج ہی اپنی ٹانگوں کی ویکس کی 
تھی اور سارے فالتو بال صاف کر دیے تھے۔ نرم و مالئم ریشمی ٹانگوں پر 
دانش کبھی اپنے ہاتھ پھیرتا تو کبھی اپنی زبان سے یہ گوری گوری ٹانگیں 
چاٹنے لگتا۔ دانش نے ابھی تک اپنا ہاتھ عفت کی پینٹی کو نہیں لگایا تھا۔ بلکہ 
اس نے اپنے ہاتھوں کو اور زبان کو عفت کی پینٹی سے دور ہی رکھا تھا۔ مگر 
پھر بھی دانش کو عفت کی سرخ پینٹی میں درمیان کے حصے میں گیال پن نظر 
آرہا تھا ۔ 
کچھ دیر عفت کی ٹانگوں پر اپنی زبان پھیرنے کے بعد جب دانش کا لن اسکو 
زیادہ ہی تنگ کرنے لگا تو اس نے عفت کو چھوڑ کر پہلے اپنا کرتا اتارا اور 
اسکے بعد شیروانی کے ساتھ واال پاجامہ بھی اتار دیا۔ عفت اس بار بالکل بھی 
نہیں شرمائی اور بجائے شرم سے آنکھیں بند کرنے کو وہ اپنے شوہر کے جسم 
کو بہت پیار اور جنسی طلب کی شدت کے ساتھ دیکھ رہی تھی۔ دانش عفت کے 
سامنے محض سفید رنگ کے انڈر وئیر اور سفید ہی رنگ کی بنیان میں تھا۔ 
اسکا جسم بھی بہت خوبصورت اور ورزشی تھا۔ آخر ایک آرمی کا جوان تھا وہ 
جسکی آدھی زندگی مختلف قسم کی ٹرینینگ اور ورزش وغیرہ میں ہی گزری 
تھی۔ دانش بیڈ پر بیٹھا تھا ، عفت جو لیٹی ہوئی تھی دانش کے جسم کو دیکھ کر
اٹھی اور خود ہی دانش کے قریب ہوتی ہوئی۔ سرخ برا اور پینٹی میں عفت 
کسی قیامت سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ 
دانش کے قریب آنے کے بعد عفت نے خود ہی اپنے ہونٹ پہلے دانش کے 
ہونٹوں پر رکھ دیے اور اسکا رس چوسنے لگی، پھر ہونٹوں کو چھوڑ کو وہ 
دانش کی گردن تک آئی اور اسکی گردن پر اپنے ہونٹوں اور دانتوں سے پیار 
کرنے لگی۔ دانش کو 20 سالہ جوان عفت کی یہ بےباکی بہت اچھی لگ رہی 
تھی۔ پھر عفت نے خود ہی دانش کی بنیان اوپر کی اور اسکو اتار دیا۔ دانش کا 
سینہ بالوں سے بالکل پاک تھا۔ آجکل کے نوجوان فیشن کے طور پر اپنا سینہ 
بھی شیو کرتے ہیں ایسا ہی دانش نے کر رکھا تھا۔ ہلکا گندمی رنگ اور کسا ہوا 
جسم، عفت کا آئیڈیل گویا اسکے سامنے تھے۔ عفت کو ہمیشہ سے ہی کشادہ 
سینے والے اور ورزشی جسم والے مرد پسند تھے۔ فلموں میں بھی وہ جب انڈیا 
کے ہیرو کو دیکھتی جسکا سینہ بالوں سے پاک ہوتا تو اسکا بہت دل کرتا کہ 
اسکے ہونے والے شوہر کا سینہ بھی ایسا ہی ہو۔ اور دانش کا کا سینہ اور جسم 
کی بناوٹ بالکل عفت کی پسند کے مطابق تھی۔ عفت آگے جھکی اور دانش کے 
سینے پر موجود نپلز پر زبان پھیرنے لگی۔ عورت کے نپلز کی طرح مرد کے 
نپلز بھی بعض اوقات سیکس کے دوران سخت ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح دانش 
کے نپل اس وقت سخت تھے جن پر عفت اپنی زبان تیز تیز چال رہی تھی۔ کبھی 
عفت دانش کے نپل منہ میں لیکر انکو چوس لیتی تو کبھی محض زبان پھیرنے 
پر ہی گزارا کرتی ۔ 
عفت نے دانش کو لیٹنے کو کہا تو دانش بیڈ پر لیٹ گیا۔ وہ عفت کو پورا موقع 
دینا چاہتا تھا کہ وہ بھی اپنی مرضی سے دانش کے ساتھ اپنی سہاگ رات کو 
انجوائے کرے۔ دانش کے لیٹنے کے بعد عفت نے سر تا پاوں دانش کے جسم کا 
