Disable Screen Capture Jump to content
Novels Library Plus ×
URDU FUN CLUB

رشتوں کا تقدس


Recommended Posts

  • Administrators

ایک غریب کسان کی شادی نہایت حسین و جمیل عورت سے ہو گئی۔ اُس عورت کے حُسن کی سب سے بڑی وجہ لمبے گھنے سیاہ بال تھے، جن کی فکر صرف اُسے ہی نہیں بلکہ اُن دونوں کو رہتی تھی۔
ایک دِن کسان کی بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ، "کل واپسی پر آتے ہوئے راستے میں دُکان سے ایک کنگھی تو لیتے آنا، کیونکہ بالوں کو لمبے اور گھنے رکھنے کیلئے اُنہیں بنانا سنوارنا بہت ضروری ہے۔ اور پھر میں
کتنے دِن ہمسائیوں سے کنگھی منگواتی رہونگی۔۔۔؟"


غریب کسان نے اپنی بیوی سے معذرت کر لی اور بولا، "بیگم! میری تو اپنی گھڑی کا سٹرایپ کافی دِنوں سے ٹوٹا ہوا ہے، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اُسے ٹھیک کروا سکوں، تو میں بھلا کنگھی کیسے لا سکتا ہوں۔ تم کچھ دِن مزید ہمسائیوں کی کنگھی سے گزارا کرو، جب پیسے ہونگے تو لے آونگا۔۔۔!" بیوی اپنے شوہر کی مجبوری کو سمجھ رہی 
تھی اِس لیے زیادہ تکرار نہیں کیا۔
کسان نے اُس وقت تو بیوی کو چپ کروا دیا، لیکن پھر اندر ہی اندر اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ، میں بھی کتنا بدبخت ہوں کہ اپنی بیگم کی ایک چھوٹی سی خواہش بھی پوری نہیں کر سکتا۔ دوسرے دِن کھیتوں سے واپسی پر کسان ایک گھڑیوں کی دُکان پر گیا اور اپنی ٹوٹی ہوئی گھڑی اونے پونے داموں بیچی اور اُس سے ملنے والے پیسوں سے ایک اچھی سی کنگھی خریدی اور بڑی راز داری سے چھپا کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔
اُس نے سوچا گھر جا کر بیوی کو سرپرائز دونگا تو وہ بہت خوش ہوگی۔ جب وہ گھر گیا تو کیا دیکھا اُسکی بیوی نے اپنے لمبے بال کٹوا دئیے تھے۔ اور مسکراتے ہوئے اُسکی طرف دیکھ رہی تھی۔ کسان نے حیرت سے پوچھا، "بیگم! یہ کیا کیا تم نے اپنے بال کیوں کٹوا دئیے، پتہ ہے وہ تمہارے اُوپر کتنے خوبصورت لگتے تھے۔۔۔؟"
بیگم بولی، "میرے سرتاج! کل جب آپ نے کہا کہ آپکے پاس گھڑی ٹھیک کروانے کے پیسے بھی نہیں ہیں تو میں بہت افسردہ ہو گئی۔ چنانچہ آج میں قریب کے بیوٹی پارلر پر گئی تھی، وہاں اپنے بال بیچ کر آپکے لیے یہ ایک گھڑی لائی ہوں۔۔۔!" جب کسان نے اُسے کنگھی دیکھائی تو فرطِ جذبات میں دونوں کی آنکھیں نم ہو گئیں.
محبت صرف کچھ دینے اور لینے کو ہی نہیں کہتے، بلکہ محبت ایک قربانی اور ایثار کا نام ہے جس میں اکثر اپنی خواہشات اور جذبات کو صرف اِس لیے قربان کر دیا جاتا ہے تاکہ رشتوں کا تقدس اور احترام برقرار رہے

Link to comment

کچھ ممبرز مسلسل  رومن اردو میں کمنٹس کر رہے ہیں جن کو اپروول کی بجائے مسلسل ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے ان تمام ممبرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ یہ کمنٹس رولز کی خلاف ورزی ہے فورم پر صرف اور صرف اردو میں کیئے گئے کمنٹس ہی اپروول کیئے جائیں گے اپنے کمنٹس کو اردو میں لکھیں اور اس کی الائمنٹ اور فونٹ سائز کو 20 سے 24 کے درمیان رکھیں فونٹ جمیل نوری نستعلیق کو استعمال کریں تاکہ آپ کا کمنٹ با آسانی سب ممبرز پڑھ سکیں اور اسے اپروول بھی مل سکے مسلسل رومن کمنٹس کرنے والے ممبرز کی آئی ڈی کو بین کر دیا جائے گا شکریہ۔

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...