Disable Screen Capture Jump to content
Novels Library Plus Launched ×
URDU FUN CLUB

سالیوں کی پینٹی


Recommended Posts


جہلم میں کسی انجان انسان کی شادی والے دن ، میں نے اس كے بستر میں اس کی سہاگ رات میں اپنے آپ کو پایا . لکی تھا وہ كہ میرے ساتھ اس کی بِیوِی نہیں تھی . یہ بستر بہت سجا ہوا تھا اور میرے ساتھ تھی ایک وہ لڑکی جس كے ساتھ میں زنا کر رہا تھا 
میں : آہ آہ آہ ( فارغ ہونے والا تھا ) 
کنول : اوئی اوئی اوئی ، اندر اوئی نہیں ، اندر نہیں … 
اِس رسیلی پھدی کا مزہ اتنا تھا كہ میرا رکنے کا دِل نہیں کر رہا تھا . کنول مزے سے اچھل رہی تھی اور میرا لن کنول کی پھدی میں پچک پچک کی آوازیں تیز دینے لگا . 
کنول : ہاۓ باہر نکالو . 
میں نے کنول كے چلانے کی وجہ سے لن باہر نکالا اور اسکی پھدی سے فوارہ نکلا . کنول چھوٹ رہی تھی . اسکی پھدی سے منی نکلنے سے اسکی کمر كے نیچے والا تکیہ گیلا ہو گیا . اِس فوارے سے کنول مچھلی بنا پانی كے جس طرح اچھلتی ہے اس طرح اچھل رہی تھی . یہ سب دیکھ کر میرے لن سے میری زندگی کا سب سے لمبا اونچا اور ذیادہ مادہ ( منی / اسپرم / پانی ) نکلا . مجھے بہت مزہ آیا . اب میرے لن کا مادہ چھت كے فین پر لگا اور فین کی وجہ سے کمرے میں ادھر ادھر جا کر گرا . کنول كے گول گول دودھ بھی میرے مادے سے گیلے ہوگئے . 
میں : آہ آہ آہ ، کنول تیری پھدی واہ … 
آج دو کنوارے ایک دوسرے کی لن اور پھدی سے فارغ ہوتے ساتھ کنواری دنیا سے نکل آئے . اس طرح تھا میرا پہلا زنا مجھے لگتا ہے آپ کو کچھ سمجھ نہیں آئی ، اِس لیے اسٹوری تھوڑی بیک کرتا ہوں . اور اسٹارٹ سے سناتا ہوں 
پارٹ 2 : تعارف 
ہائے ، میرا نام داؤد ہے . اور میری عمر 28 ہے . نارمل باڈی ، نارمل لک اینڈ مناسب ہیلتھ . یہ میری پہلی کہانی ہے جس کو میں پوسٹ کر رہا ہوں . ہنٹ دیتا ہوں كہ کہانی میں سب لوگوں کا نام نوٹ کر لیں ، کہانی لمبی ہے اور مزے کی ہے مگر میں انسان ہوں غلطی ہو سکتی ہے . آپ کو سمجھنےمیں آسانی رہے گی آپ سب کریکٹرز كے نام اور نشانیاں نوٹ کر لیں . میں ڈیلی اپ ڈیٹ کروں گا اور آپ كے لائک اینڈ کمنٹس کا بھی انتظار کروں گا . پوسٹ جمع کرنے سے پہلے آپ کو نیکسٹ چیپٹر کی اپ ڈیٹ ڈیٹ بھی دے دوں گا . اب سیدھا کہانی کی طرف جاتے ہیں . 
میں داؤد ہوں 


اور میرے گھر میں صرف میرے امی ابو اور میں رہتا ہوں ، میرا بڑا بھائی لندن میں ہے اپنی وائف كے ساتھ . ہم لوگ جہلم كے رہنے والے ہیں . یہ کہانی میری شادی سے کچھ سال پہلے كے وقت سے اسٹارٹ ہوتی ہے . 
پارٹ 3 : کسی اور کی شادی میری سہاگ رات 
مجھے چھت پر ایک لڑکی ملی جس کی عمر 24 تھی . میری اس سے بہت ذیادہ جان پہچان ہوئی . اس نے اپنا نام کنول بتایا اور میں نے قیصر بتایا . ہم لوگوں نے ایک اصول بنا لیا تھا كہ ایک دوسرے کو فیملی کے سوال نہیں کرنے تا کہ دونوں فیمیلیز کا نام سیف رہے . ہماری دوستی بڑھتی رہی اور ہم لوگ ایک دوسرے كے ساتھ فرینک بھی ہو چکے تھے . کنول کو میں نے اسکے جسم كے بہت سارے سوال کیے اور وہ بتاتی رہی اسے بھی جو پوچھنا تھا وہ پوچھتی رہی اور میں بتاتا رہا . ایک دن چھت پر : 
میں : کنول یار کبھی اپنی کوئی تصویر تو بھیجو ، ننگی والی . 
کنول : اہان ، میں نے ایسا کچھ نہیں کرنا . انٹرنیٹ سیف نہیں ہے ، ہم نے اپنے خاندان کا ناک نہیں کٹوانا تھا اِس لیے اِس دوستی میں اصول رکھے ہیں نا . 
میں : رولز بریک کرنے كے لیے ہوتے ہیں . یار صرف ایک تصویر ، میں دوبارہ نہیں پوچھوں گا . 
کنول : قیصر پلیز . نیٹ كے اوپر نہیں
میں : او کے نیٹ كےاوپر نہیں تو کسطرح ؟ ہم ایک دوسرے کو مل سکتے ہیں ؟ 
کنول : . . . . . . . . . ( کنول کا کوئی جواب نہیں آیا ) 
میں : پلیز . دیکھو مجھ پر بھروسہ کرتی ہو نا ؟ 
کنول : ہاں کرتی ہوں . 
میں : یار کچھ ہفتے بَعْد تم اسلام آباد جا رہی ہو اسٹڈی کرنے كے لیے اور ہم لوگ پِھر شاید کبھی بھی نہیں ملیں گے . تمہیں بتایا تھا نا کہ میرے امی ابو میری شادی کا سوچ رہے ہیں . 
کنول : ہاہاہا ، ہاں تم نے بتایا تھا ، شادی ہونے والی ہے اور تمہیں تو سیکس آتا ہی نہیں . 
میں : ابھی تک نہیں کیا اِس کا یہ مطلب نہیں كہ نہیں آتا . تم بھی تو کنواری ہو . 
کنول : ہاں ہوں لیکن میری شادی ابھی نہیں ہو رہی 
میں : اچھا خیر ہے ، بِیوِی کی گانڈ مار لوں گا ایزی ہے . 
کنول : اوئے ، ایزی ویزی ھوگا تم لڑکوں كے لیے ، 2 منٹ دھکے مار کر ہمیں پیاسا ہی چھوڑ دیتے ہو . 
میں : کیا مطلب ؟ تم سے ایسا ہوا ہے ؟ 
کنول : نہیں ، ایسا سنا ہے . 
میں : اچھا تو کیسے پریکٹس کروں ؟ کوئی ہیلپ کرو نا ! 
کنول : او کے او کے ، میری سہیلی کی شادی ہے آج اور وہ بتا رہی تھی کہ اس کی بہن کو سیکس کی بیماری ہے ، اس کو ہفتے میں 3-4 بار سیکس کی طلب رہتی ہے 
اگر تم آج آؤ شادی پر تو میں تمہیں اس كے ساتھ فکس کر دیتی ہوں . تم دونوں کا کام ہو جائے گا . 
میں : سچ ؟ مذاق تو نہیں کر رہی ؟ 
کنول : نہیں یار قیصر آئی پرامس ، میں تمہیں ایڈریس دیتی ہوں . اُدھر مجھے اس كے علاوہ کوئی نہیں جانتا اسلام آباد یہ ہے ایڈریس ٹھیک 9 بجے شام کو آ جانا . اِس چھت پر جو تصویر ہے تمہاری اِس سے تمہیں پہچان لوں گی اور اس کو تمہارا بتا دوں گی . 
میں : تھینکس ، کیا تمہیں بھی ملنے کا موقع ملے گا ؟ 
کنول : ہو سکتا ہے . اگر مجھے ٹائم ملا . اب میں جاتی ہوں تیار ھونا ہے بائے . 
میں : بائے . 
شام کو میں بھی تیار ہو کر چلا گیا . ٹھیک 9 بجے اس كے دیئے ہوئے ایڈریس پر گیا . ادھر ارد گرد لڑکیوں کو دیکھ کر میرا لن وائیبریٹ کرنے لگا . میں سوچ میں پڑ گیا کہ کون ہو گی یہ لڑکی . کچھ 20 منٹس بَعْد ایک لڑکی میری طرف آئی . وہ قبول صورت تھی ، میک اپ کیا ہوا تھا اور ڈارک لپسٹک لگائی ہوئی تھی . اس کا فگر ٹھیک ہی تھا . لیکن مجھے اسکی پھدی سے کام تھا شکل سے نہیں . میرے مشن كے لیے وہ ٹھیک تھی . وہ پاس آئی اور بولی : 
لڑکی : ہائے قیصر ، آؤ میرے ساتھ 
میں : او کے ( اور سوچا ; واؤ کیا بات ہے ، آج تو میرا کام ہو جائے گا ) . 
میں اس كے ساتھ دلہا دلہن كے بیڈروم میں آ گیا . جو شادی کی رات كے لیے سجا ہوا تھا . تھوڑی سی آگے پیچھے کی باتیں ہونے كے بَعْد میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا . اس نے اپنی بیماری كے بارے میں بتایا اور کہا کہ جلدی جلدی کرنا ہے کیونکہ اس كے پاس ٹائم کم ہے . یہ میری پہلی بار تھی تو میں نروس تھا . اس نے میرے کپڑے اتارے اور میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا . میرے لن کو اپنے منہ میں ڈالا اور چُوسنے لگی . 
میں : آہ ، کیا بات ہے باجی کی . 
لڑکی : مم مم مم 2-3 منٹ میرے لن کو چوستی رہی اور پِھر وہ بھی تیار ہو گئی تھی . اس نے اپنی شلوار تھوڑی سی نیچے کی اور ڈوگی اسٹائل میں بیٹھ گئی . 
لڑکی : قیصر ، اندر ڈالو اور شروع ہو جاؤ . 
اچانک دروازے پر دستک ہوئی اور آواز آئی ..دروازہ کھولو ارم . (مجھے اِس انجان لڑکی کا نام پتا لگ گیا ) ارم : کیا ہوا ؟ ؟تمہیں سب نیچے بلا رہے ہیں ، جلدی کھولو دروازہ . 
ارم نے پہچان لیا کہ دروازے پر کون تھا . اس نے میری آنکھوں كے جو سامنے اپنی ننگی بالوں والی پھدی رکھی تھی اسے اپنی شلوار سے کور کیا اور مجھے ادھر اس طرح ہی کھڑے ہونے کو کہا . پِھر اس نے دروازہ کھولا اور اب کمرے میں 2 لڑکیاں اور میں تھا . میں ننگا کھڑا تھا بے شرمی سے . یہ دوسری لڑکی کافی خوبصورت تھی
گوری گوری ، لمبے بال ، پیاری آنکھیں اور سیکسی باڈی . ارم باہر نکل گئی اور دوسری لڑکی میرے پاس آئی . 
لڑکی : قیصر آئی ایم کنول . 
میں : اوہ ، ہائے
کنول : ( مسکراتے ہوۓ ) اسے جانا پڑا ، سوری تم بھی جاؤ . اب وہ نہیں آنے والی . 
میں : یہ کیا مذاق ہے ، میں اس طرح کس طرح جاؤں . مجھے سیکس کرنا ہے .
کنول : قیصر اب میں کیا کروں اسے جانا پڑا . 
میں : تم نے پرامس کیا تھا . 
کنول : اب ؟ اب کیا ؟ اپنے آپ کو دے دوں ؟ قسم کو ٹوٹنے سے بچا کر اپنی کنواری سیل توڑ دوں ؟
میں : کنول ، آج یا کل اس نے ٹوٹنا ہی ہے ، کسی کو نہیں پتا چلے گا . 
میرا دِل اب اور کرنے لگا کہ آج فارغ ہو کر ہی گھر جاؤ ، اسلئے میں نے کنول کو پکڑا اور اپنے پاس کھینچا ، اور اس كے لپس پہ کس کرنے لگا . اس نے مجھے نہیں روکا ، میرا کھڑا ہوا لن اسکے کپڑوں پر لگ رہا تھا . مجھے فیل ہونے لگا کہ اسکی سانس تیز ہو گئی تھی ، اور وہ بہکنے لگی . اس نے فوراً مجھے دھکا مارا ( پُش کیا ) اور پیچھے ہوئی . مجھے بے چین دیکھ کر وہ مسکرانے لگی . آہستہ آہستہ دروازے كے پاس گئی اور ڈور لوک کیا اور مجھے کس کرنے لگی ، اب مجھے یقین ہو گیا تھا كہ کنول پٹ گئی . میں نے اسکی قمیض اتاری ، اسکی انڈر گارمنٹس بھی اتاری اور اسکے جسم کو چومنے لگا . کنول کا سوفٹ جسم مجھے بہت اچھا لگا . کنول كے گول گول دودھ جن كے نپل پنک رنگ كے تھے وہ ہارڈ ہو گئے . اس كے نپل اپنے منہ میں ڈالے اور بائٹ کرنے لگا . کنول کے منہ سے آوازیں نکلنے لگی جو مجھے اور بھی ایکسائٹ کرنے لگی . پِھر میں اپنے گھٹنوں پر بیٹھا اور اس کی شلوار اتار دی اور اس کی سفید اور پنک پھدی کو دیکھنے لگا . اسکی پھدی سے پانی نکل رہا تھا . وہ بہت گیلی ہو چُکی تھی . میں نے اندر انگلی ڈالی اور آہستہ آہستہ اسکی سیل توڑنے لگا .
کنول : آہ ، تم تو بہت مزہ دیتے ہو . آہستہ کرنا میرا ذیادہ خون نا نکلے . 
میں : کنول تم بہت سیکسی ہو . 
میں اور کنول بیڈ کی طرف گئے اور وہ کمر پر لیٹ گئی . اسکے نیچے ایک تکیہ رکھا اور اس کو مساج کرنے لگا اس کے چھولے کو چومنے لگا . یہ بیڈ جس پر آج رات کو کسی اور جوڑے نے اپنی سہاگ رات منانی تھی اسی بیڈ پر میں اور کنول سہاگ رات منانے لگے ہیں . میں نے کنول کی گلابی پھدی میں اپنا لن ڈالنا شروع کیا ، لن کی ٹوپی اندر گئی تو کنول نے دَرْد محسوس کیا اور میں رک گیا . کنول كے اشارے پر میں نے لن اور اندر ڈالا . آہستہ آہستہ اپنی رفتار تیز کی اور دونوں کو مزہ آنے لگا . اب کنول کی آوازیں بھی آنے لگی . 
کنول : سس ، آہ ، مم 
زندگی میں پہلی بار میں چوت ( پھدی ) مار رہا تھا ، اب تو اپنے ہاتھ سے مٹھ مارنے کا مزہ نہیں آنے والا . میرے لن کی رگڑ کنول کی پھدی میں اتنا مزہ دے رہی تھی کہ مجھے لگ رہا تھا كہ میں فارغ ہونے والا ہوں . 
کنول : تیز کرو تیز 
میں نے سپیڈ تھوڑی بڑھا لی اور ہمارے جسم سے آوازیں آنے لگیں پچک پچک پچک پچک پچک 
کنول اپنے پورے بدن سے پھدی مروا رہی تھی . کیا نظارہ تھا ، نیٹ پر ویڈیو سے بھی بہتر . 
میں : آہ آہ آہ ( فارغ ہونے والا تھا ) 
کنول : اوئی اوئی اوئی ، اندر اوئی نہیں ، اندر نہیں … 
اِس رسیلی پھدی کا مزہ اتنا تھا كہ میرا رکنے کا دِل نہیں کر رہا تھا . کنول مزے سے اچھل رہی تھی

اور میرا لن کنول کی پھدی میں پچک پچک کی آوازیں تیز دینے لگا . 
کنول : ہاۓ باہر نکالو . 
میں نے کنول كے چلانے کی وجہ سے لن باہر نکالا اور اسکی پھدی سے فوارہ ( فونٹین ) نکلا . کنول چھوٹ رہی تھی . اسکی پھدی سے منی نکلنے سے اسکی کمر كے نیچے والا تکیہ گیلا ہو گیا . اِس فوارے سے کنول مچھلی بنا پانی كے جس طرح اچھلتی ہے اس طرح اب کنول اچھل رہی تھی . یہ سب دیکھ کر میرے لن سے میری زندگی کا سب سے لمبا اونچا اور ذیادہ مادہ نکلا . مجھے بہت مزہ آیا . اب میرے لن کا مادہ چھت كے فین پر لگا اور فین کی وجہ سے کمرے میں ادھر ادھر جا کر گرا . کنول كے گول گول دودھ بھی میرے مادے سے گیلے ہو گئے . 
میں : آہ آہ آہ ، کنول تیری پھدی واہ … 
آج دو کنوارے ایک دوسرے کی لن اور پھدی سے فارغ ہوتے ساتھ کنواری دنیا سے نکل آئے . کسی کی شادی اور کسی اور کی سہاگ رات واہ کیا بات تھی اِس رات کی . میں نے کنول کو چوما اور پِھر اس نے جلدی جلدی کپڑے پہنے ، پھدی کو اپنی وائٹ پینٹی سے صاف کیا . کنواری پھدی سے خون نکل رہا تھا . اس نے وہ پینٹی مجھے گفٹ کی اور بائے کر كے اپنے راستے چلی گئی . میں کنول کی خون سے لت پت پینٹی اپنے ساتھ گھر لے آیا اور اپنے ایک سیف ہیڈن جگہ چھپا لی ( ھائیڈ کر دی ) . 
پارٹ 4 : رشتہ 
اس شاندار رات كے بَعْد میری کنول سے کوئی بات نہیں ہوئی ، میں نے چھت پر بہت ویٹ کیا لیکن اس کی کوئی خبر نہیں . مجھے معلوم تھا كہ وہ 3 سال كے لیے اسلام آباد اسٹڈی کرنے جا رہی تھی . میں پِھر بھی ویک میں ایک بار ضرور چیک کرتا تھا كہ وہ اون لائن ہے کہ نہیں . مجھے کنول كے جسم کی یاد بہت آتی تھی . اس کی پینٹی كے ساتھ اپنے آپ کو سیٹسفائی کر لیتا تھا . اسی طرح آدھا سال گزر گیا . ایک دن میرے امی ابو نے مجھ سے میری شادی کی بات کی اور کہا کہ اب ٹائم ھو گیا ہے کہ گھر میں کوئی بہوآئے . بھائی اور بھابی لندن میں رہتے ہیں اور امی کو گھر میں ہیلپ کی ضرورت ہے ، ان کی عمر بہت ہو گئی ہے . میں نے ان کو گرین سگنل دیا اور کہا کہ وہ دیکھنا شروع کر لیں . 
کچھ اور آدھا سال گزرا كہ انکو ایک دوست نے ایک گھر کا بتایا اور کہا کہ ان لوگوں سے بات کرو . خیر کچھ ایسا ہوا کہ ہم لوگ لڑکی دیکھنے چلے گئے . میری ہونے والی بِیوِی کا نام امبرین تھا وہ 27 سال کی تھی اور کافی پیاری سی لڑکی تھی ، قد میرے سے چھوٹا تھا ، سرخ عینک پہن کر بیٹھی تھی ، کیوٹ بےبی فیس . وہ 6 بہنیں ہیں . ان کی فیملی سخت نہیں تھی