جائزہ لیا۔ کچھ دیر اس نے اپنی نظریں دانش کے انڈر وئیر پر روک لیں جہاں 
اسے بہت بڑا ابھار نظر آرہا تھا۔ عفت جانتی تھی کہ یہ لن کا ابھار ہے جو 
اسکی چوت میں جانے کو بے تاب ہو رہا ہے۔ عفت نے تعریفی نظروں سے 
دانش کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور پھر اپنی ٹانگیں پھیال کر دانش کے 
اوپر بیٹھ گئی۔ دانشے کی ٹانگوں پر بیٹھنے کے بعد عفت دانش کے اوپر جھکی 
اور اسکے سینے پر پیار کرنے لگی۔ سینے سے ہوتی ہوئی عفت نیچے تک 
آئی اور انڈر وئیر کے اوپر تک اپنی زبان پھیری۔
انڈر وئیر تک پہنچنے کے بعد عفت نے بال جھجک اپنا ہاتھ دانش کے لن پر 
رکھ دیا جو ابھی تک انڈر وئیر کی قید میں تھا۔ عفت کی یہ بے باکی دانش کو 
بہت پسند آرہی تھی۔ وہ بھی ایسی ہی بیوی چاہت ا تھا جو نہ صرف گرم ہو بلکہ 
اپنی گرمی کا اظہار کرنا بھی جانتی ہو۔ اور بستر میں اپنے شوہر کے ساتھ 
سیکس انجوئے کرنے کی خواہش بھی رکھتی ہو۔ دانش نے ہلکی آوازمیں عفت 
سے پوچھا کہ میرا ہتھیار کیسا لگا تمہیں؟؟؟ تو عفت نے ایک شرارتی 
مسکراہٹ سے کہا یہ تو جب آپ اپنا کام کرو گے تبھی پتا لگے گا اسکے بارے 
میں۔ یہ سن کر دانش کو عفت پر ایک دم سے پیار آیا اور اسنے عفت کو اپنے 
اوپر گرا لیا۔ اور دیوانہ پیار اسکو پیار کرنے لگا۔ دانش اب اپنے ہاتھ عفت کے 
چوتڑوں پر بھی پھیر رہا تھا۔ 32 سائز کے نرم اور گوشت سے بھرے ہوئے 
چوتڑ دانش کو بہت پسند آئے تھے۔ مگر ابھی تک ان پر سرخ رنگ کی پینٹی 
موجود تھی۔ 
اسی دوران عفت جو دانش کے اوپر جھکی ہوئی تھی اسکو اپنی چوت پر سخت 
چیز لگتی محسوس ہوئی۔ عفت نے اسکا مزہ لینے کے لی اپنا وزن دانش کے 
اوپر ڈاال تو عفت کی چوت اس سخت لن کے اور قریب ہوگئی۔ اور چوت لن کی 
رگڑ سے عفت اور دانش دونوں کو ہی مزہ آنے لگا۔ کچھ دیر کے بعد دانش نے 
اسی پوزیشن میں عفت کے برا کی ہُک کو کھول دیا اور اور اسکو سیدھا بٹھا
کر اسکے مموں کو برا کی قید سے آزاد کر دیا۔ عفت پینٹی پہنے دانشے کے لن 
کو اوپر بیٹھی تھی، انڈر وئیر میں ہونے کے باوجود دانش کا لن عفت کی چوت 
کو مزہ دے رہا تھا۔ اور عفت کے 34 سائز کے ممے پہلی بار کسی مرد کے 
سامنے ننگے ہوئے تھے۔ اور دانش وہ خوش قسمت تھا جس نے ان خوبصورت 
سڈول اور کسے ہوئے مموں کا پہلی مرتبہ نظارہ کیا تھا۔ دانش نے اپنے ہاتھ 
عفت کی کمر سے آگے کو التے ہوئے اسکے مموں پر رکھ دیے اور عفت کے 
منہ سے ایک سسکاری نکلی۔ اور مزے کی شدت سے اسکی آنکھیں بند ہوگئی۔

اور اسکو بیڈ پر لٹا کر خود اسکے اوپر دانش نے عفت کو اپنے اوپر سے اتارا
جھک کر اسکے گورے گورے دودھ جیسے مموں کو دیکھنے لگا۔ عفت کا 
پورا جسم ہر قسم کے داغ سے پاک تھا اور اسی طرح اسکے مموں پر بھی 
کوئی نشان موجود نہیں تھا۔ گورے گورے مموں پر ہلکے براون رنگ کے 2 
دائرے اور ان پر ایک چھوٹا سے ہلکا براون نپل بہت ہی خوبصورت لگ رہا 
تھا۔ دانش نے پہلے اپنے ہاتھوں سے ان نپلز کو چھوا اور پھر انکو اپنے منہ 
میں لیکر چوسنے لگا۔ دانش کے اس عمل نے عفت کو پاگل کر دیا تھا اور اس 
