Disable Screen Capture Jump to content
Novels Library Plus ×
URDU FUN CLUB

اک فرقہ اداس کوگوں کا


Recommended Posts

محبتیں خیرات ہوتی تو ہم تیرے لیے مذاروں پر بیھٹے ہوتے 

منت کے دھاگوں سے ملتی تو کوئ ایسا مزار نہ ہوتا جہاں میں تیری منت کا دھاگہ نہ باندھ کر نہ آتا

لیکںن یہ تو اعزاز ہیں اور اعزازات تو نصیب والوں کو ملتے ہیں

Link to comment

کچھ ممبرز مسلسل  رومن اردو میں کمنٹس کر رہے ہیں جن کو اپروول کی بجائے مسلسل ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے ان تمام ممبرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ یہ کمنٹس رولز کی خلاف ورزی ہے فورم پر صرف اور صرف اردو میں کیئے گئے کمنٹس ہی اپروول کیئے جائیں گے اپنے کمنٹس کو اردو میں لکھیں اور اس کی الائمنٹ اور فونٹ سائز کو 20 سے 24 کے درمیان رکھیں فونٹ جمیل نوری نستعلیق کو استعمال کریں تاکہ آپ کا کمنٹ با آسانی سب ممبرز پڑھ سکیں اور اسے اپروول بھی مل سکے مسلسل رومن کمنٹس کرنے والے ممبرز کی آئی ڈی کو بین کر دیا جائے گا شکریہ۔

اسے کہنا
میری سرزمینِ دل‘
اتنی وسیع نہیں ہے کہ
تیرے سوا کسی اور کو
میں اس میں بسا سکوں
تیرے بغیر آشیاں‘
کہیں سجا سکوں
تیرےعلاوہ کسی اور کو‘
چاہ سکوں
کہ رابطہ میرا بس‘
تم سے تمہی تک کا ہے
نہ دوسرا کوئی 
اس میں شریک ہے
نہ ہی حوصلہ ہے اب
کسی اور کو سوچنے کا
مشغلہ ہے بس‘
تجھی کو کھوجنے کا
اور اب یہ بھی طے ہے کہ‘
کسی اور کی یاد کے‘
دیپ نہ جلا سکوں
اسے کہنا!
میری سرزمینِ دل ‘
اتنی وسیع نہیں ہےکہ
کسی اور کو اس میں بسا سکوں ....!

Link to comment
  • 1 year later...

یہ عجیب فصلِ فراق ہے

کہ نہ لب پہ حرفِ طلب کوئی

نہ اداسیوں کا سبب کوئی

نہ ہجومِ درد کے شوق میں

کوئی زخم اب کے ہرا ہُوا

نہ کماں بدست عدو ہُوا

نہ ملامتِ صفِ دُشمناں

نہ یہ دل کسی سے خفا ہُوا

 

کوئی تار اپنے لباس کا

نہ ہَوا نے ہم سے طلب کیا

سرِ راہگزرِ وفا بڑھی

نہ دیا جلانے کی آرزو

پے چارہ غمِ دو جہاں

نہ مسیح کوئی نہ چارہ گر

 

نہ کسی خیال کی جستجُو

نہ خلش کسی کے وصال کی

نہ تھکن رہ ماہ و سال کی

 

نہ دماغ رنجِ بُتاں

نہ تلاش لشکرِ ناصحاں

وہی ایک رنگ ہے شوق کا

وہی ایک رسم ہے شہر کی

 

نہ نظر میں خوف ہے رات کا

نہ فضا میں دن کا ہراس ہے

پے عرضِ حال ہے سخن وراں

 

وہی ہم سخن ہے رفیقِ جاں

وہی ہم سخن جسے دل کہیں

وہ تو یوں بھی کب کا اُداس ہے۔

Link to comment
  • 1 year later...

تیرگی شب کی اسی طور مٹائی جائے 

چاند چہروں پہ پڑی گرد ہٹائی جائے 

 

مفتئِ وقت ہے الحاد کی مئے کا خُوگر 

آئتِ عہدِ وفا کس کو  سنائی جائے 

 

زحمتِ دستِ کرم تجھ کو گوارا ہو اگر

تلخئِ صُورتِ حالات بتائی جائے 

 

دوستو شامِ گلستاں کا تقاضا یہ ہے 

رات سے پہلے کوئی شمع جلائی جائے 

 

اس قدر زور سے آواز کے پتھر پھینکو 

حاکمِ شہر کے محلوں میں دہائی جائے 

 

مرے رستے میں مزاحم ہے  ارادہ میرا

مرے رستے کی یہ دیوار گِرائی جائے 

 

اب یہ مُنصف پہ ہے انصاف کرے یا نہ کرے 

اپنا جو فرض ہے زنجیر ہلائی جائے 

 

 

Link to comment
  • 2 months later...
  • 9 months later...

وہاں وہ آنکھ بجھی ہم یہاں اداس ہوئے

یہ زخم بھرنے لگے تو نشاں اداس ہوئے

 

اسے خبر ہی نہیں ہے کہ اس کے جانے سے

یہ پھول اور یہ آبِ رواں اداس ہوئے

 

تمہارے بعد کئی بار یوں ہوا ہے کہ ہم

جہاں پہ بنتا نہیں تھا وہاں اداس ہوئے

 

فضا اداس ہے لہجوں میں سوگواری ہے

یہ کس کے جانے پہ اہلِ زباں اداس ہوئے

 

کسی نے گاؤں سے جانے کی بات کیا کر دی

مکین بعد میں پہلے مکاں اداس ہوئے

Link to comment

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...