لیکن پِھر بھی امبرین حجاب لیتی تھی . ہم دونوں کو ایک دوسرے سے بات کرنے کا موقع بھی ملا . امبرین کی امی نے امبرین کو کہا کہ وہ مجھے گھر دکھائے اِس لیے ہم اٹھے اور باتیں کرتے کرتے اوپر والے روم میں چلے گئے . میں نے امبرین کو اس کی فیملی كے بارے میں پوچھا اور اس نے بتایا كہ اس کی ایک بڑی بہن ہے . اور 4 چھوٹی سسٹرز ہیں . 
میں نے امبرین کو پوچھا كہ اس کی بہنیں کہاں تھی تو پتا چلا كہ عائشہ کی شادی كے بَعْد ان كے ہسبنڈ دبئی کام کرتے تھے اور ایک ایکسڈینٹ میں ان کی ریسینٹلی ڈیتھ ہو گئی تھی . اور آج باجی عائشہ اپنا پرانا گھر سیل کرنے كے لیے ادھر صفائی کرنے گئی تھی اپنے بچوں كے ساتھ . صنم شکاگو اسٹڈی کرتی ہے اور اپنے ماموں مامی كے گھر رہتی ہے . فرحین ، ثوبیہ اور ماریہ ان دنوں صنم کو وزٹ کرنے گئی ہوئی تھی . میں نے بھی امبرین کو اپنی فیملی كے بارے میں بتایا اور پِھر کچھ اور باتوں كے بَعْد ہم واپس امی ابو كے پاس آ گئے . دونوں فیمیلیز کو رشتہ منظور ہوا اور شادی کا پلان بن گیا . 
جلدی ہی منگنی بھی ہو گئی اور شادی کی تیاریاں اسٹارٹ ہو گئی . اب میرے بڑے بھائی اور ان کی وائف شازیہ بھی لندن سے آ گئے تھے . مجھے امبرین اور عائشہ باجی اور صنم نے بھی فون کرنا شروع کر دیا . میری ان تینوں سے دوستی ہونے لگی . باجی عائشہ سے بھی ملاقات ہوئی وہ بہت سیکسی لگی مجھے کیا لپس تھے اور کیا سمائل دیتی تھی . امبرین بھی سویٹ تھی ، فرحین ، ماریہ اور ثوبیہ تو ہمارے گھر بھی آتی جاتی رہتی تھی اپنے امی ابو كے ساتھ . ماریہ چھوٹی تھی اور بدن اس کا کافی فٹ تھا سپورٹس لڑکی . ثوبیہ سانولی سی تھی اس كے جسم سے لگتا تھا كہ عورت بن گئی ہو . بڑے بڑے بریسٹ اور موٹی گانڈ . امبرین سے بھی کافی بڑی لگتی تھی . فرحین بہت خوبصورت تھی ، پری جیسی ، سویٹ سی لڑکی انوسینٹ بہت پیاری . دِل کرتا ہے اسی سے شادی کرتا . فرحین نہایت ہی پیاری لڑکی ہے . 
قصہ مختصر 
1 : عائشہ 31 سال کی ہیں . ( گوری گوری پیاری پیاری ) 2 بچوں کی ماں . ہسبنڈ کی ڈیتھ ہو گئی ہے .
2 : امبرین جو کہ 27 سال کی ( گوری گوری ) ہے ، میری ہونے والی بِیوِی .
3 : صنم 24 سال کی ، ( ابھی دیکھا نہیں اسے ) 
٤:فرحین 17‬ سال کی ( خوبصورت ، گوری ، پیاری ، روپ کی رانی ، دِل میں رہنے والی ، پیار ہو گیا )
5 : ماریہ 16 سال کی ( سانولی ڈارک ، پتلے بدن کی ما لک )
6 : ثوبیہ 16 سال کی ( سانولی ڈارک ، موٹی اور بھرے جسم کی لڑکی 26 سال کی لگتی ہے ) ماریہ اور ثوبیہ جڑواں بہنیں ( ٹون سسٹرز ) . ان کو امبرین كے والدین نے ہی پالا تھا
اسٹارٹ میں مجھے کچھ پتا نا لگا مگر آہستہ آہستہ مجھے عائشہ باجی کی فون میں آواز اچھی لگنے لگی ، میرا دِل کرنے لگا ان سے بات کروں . میں نے سوچا شاید یہ ویسے ہی ہو رہا ہے مگر شادی كے دنوں جب سے ان کا چہرہ دیکھا مجھے وہ بہت ہی پیاری لگی ان کی سمائل سے پیار ہو گیا . مجھے ایسا لگتا تھا كہ مجھے اپنی سالیوں كے ساتھ پیار ہو گیا ہو ، 
مجھے ایسا لگتا تھا كہ مجھے اپنی سالیوں كے ساتھ پیار ہو گیا ہو ، یعنی كہ باجی عائشہ اور فرحین كے ساتھ . وہ امبرین سے بھی ذیادہ پیاری تھی . گوری گوری ، حجاب لینے والی لڑکیاں . ابھی تو صرف باجی عائشہ كے ہی خیال آنے لگے ، فرحین سے ملنا کم تھا اسلئے . باجی عائشہ کی کالی کالی آنکھیں ، مست سمائل . جیسے جیسے عائشہ باجی کو ملتا رہا ویسے ویسے میرے لن کو سیکس یاد آتا رہا . میں راتوں کو نیند میں عائشہ باجی کی گانڈ مارنے لگا . میرا کنٹرول لوز ہونے لگا . 
پارٹ 5 : ایک آشا میری عائشہ ! 
امبرین اور میرے نکاح والے دن میرا دماغ خراب ہو گیا . نکاح سے پہلے جب میں نے عائشہ باجی کو دیکھا تو میرا دِل کیا كہ اس كے جسم کی گرمی لوں . وہ اکیلے کمرے میں نماز پڑھ رہی تھی . میں پیچھے سے ان کو سجدے میں جاتے دیکھ رہا تھا . کیا مزے کا نظارہ تھا ، سوفٹ گانڈ . میں نے دیکھا كہ وہ آنکھیں بند کر كے نماز پڑھ رہی تھی . میں قریب گیا اور جب وہ سجدے میں گئی تو میں نے اپنی پینٹ سے اپنا لن نکالا اور ان کی گانڈ كے نزدیک رکھ کر اِس سین کی پکچر لے لی اپنے فون پر . اسکے بَعْد میں چلا گیا . 
نکاح كے وقت میں قبول امبرین کو کر رہا تھا مگر سوچ عائشہ باجی كے بارے میں تھا . نکاح ہوتے ہی سب نے مبارک باد دی اور پِھر اسکائپ پرامبرین لوگوں كے ماموں نے مجھ سے بات کی اور بتایا كہ صنم اور وہ بھی آنے والے ہیں . یہ سن کر امبرین خوش ہوئی . اسکائپ کی لائن خراب تھی اِس لیے صنم سے اون لائن بات ہونے سے پہلے ہی کال اینڈ ہو گئی . میں نے صنم کو موبائل سے کال کی : 
صنم : ہیلو بھائی ! 
میں : ہائے صنم ، کیسی ہو ؟
صنم : میں ٹھیک ہوں ، بہت بہت مبارک ہو . 
میں : تھینکس . 
صنم : آپ میری بہن کا خیال تو رکھو گے نا ؟ ورنہ دیکھ لینا . 
میں : بالکل رکھوں گا لیکن اگر نا رکھتا تو کیا ، ورنہ کیا ؟ 
صنم : . . ( سوچنے كے بَعْد ) ورنہ ہم ساری بہنیں آپ کو سیدھا کر دے گی . 
میں : اچھا ایسی بات ہے ؟ 
صنم : یس . 
میں : تو مجھے آپ کی سسٹرز کو کیسے خوش رکھنا ہے ؟ 
صنم : ہیلو ، سسٹرز نہیں سسٹر ، آپ کا صرف امبرین باجی کو خوش رکھنے کا کام ہے . 
میں : اور آپ کو کون رکھے گا ؟ 
صنم : میں خوش ہوں ، آپ فکر نا کریں بھائی … . ویسے . . وہ . . . 
میں : کیا ؟ 
صنم : وہ … آپ کی … سٹیمنا کیسے ہے ؟ 
میں : … (میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا صنم میرے سیکس کی اسٹیمنا كے بارے میں تو نہیں پوچھ رہی ) جوگنگ اسٹیمنا ؟ 
صنم : ہاں جی ، اور کون سی اسٹیمنا ؟ امبرین باجی کو جوگنگ کا بہت شوق ہے . آپ بھی نا بھائی ،

بڑے چالاک ہو . اچھی بات ہے . لگے رہو . 
میں : ہاہاہا ، یہ جوگنگ ٹھیک ہے ، دوسرے کا پتا نہیں . ( ویسے تو سیکس کی اسٹیمنا بھی ٹھیک تھی لیکن میں یہ صنم کو تو نہیں بتا سکتا تھا کہ میں نے شادی سے پہلے کنول کے ساتھ سیکس کیا ہوا تھا . ) 
صنم : کوئی بات نہیں ، 2-3 دنوں تک پتا لگ جائے گا . 
میں : ہا ہا ، تمہیں تو نہیں پتا لگے گا ! 
صنم : کیوں جی ؟ آپ کو کیا لگتا ہے ، میری بہنیں مجھے سب بتاتی نہیں ؟ 
میں : اچھا ، اِس کا مطلب ہے مجھے اچھی پرفارمنس دینی ہو گی ؟ 
صنم : بالکل ، ایسا سمجھنا كہ میں سب دیکھ رہی ہوں . ہا ہا ہا ہا 
میں : صنم یار ، میں کنفیوز ہو رہا ہوں . تم کیا دیکھو گی ؟ جوگنگ یا پھر… 
صنم : یا پِھر کیا ؟ . . آپ لوگوں کی 
میں : ہماری … یو نو . . اِسْپیشَل رات . . 
صنم : ہا ہا ہا ہا ، ایسے ہی سمجھ لو . . آپ کی دونوں جوگنگ … اِسْپیشَل جوگنگ بھی . .
میں : … سہاگ رات یعنی كہ اِسْپیشَل جوگنگ تو میں تمھارے آنے كے بَعْد ہی کرو گا تا کہ تم بھی سن لینا… 
صنم : اچھا … ٹھیک ہے . . ہم آج رات کو شکاگو سے نکلنے والے ہیں اور 2 دن بَعْد آپ کی بارات کا انتظار کریں گے . پِھر اِسْپیشَل جوگنگ کی کہانی باجی امبرین سے سن لوں گی .
میں : ہاہاہا او کے ، گڈ ، ویسے مجھے آپ سے ملنے کا انتظار رہے گا .
صنم : اپنی وائف سے بھی زیادہ ؟ 
میں : ہاں جی ، آپ کافی ذیادہ انٹرسٹنگ ہو . او کے بِل بہت آ جائے گا میں فون رکھتا ہو . اپنا خیال رکھنا سیف فلائٹ ہوم ڈیئر . 
صنم : تھینکس بھیا . 
اب میں اور امبرین ہسبنڈ وائف بن چکے تھے لیکن مجھے امبرین کی بہنیں کچھ زیادہ پسند آنے لگی ، جیسے عائشہ باجی کی گانڈ ، فرحین کی خوبصورتی ، ماریہ اور ثوبیہ کا سانولا رنگ اور صنم کا ہنسنا اور مذاق کرنا . مجھے فرحین اور عائشہ باجی كے ساتھ ساتھ صنم سے بھی پیار ہونے لگا . ہاہاہا اِسْپیشَل جوگنگ ، دکھاتا ہوں صنم کو اِسْپیشَل جوگنگ . کیا پتا وہ بھی شامل ھونا چاھے . . کیا بات ہو گی اگر صنم اور عائشہ باجی كے ساتھ اِسْپیشَل جوگنگ کروں یعنی كہ ان كے ساتھ تھری سم کروں . . واہ . . 
جب ہمارے جانے کا ٹائم ہوا تو موسم خراب ہو گیا اور ہمیں ادھر ہی رکنا پڑا . امبرین کی امی نے سب كے لیے کھانے کا اور بستر کا بندوبست کیا . رات ہوئی تو سب اپنے اپنے بستر میں چلے گئے امبرین كے والدین كے گھر میں 5 سونے والے کمرے تھے ، ایک میں وہ لوگ سونے گئے ، دوسرے میں میرے والدین ، تیسرے میں میرے بھیا اور بھابی ، چوتھے میں عائشہ باجی ان کے 2 بچے ، فرحین ، ثوبیہ ، ماریہ اور امبرین لاسٹ والے روم میں میں سونے گئیں . میرا اور امبرین لوگوں کا کمرا گراؤنڈ فلور پر تھا کچن كے نزدیک ، باقی لوگ اوپر والی منزل پر تھے . 
رات كے کچھ 12-01 بجے مجھے کچن سے آوازیں آنے لگیں ، میں ابھی سویا نہیں تھا کیونکہ میں خیالات میں عائشہ باجی اور صنم كی گانڈ مار رہا تھا . باہر موسم اور خراب ہوا اور بارش تیز ہو گئی ، مجھے ایسا موسم اچھا لگتا تھا اِس لیے میں روم سے نکل کر باہر جانے لگا . راستے میں کچن میں دیکھا كہ ادھر باجی عائشہ دودھ گرم کر رہیں تھیں ، کیا مست لگ رہی تھی وہ ، حجاب اتارا ہوا تھا اور سونے والا پجامہ پہنا تھا ، سوفٹ کلیویج بھی نظر آرہا تھا ان کی بٹنوں والی شرٹ سے . میری پینٹ میں میرا لن وائیبریٹ کرنے لگا . میں ان كے پاس گیا اور دِل کیا كہ ان كے سوفٹ ممے اپنے ہاتھ میں لے لوں . 
میں : ہائے ، آپ اتنی رات کو یہاں . 
عائشہ باجی : اوہ ، تم نے مجھے ڈرا ہی دیا ہے . میں عاصم كے لیے دودھ گرم کرنے آئی تھی


رات کو اسے بھوک لگ جاتی ہے . 
میں : عاصم ، آپ کا چھوٹا بیٹا ؟
عائشہ باجی : ہاں ، بلال 3 سال کا ہے اور عاصم 11 منتھس کا ہے . 
میں : لیکن ایک سال کا بچہ ڈائریکٹ نہیں پیتا … . . ؟
عائشہ باجی : بریسٹ ملک ؟ نہیں وہ شرارتی ہے بہت بائٹ کرتا ہے . میرے نپلز کی حالت خراب کر دیتا ہے .
میں : . . . اوہ . . . او کے . . 
عائشہ باجی : کیوں شرما رہے ہو ؟ اب تمھاری شادی ہونے والی ہے یہ سب نارمل ہے . اس طرح کی باتوں سے نہیں شرماتے چھوٹے بھائی . 
میں : ہاں ، نہیں ویسے ہی … لیکن یہ دودھ آپ کے بریسٹ کا ہے ؟ 
عائشہ باجی : نہیں ، یہ فارمولا ہے ، رات کو فارمولا پیتا ہے ! کبھی کبھی پمپ کر كے بھی دیتی ہوں . 
میں : ( بے شرم ہو کر میں نے پوچھا ) پمپ کیسے کرتے ہیں ؟ 
عائشہ باجی : خود ہی سیکھ جاؤ گے ، 1-2 بچے بناؤ تو اپنے آپ پتا لگ جائے گا . 
میں : اگر نہیں پتا لگا تو ؟ تو آپ دکھاؤ گی . . 
عائشہ باجی : ہے میں مر جاؤں ، ہی ہی ہی ، دکھانے کی تو بات دور کی ہے لیکن بتا اور سمجھا ضرور دوں گی . 
اچانک بادل گرجا اور باجی عائشہ ڈر گئی اور سارا فارمولا والا دودھ گر گیا . 
عائشہ باجی : اوہ سارا دودھ گر گیا . . 
میں : گھر میں اور نہیں ہے ؟ 
عائشہ باجی : ہو سکتا ہے . . وہ گھر كے پیچھے والے اسٹور روم میں ھوگا . 
میں : اچھا لے آؤں آپ كے لیے ؟ 
عائشہ باجی : تمہیں نہیں پتا چلے گا … . لیکن مجھے ڈر لگتا ہے اس طرح كے موسم میں . . اور اسٹور روم میں جانے كے لیے باہر نکلنا پڑے گا … آؤ میرے ساتھ پلیز ! ! پلیز . . 
میں : ہاں ہاں آئیں چلتے ہیں . 
باجی عائشہ اور میں اب گھر سے نکلے اور بھاگتے ہوئے اسٹور روم کی طرف گئے . بارش کافی تھی مگر ہم اتنے گیلے نہیں ہوۓ . اسٹور روم كے اندر جاتے ہی ہُوا تیز ہوئی اور دروازہ بند ہو گیا . دروازے كے بند ہونے سے باجی عائشہ نے ڈر كے مجھے پکڑ لیا اور میرے سینے كے ساتھ لگ گئی . ان كے سوفٹ بریسٹ اب ڈر اور سردی کی وجہ سے فٹ اور ٹائیٹ ہو گئے تھے . باجی عائشہ كے نپل ،کیا بات تھی میرے ساتھ رگڑ رہے تھے . 
عائشہ باجی : یہ کیسی آواز تھی ؟ 
میں : کچھ نہیں تھا باجی ، دروزا ہوا سے بند ہوا ہے . آپ لائٹ آن کرو اور دیکھ لو کہ کچھ نہیں ہے . 
عائشہ باجی : ( لائٹ آ ن کر كے ، ڈور کو کھولنے کی کوشش کی ) نو ، دروازہ نہیں بند ھونا چاہئیے تھا . وہ اندر سے نہیں کھولتا . 
میں : اوہ اوہ ، اب کیا کریں ؟ ( مجھے تو اس طرح کا ہی موقع چاھیے تھا كہ باجی عائشہ میرے قریب ہو اور ڈری ہوئی ہو اور میں اس کا فائدہ اٹھاؤں )
عائشہ باجی : فون کرتی ہوں امبرین کو اسے کہتی ہوں کہ باہر سے دروازہ کھول دے . 
باجی نے امبرین کو فون کیا ، میرے خواب پورے ہونے سے پہلے ٹوٹنے لگے . 
عائشہ باجی : امبرین تم اسٹور روم آؤ ، میں ادھر لوک ہو گئی ہوں
. امبرین : اسٹور روم کیا لینے گئی تھی آپ ؟ 
عائشہ باجی : فارمولا ، میرے سے دودھ گر گیا تھا ، عاصم كے لیے گرم کرنا تھا . 
امبرین : او کے آتی ہوں ، آپ مجھے چابیاں چھت كے روشن دان كے ذریعے دے دینا .
عائشہ باجی : کون سی چابیاں ؟ ہم… میرا مطلب میں جب ادھر آئی تو دروازہ ان لاک تھا
امبرین : اسٹور روم کے ڈور كے لیےچابی چاہئیے وہ امی ابو كے کمرے میں ہے . 
عائشہ باجی : اب کیا مجھے ادھر ہی سونا پڑے گا ؟ 
امبرین : میں لے آتی ہوں چابیاں . 
عائشہ باجی : نہیں ، تم انھیں نا جگانا
امبرین : کیوں ؟ 
عائشہ باجی نے امبرین کو بتایا كہ اگر وہ امی ابو كے کمرے میں ابھی جائے گی تو وہ جاگ جائیں گے اور سوال پوچھیں گے اور یہ کہ ان كے ساتھ کمرے میں میں بھی بند ہوں . امبرین کو باجی عائشہ نے سب سچ سچ بتایا اور امبرین نے کہا کہ وہ آتی ہے اور فارمولا لے کر دودھ گرم کر كے لے جاتی ہے . اِس کا مطلب گیم ان بےبی . مجھے اور باجی عائشہ کو اِس چھوٹے سے روم میں رات گزارنی تھی . 
امبرین آئی اور میں نے اسے روشن دان كے ذریعے فارمولا ملک پیک دیا اور اس نے ہمیں ایک چادر دی اور چلی گئی . 
ہم دونوں ایک دوسرے كے ساتھ لگ کر لیٹ گئے 