نے اپنی ایک ٹانگ دانش کی ٹانگوں کے درمیان پھنسا دی تھی عفت کی اس 
حرکت کا نتیجہ یہ ہوا کے دانش کی بھی ایک ٹانگ عفت کی ٹانگوں کے 
درمیان چلی گئی۔ اور ساتھ ہی ساتھ اسکا لن بھی عفت کی چوت کے ساتھ گلے 
ملنے لگا۔ عفت نے اپنی چوت کو آہستہ آہستہ دانش کے لن پر رگڑنا شروع کر 
دیا تھا اور دانش مسلسل عفت کے ممے چوسنے میں مصروف تھا۔
دانش نے پہلے بھی کچھ لڑکیوں کے خوبصورت مموں کو چوسا تھا مگر ایسے 
صاف گورے اور خوبصورت ممے اسے کبھی نصیب نہیں ہوئے تھے۔ اسی 
لیے وہ دل بھر کر ان مموں کا دودھ پینا چاہتا تھا۔ اور عفت بھی دانش کے ساتھ 
مکمل تعاون کر رہی تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر اکیال مرد ہی عورت کو 
پیار کرتا رہے اور جواب میں عورت رسپانش نہ دے تو نہ مرد کو سیکس کا 
اصل مزہ آتا ہے اور نہ ہی عورت کو۔ مگر عفت ان عورتوں میں سے نہیں 
تھی۔ اپنی فطری شرم و حیا اور پاکدامنی کے باوجود وہ سیکس کے طریقوں 
سے نہ صرف واقف تھی بلکہ یہ بھی جانتی تھی کہ سیکس کا اصل مزہ لینے 
کے لیے شوہر کا پورا پورا ساتھ دینا الزمی ہے۔
جب دانش کا عف کے مموں سے دل بھرنے لگا تو وہ آہستہ آہستہ نیچے کی 
طرف آنے لگا، اور اب کی بار دانش نے ایک ہی جھٹکے میں عفت کی پینٹی 
اتار دی تھی۔ عفت کی پینٹی جیسے ہی اتری عفت نے اپنی ایک ٹانگ دوسری 
ٹانگ پر رکھ کر اپنی پھدی کو چھپانا چاہا مگر دانش نے درمیان میں اپنا ہاتھ 
رکھ کر عفت کی نرم تھائی کو پکڑا اور اسکی ٹانگوں کو تھوڑا سا کھول دیا۔ 
ٹانگیں کھولنے کے بعد دانش بہت ہی اشتیاق کے ساتھ عفت کی چھوٹی سی 
پھدی کو دیکھنے لگا۔ چھوٹی سی اس لیے کہ یہ بالکل ان ٹچ پھدی تھی۔ جس پر 
کبھی کسی مرد نے تو کیا خود عفت نے بھی چھیڑ خانی نہیں کی تھی۔ اس نے 
اپنی پھدی کو اپنے شوہر کی امانت سمجھتے ہوئے بہت ہی سنبھال کر رکھا ہوا 
تھا۔ عفت کی پھدی کے دونوں لب آپس میں ملے ہوئے تھے۔ ان میں زرا برابر 
بھی فاصلہ نہیں تھا۔ پھدی کے لبوں کا رنگ ہلکا ہلکا سرخ اور گالبی تھا اور 
بالوں کا نام و نشان تک موجود نہیں تھا۔ لبوں کے درمیان ہلکی ہلکی چکناہٹ 
موجود تھی جو دانش کے جسم کی گرمی پانے کے بعد نمودار ہوئی تھی۔ دانش 
نے اپنا ایک ہاتھ آہستہ آہستہ عفت کی پھدی کے لبوں پر پھیرنا شروع کیا تو 
عفت کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں، اسکے منہ سے آہ، آہ، اف آوچ،، آوئی آہ آہ 
جیسی سسکیاں نکل رہی تھی اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے دانش کا وہ 
ہاتھ پکڑ لیا تھا جس کو وہ عفت کی پھدی کے لبوں پر مسل رہا تحھا۔ مگر 
اسکے باوجود دانش نے اپنا ہاتھ اسکی پھدی پر مسلنا جاری رکھا جسکی وجہ 
سے عفت کی پھدی کے لبوں میں موجود چکناہٹ میں اضافہ ہونے لگا۔ 
4
کچھ ہی دیر بعد دانش عفت کے اوپر جھک کر اسکی پھدی کی سائیڈوں پر اپی 
زبان پھیر رہا تھا جس سے عفت کا پورا جسم کانپنے لگا تھا اب۔ عفت کی 
ٹانگیں بری طرح کانپ رہی تھیں، اسکا پیٹ تیز تیز سانسوں کی وجہ سے اوپر 
