Jump to content
URDU FUN CLUB

tinkutinku

Silent Members
  • Content Count

    34
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

21

Identity Verification

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. اپنا سایز بتائیں. کوئی بچپن کا سیکس واقعہ بتاو.
  2. بڑی عجیب بات ہے. چلو مان لیتے ہیں. آپ نے کبھی اینل سیکس کیا کے؟
  3. آپ ساس کا بتا رہی ہیں تو اگر آپکے شوہر نے یہ تھریڈ پڑھ لی تو اسے خود معلوم ہو جائے گا کہ اسکی ماں کس قماش کی عورت ہے. ویسے ساس کی بنڈ بڑی ہے یا آپکی
  4. دوست: مذاق کر رہا ہوں یار.، خوامخواہ کسی سے جوتے نہ کھا لینا. بنڈ عورت اپنے شوہر کو بھی بڑی منت سماجت کے بعد اپنی مرضی سے دیتی ہے. میں: تو ہے ہی پکا حرامی، میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا ایسا کوئی کام کرنے کے بارے میں.ہاں مگر تیری یہ بات صحیح لگی کہ لڑکی ہلکی ہونی چاہیے.
  5. بنڈ ہو تو اداکارہ فضیلہ قاضی یا فائزہ سلیم یا ناجیہ بیگ جیسی. اس فگر کی عورت سے ایک بھرپور اینل سیکس کیا جاسکتا ہے. جتنا بڑا ڈھونگا ہو موڑہ بھی اتنا ہی کشادہ ہوتا ہے. اس قسم کی عورتوں کی بنڈ میں تھوک لگا کر آسانی سے دخول کیا جاسکتا ہے. میرے جگری یار کی بیوی کی جسامت فضیلہ قاضی سے ملتی ہے اور ہم دونوں دوست ایک دوسرے کے رازدار ہیں، وہ اکثر اپنی بیڈروم والی وارداتیں سناتا رہتا ہے اور شاید اسکو مزہ آتا ہے میرے ساتھ بھابھی کے متعلق گندی باتیں کر کے. کہتا ہے میں نے موٹی بیوی لای ہے، موٹی کی پھدی لینا ایک تھکا دینے والا عمل ہے کیونکہ اسکے بھاری بھرکم جسم کو سنبھال کر پھدی چودنی ہوتی ہے. اب تم دبلی پتلی سی بیوی لانا. بھائی اگر بیوی کی پھدی کا اصل مزہ لینا ہے تو اداکارہ سجل علی جیسی بیوی ہونی چاہیے جسکو بندہ ہاتھوں پر اٹھا کر بھی چود سکے. میں کہتا ہوں کہ یار مجھے بھابھی جیسے بھاری بھرکم کولہوں والی بیوی چاہیے جسکا کبھی کبھار دوسرا سوراخ بھی استعمال کیا جاسکے،جیسے تم بھابھی کو کرتے ہو . اس پر وہ کچھ گرم ہوکر کہنے لگا یار بنڈ تو کبھی کبھی لی جاتی ہے، روز تو پھدی ہی لینی ہوتی ہے، میری بات مانو تمہاری بھابھی کا ہر طرح سے مزہ لیا ہے اور اب میرا تجربہ یہی کہتا ہے کہ عورت ہلکی ہو جسکی پھدی دبا کر لی جائے اور تھکاوٹ بھی محسوس نہ ہو! رہا سوال بنڈ کا تو یہ مزہ کسی اور سے بھی پورا کیا جا سکتا ہے. میں :کیا مطلب کس سے کیا جاسکتا ہے. دوست:اپنی دسترس میں جس کی بنڈ پر شہوت آتی ہو اسی سی کر لینا. میں: شہوت تو اپنے آس پاس ہر موٹے ڈھو پر آتی ہے جاری ہے
  6. لن کے بڑے یا چھوٹے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بس پھدی میں چپو کی طرح چلنا چاہیے اور اتنی دیر تک جتنی دیر میں عورت مکمل مزہ حاصل کرتے ہوئے فارغ ہوجائے.
  7. اینل سیکس مذہبی اعتبار سے ناجائز ہے اور سائینس کہتی ہے کہ یہ عورت کے لئیے بھی ٹھیک نہیں کیونکہ اسکے کرنے سے اسکا اینس پھٹ سکتا ہے اور پھر پاخانہ کرتے ہوئے مستقل درد رہے گا اور اگر کوئی عورت بڑی بونڈ والی کروا لیتی ہے تو پھر اسکے عادی ہوجانے سے پاخانے کے خروج پر کنٹرول نہیں رہتا. مرد کے لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ اسکے لن کی نالی کے اندر عورت کے پاخانے والے گندے سوراخ سے بیماری پیدہ کرنے والے جراثیم جاتے ہیں جس سے مرد کی چھوٹے پیشاب والی نالی، تھیلی اور گردوں میں انفیکشن ہوتا ہے.