سردی تھی اِس لیے ایک دوسرے كے جسموں سے ایک دوسرے کو گرم کرنا تھا . اور اوپر سے چادر بھی ایک تھی . کچھ دیر بَعْد میں نے باجی عائشہ کو دیکھا كہ وہ سو چُکی تھی . میں نے آواز دی مگر وہ پرسکون ہو کر سو رہی تھی . چادر کافی گرم ہو گئی اِس لیے باجی اپنی نیند میں تھی . 
مجھے باجی عائشہ کو دیکھ کر اچھا لگنے لگا ، میں نے اپنا موبائل نکالا اور مووی بنانے لگا . مووی بناتے بناتے شرارت سوجھی مجھے .میں نے کلیویج کی بھی بنا لی اور اس طرح میرا دِل کیا كہ باجی نے جو نائٹ شرٹ پہنی تھی اسکے بٹن کھول کر باجی کے مموں کو ہاتھ لگاؤں . یہ سوچ کر میرا لن کھڑا ہونے لگا . میں نے باجی کو زور سے ہلایا چیک کرنے كے لیے كہ ان کی نیند پکی ہے یا نہیں . لیکن باجی عائشہ پکی نیند میں سونے والی عورت ہے وہ نہیں جاگی . اب میں نے موبائل سے باجی عائشہ كی سوتے ہوۓ عزت لوٹنے کی مووی بنانے کا اِرادَہ کیا . موبائل کو پکڑنا آسان نہیں تھا مگر میں نے کوشش نا چھوڑی . 
آہستہ آہستہ عائشہ باجی کی قمیض كے سارے بٹن کھول کر ان كے دودھ چوسنے لگا . اسٹور روم میں لائٹ کمزور تھی اِس لیے ان كے نپل ڈارک ڈارک لگ رہے تھے . خیر ، گورے بدن پر ڈارک نپل کا نظارہ اچھا تھا . میں نے باجی کو دیکھا وہ بھی سمائل کرنے لگی ، نیند میں تھی لیکن جسم مزے تو لے رہا تھا . میں نے نپل اور چوسا وہ بہت ہارڈ ہو گیا تھا . میں نے اپنی رفتار تیز کی تو باجی كے رائٹ بوب سے دودھ نکلنے لگا . یہ دیکھ کر میرا لن فلی کھڑا ہو گیا . میرا دِل کیا كہ باجی کا دودھ پی لوں . اب باجی کا بدن گرم ہو گیا تھا اور مست ہو گئی . میں نے اپنی پینٹ اتار دی اور اپنا لن باجی كے ہاتھ میں دے دیا . باجی اسے فوراً ہلانے لگی جیسے كہ اسے پتا ہو كہ لن سے کیا کرنا ہے . نیند میں بھی باجی سیکسی موو کرنے لگی . 
اسٹارٹ میں تو شرارت تھی مگر اب کنٹرول لوز ہونے لگا تھا میرا مجھ پر سے . میں نے سوچے بنا باجی عائشہ کا پجاما اتار دیا اور دیکھا كہ اس نے بلیک پینٹی پہنی تھی . باجی عائشہ کی پینٹی پر وائٹ وائٹ داغ بھی بن گئے تھے ، یہ داغ ان كے ویٹ ہونے سے بنے تھے . میں نے ان کی پینٹی كے اوپر وائٹ رنگ کے پھول کو کس کیا اور پینٹی بھی اتار دی . اب باجی اپنے کمر پر لیٹی تھی قمیض كے سارے بٹن کھلے تھے ، کوئی برا نہیں پہنا تھا اور نیچے سے ساری ننگی تھی . میں نے ٹھیک طرح سے ویڈیو بنائی اور اس کی ٹانگیں اوپر کر كے لیٹ گیا . یعنی كہ اُلٹا. باجی سیدھی لیٹی تھی اور میں ان كے گھٹنوں كے پیچھے اپنی پیٹھ رکھ کر لیٹ گیا . ان كے جنوب كی طرف اور میرے ایسٹ كی طرف یعنی کہ اُلٹی طرف . خیر بات یہ تھی کہ میں نے باجی کی ٹانگیں اوپر کی اور اپنی انگلیوں سے ان کی پھدی کو ریڈی کرنے لگا . باجی عائشہ کی پھدی بہت گیلی ہو گئی تھی . میں نے سوچا كہ شاید میرے لن سےانھیں دَرْد نا ہو ، تو یاد آیا كہ وہ 2 بچوں کی ماں ہے ان کی پھدی کافی کھل گئی ہو گی . مگر پھدی ٹیسٹ کرنی ہی کرنی تھی مجھے ، میں نے اپنی زبان لگانا شروع کیا . کیا نمکین پھدی تھی . آہ . . میں نے آہستہ سے باجی كی پھدی میں اپنا لن ڈالا . میرا نارمل سائز کا ڈیڑھ انچ موٹا اورساڑھے پانچ انچ لمبا لن آسانی سے باجی عائشہ کی پھدی میں چلا گیا . اِس وقت باجی کی ٹانگیں میں نے پکڑ ی ہوئی تھیں اور ان کی پھدی بند ہوئی تھی اِس لیے اندر لن كے رگڑنے سے بہت مزہ آ رہا تھا . . 
میں : عائشہ او عائشہ باجی میرا لن اور عائشہ باجی کی پھدی ، پچک پچک 
میں اپنا پورا لن نکا ل كے فوراً پورا اندر ڈالنے لگا . اِس سے بہت مزہ آتا تھا . میرے لن کو جیسے راستہ یاد ہو گیا ہو سیدھا اندر جاتا اور باہر آتا . باجی کو اب اور مزہ آنے لگا اِس لیے اس نے ٹانگیں کھولنا شروع کر دیا . اب باجی کی پھدی کچھ ذیادہ کھل گئی تھی اور بہت ویٹ تھی اِس لیے مجھے مزہ کم آنے لگا . میں نے لن نکالا اور باجی کو اور اوپر کیا اور گانڈ کے سوراخ کو چاٹنے لگا . باجی عائشہ کی گانڈ بہت شاندار تھی . باجی کی پھدی سے نکلے ہوئے پانی سے میں نے ان کی گانڈ کا سوراخ گیلا کیا . میری زبان ان کی چوت میں جا کر چوت کا پانی لا کر گانڈ کے سوراخ میں جا کر اسے گیلی کرنے میں لگ گئی . 
تھوڑی دیر بَعْد میں نے باجی کو سائڈ پوزیشن میں لا کر اپنا لن ان کی گانڈ کے سوراخ پر رکھا ، 
باجی آگے اور میں پیچھے . تھوڑا سا زور لگایا تو ٢ انچ لن چلا گیا باجی کی گانڈ كے اندر . میں نے پِھر باہر نکالا اور اندر ڈالا اب مزید اور اندر گیا . کچھ 2 3 منٹ ایسے کرتا رہا . قسم سے باجی کی گانڈ بہت ٹائیٹ تھی اور بہت مزہ آرہا تھا اب پورا لن اندر گیا ہوا تھا . میں باجی عائشہ کی گانڈ مار رہا تھا اور وہ اپنے ہاتھ سے اپنے بوبز اور پھدی ہلا رہی تھی . میں نے اس سب کی بھی مووی بنائی . 
عائشہ باجی : اوئی اوئی اوئی 
میں : اُف آہ 
باجی عائشہ کی گانڈ میں آوازیں آنے لگی ; پچک پچک پچک باجی کی پھدی سے کافی زیادہ ان کی گانڈ میں لن کا مزہ تھا . میرے لن کو جیسے اپنا گھر مل گیا ہو . میرے ہوش اڑنے لگے ، میرا قابو کھونے لگا . میں نے لن گانڈ سے نکالا اور پھدی میں ڈالا . پِھر اسے گانڈ میں ڈالا اور پِھر پھدی پِھر گانڈ . تقریباً 10 15 منٹ کرتا رہا . باجی مست ہوئی ہوئی تھی . . . میں بھی کافی نزدیک تھا . . . 
میں : آہ باجی عائشہ . . . . . ( دھیمی سی آواز میں کہتے کہتے ) 
میں نے باجی کی گانڈ كے اندر ہی اپنے سارا مادہ نکل دیا اور اپنا لن ادھر سے نہیں نکالا . میں سالی چود بن چکا تھا . یہ خیال مجھے بہت اچھا لگا . میں نے اپنا مادہ ( منی ) سے بھرا ہوا لن باجی کی پھدی میں ڈالا اور دھکے مارنے لگا… 
باجی عائشہ : آہ . . . اوئی . . . اوئی . . . 
ہمارا جسم : پچک پچک پچک 
باجی عائشہ :اوئی اوئی 
ہمارا جسم : پچک پچک 
میرے لن کو باجی کی پھدی میں دھکا لگا اور وہ پانی كے دھکے سے باہر نکل آیا . . باجی کا ملٹیپل آرگیزم نکلا تھا اور وہ بھی کنول کی طرح ایک سکورٹرتھی . میں اٹھا اور باجی عائشہ کی پھدی سے نکلے ہوۓ پانی جو میرے لن سے ٹپک رہا تھا اس کی مووی بنائی . پِھر باجی کی پھدی پر اپنے لپس رکھ کر زور سے چوسا اور سارا پانی پی لیا . اس كے بَعْد باجی کو شرٹ اور پجامہ پہنا کر چادر دے کر خود بھی سائڈ پر ہو کر سو گیا . 
صبح ہوئی تو دیکھا كہ چادرگندی ہو گئی تھی وائٹ وائٹ داغ تھے اس پر . ابھی ابھی فجر کی اَذان ختم ہوئی تھی . میں نے چادر الٹی کی اور دیکھا كہ باجی کی وائٹ فلاور والی بلیک پینٹی میں نے نہیں انھیں پہنائی تھی اچانک باہر سے آواز آئی اور امبرین نے دروازہ کھولا ، میں نے فوراً باجی کی پینٹی اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ڈال لی . مجھے ڈر تو لگا تھا كہ باجی عائشہ کو کہیں اپنی پینٹی کے غائب ہونے سے مجھ پر شک نا ہو جائے ، لیکن امبرین كے سامنے پینٹی باہر بھی تو نہیں پڑی ہونی چاہئیے . امبرین نے باجی کو جگایا اور بتایا كہ امی ابو نماز پڑھ رہے ہیں اِس لیے ہمیں جلدی جلدی اٹھایا اور ہم سب اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے . 
ہم لوگ ( میں ، امی ابو اور بھیا بھابی ) اپنے گھر گئے تو میں نے باجی عائشہ کی پینٹی وہاں ہی ھائیڈ کر دی جہاں کنول کی ھائیڈ کی ہوئی تھی . میں سالی چود بہت خوش تھا ، میں نے اپنے دماغ میں اور بہت سے گندے گندے پلان بنانا شروع کر دیے . باجی عائشہ کو رات کو روز چودوں گا جب بھی موقع ملےگا . وہ اکیلی ہو تو میں ان کی نا پھدی نا گانڈ کو آرام کرنے دوں گا ، جب بھی موقع ملے گا باجی عائشہ كے سوتے ہوئے ان كے ساتھ سہاگ رات مناؤں گا . دماغ پورا بنا لیا کہ صنم کو بھی چودنا ہے اور ثوبیہ اور ماریہ کی بھی کنواری پھدی کو قابو کرنا ہے . ماریہ كے پتلے بدن كے اندر اپنا لن ڈالنا ہے . ثوبیہ كی موٹی پھدی كے اندر ڈالنا ہے . سب بہنوں میں سے صرف فرحین کو نہیں گندا کرنا . 
پارٹ 6 : صنم میری صنم 
2 دن گزرے اور میں اپنی بارات لے کر ٹیولپ گیا ( ٹیولپ دریائے جہلم كے پاس ایک شادی ہال ہے ) بہت بینڈ باجوں كے ساتھ ہم گئے اور استقبال پر بہت لوگ تھے . ہمارے ادھر رواج تھا كہ دولہے کو اندر جانے سے پہلے دُلہن کی بہنوں ،عورتوں اور فرینڈز کو منانا پڑتا تھا . امبرین کی طرف سے باجی عائشہ لیڈر تھی اور میری طرف سے بھابی شازیہ لیڈر تھی . 
مجھے ان لوگوں نے شرارتا اندر نہیں جانے دیا ، کہا کہ 10 000 روپے دو ، میرے قریب بہت ساری لڑکیاں تھی ، باجی عائشہ نے سبز ( گرین ) رنگ کی ساڑھی ( انڈین ڈریس ) پہنی تھی بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی وہ . لمبے لمبے سیدھے بال ، اس رات كے بارے میں سوچ کر میری پینٹ میں میرا لن وائیبریٹ کرنے لگا . اچانک میری نظر فرحین پر گئی ، واؤ وہ تو سب سے ذیادہ پیاری لگ رہی تھی ، اس نے بھی ساڑھی پہنی تھی مگر ماریہ کی اسکائی بلو کلر کی تھی . فرحین ہمیشہ سب سے پیاری لگتی ہے . پِھر میں نے ماریہ کو دیکھا اس کا فٹ بدن صاف نظر آ رہا تھا . اب تو ماریہ كے لیے میرا لن سلیوٹ مارنے لگا . ماریہ اور ثوبیہ نے بھی فرحین جیسا سیم ڈریس پہنا تھا مگر فرحین سے ذیادہ اچھا ناتھا . تینوں کا سیم ڈریس تھا ماریہ کا جسم ٹائیٹ تھا اور فگر صاف دِکھ رہا تھا . ثوبیہ موٹی دِکھ رہی تھی اور فرحین پرفیکٹ ، اس پہ دِل فدا تھا 


