August 13, 201114 yr برقی جھٹکوں کے بعد دماغ کے اس حصے میں تبدیلیاں پیدا ہوئی تھیں جو سونگھنے کے صلاحیت پیدا کرتا ہے شگاگو۔ برقی جھٹکوں کے بعد دماغ کے اس حصے میں تبدیلیاں پیدا ہوئی تھیں جو سونگھنے کے صلاحیت پیدا کرتا ہے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانی ناک بہت جلد ماحول میں خطرے کو سونگھنے کا صلاحیت حاصل کر سکتی ہے۔اس سلسلے میں کیے جانے والے ایسے رضا کاروں کا کہنا ہے کہ معمولی برقی جھٹکوں کے بعد ان کی ناک باآسانی دو ایسی مخلتف انتہائی ملتی جلتی مہکوں میں فرق کرنے لگی ہیں جو وہ پہلے نہیں کر سکتی تھیں۔ اس سلسلسے میں دماغ کی سکینّگ سے بھی اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ برقی جھٹکوں کے بعد دماع کے اس حصے میں تبدیلیاں پیدا ہوئی تھیں جو سونگھنے کے صلا حیت پیدا کرتا ہے۔ بارہ رضاکاروں کو اس سلسلے میں دو طرح کی گھاس سنگھائی گئی تو وہ ان میں کوئی فرق نہہیں بتا سکے۔ لیکن جب معمولی برقی جھٹکوں کے بعد انہیں دوبارہ گھاس کے دونوں نمونے سنگھائے گئے تو وہ ان میں باآسانی فرق کر سکتے تھے۔شکاگو کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے فیئن برگ سکول آف میڈیسن کے ّاکٹر ون لی کا کہنا ہے کہ ابھی یہ ارتقایی مراحل میں ہے لیکن اس کے ذریعے ہم وہ حساسیت حاصل کر کستے ہیں ماحولیاتی معلومات کے سمندر میں کسی ایسی چیز کو شناخت کرنے میں مدد دے سکتی ہے جو ہماری بقا کے لیے انتہائی ضروری ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ہمیں خطرے کی تنبیہ ہو جائے گی وار ہم اس سے بچنے پر توجہ دے سکیں گے۔دماغی سرگرمیوں کا جائزہ لیے کے لیے کیے جانے والے ایم آر آئی سکینّگ سے بھی سے بھی اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ برقی جھٹکوں کے بعد دماغ کے اس حصے کو جو بو اور خوشبو میں فرق کرتا ہے اور جسے اولفیکٹری کورٹیکس کہا جاتا ہے تبدیلیا رونما ہوتی ہیں۔ یونیورسٹی آف نیو کاسل کے ڈاکٹر گیراڈائن رائٹ نے اسی طرح کے تجربات جانوروں پر کیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انسانوں اور جانوروں کا حسیاتی نظام بنیادی طور پر ایک ہی طرز کا ہوتا ہے۔
Create an account or sign in to comment