نیچے ہورہا تھا جبکہ اسکے ممے بھی مسلسل اوپر نیچے ہورہے تھے۔
دانش نے اپنی زبان کو آہستہ آہستہ عفت کی پھدی کے لبوں کے اوپر کیا تو 
عفت نے سختی سے دانش کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسکو ایسا کرنے سے منع کیا۔ 
دانش نے سوالیہ نظروں سے عفت کی طرف دیکھا تو اسنے کانپتی ہوئی آواز 
میں کہا یہ جگہ گندی ہے۔ مگر دانش تو پھدی چاٹنے کا شوقین تھا۔ وہ تو بہت 
گندی اور بالوں سے بھری ہوئی پھدی بھی بہت شوق سے چاٹتا تھا تو ایسی 
صاف ستھری اور ان چھوئی پھدی کو وہ کیسے چھوڑ سکتا تھا۔ دانش نے 
مسکراتے ہوئے عفت کی طرف دیکھا اور اپنے ہونٹ عفت کی پھدی کے اوپر 
رکھ کر ایک پیار بھرا لمبا بوسا دیا۔ اس بوسے نے تو جیسے عفت کی جان ہی 
نکال دی تھی۔
اس سے پہلے کہ عفت دانش کو دوبارہ روکتی ایسا کرنے سے دانش کی زبان 
عفت کی پھدی کے لبوں پر اپنا جادو چالنا شروع ہوگئی تھی۔ دانش کی گیلی 
زبان کو اپنی پھدی کے لبوں پر محسوس کر کے عفت کے جسم میں ایک 
کرنٹ دوڑ گیا۔ اور اسکی سسکیوں سے اب کی بار پورا کمرہ گونجنے لگا۔ 
دانش کی زبان نے عفت کو اتنا مزہ دیا تھا کہ وہ دوبارہ دانش کو روک ہی نا 
پائی ایسا کرنے سے اور دانش مسلسل اپنی زبان سے عفت کی پھدی کو چوسے 
جا رہا تھا۔ کچھ دیر بعد دانش نے اپنی زبان سے عفت کی پھدی کے لبوں پر 
دباو بڑھایا اور اپنی زبان ہلکی سی پھدی کے لبوں کے درمیان داخل کر دی۔ 
دانش کی اس حرکت نے عفت کی رہی سہی برداشت کو بھی ختم کر دیا تھا اور 
اب اس نے اپنی ٹانگوں کو سختی سے دبا لیا تھا مگر ٹانگوں کے درمیان دانش 
کا سر موجود تھا جسکی وجہ سے وہ اپنی پھدی کو دانش کی زبان سے علیحدہ 
نہ کر پائی۔ اب عفت اپنا سر دائیں بائیں مارنے لگی تھی۔ اور اسکی چوت 
مسلسل پہلے سے زیادہ گیلی ہوتی جا رہی تھی۔ 
کچھ ہی دیر کے بعد عفت کو اپنی ٹانگوں میں چیونٹیاں رینگتی محسوس ہونے 
لگیں۔ اور اپنی پھدی پر اسے سوئیاں چبھتی محسوس ہو رہی تھیں۔ وہ اس 
صورتحال سے گھبرا گئی اور کانپتی ہوئی آواز میں دانش سے بولی کہ یہ 
میرے جسم کو کیا ہورہا ہے؟ دانش نے عفت کی اس بات کا کوئی جواب نہ دیا، 
وہ جانتا تھا کہ عفت جیسی کنواری لڑکی اس لذت سے بالکل ہی نا آشنا ہے اور 
وہ نہیں جانتی کہ ابھی اسکی پھدی سے کیسا الوا نکلنے واال ہے۔ دانش بال 
ُرکے عفت کی پھدی میں اپنی زبان کو چال رہا تھا کہ اچانک ہی عفت کے جسم 
نے جھٹکے لگانا شروع کیے اور ساتھ ہی اسکی چوت سے ایک گرم پانی کا 
فوارہ چل نکال۔ تھوڑا گاڑھا اور چکنا پانی دانش کے منہ پر آکر گرا تھا، کچھ 
قطرے اچھل کر ہوا میں گئے اور دانش کی کمر پر آکر گرے جبکہ کچھ پانی 
اسکے منہ کے اندر بھی گیا جسکو وہ بال جھجک پی گیا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

Part one link
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=863681850906540&id=100017941988758

Link to comment

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...