اس كے ساتھ سیکس کرنے کا نہیں مگر پیار کرنے کو دِل کرتا تھا . 
باجی عائشہ اور بھابی نے تھوڑا سا سا ڈسکس کر كے مجھے تنگ ونگ کر كے صرف٦٠٠٠ روپے میں اندر جانے دیا . اندر جاتے ہوئے مجھے یاد آیا كہ صنم بھی آنے والی تھی ، مجھے نہیں پتا تھا صنم کیسی دکھتی ہے اِس لیے میں نے نہیں پہچانا ، اوپر سے میرے کلے ( دولہے كے سَر پر جو ہوتا ہے ) پر میرے چہرے كے سامنے دھاگے اور پھول تھے جس کی وجہ سے مجھے کم نظر آ رہا تھا . میرا چہرہ تقریباً 80 % کور تھا . میں نے سوچا كہ اندر جا کر صنم کا دیدار کروں گا . 
کھانےكے بَعْد ایک ایک کر كے سب لوگ امبرین اور میرے ساتھ فوٹو كے لیےآئے . لوگ گفٹ بھی دینے لگے . کچھ 10 منٹ بَعْد باجی عائشہ كے ساتھ ایک نیلے ( بلو ) رنگ كی ساڑھی والی لڑکی اوپر آئی ، میں نے اس كے چہرے کو دیکھا تو مجھے لگا کہ کنول ہے ( جو اسلام آباد گئی تھی اسٹڈی کرنے جس كے ساتھ میں نے زندگی کا پہلا سیکس کیا تھا ) شاید مجھے غلط فہمی ہوئی تھی . باجی اور یہ کنول جیسی شکل والی لڑکی نے بھی تصویریں کھنچوائیں اور جانے سے پہلے بلو ساڑھی والی میرے پاس آئی ، اس كے نزدیک آنے سے میرا شک سچ میں بَدَل گیا . یہ کنول ہی تھی . وہ ہی کندھوں تک آتے بال ،وہ ہی کیوٹ سی سمائل اور پوری کی پوری کنول ، آج تو پہلے سے بھی ذیادہ خوبصورت لگ رہی تھی . یہ شاید امبرین کی سہیلی تھی 
کنول : مبارک ہو بھائی آپ کو . 
میں : شکریہ . 
اتنا کہہ کر وہ سٹیج سے اتار گئی ، کنول اور باجی عائشہ كے بَعْد ماریہ اور ایک اور لڑکی سٹیج پر آئی . ماریہ جو بہت ہی سیکسی لگ رہی تھی . ماریہ میرے پاس بیٹھ گئی اور دوسری لڑکی امبرین كے پاس ، میں نے سوچا یہ دوسری لڑکی سانولے ( ڈارک ) سے رنگ کی ما لک ہے کیا یہ صنم ہے ؟ اِس نے بھی اسکائی بلو ساڑھی بالکل ماریہ کی طرح کی پہنی تھی . اتنی سیکسی نہیں لیکن اگر یہ صنم ہے تو اِس کی پھدی کو چانس ضرور دوں گا . 
فوٹوز كے بَعْد دونوں اٹھیں اور سٹیج سے اتر گئیں . میں نے سوچا صنم سے فون پر کافی باتیں ہوئی تھی مگر ابھی تک کوئی ہیلو ہائے نہیں ہوئی . اچانک امبرین نے صنم کو اشارہ کیا : 
امبرین : عشرت یار یہ پرس پتا نہیں کون ادھر بھول گیا ہے . 
میں نے سوچا عشرت ؟ امبرین صنم کو عشرت کیوں کہہ رہی ہے . 
عشرت : جی باجی یہ تو صنم کا پرس ہے میں اسے دے دیتی ہوں . 
عشرت نے سٹیج سے اترکر وہ پرس کنول کو دے دیا . میں حیران رہ گیا . کیا کنول ہی صنم تھی . مجھے یاد آیا كہ چھت پر میں نے صنم کو اپنا سہی نام نہیں بتایا میں نے اسے داؤد نہیں قیصر بتایا تھا اور اس نے بھی کہا کہ اس کا نام کنول ہے . واؤ . مجھے پتا ہی نہیں تھا کہ زندگی میرے ساتھ ایسا ٹوئسٹ لینے والی ہے . میرا چہرہ ابھی بھی کور تھا اِس لیے صنم نے مجھے ابھی تک نہیں پہچانا تھا . کیا بات ہے میں اپنی شادی سے پہلے اپنی سالی چود چکا تھا . صنم کو امبرین سے 1 سال پہلے اورآسیہ باجی کو نکاح والے دن . میری پینٹ میں میرا لن ایریکٹ ہونے لگا . اب تو ساری بہنوں کو چودنا ہے مجھے ماریہ ، ثوبیہ اور فرحین ، نہیں فرحین نہیں اس پیارے پھول کو نہیں گندا کرنا میں نے . مگر صنم کو پِھر سے کرنا ہو گا .مشکل نہیں ہونی چاہئے . لیکن جب صنم کو پتا چلے گا كہ میں داؤد ہی قیصر ہوں تو وہ کیا سوچے گی . 
میرے سوچنے سے کچھ بدلنے والا نہیں تھا . فنکشن ختم ہوا میں امبرین کو اپنے گھر لے گیا . امبرین کی فیملی بھی آ گئی ، میری سالیاں امبرین كے ساتھ ہمارے بیڈروم میں میرے بیڈ پر بیٹھ کر باتیں کر رہیں تھیں اور رات کو جب میں آیا تو میں نے کپڑے چینج کیے ہوئے تھے اور میرے سَر پر کلا نہیں تھا ، اِس کا مطلب اب صنم مجھے دیکھ لے گی . 
میں اپنے بیڈ روم میں اینٹر ہوا تو باجی عائشہ نے سلام کیا اور کہا کہ وہ لوگ امبرین کو لے کر کپڑے چینج کروانے لگے ہیں . سب کمرے سے نکل گئے صنم كے سوا . وہ مجھے دیکھ کر حیران کھڑی تھی . اس كی آنکھوں میں پریشانی صاف ظاہر ہو رہی تھی . 
باجی عائشہ : صنم آؤ نا ہمارے ساتھ . 
صنم : نہیں ، آپ لوگ جاؤ میں نے داؤد . . . داؤد بھائی . . سے جان پہچان کرنی ہے . 
ماریہ : ہاں آپ تو پہلی بار مل رہے ہو نا . 
صنم : … نہیں بچپن میں ساتھ ہی رہتے تھے 

پاگل میں کل ہی تو آئی ہوں . پہلی بار ہی تو ہے . 
ماریہ : ہاہاہا 
آہستہ آہستہ فرحین ، ثوبیہ ، ماریہ ، امبرین اور عائشہ باجی باہر نکل گئے . مجھے صنم کا مذاق اچھا لگا اِس لیے میں نارمل ہو کر اس سے بات کرنے لگا . 
میں : تو کنول بلاؤں آپ کو یا صنم 
صنم : شٹ اپ . 
میں : صنم … 
صنم : یہ سب ٹھیک نہیں ہوا ، آپ کو میری بہن سے شادی نہیں کرنی چاہئے تھی . 
میں : مجھے کیا پتا تھا كہ وہ تمہاری بہن نکلے گی . 
صنم : او کے او کے ، مگر ہمارے بارے میں کسی کو نہیں پتا لگنا چاہئے . 
میں : نہیں پتا لگے گا . 
اتنا ہی کہہ کر وہ باہر نکل گئی . تھوڑی دیر بَعْد امبرین کمرے میں آئی اور میرے پاس آ کر بیٹھ گئی ، میں نے وہ سب فلمی ڈائلوگ ما رے جو یاد آ رہے تھے . ( تم بہت پیاری دکھ رہی ہو . ایسے جیسے چاند اتر آیا ہو … وغیرہ وغیرہ ) . کچھ دیر بَعْد میں نے امبرین کو بیڈ پر لٹایا اور اس کو چومنے لگا . اس نے مجھے روکا اور بولا كہ نہیں کرو . مجھے سمجھ نہیں آئی كہ کیوں روک رہی تھی . آج سہاگ رات ہے ہماری اسے نہیں روکنا چاہئے تھا . 
میں : کیوں نہیں ، ڈر لگ رہا ہے ؟ 
امبرین : ہاں . 
میں : آرام سے کروں گا … 
امبرین : مگر گندا ہے . 
میں : ہمارا نکاح ہو گیا ہے اب گندا نہیں رہا . 
امبرین : میں ناپاک ہوں . میرے پیریڈز ہو رہے ہیں آپ مجھے نہیں ٹچ کر سکتے .
میں : اچھا آرام سے سو جاؤ ، 2 4 دن بَعْد کر لیں گے 
امبرین : او کے ، شکریہ خیال رکھنے کا . 
کچھ 2 گھنٹے بَعْد جب امبرین اور میں سو گئے تھے تو مجھے ایس ایم ایس آیا ، وہ صنم کا تھا . 
صنم : قیصر جان یا داؤد بھائی ، نہیں پتا آپ کو کس نام سے پکاروں . جب سے آپ کو پِھر سے دیکھا ہے اپنی وہ رات یاد آ گئی . پتا نہیں مجھے کیا ہو رہا ہے . 
میں : مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ایک بار ملنا چاہئے . 
صنم : میں بھی یہی سوچ رہی تھی . 
میں : کب ؟ 
صنم : ابھی آؤ جاؤ ہمارے گھر . 
میں : میں صرف ملنے نہیں آؤ ں گا ، مجھے اپنی خواہش پوری کرنی ہے . 
صنم : پتا ہے مجھے آپ ڈرے ہو . 
میں : کیسے پتا تھا ؟ 
صنم : مجھے امبرین باجی نے بتایا تھا كہ ان كے پیریڈز ہو رہے ہیں . 
میں : آپ بہنیں واقع میں سب بتاتی ہو ایک دوسرے کو ؟ 
صنم : بہت کچھ ، سب کچھ نہیں . جلدی آؤ میری بانہوں میں . 
میں : صرف بانہوں میں نہیں ، پھدی میں بھی ، ابھی آیا . 
کیا کمال کی بات ہے صنم کو میری یاد آ رہی تھی ، اس کو بھی کچھ کچھ ہو رہا تھا . میں آرام سے گھر سے نکل گیا اور اپنا موٹر سائیکل کچھ 100 میٹر بَعْد اسٹارٹ کیا اور صنم كے پاس چلا گیا . ان كے گھر سے پہلےموٹر سائیکل بند کیا اور ایس ایم ایس کر كے صنم سے گھر کا دروازہ اوپن کروایا اس كے بَعْد میں اور صنم اس كے کمرے میں چلے گئے . 
کمرے میں داخل ہوتے ہی صنم نے ایک موم بتی ( کینڈل لائٹ ) جلا کر ایک جگہ پر رکھ دی ، اور اپنے روم کا دروازہ بند کر دیا . صنم نے ایک کپڑا لے کر اپنے روم کی واحد کھڑکی پربھی پردہ ڈال دیا . اس نے آہستہ آہستہ اپنا پیلا سلیپنگ لباس اتار دیا اب وہ صرف بریزئیر اور پینٹی میں تھی . صنم کا جسم موم بتی کی پیلی مدھم روشنی میں ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی عربی بیلی ڈانسر کا جسم ہو ، بہت پیاری لگ رہی تھی میری صنم . 
میں نے بھی اپنے کپڑے اتا ر دیئے ، ہم دونوں بہنوئی (جیجا / برادر ان لاء ) اور سالی بالکل ننگے تھے . صنم کو پہلے بھی ننگا دیکھا تھا جب میں اسے کنول كے نام سے جانتا تھا مگر اِس بار رشتہ پاک ہونے کی وجہ سے ذیادہ مزہ آ رہا تھا . صنم بستر پر لیٹ گئی ، اور بھاری ہوئی آواز میں بولی : 
صنم : داؤد ، دیکھ آج میں اپنی بہن كے ہسبنڈ کو اس سے پہلے اپنے اندر جانے کی اِجازَت دے رہی ہوں . پِھر اپنے بہنوئی کی بِیوِی بن کر ثابت کر رہی ہوں کہ میں آج بھی میں تمہاری ہوں ، اور کل بھی تمہاری رہوں گی ، وعدہ کرو داؤد بھائی وعدہ کرو . جیسے بھی ممکن ہوا ، تم مجھ سے چدائی کرنا بند نہیں کرو گے . وعدہ کرو ! 
میں : وعدہ کرتا ہوں میری بہن میری سالی میری آدھی گھر والی . 
میں نے صنم كے ممے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یہ وعدہ کر دیا


تب اس نے ہاتھ بڑھا کر میرے لن کو پکڑ لیا ، جو بہت ہی سخت ہو چکا تھا . صنم کی پھدی پر ایک بھی بال نہیں تھا . صنم اٹھ بیٹھی اور مجھے بستر پر لٹا کر لن کو اپنی زبان سے گیلا کرنے لگی ، لن اس كے منہ میں اور ٹٹے اس كے ہاتھوں میں تھے ، اور میں لذّت میں ڈوبا ہوا تھا . صنم نے 4 5منٹ تک لن کو چوسا ، پِھر میں اس کی ٹانگیں اٹھا کر اس کی پھدی کو کتے کی طرح چاٹنے لگا ، میرے ہاتھ اس كے ممے ( بوبز ) کی گول گول گلابی نپل کو ناپ رہے تھے . کچھ دیر بَعْد صنم نے مجھے اپنے اوپر آنے کو کہا ، میں اٹھ کر لن کو پکڑ کر اس کی پھدی كے لبوں سے ٹچ کیا . صنم بہت پیار سے مجھے دیکھ رہی تھی . 
صنم : داؤد اب اندر ڈال بھی دو . 
میں نے ایک زبردست دھکا مارا . صنم كی ایک ہلکی سے چیخ نکل گئی . میں گھبرا گیا ، دیکھا تو میرا لنڈ صنم کی پھدی کی بجائے اس کی گانڈ میں گھسا ہوا تھا ، جو جوش میں دھکا مارنے سے سلپ ہو کر اس کی پھدی کی بجائے گانڈ کی سیر کر رہا تھا ، میں نے جلدی سے لن کو اسکی گانڈ سے نکا ل دیا . فوراً صنم اٹھ گئی اور اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر ادھر ادھر چلنے لگی . تھوڑی دیر بَعْد کمرے میں موجود ایک ٹیبل پر بیٹھ کر اپنی ٹانگیں اٹھاتے ہوئے مجھے اپنے قریب آنے کو بولا ، جب میں قریب آیا تو اس نے اپنی ٹانگیں میرے کندھوں پر رکھ دیں اور اپنی کہنیوں كے سہارے نیم دراز ہو گئی ، اب میرا لن اس کی پھدی كے ملکوتی لبوں پر تھا جو میں نے بغیر کسی سوچ كے اس کی پھدی كے اندر تک اپنا لن پہنچا دیا ، اور ریل گاڑی کی طرح اسٹارٹ کرنے لگا . صنم میرے ہر دھکے كے ساتھ تھوڑا آگے کھسک جاتی ، اور منہ سے آوازیں نکالتی 
صنم : آہ ، آہ آہ ، آہ ، اف اف اوئی
جاری ہے


رات کافی ہو گئی تھی ، اِس لیے ساری جگہ خاموشی تھی ، اور اِس خاموشی میں صنم كے منہ سے نکلی آوازیں میرے حوصلے كے تقاضے کا امتحان لے رہی تھیں ، میں فارغ ہونے كے قریب آ گیا 
میں : صنم ، میں فارغ ہونے والا ہوں ! 
صنم : اوئی . . . بھائی اندر ہی چھوڑ دو فکر کی بات نہیں … 
ایک دو دھکوں کے بَعْد میرے لن سے منی نکل کر لن کی ساری بے چینی دور کردی . یہ بھی نا سوچا كہ چوت كے اندر بنا ساتھی ( کنڈم ) كے کیوں صنم نے اِجازَت دی تھی . صنم اِس دوران 2 مرتبہ چھوٹ چکی تھی . اِس بار بھی میرے چھوٹنے پر صنم کی پھدی سے منی کا فوارہ نکلا . میں نے لن کو صنم کی پھدی سے باہر نکالا ، اور اسکی ٹانگیں کندھوں سے اتار لیں . وہ ٹیبل سے اٹھ کر دوبارہ بیڈ پر آ گئی . اِس بار پھدی کنواری نہیں تھی اسلئے کوئی خون نہیں نکلا مگر منی سے ٹیبل اور زمین گیلی ہو گئی تھی تو مجھے یاد آیا كہ باجی عائشہ کا بھی فوارہ نکلا تھا ، یہ دونوں بہنیں ملٹیپل آرگیزم کرنے والی جادوگرنیاں تھیں . میں بھی صنم كے پاس جا کر بیٹھ گیا ، ہم ہلکی ہلکی باتوں كے ساتھ ہلکی ہلکی چھیڑ خانی کرتے رہے ، وہ میرے لن كے ساتھ اور میں اس كے مموں كے ساتھ

صنم : داؤد ، جب تم نے لن میری گانڈ میں ڈالا تو مجھے بہت دَرْد ہوا تھا ، تمہیں کیا مزہ آیا تھا ؟ پہلے کبھی کیا ہے ؟ 
میں : صنم ، میں نے پہلی بار گانڈ میں کیا ہے ( میں جھوٹ بول رہا تھا صنم کو اسکی باجی كے بارے میں تو نہیں بتا سکتا تھا ) . اور وہ بھی غلطی سے ہوا ہے . 
صنم : تم صرف میری پھدی كے ساتھ کھیلا کرو ، آہستہ آہستہ گانڈ بھی مل جائے گی او کے ؟ 
میں : او کے . 
صنم : اب ، تم گھر جاؤ . کل ولیمے پر ملیں گے . 
میں : تمہاری پینٹی لے کر جاؤں گا . 
صنم : ہر چدائی كے بَعْد ایک پینٹی کلیکٹ کرنے کی عادت ہو گئی ہے تمہیں .
اس نے مجھے اپنی پینٹی دی اور میں نے صنم کو کس کیا اور گھر چلا گیا . امبرین ابھی تک سو رہی تھی . میں نے اپنے روم میں سیکریٹ جگہ جا کر پینٹی رکھ دی ، اِس وقت اِس جگہ 3 پینٹیز پڑیں تھیں . پہلی صنم کی جو کہ کنول بن كے اس نے دی تھی ، دوسری باجی عائشہ کی جو کہ نکاح والے دن میں نے ان کو ان کی نیند میں ان کی گانڈ ما رتے وقت اتاری تھی . اور تیسری یہ والی جو کہ میں نے اپنی بارات /سہاگ رات والے دن اپنی چھوٹی سالی صنم کی لی . 
پارٹ 7 : بھیا بھابی کا مسئلہ 
صبح ہوئی اور میرے ولیمے کا دن آ گیا . امبرین كے ساتھ ناشتہ کر كے ہم لوگ تیار ہونے لگے . ہمارے روم كے باہر کچھ چلانے اور رونے کی آواز آئی . میں باہر نکلا اور دیکھا كہ لیونگ روم میں امی ابو اور بھیا كے بیچ کسی بات پہ جھگڑا ہو رہا تھا . بھابی رَو رہی تھی . اتنا ہی ہوا تھا تو امبرین بھی آگئی . 
امی : آؤ امبرین اور داؤد . ہمیں پتا ہے کہ آج بھی آپ کا دن ہے . مگر آپ گھر کا حصہ ہو اسلئے آپ کو بتا دیتے ہیں . 
میں : کیا بتانا ہے ، یہ کیا ہو رہا ہے ؟ 
ابو : کچھ نہیں ، کل بات ہو گی . 
بھیا : رونا بند کرو شازیہ . تمہیں طلاق نہیں دے رہا صرف دوسری شادی کرنے والا ہوں . یہ سب پتا نہیں کیا ہو رہا تھا . بھیا کیا بات کر رہے تھے ، مجھ کچھ سمجھ نہیں آئی .