  8. مذہب کے مطابق یہ گناہ ہے. پر پھر بھی لوگ گندی فلمیں دیکھ کر گٹر میں للی ڈالتے ہیں. اور جب اس کام سے فارغ ہوتے ہیں تو گندے مواد سے لتھڑا ہوا لن نکلتا ہے. خود بھی گھن آتی ہے اور ایک بار عورت اس حال میں دیکھ لے تو دوبارہ کبھی منہ میں لینے کا نام نہ لے. کیونکہ ٹٹی تو پھر ٹٹی ہے. ایک بار پاؤں کے ساتھ لگ جائے تو بندہ 100 دفعہ دھوتا ہے پھر لن پر لگے تو آگے خود ہی سمجھ جاؤ. اگر اس کام کے دوران بنڈ پھٹ گئی تو ہسپتال میں سلوانی پڑھے گی. سارے جاننے والے تھو تھو کریں گے. عورت کے لیے پاخانہ کا مسئلہ بن جائے گا. کیونکہ اسکو سمبھالنے والا دروازہ جو ڈھیلا ہوگیا.
  9. ڈرتی ہیں سب اینل سے. یہ کام موٹی بنڈ والی کرتی ہے وہ بھی للی کا سایز دیکھ بھال کر.
  10. سیکس کی شروعات آج کل کے ماڈرن میاں بیوی اورل سکیس سے کرتے ہیں مگر پھر پھدی لیتے وقت شوہر بیوی کے ساتھ ہونٹ چوسنے سے کتراتا رہتا ہے کیونکہ کچھ دیر پہلے ہی بیوی کے منہ میں اسکا پیشاب کرنے والا آلہ اندر باہر ہوا ہوتا ہے. پھر بیوی بھی برابری کا حق مانگتی ہے کہ دیکھو تمہارا میں نے چوسا ہے، اب تم میری چاٹو. پھدی کو چاٹنے کے خیال سے ہی شوہر کو ابکائی آتی ہے کیونکہ لن کے آگے ایک ایک قطرہ مزی کا آتا رہتا ہے جسکو بیوی برداشت کر لیتی ہے مگر پھدی تو ہمیشہ سفید پھسلنے والے پانی سے بھری رہتی ہے، اب کس کا جی چاہے گا ایسی گیلی چیز میں زبان مارنے کا. ایک بار تو مجبوری میں کر لیتا ہے مگر اسکے بعد شاید ہی کبھی پھدی کے قریب منہ کرے اور گانڈ چاٹنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ جب پھدی سے اتنی گھن آتی ہے تو بنڈ کا تو آپکو پتا ہی ہے عورت کے چوتڑوں کے درمیان والا گٹر ہے. ہاں ایک کام لوگ لازمی کرتے ہیں، وہ ہے عورت کے کولہے کھول کر بنڈ کے سوراخ پر ناک لگا کر پسینے کی کھٹی بو سونگھنا. یہ بڑی شہوت دلانے والی بو ہوتی ہے. اور یہ اس وقت زیادہ تیز ہوتی ہے جب عورت کوئی ورزش کر کے آئی ہو. یہ بو ڈھیلے لن کو ٹایٹ کرتی ہے. پھر جی بھر کر پھدی بجاو. یہ جو فلموں کا سین ہوتا ہے، مرد پھدی چودتے ہوئے لن نکال کر عورت کے منہ میں ڈال دیتا ہے اور وہ مزے سے چوپا لگاتی ہے، ایسا عام سیکس میں نہیں ہوتا. کیونکہ ایک بار لن پھدی میں چلا گیا جو ظاہر ہے پھدی خشک ہونے ہر تھوک لگا لگا کر اور پھدی کا گندہ پانی لگنے سے انتہائی بدبودار ہوجاتا ہے. اب ایسی چیز عورت منہ میں لے گی تو رات کو الٹیاں کرتی پھرے گی، سارے گھر والے شک کریں گے کہ ایسا کیا کر دیا رات کو. اور جو یہ منہ میں فارغ ہونے والی بات ہے، یہ بھی بہت مشکل ہے، منی کی سمیل ہی اتنی گندی ہوتی ہے اور اگر یہ عورت کے منہ میں نکل جائے تو آدھی رات کو کھانس کھانس کر گھر والوں کو جگا دے گی
  11. اینل سیکس کے نام پر جو کچھ یہاں کہانیوں میں لکھا جاتا ہے اسکو بنڈ چودنا نہیں بنڈ پھاڑنا کہتے ہیں. گھوڑے جتنا لن بنڈ میں ایسے ٹھوکا جاتا ہے جیسے ساری زندگی کے لیے عورت کی ٹٹی بنڈ کرنی ہو. اور وہاں سے خون آنے کو اتنا نارمل سمجھتے ہیں جیسے پھدی کی سیل ٹوٹنے سے آگیا تو کوئی مسئلہ نہیں. سوچو اگر کسی نے یہ کہانیاں پڑھ کر اسی طریقے سے یہ کام کیا تو کیا ہوگا. بیوی ہسپتال کے بیڈ سے اٹھیگی وہ بھی بنڈ میں ٹانکے لگوا کر اور ساری زندگی ٹٹی کرنا عذاب بن جائے گا. اینل سیکس کے لیے بنڈ کا موٹا اور لن کا چھوٹا ہونا ضروری ہے. بڑے لن والے اور چھوٹی بنڈ والیاں پھدی پر ہی کام چلایا کریں جو بنی ہی اس کام کے لیے ہے. مزیدار لچکدار گرم اور نرم.
  12. انسیسٹ سیکس بھی اکثر جھوٹی کہانیاں ہوتی ہیں. کوئی کتنا ہی حرامی لڑکا کیوں نہ ہو مگر اسکو جو مزہ اور شہوت دوسروں کی ماؤں بہنوں پر ہوتی ہے وہ کبھی بھی اپنی ماں بہن پر نہیں ہوتی. یہ قدرت کا نظام ہے. لوگ انسیسٹ کہانیوں کو اسلیے پڑھتے ہیں کیونکہ یہ ایک نیا تجربہ ہوتا ہے مگر حقیقتاً کوئی یہ سب نہیں کرنا چاہتا.
×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status