Disable Screen Capture Jump to content
Novels Library Plus ×
URDU FUN CLUB

خواتین کےخلاف بڑھتی شکایات‘


Recommended Posts

خواتین کےخلاف بڑھتی شکایات‘

دو تہائی کے قریب واقعات میں بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والی خاتون ان کی والدہ تھی۔

برطانوی خیراتی ادارے چائلڈ لائن کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسی شکایات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جن میں بچوں نے خواتین کو انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

چائلڈ لائن کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران انہیں موصول ہونے والی ایسی شکایات کی تعداد میں مردوں کی جانب سے بچوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کے مقابلے میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ برس جن سولہ ہزار چورانوے بچوں نے ادارے کی ہیلپ لائن پر فون کیا ان میں سے دو ہزار ایک سو بیالیس نے کسی خاتون کو اس عمل کا ذمہ دار ٹھہرایا اور یہ تعداد سنہ 2004 کے مقابلے میں ایک سو بتیس فیصد زیادہ ہے۔

اگرچہ مردوں کی جانب سے بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے زیادہ واقعات سامنے آتے ہیں تاہم ایک دیگر خیراتی ادارے این ایس پی سی سی کا کہنا ہے کہ خواتین کی جانب سے کیے گئے ایسے واقعات زیادہ تر رپورٹ نہیں کیے جاتے۔

این ایس پی سی سی کے مطابق اس کی وجہ لوگوں کا ابھی تک یہ تسلیم نہ کرنا ہے کہ خواتین بھی جنسی طور پر ہراساں کر سکتی ہیں۔اس تحقیق کے دوران حال ہی میں سامنے آنے والے اس واقعے کا بھی جائزہ لیا گیا ہے جس میں ایک نرسری میں کام کرنے والی خاتون وینیسا جارج نے ان کی نگرانی میں دیے گئے بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

زیادہ تر لوگوں کے لیے یہ بات دھچکے کا باعث ہوتی ہے کہ کوئی خاتون چہ جائیکہ کوئی ماں کسی بچے سے جنسی زیادتی کر سکتی ہے۔ لیکن ایسا ہوتا ہے۔

سو منٹو

چائلڈ لائن کی رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ خواتین کی جانب سے بچوں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اس کا کہنا ہے اب ایسے واقعات زیادہ تعداد میں رپورٹ کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چائلڈ لائن کو خواتین کے بارے میں جو شکایات ملی ان میں سے دو تہائی کے قریب واقعات میں بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والی خاتون ان کی والدہ تھیں۔ چائلڈ لائن کی سربراہ سو منٹو کا کہنا ہے کہ ’چائلڈ لائن کو ملنے والی زیادہ تر شکایات لڑکیوں کی جانب سے آتی ہیں جنہیں کسی مرد نے جنسی طور پر ہراساں کیا ہوتا ہے تاہم اب ہمیں ملنے والی ایسی کالوں میں اضافہ ہو رہا ہے جن میں شکایت کرنے والا کسی خاتون کو اس عمل کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب ماضی کی نسبت زیادہ لڑکے ہمیں کال کرتے ہیں‘۔

سو منٹو کے مطابق ’زیادہ تر لوگوں کے لیے یہ بات دھچکے کا باعث ہوتی ہے کہ کوئی خاتون چہ جائیکہ کوئی ماں کسی بچے سے جنسی زیادتی کر سکتی ہے۔ لیکن ایسا ہوتا ہے‘۔

این ایس پی سی سی کی سینئر محقق ڈاکٹر لیزا بنٹنگ کا کہنا ہے کہ ’خواتین کی جانب سے جنسی زیادتی کے معاملات کو سامنے لانا باعثِ شرم سمجھا جاتا ہے‘۔ ان کے مطابق ایسے واقعات کا شکار ہونے والے بچے اس بات کو دبا لیتے ہیں کیونکہ نہ تو انہیں خود یقین آتا ہے کہ ان کے ساتھ ایسا ہوا ہے اور انہیں لگتا ہے کہ کوئی ان کی بات پر یقین نہیں کرے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ جب تک ہم یہ ماننے پر تیار نہیں ہوں کہ خواتین جنسی جرائم کی مرتکب ہو سکتی ہیں اس وقت تک ہم ان کی تلاش شروع نہیں کریں گے‘۔.

Link to comment

کچھ ممبرز مسلسل  رومن اردو میں کمنٹس کر رہے ہیں جن کو اپروول کی بجائے مسلسل ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے ان تمام ممبرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ یہ کمنٹس رولز کی خلاف ورزی ہے فورم پر صرف اور صرف اردو میں کیئے گئے کمنٹس ہی اپروول کیئے جائیں گے اپنے کمنٹس کو اردو میں لکھیں اور اس کی الائمنٹ اور فونٹ سائز کو 20 سے 24 کے درمیان رکھیں فونٹ جمیل نوری نستعلیق کو استعمال کریں تاکہ آپ کا کمنٹ با آسانی سب ممبرز پڑھ سکیں اور اسے اپروول بھی مل سکے مسلسل رومن کمنٹس کرنے والے ممبرز کی آئی ڈی کو بین کر دیا جائے گا شکریہ۔

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...