امی : تمھارے بھیا اور بھابی کی شادی کو 8 سال ہوگئے ہیں اور شازیہ بچہ دینے میں ناکامیاب ہے ، ہمیں لگتا ہے اِس میں کوئی کمی ہے . اِس لیے تمھارے بھائی کی دوسری شادی کروانا چاھتے ہیں . 
مجھے شازیہ بھابی پر بہت ترس آیا ، جیسے وہ رَو رہی تھی مجھے کچھ اچھا نہیں لگا . سب باتیں ہونے كے بَعْد ہم نے اِس بات کو مزید نہیں بڑھنے دیا . بھیا نے کہا کہ وہ لڑکی دیکھنا اسٹارٹ کرنے والے ہیں . کچھ 1 2 سال تک شادی بھی کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا انہوں نے . اتنا ہی کہہ کر سب اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے . میں اور امبرین بھی کمرے میں چلے گئے . امبرین پِھر سے تیاری میں لگ گئی . میں اپنے کمرے سے نکلا اور دیکھا بھابی اپنے کمرے میں اکیلی تھی . 
میں : شازیہ بھابی ، آپ ٹھیک ہو ؟ 
شازیہ بھابی : ہاں ، مجھے کچھ نہیں ھوگا داؤد تم پریشان نا ہو . 
میں بھابی كے قریب گیا اور ان کو گلے سے لگایا . میں نے ان کو پیار سے عزت سے اپنی باہوں میں لیا . میری نیت ٹھیک تھی مگر میرے لن کی نیت خراب ہو گئی ، وہ وائیبریٹ کرنے لگا . بھابی كے سَر پر دوپٹہ نہیں تھا اور ان کا کلیویج نظر آنے لگا . میں سیکس كے موڈ میں آنے لگا . میری بھابی کافی پیاری ہیں ، ان کا رنگ گورا گورا ہے اور قد چھوٹا ہے اور جسم بھاری ہے ، مگر بھاری جسم بھی تو مزے کا ہوتا ہے . بھابی کی گانڈ کسی ہوئی تھی جب میں نے انہیں بازؤں میں لیا ہوا تھا تو میرا لن ان کے پیٹ پر ٹکرا رہا تھا . میں نے بھابی كے ماتھے ( فور ہیڈ ) پر کس کیا اور وہ اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی . اب میرا لن ان كے منه كے سامنے تھا ، ان کی نظر نیچے تھی ورنہ میرے لن کو سلیوٹ کرتے وقت دیکھ لیتی وہ . یعنی كہ میرا لن دھیرے دھیرے اٹھ رہا تھا . میں نے اپنے لوڑے ( لن ) کو پکڑا تو آواز آئی : پھر پھر 
میں فوراً کمرے سے نکل گیا . میرا دماغ خراب ہو رہا تھا ، اب مجھے اپنی بھابی سے بھی پیار ہونے لگا تھا . جسمانی پیار . میرا لن ان کی پھدی میں بھی جانا چاہ رہا تھا . خیر ، کچھ گھنٹے دو بَعْد ولیمے کا سلسلہ شروع ہو گیا سب اچھے طریقہ سے ہوا اور ولیمے كے بَعْد ہمارے ہاں رواج ہے کہ لڑکا لڑکی كے گھر 1 رات رہتا ہے . اسی لیے میں اور امبرین اس كے ابو كے گھر چلے گئے رات كے لیے . ادھر باجی عائشہ بھی تھیں ، صنم ، فرحین ، ماریہ اور ثوبیہ بھی تھیں .


ماریہ کی ڈائری 
رواج كی خاطر اب میں امبرین لوگوں كے گھر ایک رات رہنے كے لیے آیا ہوا تھا . ہم لوگوں بہت ہنسے کھیلے اور مستی کی . شام کو سونے کا وقت آ گیا اور مجھے اور امبرین کو ماریہ اور ثوبیہ كا کمرہ مل گیا سونے كے لیے . صرف اس کمرے کا بیڈ کنگ سائز کا تھا . اور ہماری نئی نئی شادی ہوئی تھی تو تھوڑا بڑے سائز کا بیڈ تو ھونا چاہئے . کمرے میں جانے سے پہلے میں نے بہت موقع ڈھونڈا صنم سے بات کرنے كا مگر کوئی موقع نا ملا . ہم اکیلے کہیں بھی نہیں ہو سکے . امبرین اور میں کمرے میں گئے ، چینج کیا اور پِھر امبرین لیٹ گئی . میں صنم کو ایس ایم ایس کرنے لگا : 
میں : مجھے آج رات کو پِھر سے اِسْپیشَل جوگنگ ( سیکس ، میرا اور صنم کا آپس میں مذاق تھا ، سیکس کو ہم اِسْپیشَل جوگنگ کہتے تھے ) کرنی ہے . 
صنم : امبرین كے ساتھ ہی کر لو . آج میں نہیں مل سکتی 
میں : کیوں ؟ 
صنم : میرے سَر میں دَرْد ہے . 
میں : پین کلر لے لو اور آجاؤ . 
صنم : پیریڈز ہو رہے ہیں 
میں : کچھ نہیں ہوتا میں پِھر بھی کر لوں گا . 
صنم : نہیں ، سوری ، نیکسٹ ٹائم . 
میں : اوکے کوئی بات نہیں ، بتاؤ اسی لیے کل رات کو تم نے کہا تھا كہ چوت كے اندر ہی منی ڈال دو . صنم : ہائے ، یس مجھے پتا تھا كہ میں پریگننٹ ابھی نہیں ہوں گی . 
میں : تمھارے پیریڈز امبرین كے ساتھ ہی شروع ہوتے ہیں ؟ 
صنم : امبرین كے ختم ہوتے میرے اسٹارٹ ہوتے ہیں . 
میں : اِس کا مطلب آج امبرین كے ختم ہو گئے ہیں ؟ صنم : یس ، آج اپنی طلب اس سے نکا ل لو . مگر یاد رکھنا تمہاری پہلی بِیوِی میں ہوں . 
میں : ہا ہا . او کے او کے ، چلتا ہوں ، امبرین کا مزہ لینا ہے . بائے 
صنم : بائے . 
میں تھوڑا سا غصہ ہوا اور سائڈ پر ہو کر لیٹ گیا . کچھ دیر بَعْد میں نے صنم کو ایس ایم ایس کیا اور بتایا كہ امبرین نہیں کرنے دے رہی . صنم نے بتایا كہ وہ خون سے بہت ڈرتی ہے ، اس لئے نہیں کرنے دے رہی ہو گی . صنم نے کہا کہ امبرین سب بہنوں سے زیادہ مذہبی ہے اور اگر میں اسے دین دکھاؤں اور بتاؤں كہ میرا حق ہے تو وہ مان جائے گی . میں نے کہا کہ کل پِھر کوشش کر لوں گا اب امبرین سو گئی ہے . صنم نے بتایا كہ اب وہ بھی سونے لگی ہے . اسلئے کل بات ہو گی . 
میں بے چینی سے ادھر ادھر بیڈ پر ہو رہا تھا جبکہ امبرین مزے سے سو رہی تھی . میں اٹھا اور کمرے میں کچھ پڑھنے ( ریڈ ) كے لیے دیکھنے لگا . میری نظر ماریہ کی ڈائری پرپڑی . 
پہلے تو میں نے سوچا رہنے دیتا ہوں ڈائری نہیں پڑھتے ، پِھر میں نے سوچا اتنے غلط کام کیے ہوئے ہیں ڈائری تو کچھ بھی نہیں ہے . میں نے ڈائری کھولی اور پڑھنے لگا . اس كے ہر صفحے پر ایک دِل تھا اور اس پر مس لکھا ہوا تھا . مس ، مس ، مس ، کیا مطلب مس . میں نے ڈائری كے لاسٹ ایونٹ پر گیا اور پڑھنا شروع کیا : 
ماریہ کی ڈائری : 10 مارچ 2014 : 
امبرین باجی كے رخصتی والے دن : 
باجی امبرین کی رخصتی ہوئی اور وہ بھائی داؤد كے ساتھ اپنے نیو گھر چلی گئی . میں اور ثوبیہ شام کو کمرے میں ٹی وی دیکھ رہے تھے تو پہلی بار میرے من کی وش پوری ہوئی . ٹی وی پر ایک بلو مووی چل رہی تھی . اِس میں ایک لڑکی بیڈ پر بیٹھی تھی اور دوسری باہر سے آئی ، اور بیڈ پر بیٹھی لڑکی کو کسسنگ کرنے لگی ، پِھر دونوں نے کپڑے بھی کمپلیٹ اُتَا ر دیئے . پہلی لڑکی نے دوسری کو نیچے لٹا دیا بیڈ پر اور اس کے بوبز چومنے لگی اور پِھر چوت . 
اتنا سب دیکھ کر میرا ہاتھ میری چوت ( پھدی ) پر تھا اور میں فلم دیکھ دیکھ کر چوت میں فنگرنگ کرنے لگی اور جوں ہی میں نے پیچھا دیکھا تو ثوبیہ نے بھی شلوار نیچے کی ہوئی تھی اور اپنی چوت میں 2 فنگر ڈال کر ہلا رہی تھی اور فلم دیکھ رہی تھی . ثوبیہ اٹھ کر بیڈ پر میرے پاس چلی آئی . اور میرے بوبز کو دبانے لگی ، اس کے ایسے کرنے سے میں نےاسے زور سے پکڑ لیا . 
ثوبیہ : میں تو پچھلے کئی منتھ سے اسی انتظار میں تھی کہ کب میں اپنی بہن كے ساتھ لسبئین بنوں گی . چل اب اور مت تڑپا بس اب تو اور میں ایک ہی ہیں


اور پِھر ثوبیہ نے میری قمیض اتاردی اور ساتھ میں بریزیئر بھی اور وہ میرے بوبز دباتے بولی : 
ثوبیہ : کتنا نرم ہے . 
ماریہ : ثوبیہ کیا تمہارے بوب سخت ہیں ؟ 
ثوبیہ : نہیں میں نے تو ایسے ہی کہا تھا پگلی ذرا اپنی نپلز کو تو دیکھ . 
ثوبیہ بہت گرم ہو گئی تھی ، اور بالکل بھی صبر نہیں کر رہی تھی . میں ثوبیہ سے پیار کرتی تھی اور اس كے خیال میں لسبیئن تو 5 سال سے رہی ہوں. مگر ثوبیہ كے ساتھ سیکس کا کبھی نہیں سوچا تھا ، لیکن آج ثوبیہ نے میری شلوار اور پینٹی بھی اتار دی اور بولی : 
ثوبیہ : اتنے سالوں سے تو نے مجھ سے اتنی پیاری چکنی پھدی کیوں چھپا کر رکھی تھی ، تجھے پتا نہیں تھا میں اِس کی دیوانی ہوں 
ثوبیہ میرے بوبز چاٹنے كے ساتھ ساتھ کبھی کبھی اپنے لپس میرے لپس پر رکھ کر چُوستی . اور وہ مسلسل میری پھدی کو اپنے نرم ہاتھوں سے مسل رہی تھی . 
ماریہ : ثوبیہ تمھارے ہاتھوں میں ایک خاص جادو ہے … آہ … جو میری چوت پر پڑتے ہی میری چوت کوآگ لگ گئی ہے ، اب اِس کو بُجھانا بھی ہے . 
ثوبیہ : ہاں ، ماریہ آج تو میں تیری پھدی کو شانت کر كے ہی دم لوں گی اور جب تک چاہوں گی اِس پیاری چوت سے کھیلوں گی . 
ماریہ : ضرور مگر دیکھنا مجھے دَرْد نا ہو
ثوبیہ : ماریہ تو ڈرتی کیوں ہے ، اتنے پیار سے تیری پھدی کی آگ بجھاؤں گی تجھے مزہ تو ضرور آئے گا مگر دَرْد نہیں ھوگا . 
پِھر میں نے ثوبیہ کو سیدھا بٹھا کر ثوبیہ کی قمیض اور بریزیئر اُتَا ر دیا تو ثوبیہ کا بڑا مما اچھل کر مرے سامنا آ گیا . 
ماریہ : ثوبیہ تیرے بوبز توواہ بہت پیارے ہیں مگر نپلز کتنے موٹے ہیں 
ثوبیہ کو کسسنگ کرتے ہوئے بوبز دبانے لگی اور ساتھ میں موقع ملتے ہی شلوار اور پینٹی بھی اتار دی اسکی . پھر ہم دونوں بہنیں کمپلیٹ ننگی تھیں ، اور ایک دوسرے کو مضبوطی سے پکڑ کر کسسنگ کرتے ہوئے بیڈ پر گر گئیں . ثوبیہ اور میں ایک دوسرے كے بوبز دبا رہی تھیں اور کسسنگ کر رہی تھیں ، ہم لسبئین سسٹرز بن گئیں اب ہمیں کسی کی ضرورت نہیں بس ایک دوسرے کی پھدی کو خود ہی شانت کیا کر یں گی پِھر 
ماریہ : ثوبیہ اسی مووی والے اسٹائل میں آ جاؤ ، 69 کی پوزیشن میں . 
میں ثوبیہ کی چوت اور ثوبیہ میری چوت چاٹنے لگی . ہمارا پاس کوئی ڈلڈو تو تھا نہیں اور یہ سب اچانک ہُوا اسی لیے نا کوئی کینڈل یا کچھ اور ایسی چیز نہیں ملی تو ہم نے فنگرز کا استعمال کیا پِھر ثوبیہ نے میری پھدی میں اور میں نے ثوبیہ کی پھدی میں فنگر ڈالنا شروع کر دیں . 1 فنگر سے پہلے پھدی کو شانت کرنے لگیں جب مزہ نہیں آیا تو دوسری بھی ڈال دی . اب دو فنگرز سے ایک دوسرے کی چوت شانت کر رہی تھیں . 
ماریہ : ثوبیہ بہت مزہ آ رہا ہے ، ایسے ہی لگی رہو . 
ثوبیہ : تیسری فنگر بھی ڈال دے مجھے مزہ آئے گا تیری پھدی میں بھی ڈالوں تیسری ؟ 
ماریہ : 3 فنگرز سے تو میری پھدی کو اور بھی مزہ آئے گا 
ہم نے تینوں فنگرز ڈالیں اور پُھدی کو آرام دیا . مجھے بہت مزہ آ رہا تھا ایک بہن دوسری کو شانت کرنے میں لگی ہوئی تھی ، پِھر میرے ذہن میں آیا كہ میرے پاس موٹا بلیک مارکر ہے جس سے کالج میں وائٹ بورڈ پر لکھتے ہیں . میں نے فوراً ثوبیہ کو روک دیا اور اپنے بیگ میں سے 2 مارکر لے کر آ گئی ایک ثوبیہ کے منه میں ڈال دیا اور ایک اپنے منه میں اور مارکر کو چُوسنے لگی ، جب خوب چکنا ہو گیا تو پِھر 69 کی پوزیشن میں آ کر ثوبیہ میری پھدی میں اور میں نے ثوبیہ کی چوت میں مارکر ڈال کر چدائی شروع کر دی . اِس سے تھوڑا زیادہ مزہ آنے لگا . یہ سب ہم نے 1 گھنٹے تک کیا . 


ثوبیہ : تھوڑا اور پھدی میں گھسا . پتلا ہے کنواری سیل نہیں ٹوٹے گی ، خون نہیں نکلے گا . ذرا تیز کر میری پھدی میں . 
میں نے اپنی سپیڈ بڑھا لی ایسے کرنے سے ثوبیہ کی سپیڈ بھی تیز ہو گئی . اور ہم دونوں ہینڈز كے ساتھ ساتھ اپنی پھدی کو بھی ہلانے لگی تیز تیز . 
ثوبیہ : اور تیز . . اور تیز 
ماریہ : ثوبیہ تم بھی فاسٹ کرو 
اور دونوں کی چوت سے پانی نکل آیا . پتا نہیں یہ کیا تھا مگر بہت اچھا تھا . زندگی میں پہلی بار کچھ ایسا ہوا . ہم فلم دیکھ کر سب کر رہے تھے ، ایسا جو فلم میں ہو رہا تھا وہ ہم کر رہے تھے . ثوبیہ نے میری پھدی کا پانی اور میں نے ثوبیہ کی پھدی کا پانی پی لیا . مجھے اب محسوس ہوا کہ مجھے سوسو آیا ہُوا تھا اور ایسا ہی ثوبیہ کو بھی محسوس ہُوا . 
ہم دونوں ایک ساتھ باتھ روم میں جا کر اپنی چوت سے پیشاب نکالنے لگیں . اچانک ثوبیہ نے رکنے کا بولا اور وہ شاور كے ٹب میں لیٹ گئی اور بولی : 
ثوبیہ : میرے اوپر کر پیشاب . میری پھدی اور میری گانڈ اور میرے بوبز پر کر سوسو . 
میں نے ایسے ہی کیا . پیشاب کی رفتار تیز ہوئی ، اور ثوبیہ کا سارا جسم میرے سوسو سے نہانے لگا . اس نے میری سوسو کرتی ہوئی پھدی کو بھی منه میں لے لیا . ثوبیہ کو بھی بہت زور سے سوسو لگاہوا تھا ، مگر میں نے اسے اپنے اوپر سوسو نا کرنے دیا . پیشاب کے دوران ثوبیہ نے اپنی ایک فنگر میری گانڈ میں ڈال دی جس سے میں آگے کو ہو گئی ، ثوبیہ نے مجھے آگے جھکنے کو کہا ، میں جھک گئی تو ثوبیہ نے میری گانڈ میں ایک فنگر ڈال کر گانڈ کا مزہ لینے لگی ، 10 منٹ ثوبیہ نے میری گانڈ ماری اور 10 منٹ میں نے ثوبیہ کی گانڈ میں فنگر ڈال کر چدائی کی . پِھر ہم نہانے لگے اور اس كے بَعْد میں اور ثوبیہ روم میں واپس آ گئے اور ایک دوسرے کو چومتے چاٹتے ہوۓ اورپھدیوں کو ملا کر سو گئے ننگے ہی . 
ثوبیہ بار بار کہہ رہی تھی کہ لن کی ضرورت ہے مگر مجھے معلوم نہیں ، کس کا لن اپنے اِس کھیل میں لینے کو ملے گا . مجھے اچھا لگا تھا مگر ڈر بھی لگ رہا ہے . مجھے لگتا ہے میں اب شادی سے پہلے کبھی بھی نہیں ایسا کچھ کرنے والی . مرد كے لن سے مزہ تو آنے والا ہے مگر مجھے ڈر لگ رہا ہے . ثوبیہ پاگل ہے مگر میں ایسا نہیں کرنے والی کبھی بھی نہیں . اینڈ آف 10مارچ 2014 . 
میں نے ماریہ کی ڈائری نیچے رکھی اور دیکھا كہ میرا ہاتھ میرے لن پر تھا اور اس سے اسپرم نکل رہا تھا . واؤ ، میری جڑواں سالیاں لسبیئن ہیں . اور ثوبیہ ایک لن کی تلاش میں ہے . واؤ . میں نے فوراً اپنا لن صاف کیا موبائل سے ماریہ کی ڈائری كے پیج کی فوٹو لے لی اور ڈائری میں ایک نوٹ لکھا : 
میں : لن کی تلاش ہے تو زیادہ دور مت ڈھونڈو ، میں ہوں نا . سیکس سے نہیں بھاگ سکتی تم اب . میں تمہاری پھدی تو مار کر ہی اب چین لوں گا . 
اتنا لکھ کر میں بیڈ پر امبرین كے پاس لیٹ کر سو گیا . 
پارٹ 9 : صنم نے ہیلپ کی 
ماریہ اور ثوبیہ لسبیئن کیا بات ہے ، اگر میں ان میں سے کسی کو منا لوں تو تھری سم تو ہونے ہی والا ہے ضرور … واؤ . . میرے دماغ میں بہت سارے آئیڈیاز آنے لگے . مگر اگلے بہت سارے دن کوئی چانس نا ملا


اور میری بِیوِی امبرین بھی مجھے چانس نہیں دے رہی تھی . ہر روز ایک ہی بات كہ ڈر لگتا ہے . بار بار اگلی رات کا کہہ کر مجھے روک دیتی تھی . 
کچھ دن گزرے اور میں نے اب پورا ہفتہ ہو گیا تھا كہ دور رہا ، کوئی سیکس نہیں کیا تھا . میرے مائنڈ میں ایک بات آئی تو میں نے رات کو امبرین سے بات کی . 
میں : امبرین ، تمہیں معلوم ہے نا بھیا دوسری شادی کرنے لگے ہیں ، بھابی بچہ نہیں دے سکی اِس لیے اور اگر تم سیکس نہیں دو گی تو میں بھی دوسری شادی کر لوں گا . سیکس میرا حق ہے . 
امبرین : سوری ، آج نہیں ( روتے ہوئے بولی ) …… . اگلے ہفتے . . پلیز … مجھے ڈر لگتا ہے . 
مجھے بہت غصہ آیا اور میں رات کو ہی کمرے سے نکل گیا . میں نے صنم کو ایس ایم ایس کیا اور اس سے ملنے چلا گیا . جب میں صنم لوگوں كے گھر گیا تو وہ باہر آئی اور مجھے باہر ہی ملی . رات كے کچھ 02 بج گئے ہوں گے . 
صنم : داؤد ، تمہیں پتا ہے کہ میں نیکسٹ منتھ واپس جا رہی ہوں اسٹڈی کرنے ! 
میں : کہاں ، اسلام آباد یا شکاگو ! 
صنم : شکاگو ، وہ لاسٹ ٹائم اسلام آباد ہی جانا تھا مگر اس وقت پر شکاگو کا سکالرشپ مل گیا تھا . اور سناؤ . . کیوں اتنے پریشان دِکھ رہے ہو . 
میں : امبرین چانس نہیں دیتی . 
صنم : اب تک نہیں ملا ؟ 
میں : نہیں 
صنم : ایسا کرو کہ سوتے ہوئے اس کی سیل توڑ دو ، تھوڑاسا خون نکلے گا پِھر وہ نہیں ڈرے گی . خون صاف کر كے لن اندر ڈال کر جگا دینا اسے . وہ لن کو اندر محسوس کر كے خوش ہو جائے گی اور ڈر بھی ختم ہو جائے گا . 
میں : وہ جاگ نہیں جائے گی ؟ 
صنم : نہیں ، باجی امبرین اور باجی عائشہ گہری نیند سوتے ہیں . دونوں کو جب تک منه پر تھپڑ ( سلیپ ) نا مارو نہیں جاگتیں دونوں . 
میں : مجھے نہیں پتا… کیا تم ہیلپ کرو گی . 
صنم نے انکار کیا اور تھوڑی بحث ہوئی اس كے بَعْد صنم مان گئی . ہم دونوں ہمارے گھر آ گئے اور میرے کمرے میں چُپ کر كے اینٹر ہوئے . 
میں : صنم ، تم اتنی شیور ہو كہ امبرین نہیں جاگے گی . تو تم ہی امبرین کی سیل توڑ دو . 
صنم : او کے 
صنم نے روم کی لائٹ آ ن کر دی . امبرین نہیں جاگی . صنم امبرین كے پاس لیٹ گئی ، اس نے امبرین كے کان کو چاٹنا شروع کر دیا . اِس سے امبرین نرم ہونے لگی اور سیدھی ہو گئی . میں نے فوراً اپنا فون نکالا اور مووی بنانا شروع کر دی . اس كے بَعْد صنم نے امبرین کے گاؤن كے بٹن کھولے اور اسکے دودھ اور بوبز كے نپل چوسنے لگی . اب سسس سسس کی آوازیں آنے لگیں ، میری پینٹ میں میرا لن وائیبریٹ بھی کرنے لگا . 
میں نے لن کو باہر نکالا اور صنم كے پاس لے گیا مووی بناتے ہوئے . صنم نے میرے لن کو کس کیا اور منه میں لے لیا ، اب وہ اپنے ھاتھوں سے امبرین كے بوبز دبا رہی تھی اور منه سے میرا لن چوس رہی تھی . میں نے بھی امبرین كے بوبز دبانا شروع کر دیے . صنم نے امبرین کی پینٹی اتاری اور میری پینٹ کی پاکٹ میں ڈال کر مجھے آنکھ ماری . 
آہستہ آہستہ صنم نے اپنی بہن کی چوت کو اپنی زبان سے گیلا کیا . مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا كہ ایک بہن اپنے بہنوئی كے ساتھ اسکی بِیوِی اور اپنی بہن کی سیل پھاڑنے لگی ہے . میرے لن کو بہت مزہ آیا . میں نے صنم کی شلوار اتار دی اور اسکی پینٹی بھی اپنے پاکٹ میں ڈالی اور اب امبرین بیڈ پر لیٹی تھی میں بیڈ پر کھڑا تھا اور صنم کی ٹانگیں میرے کاندھے پر تھیں اور میں صنم کی پھدی چوس رہا تھا اور صنم امبرین کی پھدی چوس رہی تھی . اسی طرح پِھر صنم نے اپنی انگلیوں سے امبرین کی کنواری سیل توڑی 

صنم نے بے رحمی سے انگلی گھمائی امبرینکی پھدی میں . امبرین کو دَرْد ہوا مگر نیند سے نا اٹھی . کچھ ہی دیر بَعْد صنم نے سیدھی ہو کر میرے کان میں : 
صنم : پتا ہے نا کہ آپ لوگوں کی شادی ہوئے آج 11 دن ہو گئے ہیں 
میں : ہاں ، تو کیا ہوا ہے .
صنم : اِس کا مطلب ہے باجی امبرین كے پیریڈز ختم ہوئے تقریبا10 دن ہو گئے ہیں . 
میں : ہاں ہاں ، اِس سے کیا ہوتا ہے ؟ 
صنم : اس كے اندر فارغ ہونے سے وہ پریگننٹ ہو سکتی ہے . 
میں : ( سوچنے كے بَعْد ) خیر ہے ، اِس کو پریگننٹ ہی کر لیتا ہوں . باپ بھی تو کسی نا کسی دن بننا ہے نا . 
اتنا ہی کہتے ہوئے میں نے اپنی شرٹ اُتَا ر لی اور امبرین کی پھدی كے اوپر اپنا لن رکھ دیا . نیچے سے بیڈ شیٹ خون سے گندی ہوئی تھی . صنم اب بیڈ پر کھڑی ہوئی اور اپنے ھاتھوں سے میرا لن اپنی باجی کی پھدی میں ڈالا . میرا لن وائیبریٹ کر رہا تھا اور اندر جاتے ہی مزہ آیا ، امبرین کی گیلی سوفٹ پھدی سے جو مزہ تھا وہ تو تھا مگر ایک بہن کو بہن چدانے کی ہیلپ کرتے ہوئے دیکھنے کا اور بھی مزہ تھا . 
صنم نے اب گانڈ میری طرف نکا ل کرامبرین كے لپس کو کس کر رہی تھی . وہ اِس لیے کر رہی تھی کہ امبرین مدھوش رہے ، میں ہلکے ہلکے دھکے مارنے لگا . میرا لن فل اندر جا کر پچک پچک کرنے لگا . صنم جو اب اپنی بہن كے پیٹ پر بیٹھ کر اس كے بوبز چوس رہی تھی اس کی گانڈ کو میں نے چاٹنا ( لک ) شروع کر دیا . واہ ، کیا ٹیسٹ تھا ، صنم کی گانڈ کو میں نے گیلا کیا اور صنم کو بھی ہوٹ کیا . وہ فوراً اٹھی اور میں جو امبرین کی پھدی میں دھکے مار رہا تھا تو صنم اپنی انگلیوں سے اپنی پھدی مارنے لگی 5 10 منٹ بَعْد صنم فل سپیڈ سے فارغ ہونے لگی تو میں نے فوراً اپنا لن صنم کی پھدی میں ڈالا اور کہا آج کیوں اسے رہنے دوں ، میری زندگی میں سب سے بیسٹ پھدی رکھنے والی صنم ہی تو ہے . میں نے صنم کی چوت کو کچھ دیر چودا تو فوراً صنم نے فارغ ہوتےہی میرے اور امبرین كے جسم پر فوارہ نکا ل دیا . صنم كی منی سے میں اور جوش میں آ گیا . میں نے دیکھا امبرین بھی نیند میں دھکے لے رہی تھی .
صنم : باجی امبرین کو جگاؤ ، میں بالکونی میں سے دیکھتی ہوں . مجھے اپنا موبائل دو باقی مووی میں بناتی ہوں 
اتنا کہہ کر موبائل لے کر صنم چلی گئی بالکونی میں . میں نے صنم كے سگنل دینے پر امبرین کوتھپڑ مارا اور اسے جگایا . اس نے دیکھا كہ اس کا جسم مست ہوا تھا اور دَرْد بھی نہیں ہو رہی تھی . وہ مزے سے ابھی بھی میرے دھکوں كے ساتھ دھکے مار رہی تھی . 
امبرین : داؤد ، بہت مزہ آرہا ہے . . آہ 
میں : شش ، میری امبرین ، … . آہ 
میرے منه سے صنم کا نام نکلنے والا تھا ، مگر میں نے کنٹرول کر لیا . 5 منٹ اور اسی طرح میرا لن امبرین کی پھدی میں دھکے مار رہا تھا . امبرین اب جب بھی میرا لن فل اندر جاتا تو وہ اپنی پھدی کو ٹائیٹ کر لیتی ، اِس سے مجھے اور بھی مزہ آتا اور اس کی چوت سے پچ پچ کی آواز بھی آتی 
کچھ ہی دیر بَعْد 
امبرین : اوئی اوئی ، اف … . اوئی . مت رکنا اوئی 
ایسے کرتے کرتے اس نے مجھے دیکھا دیا اور میرے جسم پر اپنا فوارہ گرا دیا . امبرین کی چوت سے اپنی سب بہنوں سے زیادہ پانی نکلا . میں نے صنم اور باجی عائشہ کی چوت کا پانی دیکھا ہوا تھا مگر امبرین کا ان سے بڑا فوارہ تھا . میرا بدن پِھر سے گیلا ہو گیا اور میرے سَر كے بال بھی . امبرین نے فوراً میرا لن اندر لیا جو اب اپنی لمِٹ تک آ چکا تھا . 
میں : آہ آہ آہ 


 : آہ آہ آہ . . . . امبرین . . . آہ . . . 
میرے لن سے بھی پانی نکلا اورامبرین کی چوت میں میں نے ساری منی گرا دی . امبرین کی گرم گرم پھدی میں میرا لن دھیرے دھیرے سونے لگا . امبرین نے مجھے سمائل کیا اور شرما گئی . میں اٹھا اور امبرین کی کمر كے نیچے تکیہ ( پلو ) رکھ کر باتْھ روم چلا گیا . امبرین پِھر سے سو گئی . نہانے كے بَعْد میں صنم کو اس كے گھر چھوڑنے چلا گیا . میں نے صنم کا شکریہ ادا کیا اور گھر جانے سے پہلے : 
صنم : یاد رکھنا میں تمہاری پہلی بِیوِی ہوں ، میری گانڈ تم نے پہلے ماری تھی اور دوسری امبرین کی . 
میں : ہاں صنم تم پہلی تھی ، مگر امبرین دوسری نہیں ، تیسری بِیوِی ہے . 
صنم : کیا . امبرین سے پہلے کس کی پھدی ماری ؟ 
میں : پھدی اور گانڈ ماری میں نے . کسی دن آنا تو بتاؤں گا . 
صنم : ابھی بتاؤ نا . . میں اسے جانتی ہوں ؟ 
میں : ہاں . . 
صنم : کون ہے . . 
میں : باجی عائشہ 
صنم : ہاہاہا ، تم جھوٹ بول رہے ہو . 
میں نے فوراً موبائل نکالا اور صنم کو باجی عائشہ کی گانڈ مارنے والی ویڈیو دکھانے لگا تو موبائل اوف ہو گیا . 
میں : پِھر کبھی دکھاؤں گا . موبائل کی بیٹری ڈیڈ ہو گئی ہے . 
صنم : ہا ہا ، باجی عائشہ کی پھدی نہیں ماری آپ نے … ایویں مذاق نا کرو… اچھا خیر ہے میں چلتی ہوں . پِھر کسی دن بات ہو گی . 
اتنا کہہ کر مجھے کس کر كے وہ چلی گئی . واہ ، صنم کتنی اچھی ہے ، میرے ساتھ کتنی اوپن ہے . میں اسے کچھ بھی بتا سکتا ہوں . صنم میری نمبر ون ہے . نمبر ٹو باجی عائشہ ، تھری امبرین اور فور اینڈ فائیو ثوبیہ اور ماریہ کو بنانا ہے . میرے پاس اب 5 پینٹیز کلیکٹ ہو گئیں تھیں ، آج امبرین کی ایک لی اور صنم کی ٹوٹل 3 پینٹیز میرے پاس ہیں . 
پارٹ 10 : کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے 
کچھ دن گزارنے كے بَعْد مجھے ماریہ اور ثوبیہ کا لسبیئن سیکس یاد آنے لگا . اب مجھ سے مزید اور انتظار نا ہوا . میں نے فیصلہ کر لیا کہ ایک دن ماریہ كے گھر جا کر اسے بتا دوں گا كہ وہ نوٹ اس كی ڈائری میں میں نے لکھا تھا . اور اگر وہ میرا لن لینے سے انکار کرے گی تو اس کو بلیک میل کروں گا . میں نے ماریہ کی ڈائری كے پیجز کی فوٹوز جو لی تھیں . 
میں اورامبرین کچھ دنوں بَعْد اس كے والدین كے گھر گئے ، اور میں موقع دیکھ كے ماریہ كے کمرے میں چلا گیا . میں نے اس کی ڈائری پِھر سے کھولی اور دیکھا كہ میرے نوٹ كے آگے اسنے کچھ لکھا تھا
ماریہ : پلیز معاف کردو ، میں اچھی لڑکی ہوں ، لسبئین نہیں وہ تو جوش میں آکر کیا ، پلیز کبھی نا سامنے آنا . میں : کیسی ہو ماریہ ؟ 
ماریہ : آپ . . آپ نے میری ڈائری میں نوٹ لکھا تھا ؟ 
میں : یس . . کتنا مزے سے کرتی ہو تم ماریہ . مجھے بھی شامل کرو اپنے اِس کھیل میں . 
ماریہ : بھائی آپ مجھے معاف کر دو غلطی ہو گئی تھی . آیندہ نہیں ہو گی . 
میں : غلطی تب ہو گی اگر تم مجھے 3 گھنٹے بَعْد میرے گھر نا ملی . میں امبرین کو ادھر چھوڑ کر گھر جا رہا ہوں ، 3 گھنٹے میں گھر پر کوئی نہیں ہو گا . تم آ جانا ، ورنہ سب کو تمھارے لسبیئن ہونے کا بتا دوں گا . 
ماریہ : بھائی … بھائی … . نہیں بتانا ، آؤں گی ، آتی ہوں آپ كے گھر آتی ہوں . ( ڈرتے ہوئے کہا ) . 
میں پلان كے مطابق گھر گیا اور انتظار کرنے لگا . ماریہ جو فٹ باڈی کی ما لک تھی آج اس کی پھدی کی لذیذ خوشبو میرے لن کی رَو میں جانے والی ہے . 
کچھ دیر بَعْد گھر كی انٹرینس پر دستک ہوئی ، میں نے دیکھا كہ ماریہ آ گئی تھی ، کافی ڈری ہوئی تھی اور نقاب کر كے آئی تھی


میں نے ماریہ کو اندر داخل کر دیا اور کنڈی لگا دی اور لوک کو کنڈی میں پھنسا دیا ماریہ کی طرف دیکھا تو وہ ہانپ رہی تھی اور لمبے لمبے سانس لے رہی تھی میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے میرا لیفٹ ہینڈ پکڑ كے اپنے سینے پہ لیفٹ سائڈ پہ رکھ دیا اور کہا دھڑکن چیک کرو اور واقعی اس کا دِل ایسے دھڑک رہا تھا کہ جیسے سینہ پھاڑ كے ابھی باہر آ جائے گا وہ ابھی تک نقاب میں کھڑی تھی میں نے پِھر ایک ہاتھ سے اسکا نقاب ہٹایا اور ایک ہاتھ سے اسکا بیگ شولڈر سے اُتَا ر كے چیئر پہ رکھ دیا . 
نقاب ہٹتے ہی مجھے اسکا پورا فیس نظر آیا کیا خوبصورت چہرہ تھا گلابی ہونٹ ...نیچے والے ہونٹ كے نیچے تھوڑا سا پسینہ بھی تھا . اسکا فیس میرے فیس کے بالکل قریب تھا ہم ایک دوسرے کی سانسوں کو فیل کر سکتے تھے پِھر میں نے اسے بڑے پیار سے گلے لگا لیا 1 منٹ جپھی ڈال كے رکھی پِھر خود سے جدا کیا اور اسکا فیس پکڑ كے کس کرنا چاہا تو : 
ماریہ : نہیں . پلیز نہیں . 
میں : ماریہ ، اتنا مت ترساؤ ، تمہارا بھی تو دِل کر رہا ہے نا . . 
ماریہ نے اپنے نرم اور گرم ہونٹ میرے ہونٹوں پہ رکھ دیے ہم دونوں کو ایک جھٹکا سا لگا کافی دیر ہم ہونٹ اور زبان چوستے رہے پِھر میں اس کی گردن پہ فیس پہ آنکھوں پہ کس کرنے لگا وہ دھیمی سی آواز میں بولی : 
ماریہ : جان… ہارڈ کسنگ نہیں کرو گھر میں کسی کو شک ہو جائے گا 
میں : جان . . واہ ، نہیں بھائی نہیں ، سے جان بن گیا ہوں ، ہی ہی . . . او کے شونا ہارڈ نہیں . 
اسے صوفے كے پاس لے آیا میں نے اس کی قمیض اُتَا ر دی اپنی شرٹ اور بنیان بھی اتار كے ٹانگ دی پِھر میں صوفے كے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھ گیا اور ماریہ گود میں بیٹھ گئی وہ شلوار اور برا میں تھی اس نے اسکن کلر کی برا پہنی ہوئی تھی وہ ایک ٹانگ ادھر اور دوسری ادھر کر كے میرے پٹ كے اوپر آ كے گود میں بیٹھ گئی میں نے اسے سینے سے لگا لیا اسکا جسم بہت سوفٹ اور گرم تھا میں اس كے جسم پہ کس کرنے لگا فیس پہ لپس سے زبان چوسی ہم نے.. پِھر میں اس كے رائٹ شولڈر پہ کس کی زبان سے چاٹنے لگا اور اسکی برا كے تنی نیچے بازو پہ گرا دی اور اس کے سینے سے ہوتا ہوا اس کے لیفٹ شولڈر پہ کس کی زبان سے چاٹنے كے ساتھ ہی دوسری تنی بھی بازو پہ گرا دی اور دونوں ہاتھ پیچھے لے جا كے اس كے برا کی ہک بھی کھول دی ساتھ ہی اسکی برا اُتَا ر دی واؤ کیا ممے تھے ماریہ کے یار آئی تھنک 32 سائز ہو گا اکڑے ہوئے بال جیسی گولائی میں ان کے اوپر لائٹ برائون کلر کا سرکل اور پنک کلر کا نپل اُف میرا لن فل اکڑ چکا تھا میں نے اسے ایسے ہی گود میں اٹھایا اور بیڈ پہ سیدھا لٹا دیا . ماریہ جتنی فٹ کپڑوں میں دکھتی تھی اس سے زیادہ فٹ ننگی دِکھ رہی تھی . میرا لن کھڑا ہو کر وائیبریٹ کرنے لگا 


میں نے اسکا لیفٹ بوب ہاتھ میں پکڑ ا اور رائٹ ممے پہ زبان پھیرنے لگا . ماریہ ایک دم سے کانپنے لگی اور اس كے منہ سے آہ کی سسکی نکلی پِھر میں اس کے کان کو چُوسنے لگا کبھی رائٹ کبھی لیفٹ پِھر میں اس کے پیٹ پہ زبان سے چاٹتے ہوۓ اس کی ناف کے پاس آ كے زبان ناف میں ڈال دی . ماریہ نے ایک زور سے سانس لی اور خود کو سمیٹ لیا میں اس کی لاسٹک والی شلوار میں ہاتھ ڈال كے شلوار نیچے کرنے لگا اور ساتھ ساتھ اس كے جسم کو زبان سے چاٹ رہا تھا ، پِھر ران پہ ، گھٹنے پہ ، ٹانگوں پہ ، پِھر پاؤں پہ ، اور پِھر اسکی پوری شلوار اُتا َر دی . 
ماریہ نے ٹانگیں سکیڑ لیں میں نے دونوں ہاتھوں سے اسکی ٹانگیں کھولیں اور اسکی ٹانگوں كے سینٹر میں اُلٹا لیٹ گیا اور اسکی پھدی کا جائزہ لینے لگا کیا کمال کی شیوڈ پھدی تھی اف . میں نے انگوٹھے اور فنگر سے پھدی كے لپس کھولے جو کہ بالکل ساتھ جڑے ہوئے تھے اور اپنی زبان پھدی كے ہول پہ رکھ دی زبان كے رکھتے ہی ماریہ بھی مچل گئی تھی اور بہت ہی سیکسی آوازیں دے رہی تھی ہلکی آواز میں... پِھر اسکا جسم اکڑنے لگا اور وہ میرا سر پھدی پہ دبانے لگی اور کچھ ہی دیر میں ڈھیلی پڑ گئی میں نے اس کی منی کی ایک سپ لی . ماریہ اتنی جلدی فارغ ہو گئی تھی . ماریہ کی پھدی ابھی صرف 16 سال کی تھی اِس لیے وہ زیادہ منی نہیں نکال رہی تھی . ہو سکتا ہے کچھ سال بَعْد میں ماریہ کا بھی ملٹیپل آرگیزم نکل کر اس کا بھی فوارہ نکل سکو ں اس کی بہنوں کی طرح یعنی كہ باجی آسیہ ، امبرین اور صنم کی طرح . 
میں کھڑا ہوا اور اپنی پینٹ اور انڈرویئر اُتَا ر دیا میرا لن فل اکڑا ہوا تھا ماریہ نے آنکھیں کھولیں اور اسکی سیدھی نظر میرے لن پہ پڑی اور اسکی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں کھلتی بھی کیوں نا ، زندگی میں پہلی بار لن دیکھ رہی تھی ماریہ . میں اس كے ساتھ لیٹ گیا ٹانگوں میں ٹانگیں پھنسا لیں اور پیار سے اسے تسلی دینے لگا اور ساتھ اس کے جسم پہ ہاتھ پھیرنے لگا اور ساتھ کس بھی کرنے لگا . فیس پہ وہ پِھر ہوٹ ہو رہی تھی پِھر میں ایک ہاتھ اسکی پھدی پہ رب کرنے لگا اسکی پھدی کافی ویٹ تھی میں اپنی ایک انگلی اس میں اینٹر کی تو ہلکی سی چیخ کے ساتھ بولی : 
ماریہ : اوئی جان آرام سے میں کنواری ہوں 
میں نے اس كے گال پہ کس کی اور اپنی 2 انگلیاں ڈالیں پھدی ویٹ ہونے کی وجہ سے انگلیاں اندر گئیں تو اس کی سیل محسوس ہوئی


ماریہ کی پِھر ہلکی سی چیخ نکل گئی . ماریہ کو علم نہیں تھا كہ خون بھی نکل رہا ہے . پِھر میں اس كے اوپر آ گیا اور اسکی ٹانگوں کو پوری طرح کھو لا اور سینٹر میں بیٹھ گیا اور اپنے لن سے اسکی پھدی كے لپس کھو لے اور ٹوپا اسکی پھدی كے ہول پہ رکھ كے تھوڑا پُش کیا تو لن پھسل كے باہر پیٹ کی طرف چلا گیا . ماریہ کی پھدی بہت ہی ٹائیٹ تھی ، اپنی طرف سے بہت سوفٹ سیکس کر رہا تھا میں . سیل تو ٹوٹ گئی تھی مگر ماریہ ڈر سے پھدی بند کر دیتی تھی . 
میں نے ماریہ کو سمجھایا اور پِھر لن کی ٹوپی اندر داخل کی . اِس بار ایک ہاتھ سے لن کو پکڑا اور ایک ہاتھ كے انگوٹھے اور فنگر سے پھدی کھولی تھوڑا پُش کیا تو ٹوپا مزید اندر پھنس گیا ماریہ نے مضبوطی سے بیڈ کی چادر کو ہاتھوں سے کھینچ لیا اور میں رائٹ ہینڈ سے لن کو پکڑا اور لیفٹ ہینڈ ممّوں پہ رکھ دیا ٹوپا ابھی پھنسا ہوا تھا پِھر میں آگے ہو كے اس كے لپس سے اپنے لپس جوڑے اور تھوڑا اور پُش کیا تو ماریہ کی آنکھیں ایسے کھلیں جیسے کوئی خوفناک چیز دیکھ لی ہو میں نے اس کے ہونٹ چھوڑے تو وہ چلائی : 
ماریہ : چھوڑو مجھے نکالو اسے باہر . آہ 
ماریہ کی آنکھوں میں آنسو تھے اور بالکل بے سدھ پڑی تھی مجھے اس پہ ترس تو آ رہا تھا پر اس وقت لن باہر نکا لنا بیوقوفی تھی . تھوڑی دیر بَعْد ماریہ نارمل ہو گئی اور میں چھوٹے چھوٹے جھٹکے مارنے لگا اس نے بھی میرا پورا ساتھ دیا . میں چوت ٹائیٹ ہونے کی وجہ سے جلدی چھوٹنے والا تھا میں نے تیز تیز جھٹکے شروع کر دیے اور 8 ، 10 جھٹکوں كے بعد لن باہر نکالا ، تھوڑی سی منی ماریہ کی پھدی میں بھی چلی گئی . پِھر میں نے لن کو ماریہ كے پیٹ پر رکھ كے باقی ساری منی نکا ل دی . پِھر دیکھا تو میرے ہاتھ پہ بھی خون لگ گیا تھا پِھر میں جلدی سے اٹھا اپنی بنیان سے اپنا ہاتھ اور لن اور ماریہ کی پھدی سے خون صاف کرنے لگا . کپڑا لگتے ہی ماریہ نے پِھر ایک بھاری ہوئی سانس سی لی دَرْد کی وجہ سے . 
میرے لیے زندگی کا سب سے بکواس سیکس تھا ماریہ كے ساتھ . مگر اب سیل ٹوٹ گئی تھی اور کچھ سال بَعْد ماریہ کے ساتھ اور بھی مزہ آئے گا . میں نے ماریہ کو اپنے آپ کو حوصلہ دیا كہ کبھی کبھی ایان ہوتا ہے سیکس كے دوران ، ہمیشہ دونوں کا بیسٹ آرگیزم نہیں نکل سکتااسی کو زندگی کہتے ہیں . کبھی ہار کبھی جیت . ماریہ سے کہا کہ میں اسکی پینٹی اپنے پاس رکھنے لگا ہوں اس کی یاد كے لیے . اس نے اِجازَت دی اور مجھے کہا کہ نیکسٹ ٹائم 1 2 سال بَعْد پِھر ٹرائی کریں گی . میری سیکریٹ جگہ اب 6 پینٹیز ہو گئیں تھیں 

بھابی کی ٹینشن 
ماریہ كے ساتھ سیکس كے بَعْد مجھے نا ہی امبرین اور نا ہی صنم سے سیکس کا موقع ملا . اب صنم كے شکاگو جانے کا ٹائم آ گیا تھا . میں نے بہت کوشش كی کہ صنم کی ایک بار پِھر سے گانڈ مارو ں مگر ہم دونوں کبھی اکیلے نا ہو سکے . صنم چلی گئی اور دن گزرتےگئے . امبرین نے پریگننسی ٹیسٹ کیا اور وہ پوزیٹو تھا ، میری ایک ہی ٹرائی میں میری بِیوِی پریگننٹ ہو گئی . 
گھر میں بھابی کی ٹینشن بڑھ گئی امبرین كے پریگننٹ ہونے پر سب خوش تھے اور بھابی کو اور بھی پریشانی ہونے لگی . شازیہ بھابی بیمار ہو گئی . وہ لوگ اب لندن واپس جانے کا پروگرام بنا ہی رہے تھے كہ امی كے ایک دور كے رشتےدار کی ڈیتھ ہو گئی . سب لوگ ادھر چلے گئے . بھابی گھر رہ گئی ، امبرین اپنے امی ابو كے گھر چلی گئی . 
اب ایسا ہوا کہ مجھے اور بھابی کو اکیلے گھر میں رہنا تھا . پہلی بار ایسا ہوا تھا كہ میں اور بھابی گھر میں اکیلے تھے . مجھے بھابی كے بارے میں سوچ كے کچھ ہونے لگا . شام کو شازیہ بھابی کی طبیعت اور خراب ہو گئی تھی میں نے ڈاکٹر کو گھر بلانے کی بات کی تو بھابی نے منع کیا . پِھر میں تھوڑا پریشان ہو گیا . تبھی میرے دِل کا شیطان جاگ اٹھا . اس وقت بھابی نے نائٹ گاؤن پہنا تھا . 
میں نے بھابی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر اسکی ہتھیلی رگڑنے لگا . انہیں اچھا فیل ہو رہا تھا . پِھر کیا میری قسمت چمکنے لگی . دھیرے دھیرے وہ سونے لگی . میرا لن کھڑا ہونے لگا . میں نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسکے گاؤن كے اوپر سے اسکے بوبز پہ ہاتھ رکھا . آہستہ آہستہ میں نے ایک بٹن کھولا پِھر دوسرا پِھر تیسرا اس طرح میں نے سارے بٹن ایک ایک کر كے کھول دیئے . اب وہ صرف برا پینٹی میں ہی تھی . اچانک بھابی نے آنکھ کھولی اور مجھے اس طرح دیکھ کر غصہ ہو گئی . 
بھابی شازیہ : داؤد ، یہ کیا کر رہے ہو ؟ 
میں : بھابی وہ آپ نے ہی … وہ . . 
بھابی شازیہ : کیا وہ وہ لگائی ہوئی ہے . 
میں : آپ نے کہا تھا كہ گرمی لگ رہی ہے اِس لیے . 
بھابی شازیہ : میں نے ایسا نہیں کہا . 
میں : شاید آپ نیند میں ہو گی ، سوری . سوری . 
اتنا کہہ کر میں ڈر کر کمرے سے نکل گیا . اگلا دن ہوا اور میں نے فوراً بھابی كے پاس جا کر پِھر سے سوری بولا . کافی سمجھانے اور جھوٹ بولنے كے بَعْد وہ مان گئی اور معاف کر دیا . ہم نے ناشتہ کیا اور آج بھابی کی طبیعت ٹھیک تھی کافی بہتر تھی کل رات سے . لیکن میں ان سے آنکھ نہیں ملا پا رہا تھا . بَعْد میں وہ نہانے چلی گئی ، میں پِھر ایکسائیٹڈ ہو گیا صرف یہ سوچ کر كے ایک دیوار كے پیچھا وہ ننگی ہے . میں باتھ روم كے دروازے سے کان لگا کر اس كے بدن پر گرتے ہوئے پانی کی آواز سننے لگا . نہانے كے بَعْد وہ نائٹ گاؤن میں باہر آئی میں اسکے روم میں تھا تو جانے لگا . 
شازیہ بھابی : کہاں جا رہے ہو 


میں : آپ کو چینج کرنا ھوگا . 
شازیہ بھابی : ہاں ، میں چینج کر لونگی ، تم یہیں رہو ویسے بھی کل رات تم نے سب دیکھ ہی لیا ہے میرا رپلائے سنے بنا بھابی شازیہ نے اپنا گاؤن اتار دیا . میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا . میرے لیے یہ گرین سگنل تھا . پِھر میں اسکے سیکسی بدن کو دیکھتا ہی رہ گیا . 
شازیہ بھابی : کیوں گھور گھور كے دیکھ رہے ہو ؟ 
میں : آپ بہت خوبصورت ہو ، اور آپ کا جسم بہت ہی شاندار ہے . 
بھابی كے چہرے پہ سمائل تھی . میں نے تبھی اسے اپنی طرف کھینچا اور اپنی بانہوں میں لے لیا . بھابی نے خود کو چھڑوانے کی ناكام کوشش کی لیکن میں نے انہیں نہیں چھو ٹنے دیا اور میں ان کے بدن کو چومنے اور چاٹنے لگا . تھوڑی دیر بَعْد وہ بھی گرم ہو گئی اور میرا ساتھ دینے لگی . میں نے انکے لپس چومنے شروع کیے . وہ بھی میرے ہونٹ چومنے لگی . کسسنگ 10-15 منٹ چلتی رہی تب تک ہم دونوں پوری طرح گرم ہو چکے تھے . میرا لن میری چھڈی پھاڑ کر باہر آنے کو تڑپ رہا تھا . میں نے جلدی خود کو ننگا کیا اور میرا کھڑا ہوا لن بھابی شازیہ کو دیکھ رہا تھا . بھابی نے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور اسے چُوسنے لگی . 
قریب 10 منٹ چُوسنے كے بَعْد میرا لن لوہے کی طرح کڑک ہو گیا . اب ہم دونوں 69 پوزیشن میں آ گئے اور میں نے بھی بھابی کی پھدی کو چاٹنا شروع کیا . جیسے ہی میں نے اپنی زبان اسکی کلین شیوڈ چوت پہ لگائی وہ منه سے عجیب عجیب آوازیں نکا لنے لگی . میں 15 منٹ تک اسکی چوت کو اپنی زبان سے چودتا رہا اور وہ مجھ سے چُدواتی رہی . یہ 25-30 منٹ كے فورپلے كے دوران وہ 2 بار آرگیزم لے چکی تھی اور اسکی چوت سے پانی بہہ رہا تھا اور اسکی چوت پوری طرح گیلی ہو چکی تھی . اب اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا . اس نے میرے لوڑے ( لن ) کو پکڑ كے خود کی پھدی پہ رکھ دیا اور آرام سے بولی : 
شازیہ بھابی : میرے پیارے دیور آج اپنی بھابی کو خوب پیار کرو ، مجھے اپنی بِیوِی بنا لو اور پوری رات میرے ساتھ پیار کرو . 
اسکے منه سے یہ سن کے مجھے جوش آ گیا اور میں نے ایک دھکا مارا اور میرا 2 انچ جتنا لن اسکی ویٹ پھدی میں چلا گیا . اسکی چوت بہت ٹائیٹ تھی . اسکی چوت سے نہیں لگتا تھا كہ وہ کنواری نہیں ہے . میں نے پِھر سے ایک دھکا اور مارا اور میرا پورا لن اسکی پھدی میں گھس گیا . اسکے منه سے ایک ہلکی سی چیخ نکل گئی . تو میں نے اسکے لپس پہ میرے لپس رکھ کے اسے کس کرکے ایک اور زوردار دھکا مارا اور میرا پورا کا پورا لن اسکی پھدی كے اینڈ تک گھس گیا اور میں دھنا دھن شوٹ لگانے لگا . وہ میری چدائی سے خوش ہو کر بڑبڑا رہی تھی . 
میں : بھابی مزہ آ رہا ہے ؟ 
شازیہ بھابی : مجھے بھابی مت کہو ، مجھے شازیہ کہو . آج سے میں تمہاری بھابی صرف دُنیا کو دکھانے كے لیے ہوں . اصل میں تو اب میں تمہاری بِیوِی بن چکی ہوں . اب جب بھی مرضی ہو تم مجھے چود سکتے ہو . میری پوری جوانی اب صرف تمہاری ہے . 
یہ سن كے میرے لوڑے کو نیا جوش آیا اور میں اسے بڑی رفتار كے ساتھ چودنے لگا . تقریباً 30-35 منٹ کی چدائی كے بَعْد میں نے اپنا لن اسکی چوت سے باہر نکالا اور اسے گھوڑی بنا كے پیچھے سے اسکی چوت میں پیچھے سے ڈالا اور ایک ہی جھٹکے میں پورا لنڈ گھسا دیا . وہ اس حملے كے لیے تیار نہیں تھی اسلئے چلا اٹھی اور بولی :

شازیہ بھابی : آرام سے کرو میرے سیاں ، میں اب صرف تمہاری ہی ہوں . مجھ پر تمہارا پورا حق ہے . چودو اپنی رانی کو زور سے چودو ، پھاڑ دو آج اِس پھدی کو . اس نے مجھے بہت پریشان کیا ہے . مجھے بچہ نہیں دیتی . 
میں شازیہ کی پھدی 10 منٹ تک ما رتا رہا پِھر میں نے اسے اسکے پلنگ ( بیڈ ) كے کنارے لٹا دیا اور اب ان كے پاؤں زمین پہ تھے ، پِھر میں اسکی ٹانگوں كے بیچ میں آ گیا اور اسے چودنے لگا . وہ نیچے سے اُچھل اُچھل كے مجھ سے چدوا رہی تھی اور آوازیں نکا ل رہی تھی : 
بھابی شازیہ : مم ، اوہ آہ آہ آہ ، زور سے چودو اوئی ہاۓ …… آہ آہ . اوئی 
جب ایک گھنٹے کی چدائی كے بَعْد میری منی نکلنے والی تھی تو میں نے پوچھا : 
میں : شازیہ ، میں اب چھوٹنے والا ہوں ، بول میری رانی میں اپنی منی کہاں گرا دوں ؟ 
شازیہ : یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے ، ایک ہسبنڈ اپنی منی اپنی بِیوِی کی پھدی میں ہی ڈالتا ہے . اور اب تم بھی میرے ہسبنڈ ہو . ویسے بھی میں ماں نہیں بن سکتی . تم مزے سے مارو میری گانڈ . گرا دو میری چوت میں . بھر دو اسے اپنے پانی سے . 
پِھر کچھ ہی دھکوں كے بَعْد میں نے اپنا سارا پانی اسکی پھدی میں ڈال دیا . اور لوڑااسکی چوت میں ہی ڈالے ہوئے پڑا رہا . اِس دوران شازیہ بتا رہی تھی کہ وہ شاید 7-8 بار آرگیزم لے چکی ہے . 
شازیہ بھابی : میرے سیاں ، اب تم مجھے جب بھی موقع ملے ضرور چودنا ، میں تم سے چُدوانے كے لیے ہر وقت تیار ہوں .
میں : ضرور میری شازیہ رانی ، تمہیں چودنے كے لیے میں بھی ہر وقت تیار ہوں . 
میں نے شازیہ کی پینٹی اٹھا لی اور ہم ایک دوسرے کو سہلانے لگے اور میں نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا اور اسے لے کر باتھ روم چلا گیا اور وہاں ہم دونوں نے ایک دوسرے کو صاف کیا اور میرا لن پِھر سے کھڑا ہو گیا اور میں نے شازیہ کو باتھ روم میں لٹا كے پِھر 30 منٹ كے لیے چودا . اِس بار شازیہ نے میری منی پی لی.. 
شازیہ کی بھی پینٹی میں نے اسی جگہ چھپا لی اب وہاں 7 پینٹیز تھیں ، کنول کی جو صنم ہی تھی ، عائشہ باجی کی جن کا سوتے ہوئے ریپ کیا میں نے ، صنم کی جس کو دوبارہ چودا سالی آدھی گھروالی بنا كے ، امبرین کی جس کو صنم کی ہیلپ سے چودا ، صنم کی ایک اور جو صنم نے امبرین کو چدواتے دی مجھے ، ماریہ کی جس کو چودنے كے بَعْد سیکس سے یقین اترنے والا تھا ، اور اب شازیہ کی پینٹی جس کی پھدی کی وجہ سے سیکس پہ پِھر سے ایمان آ گیا . 
اسی طرح میں نے اور شازیہ نے روز سیکس کیا ، 


اب تو تقریباً 12-14 دن ہو گئے تھے . شازیہ نے پینٹی پہننا ہی چھوڑ دیا . شازیہ روز میری منی پھدی میں لینے کے بَعْد منه میں لے کر پیتی تھی . میرے لیے اچھا تھا بِیوِی پریگننٹ تھی تو سیکس نہیں کرنے دیتی تھی . ماریہ کو ٹائم لگنا تھا اور صنم شکاگو گئی ہوئی تھی تو مجھے بھابی کا سہارا مل گیا . ایک دن بھابی نے میری منی پینے كے بَعْد اپنا پریگنینسی ٹیسٹ کیا اور وہ پوزیٹو نکلا اور بھابی شازیہ نے مجھے کہا : 
شازیہ بھابی : ایک عورت كے لیے اسپرم پینا اچھی بات ہے ، تمھارے بھیا کا تو نکلتا ہی نہیں . 
میں : بھیا کا اسپرم نہیں نکلتا ؟ 
شازیہ بھابی : نہیں . 
میں : اِس کا مطلب آپ ماں بن سکتی ہو وہ باپ نہیں بن سکتے . 
شازیہ بھابی : اسی لیے پریگنینسی ٹیسٹ پوزیٹو ہے . 
میں : ہاں ، آپ کو میرا بچہ گرانا ہو گا . 
شازیہ بھابی : نہیں گراؤں گی . مجھے بچہ چاہئے . 
میں : مگر میری اسپرم سے نہیں کرو . 
شازیہ بھابی : پھدی میری روز 15 دن ماری اور مزہ لیا . اب کہتے ہو کسی کے اسپرم سے بچہ کروں . گھر کی بات گھر میں رہے تو اچھا ہے . میں ان دنوں تمھارے بھیا سے آخری چانس لے کر پِھر سے سیکس کروں گی اور اب کی بار پریگننٹ ہوں تو بچے كے باپ کا نام آٹومَیٹِک ان کا ہو جائے گا . پِھر تم بھی خوش انہیں بھی نہیں شادی کرنی پڑے گی میں بھی خوش . 
شازیہ بھابی کا آئیڈیا اچھا تھا . ٹاپ کلاس کا برین ہے شازیہ کا . مگر اب میں کیا کروں گا ؟ نا صنم ، نا امبرین اب نا شازیہ . ماریہ كے پاس پِھر سے جانا پڑے گا ؟ لیکن ثوبیہ بھی تو ہے ابھی . اور اگر باجی عائشہ كے بیڈ روم میں رات کو چلا جاؤں تو موج ہی موج . 
پارٹ 12 : ٹرپ ٹو مری 
بھابی نے اپنے پلان كے مطابق بھیا سے سیکس کیا اور 2 ہفتے كے بَعْد بھیا سے پریگنینسی ٹیسٹر منگوا کر ان كے سامنے چیک کیا . ٹیسٹر نے شو کیا كہ بھابی پریگننٹ ہیں . مگر ان كے پیٹ میں میرا بچہ پل رہا تھا . بھیا بہت خوش ہوئے اور خوشی كے ما رے سب کو گھمانے كے لیے لے گئے . 
امبرین نے اپنی سسٹرز کو بھی ہمارے ساتھ آنے کو کہا . باجی عالیہ نہیں آئی مگر امبرین كے امی ابو ، فرحین ، ماریہ اور ثوبیہ ہمارے ساتھ ٹرپ پہ نکل پڑے . ہم لوگ مری گھومنے چلے گئے . بہت سیر کی بہت کچھ دیکھا . میں نے ثوبیہ پہ نظر رکھ دی . مجھے پتا تھا كہ یہ بھی فری میں مجھے اپنے پھدی دے گی ورنہ اسے بھی بلیک میل کروں گا . 
ثوبیہ سانولی سی لڑکی ہے ، چھوٹے سے قد والی اور موٹے بدن والی . اس کی گانڈ بھی موٹی ہے . ماریہ اور وہ ایک ہی عمر کی ہیں مگر ثوبیہ 16 کی نہیں 26 کی لگتی ہے . کالے رنگ روپ کی ما لک اور گندے کام کرنے كی شوقین تھی . ڈائری كے پیجز سے پتا لگ رہا تھا كہ ثوبیہ تو پیشاب میں نہانے كی شوقین تھی اس کو اپنے لن كے ساتھ اسکی ٹٹی بھی لگا کے دو تو وہ ٹٹی کھا کر لن چوس لے گی .
(عمران۰۰۰۰صفر تین صفر دوتین پانچ چھ پانچ تین سات آٹھ ) 
ہُوا کچھ ایسے كہ ہم لوگ شام کو تھکے ہوئے ہوٹل میں آئے تو سب لوگ اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے . ماریہ کی طبیعت خراب ہوئی تو وہ اپنے والدین كے روم میں سونے چلی گئی . ثوبیہ بالکل اکیلی کمرے میں تھی میں نے سوچا اسے رات کو ملنے کو جاؤں گا . امبرین كے سو جانے كے بَعْد میں ثوبیہ كے روم میں گیا تو دیکھا كہ اس كے روم كے باہر ایک لڑکا کھڑا تھا . اس كے ہاتھ میں شراب بھی تھی . انڈر گراؤنڈ سب کچھ مل جاتا ہے ادھر . ثوبیہ وہاں نہیں تھی مگر فرحین تھی اور اس نے نیوی بلو رنگ کی نائٹی پہنی ہوئی تھی اور شراب کو نہیں نہیں کر رہی تھی تو اس لڑکے نے فرحین كے منه میں تھوڑی سی شراب ڈال دی . فرحین نے کچھ پی لی اور کچھ باہر نکا ل دی . میں دیکھتا رہا . کچھ اور شراب پلانے كے بَعْد وہ فرحین کو اندر لے گیا . مجھے غصہ آیا روم میں گیا اور لڑکے کو مارا اور باہر نکا ل دیا . 
فرحین : بھیا آپ ادھر . . اِس . . . وقت . . آپ نے مجھے اس لڑکے سے بچایا تھینکس . . 
اس كے بولنے كے اندازِ سے لگ رہا تھا كہ شراب چڑھ گئی ہے اسے . 
فرحین : بھیا یہ کچھ عجیب سا لگ رہا ہے مجھے ، میرا سَر گھوم رہا ہے . 
وہ بیڈ پر لیٹ گئی اور جیسے ہی فرحین بیڈ پر لیٹی اسکی نائٹی سرک کر اوپر ہو گئی . اسکی پینٹی صاف نظر آ رہی تھی . فرحین کی ناف تک نائٹی آ گئی اور اسے تو کچھ پتا نہیں چلا . میں نے جیسے ہی دیکھا تو مجھ پر مدہوشی چھانے لگی اور میں اسکی گوری گوری ٹانگوں کو دیکھنے لگا اور ایک ہاتھ سے اپنے لن کو پینٹ كے اوپر سے رگڑنے لگا . 
فرحین : کیا دیکھ رہے ہو بھیا ؟ 
میں : ایک بات کہوں ؟ برا تو نہیں مانوگی ؟ 
فرحین : نہیں تو 
میں : تم آج قسم سے بہت خوبصورت لگ رہی ہو . 
اِس پر اس نے خوش ہو کر اور شرماتے ہوۓ کہا : 
فرحین : کیا بھیا آپ بھی نا میرے سے فلرٹ کر رہے ہو ؟ زیادہ پیاری تو امبرین باجی ہیں ، صنم باجی ہیں اور عائشہ باجی ہیں . 
پِھر میں اسکے پاس گیا اور میں نے اسکی ٹانگوں کو پکڑ کر سہلاتے ہوۓ کہا : 
میں : دیکھو تو تم کتنی پیاری ہو . تمہارا سَر چکرانا بند ہوا کہ نہیں ؟ 
فرحین : نہیں 
میں نے اسے پانی لا کر پلایا اور ہم دونوں لیٹے ہوئے تھے اور بات کرنے كے ساتھ ساتھ ٹی وی دیکھ رہے تھے . میں نے دیکھا کہ ٹی وی پر ایک بیڈروم سین آ رہا ہے اور اس میں لڑکا لڑکی کو کس کر رہا ہے میں نے دیکھا کہ فرحین اس سین کو بڑے غور سے دیکھ رہی ہے . 
میں : سہی سہی بتاؤ نا کیا تمہارا کوئی بوائے فرینڈ ہے یا تم کسی کو پسند کرتی ہو ؟ 
فرحین : نہیں بھیا . 
اب فرحین نشے کی وجہ سے اپنی نائٹی كے ساتھ کھیلنے لگی 
اس نے نائٹی اوپر کر كے میرے اندر کا سکون چھین لیا . مجھے فرحین سے بہت پیار تھا اور اِس كے ساتھ غلط نہیں کرنا اِس لیے میں اپنے آپ کو روکتا رہا . فرحین مجھے اپنے قریب لانے لگی . میں اس كے قریب گیا اور میرے اندر کا شیطان جاگ گیا . 
فرحین کو بیڈ پر اسکے پیٹ پر لٹا دیا . میں نے اسکی نائٹی کو آہستہ آہستہ اسکی ہپس تک اُٹھا دیا اور نائٹی اٹھاتے سمے میں اسکے پیر بھی سہلا رہا تھا میں نے دیکھا کہ میرے ایسا کرنے سے وہ ایک دم موڈ میں آ رہی تھی اور آنکھیں بند کر كے مزا لے رہی تھی . میں نے اسکی نائٹی پوری کمر تک اٹھا دی میں نے دیکھا کہ اس نے وائٹ کلر کی پینٹی پہنی ہوئی ہے . اب میں اپنے آپ پہ قابو نہیں رکھ پا رہا تھا میں نے فوراً سے بولا :
میں : تم بہت خوبصورت ہو ، کیا میں تمہیں کس کر سکتا ہوں ؟ . 
اس کا کوئی جواب نہیں آیا . سیدھے ہو کر صرف مجھے دیکھتی رہی ، میں نے فوراً اسکے پیروں کو چومنا شروع کر دیا اور پیروں سےاوپر اوپر بھی آہستہ آہستہ آنے لگا . وہ آدھی نشے میں تھی اور مجھے نو نو کہہ کر روک رہی تھی اور آہ آہ آہ آہ کی آواز بھی نکا لنے لگی . نشے كی وجہ سے وہ صرف منہ سے بول رہی تھی . لیکن اسکے ہاتھ مجھے انوائٹ کر رہے تھے . 
قریب 5 منٹ تک اسکی ٹانگوں کو چومنے كے بعد میں نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اسکی پینٹی میں ڈال دیا اور اسکی چوت سہلانے لگا ، میں نے محسوس کیا کہ میری رانی کی پھدی کافی کلین اور ٹائیٹ تھی اور ایک دم پھولی ہوئی جیسے گلاب کا پھول کھلتا ہے . میں نے دیکھا وہ اب پوری طرح سے مدھوش ہو چکی تھی اور اسکے منہ سے سی سی آہ آہ کی آواز نکل رہی تھی . 
میں نے سہلاتے سہلاتے ایک انگلی اسکی پھدی میں گھسا دی میں نے محسوس کیا کہ چوت کافی ٹائیٹ ہے لیکن پِھر بھی میں نے ایک انگلی اندر باہر کرنے لگا ، تھوڑی دیر تک کرنے كے بعد میں اس كے سَر كے پاس گیا اور اسکے ہونٹوں کو چومنے اور چُوسنے لگا وہ بھی اب پوری گرم ہو گئی تھی وہ بھی دونوں ہاتھوں سے میرے سَر کو پکڑ کر میرے ہونٹوں کو چوس رہی تھی اور بول رہی تھی : 
فرحین : اُوں بھیا اوہ بھیا . . سی سی 
مجھے اچھا لگنے لگا ، میں ایک ہاتھ سے اسکی کسی ہوئی چوچی ( بوب ) کو مسلنا اسٹارٹ کیا اسکی چوچی بہت ہی سخت تھی کبھی کبھی میں چوچی کو بھی نائٹی كے اوپر سے چوس بھی رہا تھا . اسی طرح قریب 10 منٹ چلتا رہا . پِھر میں نے اس کی نائٹی کو کھینچ کر اسکے مخملی بدن سے الگ کر دیا اب میری پیاری کنواری سالی فرحین ایک دم ننگی . فرحین کا پاک جسم اور میرے سامنے پینٹی اور برا کی ہی دوری تھی . 
ایک دم حُسْن کی رانی لگ رہی تھی میں اپنے آپ کو خوش نصیب مان رہا تھا کہ آج میں اِس پری کی پھدی کو ورجنٹی کی دُنیا سے نکا لنے لگا ہوں . میں نے دیکھا اس نے وائٹ کلر کی برا اور پینٹی پہنی تھی . میں نے فوراً اسکی برا اور پینٹی کو اتار دیا . میرا لن اِس وقت فرحین کی چکنی پھدی کو سلوٹ مار رہا تھا . 
میں نے پِھر سے اس كے ہپس کو چومنا اسٹارٹ کر دیا میں نے چوم بھی رہا تھا اور گانڈ کو دبا رہا تھا ادھر وہ : 
آہ آہ آہ آہ اُف اُف کی آواز نکا ل رہی تھی اور میں چُومتے چُومتے اسکی پھدی تک پہنچا میں نے دیکھا کہ کیا پیاری پھدی ہے میری بہن فرحین کی
ایک دم پھول سی ، میں نے فوراً اسکی ٹانگوں کو پھیلا کر اسکی پھدی کو چاٹنے لگا یہ کرتے ہی وہ بہت جوش میں آ گئی اور میں نے دیکھا کہ وہ اپنا سَر پکڑ کر اُف اُف اُف اُف . . آہ آہ . . . اوئی کیے جا رہی تھی میں نے قریب 5 منٹ تک اسکی چوت کو اچھی طرح سے چوسا اور ایک انگلی سے اسکی فکنگ کی . پِھر میں اسکے پیٹ کو چُومتا ہوا اسکے دودھ تک پہنچا اور اسے بھی چُوسنے اور دبانے لگا ادھر وہ آنکھیں بند کر كے مزا لے رہی تھی . میری پیاری فرحین ننگی بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی اور کیا لگ رہی تھی جیسے کی کوئی پری ننگی سوئی ہو 
 جاری ہے

Link to comment

کچھ ممبرز مسلسل  رومن اردو میں کمنٹس کر رہے ہیں جن کو اپروول کی بجائے مسلسل ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے ان تمام ممبرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ یہ کمنٹس رولز کی خلاف ورزی ہے فورم پر صرف اور صرف اردو میں کیئے گئے کمنٹس ہی اپروول کیئے جائیں گے اپنے کمنٹس کو اردو میں لکھیں اور اس کی الائمنٹ اور فونٹ سائز کو 20 سے 24 کے درمیان رکھیں فونٹ جمیل نوری نستعلیق کو استعمال کریں تاکہ آپ کا کمنٹ با آسانی سب ممبرز پڑھ سکیں اور اسے اپروول بھی مل سکے مسلسل رومن کمنٹس کرنے والے ممبرز کی آئی ڈی کو بین کر دیا جائے گا شکریہ۔

×
×
  • Create New...